Skip to content
مردم شماری ۲۰۲۷ .
خود اندراج(سیلف اینومریشن) اور قومی شمولیت کا نیا دور
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
راقم اس سے قبل دو مضامین میں مردم شماری کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کر چکا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ریاستِ تلنگانہ کے عوام کے لیے سیلف اینومریشن سے متعلق ضروری معلومات پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ اس اہم قومی عمل میں شعوری طور پر شریک ہو سکیں۔
مردم شماری محض اعداد و شمار کی ترتیب نہیں بلکہ قومی خود آگاہی کا ایک معتبر ذریعہ ہے۔ مردم شماری ۲۰۲۷بھارت کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے، جہاں بدلتے سماجی و معاشی حقائق کو نئے تناظر میں سمجھنے کا موقع ملے گا۔ طویل وقفے کے باعث پرانے اعداد اب مؤثر رہنمائی نہیں کر سکتے، اس لیے یہ عمل پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے لیے ناگزیر ہے۔اس بار مردم شماری کا مکمل ڈیجیٹل نظام اسے تیز اور شفاف بناتا ہے، تاہم درستگی اور رازداری کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتائج سماجی و معاشی میدان کے ساتھ سیاسی ڈھانچے پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ اگر اسے دیانت اور بصیرت سے مکمل کیا جائے تو یہ ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
مردم شماری عموماً دو اہم مراحل پر مشتمل ہوتی ہے، جن کے ذریعے مکمل اور درست معلومات جمع کی جاتی ہیں:
۱۔ ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری: یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے، جس میں ملک بھر کے تمام مکانات، عمارتوں اور بنیادی سہولیات (جیسے پانی، بجلی، بیت الخلا وغیرہ) سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ اس مرحلے کا مقصد رہائشی ڈھانچے اور سہولیات کی صورتِ حال کا جامع جائزہ لینا ہوتا ہے۔ تواریخ : یکم اپریل تا ۳۰ ستمبر۲۰۲۶۔
۲۔ آبادی کی مردم شماری: یہ دوسرا اور بنیادی مرحلہ ہے، جس میں ہر فرد کی تفصیلات (جیسے عمر، جنس، تعلیم، پیشہ وغیرہ) درج کی جاتی ہیں۔ اسی مرحلے میں ملک کی اصل آبادی کا تعین کیا جاتا ہے۔متوقع تاریخ: فروری /مارچ ۲۰۲۷ سےہوگی۔
ان دونوں مراحل کے درمیان ایک مختصر وقفہ رکھا جاتا ہے تاکہ ابتدائی معلومات کو منظم کر کے دوسرے مرحلے کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے ہوچکا ہے اور ملک کی تقریباً ریاستوں میں یہ عمل جاری ہے۔ہماری ریاست تلنگانہ میں یہ عمل ۱۱/مئی ۲۰۲۶ ء سے ۹/جون ۲۰۲۶ء تک چلے گا جس میں ہاوس لسٹنگ کے متعلق سوالنامے کے تحت معلومات اور تفصیلات طلب کی جائیں گی۔اگر یہی کام آپ خود کرنا چاہتے ہیں یعنی سیلف اینومریشن تب یہ سہولت ۲۶ اپریل ۲۰۲۶ ء سے ۱۰/مئی ۲۰۲۶ ء تک شہریوں کے لیے دستیاب رکھی جائے گی۔اس کا مکمل طریقہ کار حسب ذیل ہے۔
)۔ ایک سہل مگر بامعنی اقدام : Self Enumeration بذات خود اندراج (
بذات خود اندراج (خود شماری) مردم شماری کے عمل کا ایک جدید اور مؤثر انداز ہے، جس کے تحت شہری اپنے گھرانے کی تفصیلات خود آن لائن درج کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت عموماً گھر گھر جا کر معلومات اکٹھی کرنے کے مرحلے سے تقریباً پندرہ روز قبل محدود مدت کے لیے فراہم کی جاتی ہے، جس میں افراد نہایت آسانی سے ۱۵تا ۲۰ منٹ میں اپنی معلومات مکمل کر کے ایک منفرد شناختی نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔یہ طریقہ نہ صرف وقت کی بچت کا ذریعہ ہے بلکہ شہریوں کو قومی فریضے میں براہِ راست شرکت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے، جس سے معلومات کی درستگی اور شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ڈیٹا کی تیز رفتار پروسیسنگ ممکن بنتی ہے۔ حکومتِ ہند کی جانب سے ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری کے آغاز سے قبل یہ خصوصی سہولت اسی مقصد کے تحت مہیا کی جاتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ خود شماری ایک اختیاری سہولت ہے، لازمی نہیں۔ اگر کوئی فرد خود اندراج نہ کر سکے تو تشویش کی ضرورت نہیں، کیونکہ مقررہ مدت کے دوران متعلقہ اہلکار گھر آ کر معلومات درج کر لیتا ہے۔ مزید برآں، فراہم کردہ تمام معلومات کو مکمل رازداری اور تحفظ کے ساتھ محفوظ رکھا جاتا ہے۔یوں خود شماری محض سہولت ہی نہیں بلکہ شہری شمولیت، اعتماد اور مؤثر قومی منصوبہ بندی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مرحلہ وار رہنمائی: خود انداراج کا طریقہ
مرحلہ ۱: سب سے پہلے شہری کو مقررہ ویب سائٹ پر جا کر اپنے صوبے یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور کیپچا مکمل کر کے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ بہتر تجربے کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اس مرحلے میں جب نقشے پر اپنے گھر کا درست مقام نشان زد کرنا ہو۔
مرحلہ ۲۔:اگلے مرحلے میں گھرانے کی رجسٹریشن کی جاتی ہے، جہاں خاندان کے سربراہ کا نام درج کیا جاتا ہےیہ ایک اہم اندراج ہوتا ہے جسے بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ کسی ایک فرد کا موبائل نمبر دینا ضروری ہے، جو صرف اسی گھرانے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اگر چاہیں تو ای میل ایڈریس بھی فراہم کیا جا سکتا ہے تاکہ شناختی نمبر وہاں بھی موصول ہو سکے۔
مرحلہ۳:پھر زبان کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو پورے عمل کے دوران برقرار رہتا ہے، اور موبائل پر موصول ہونے والا تصدیقی کوڈ (او ٹی پی ) درج کر کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھا جاتا ہے۔
مرحلہ۴:اس کے بعد رہائش کی تفصیلات درج کی جاتی ہیںضلع، گاؤں یا شہر، علاقہ اور قریبی نشانیاںتاکہ درست مقام کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔
مرحلہ ۵:ایک ڈیجیٹل نقشہ سامنے آتا ہے جس پر ایک نشان کو اپنے گھر کی درست جگہ پر لے جا کر محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ اس لیے اہم ہے تاکہ بعد میں عملے کو آپ کے گھر تک رسائی میں آسانی ہو۔
مرحلہ ۶:پھر اصل سوالنامہ شروع ہوتا ہے، جس میں گھر اور رہائش سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کی جاتی ہیں(جس کا سوال نامہ علاحدہ ذکر کیا گیا ہے) ہر سوال کے ساتھ رہنمائی کے لیے وضاحتیں، نوٹس اور عمومی سوالات دستیاب ہوتے ہیں، تاکہ معلومات درست اور مکمل درج کی جا سکیں۔
مرحلہ ۷:تمام معلومات درج کرنے کے بعد ایک جائزہ (پریویو)کا مرحلہ آتا ہے، جہاں صارف اپنی فراہم کردہ معلومات کو دوبارہ دیکھ سکتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو ترمیم بھی کر سکتا ہے۔ اس مرحلے پر معلومات کو عارضی طور پر محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے۔
مرحلہ ۸: صارف مکمل اطمینان حاصل کر لے تو فائنل سبمیشن کے بٹن پر کلک کر کے معلومات کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید تبدیلی ممکن نہیں رہتی۔ کامیاب سبمیشن کے بعد ایک منفرد 11 ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر جاری کیا جاتا ہے، جو ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے بھی موصول ہوتا ہے۔ اسے محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
مرحلہ ۹:آخر میں، جب مردم شماری کا اہلکار گھر پر آتا ہے تو یہی شناختی نمبر اس کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ اگر نمبر درست ثابت ہو جائے تو پہلے سے جمع کرائی گئی معلومات کی تصدیق ہو جاتی ہے، بصورت دیگر اہلکار معلومات و تفصیلات کا خود انداراج کرتا ہے۔خود شماری دراصل شہری اور ریاست کے درمیان ایک بااعتماد ربط کی علامت ہے۔ یہ عمل نہ صرف انتظامی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ ہر فرد کو قومی ترقی کے عمل میں براہِ راست شریک بھی بناتا ہے۔ ایک درست اور مکمل مردم شماری ہی ایک مضبوط اور منصفانہ مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
