Skip to content
کیرلم :
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وطن عزیز میں پھر ایک بار انتخابی بہار ہے۔ مشرقی وجنوبی ہند کی دودو اور ایک مرکز کے تحت ریاست اس انتخابی کرب میں مبتلا ہیں ۔ ملک کے نادر انتخابات پہلے تفریح ہوا کرتے تھے ۔ لوگ ہنستے کھیلتے کسی ہر دیتے تھے اور کوئی جیت جاتا تھا لیکن آج کل کذب و نفرت کے بازارنے اسے کرب بنا دیاہے۔ ان پانچ میں سے تین کے اندر مسلمان کی اچھی خاصی آبادی بی جے پی کے لیے مشکلات کا سبب ہے ۔ پدو چیری کی تو خیر کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ کیرالہ اور تمل ناڈو کے اندر بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے ۔ آسام اس کو بہت آسانی سے جیتنے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے اور مغربی بنگال میں تگڑم بازی کرکے انتخابی نتائج کو اغوا کرلینا چاہتے ہیں لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے جو بھی پانسہ پھینکتے ہیں وہ الٹاپڑ جاتا ہے۔ ان کی حالت اس اونٹ کے سوار کی سی ہوگئی ہے جسے خرابیٔ قسمت کے سبب کتا کاٹ کھاتا ہے۔ مودی جی کا خیال تھاکہ اسرائیلی دورے پر نیتن یاہو کے ساتھ چماّ چاٹی اندھ بھگتوں کو اتنا خوش کردے گا کہ وہ بغض ِ مسلماناں میں آنکھ موند کر ووٹ دیں گے لیکن پھر جنگ چھڑ گئی ۔ اس پر بھی انہوں نے سوچا دوچار دن میں امریکہ فتح کا پرچم لہرادے گا اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا مگر وہاں تو اس شعر کی کیفیت ہوگئی؎
سنگ اچھالا تھا کہ لہروں کا تماشا دیکھوں
کیا خبر تھی کہ سمندر ہی اچھل آئے گا++
ایران کے جوابی حملے سے تینوں دوستوں کے ستارے گردش میں آگئے۔ اسرائیل عملاً تباہ ہوگیا۔امریکہ کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا مگر مودی جی نے چونکہ جنگ میں کودنے کی جرأت ہی نہیں کی تھی اس لیے وہ پاکستان کی عالمی پذیرائی سے ہی پسیج گئے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ نے پاکستان کو عالمی قائد بنادیا جبکہ خود ساختہ ’وشوگرو‘ الیکشن الیکشن کھیلتے رہ گئے۔ مودی جی نے سوچا ہوگا کہ اپنے اسرائیلی دورے کو الیکشن مہم میں بھنا کر پانچ میں سے کم ازکم چار صوبوں میں کامیابی درج کرلیں گے ۔ اس طرح یہ انتخابی سیریز تقریباًکلین سویپ ہوجائے گی لیکن اب تو ان پر اپنے جگری دوست نیتن یاہو کی مانند ’وائٹ واش ‘ کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انگریزوں نے کراری ہار کے لیے نہ جانے کیا سوچ کر ’سفید دھلائی ‘ کی اصطلاح ایجاد کی جبکہ ہندوستان میں تو اسے منہ کالا ہونا یا بلیک واش کہا جانا چاہیے۔ وطن عزیز میں سفید جھوٹ کی اصطلاح خو ب رائج ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے۔ دیگر سیاسی رہنماوں کے بیانات کے اندر سچ میں چھپا ہوا جھوٹ تلاش کیا جاتا ہے مگر مودی کے جھوٹ میں سچ کی تلاش کرنے والوں کو اکثر و بیشتر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہوگا۔
موجودہ انتخابی مہم میں بی جے پی کی جانب سے اچھالے جانے والے سارے سنگ اسی کی جانب لوٹ آرہے ہیں ۔ پہلے ان صوبوں کی بات کرتے ہیں جن میں ووٹ گر گئے۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینی رائی وجین کے اوپر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ بی جے پی خود گلے تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے مگر مخالفین کی رشوت خوری کو خوب اچھالتی ہے ۔ کیرالم میں تو ایک وزیر پرتو مشہورِ زمانہ سبری مالا مندر کے اندر سے سونا چرانے کا بھی الزام لگا ۔ یہ کافی سنگین معاملہ تھا اور اسے اچھال کر مودی جی موجودہ ریاستی حکومت کے خلاف عوامی جذبات کو بھنا نے اور اپنا ووٹ فیصد بڑھانے کی سعی کر سکتے تھے ۔ بی جے پی کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ جب الیکشن ہار جاتی ہے تو ووٹ میں اضافے کی بات کرکے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے پہلے ہی بغض مسلم لیگ میں ’لوجہاد ‘ کا معاملہ اچھال کر بی جے پی کا کام آسان کردیا تھا ۔ اب اسے سبری مالا مندر میں چوری کا تنازع اٹھا کر اس کی حساسیت کا سیاسی فائدہ اٹھانا تھا مگر مودی جی بغضِ کانگریس میں اس سےچوک گئے۔ انہوں نے اپنے پہلے دورے میں سبری مالا کی چوری کاذکر تو کیا مگر دوسری بار اجتناب کرکے سنہری موقع گنوا دیا ۔
اس حکمت عملی سے کانگریس نے کمیونسٹ اتحاد یعنی ایل ڈی ایف اور بی جے پی کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا الزام لگا دیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی اس غلطی کا احساس دیر سے ہوا ۔ پولنگ سے پہلے اپنے تیسرے دورے میں مودی جی نے سبری مالا کے چوروں کا ذکر کرکے ان کو سزا دینے کی بات تو کی مگر اس وقت تک چڑیا کھیت چگ چکی تھی۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال بھی تھا کہ آخر ای ڈی اور سی بی آئی نے اس سنگین معاملے میں کوئی کارروائی کیوں نہیں کی ؟ اس سوال نے ایل ڈی ایف اور بی جے پی کی ملی بھگت والے بیانیہ کو مضبوط کیا اور اس نے دونوں کا نقصان کیا ۔ اس خسارے کی بنیادی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی پر آتی ہے اس سے کیرلم میں جو دو چار نشستوں پر کامیابی کی امید تھی وہ بھی ختم ہوگئی نیز وہاں ہونے والی زبردست رائے دہندگی بھی تبدیلی کی جانب اشارہ ہے۔ ویسے حتمی فیصلہ تو رائے شماری کے بعد ہی آئے گا ۔ راہل گاندھی نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان کردیا کہ ان کا مقابلہ ایل ڈی ایف سے نہیں بلکہ سی جے پی یعنی کمیونسٹ جنتا پارٹی سے ہے۔ اس طرح اقتدار سے نا راض سارے سارے ووٹرس یو ڈی ایف کی طرف چلے گئے ۔
مسلمان تو ویسے بھی بی جے پی کے قریب نہیں پھٹکتے مگر ان میں سے اچھی خاصی تعداد ایل ڈی ایف کی نظریاتی سیکولرزم کے سبب اسے فسطائی مخالف مان کر حمایت کرتے تھے۔ جن حلقہ ہائے انتخاب میں مسلم لیگ کا امیدوار نہ ہوتا وہاں ایل ڈی ایف کو مسلمانوں کی حمایت مل جاتی تھی لیکن اب اس کا امکان ختم ہوگیا۔ ایل ڈی ایف نے بھی اس بار عیسائی رائے دہندگان کو رِجھانے کے لیے ’لوجہاد ‘ کی کہانی کو مسلم اور عیسائی رنگ دیا اور انہیں کانگریس سے دور کرکے اپنے قریب کرنے کی کوشش کی ۔ اس کھیل کو شمالی ہند میں سنگھ کی عیسائیت دشمنی نے بگاڑدیا۔ امسال پہلی مرتبہ بجرنگ دل و غیرہ نے دہلی، اترپردیش اور اتراکھنڈ میں کرسمس کے موقع پربڑے پیمانے پر عیسائیوں پر حملے کیے اور ان کے گرجا گھروں تک کو نہیں چھوڑا ۔اس تشددنے عیسائی سماج کے اندر بی جے پی کی مخالفت کو بڑھا دیا۔ اب اگر سی جے پی والے پروپگنڈا کو ہوا مل جائے تو عیسائیوں کا دور ہونا فطری ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان میں سب سے بڑی حزب اختلاف کمیونسٹ پارٹی ہوا کرتی تھی ۔مہاراشٹر سے بنگال اور پنجاب سے کیرالہ تک اس کا ڈنکا بجتا تھا لیکن وقت کے ساتھ وہ منقسم ہوتی رہی اور سمٹتی بھی چلی گئی۔ اس طرح جو خلا پیدا ہوا اس کو پہلے سماجوادی اور پھر ہندوتوانواز پُر کرتے چلے گئے۔ اس کے باوجود تین ریاستیں ایسی تھیں جہاں ان کی ریاستی حکومتیں ہوا کرتی تھیں ۔ ان میں کیرالہ میں باری باری سے اقتدار میں آتی اور ہر شکست کے بعد اسے اپنی اصلاح کا موقع مل جاتا ہے اور دس سال بعد ایک نیا رہنما مل جاتا اس لیے چونکہ روٹی الٹتی پلٹتی رہی اس لیے جلنے نہیں پائی ۔تریپورہ تو خیر ایک چھوٹی سی ریاست ہے وہاں بی جے پی نے اس کے قدم اکھاڑے تو پھر وہ جم نہیں پائے۔ مغربی بنگال میں سی پی ایم کو بہت طویل عرصہ یعنی تقریباً 36؍ سال بلا توقف حکومت کرنے کا موقع ملا اور اس درمیان اسے اپنی اصلاح حال کا موقع نہیں ملا۔ مغربی بنگال کے اندر جیوتی باسو جیسا اشتراکی رہنما سیاسی افق پر نمودار ہوا ۔ دیوے گوڑ سے قبل جیوتی باسو پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کرلیا وہ خود بھی راضی تھے مگر پارٹی جنرل سیکریٹری ہر کشن سنگھ سرجیت آڑے آگئے ۔ ان کااصولی موقف تھا کہ دوسروں کی حمایت سے اقتدار میں آنے پارٹی شبیہ خراب ہوگی۔
جیوتی باسو کی وفات کے بعد مغربی بنگال میں پارٹی کے اندرایک خلا پیدا ہوگیا اور بدھادیب بھٹاچاریہ اسے پُر نہیں کرسکے ۔ اس کے بعد سنگور میں کمیونسٹوں نے صنعتی زون بنانے کا فیصلہ کیا اور زمین خالی کوانے کے لیےاپنے غنڈوں سے کسانوں پر حملہ کردیا۔ وہیں سے ممتا کا عروج اور اشتراکیوں کے زوال کا آغاز ہوگیا۔ممتا کو کنارے کرنے کی خاطر اشتراکیوں نے پہلے ’رام پھر بام(پہلے بی جے پی پھرکمیونسٹ ) یہ نعرہ لگاکرزعفرانیوں کی راہ ہموار کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کمیونسٹ محاذ کا مغربی بنگال سے پوری طرح صفایہ ہوگیا۔ یہی غلطی کیرلم میں دوہرائی جارہی ۔ جورپینرائی وجین بھی جیوتی باسو کی طرح جم گئے ہیں ۔ وہ بھی زعفرانیوں کو ایک ڈی ایف پر ترجیح دیتے ہیں ۔ عملاً بی جے پی کے ساتھ ہوگئے ہیں۔ اس بار ہارنے کے بعد اگر ان لوگوں نے اپنی اصلاح نہیں کی توکیرلم سے بھی اس کا نام و نشان مٹ جائے اور بی جے پی کا فائدہ ہوگا۔ اس لیے اسے بڑے اور چھوٹے دشمن میں فرق کرنا چاہیے ورنہ ملک سے اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لحاظ سے کمیونسٹوں کے لیے یہ کرو یا مرو کی صورتحال ہے اور ان کی قسمت کا فیصلہ بھی ہونے والا ہے۔
Post Views: 99
Like this:
Like Loading...