سوالنامہ
۱۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کا نمبر (بلدیہ یا مقامی اتھارٹی یا مردم شماری نمبر) کیا ہے؟
۲۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کا مردم شماری مکان نمبر(سنسس آئی ڈی) کیا ہے؟
۳۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کا فرش بنا ہوا ہے ؟ (مٹی /لکڑی/بانس پکی اینٹ/ پتھر/ سیمنٹ موزیک/ٹائل دیگر)
۴۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کی دیواریں بنی ہوئی ہیں؟(گھاس/چھپر/بانس پلاسٹک/پولی تھین /مٹی/کچی اینٹ/ لکڑی/ بغیر گارے کے پتھر /گارے کے ساتھ پتھر /جی آئی/دھات/اسبسطاس /پکی اینٹ /کنکریٹ دیگر)
۵۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کی چھت کا بنیادی مواد (گھاس ،چھپر،بانس،لکڑی ،مٹی/ پلاسٹک،پولی تھین/ ہاتھ سے بنی ٹائل/ مشین سے بنی ٹائل/ پکی اینٹ/ پتھر /سلیٹ جی آئی/دھات/اسبسطاس / کنکریٹ دیگر)
۶۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کے استعمال کی نوعیت؟ (رہائش/ رہائش + دیگر استعمال/ دکان،دفتر/ اسکول،کالج /ہوٹل ،لاج ،گیسٹ ہاؤس/ ہسپتال ،ڈسپنسری/ فیکٹری ،ورکشاپ/ عبادت گاہ/ دیگر غیر رہائشی / خالی)
۷۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کی حالت؟ (اچھی/ قابل رہائش/ خستہ)
۸۔متعلقہ گھرانے کا نمبر کیا ہے؟
۹۔اس گھرانے میں عام طور پر رہنے والے افراد کی کل تعداد کتنی ہے؟
۱۰۔ گھرانے کے سربراہ کا نام کیا ہے؟
۱۱۔ گھرانے کے سربراہ کی جنس کیا ہے؟
۱۲۔ کیا گھرانے کا سربراہ درج فہرست ذات/درج فہرست قبیلہ/دیگر سے تعلق رکھتا ہے؟(ایس سی/ایس ٹی/دیگر)
۱۳۔مردم شماری کیے جانے والے مکان کی ملکیت کی حیثیت کیا ہے؟(ذاتی ہے /کرایہ کا ہےذاتی کہیں اورہے/ کرایہ کا ہے ذاتی گھر نہیں ہے/ دیگر)
۱۴۔گھرانے کے زیرِ استعمال رہائشی کمروں کی تعداد کتنی ہے؟
۱۵۔گھرانے میں رہنے والے شادی شدہ جوڑوں کی تعداد کتنی ہے؟
۱۶۔پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ کیا ہے؟(نل (درست ذریعہ آب سے سربراہی)/ نل ( غیرصاف ذریعہ)/ کنواں/ ہینڈ پمپ /ٹیوب ویل /چشمہ دریا/نہر تالاب/ بوتل والا پانی/ دیگر)
۱۷۔ پینے کے پانی کا ذریعہ موجود ہے؟(گھر کے اندر/گھر کے قریب /دور)
۱۸۔روشنی کا بنیادی ذریعہ کیا ہے؟ا(برقی/کیروسین(مٹی کا تیل)/شمسی/دوسرا تیل/کوئی دوسرا ذریعہ/روشنی کا انتظام موجود نہیں ہے)
۱۹۔کیا بیت الخلا موجود ہے؟( صرف ذاتی استعمال کے لیے /دیگر کے ساتھ اشتراک / عوامی/ کھلی جگہ )
۲۰۔ بیت الخلا کی قسم کیا ہے؟(پائپ سیور سسٹم/ سیپٹک ٹینک/ دیگر سسٹم /ٹوئن پٹ (سلاب کے ساتھ)/ ٹوئن پٹ (بغیر سلاب)/ سنگل پٹ (سلاب کے ساتھ)/ سنگل پٹ (بغیر سلاب)/ سروس لیٹرین (انسانی صفائی)/ سروس لیٹرین (جانوروں کے ذریعے)/ کھلی نالی میں)
۲۱۔گندے پانی کے اخراج(نکاسی) کا نظام کیا ہے؟(بند /کھلا/موجودنہیں)
۲۲۔کیاغسل خانہ موجود ہے؟( چھت کے ساتھ /بغیر چھت/موجود نہیں)
۲۳۔کیا باورچی خانہ اورایل پی جی/پی این جی کنکشن دستیاب ہے؟(کچن میں ہی ایل پی جی۔پی این جی کنکشن موجود ہے یا موجود نہیں/ گھر کے اندرایل پی جی کنکشن موجود ہے یا موجود نہیں/ گھر کے باہر یا آنگن میں پکایا جاتا ہے ۔ایل پی جی کنکشن موجود ہے یا موجود نہیں)
۲۴۔کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا بنیادی ایندھن کیا ہے؟(لکڑی فصل کی باقیات گوبر کوئلہ مٹی کا تیل ایل پی جی بجلی بایو گیس شمسی دیگر)
۲۵۔کیا ریڈیو/ٹرانزسٹر موجود ہے؟( روایتی ریڈیو سیٹ/موبائل یا اسمارٹ فون پر ہی/کسی اور ڈیوائس(آلہ)پر۔
۲۶۔کیا ٹیلی ویژن موجود ہے؟(دوردرشن فری ڈش/کوئی اور ڈی ٹی ایچ۔ڈش/کیبل کنکشن/کوئی اور دوسرا/موجود نہیں ہے)
۲۷۔کیا انٹرنیٹ سہولت موجود ہے؟(لیپ ٹیپ یا کمپیوٹر/صرف اسمارٹ فون یا موبائل فون/کوئی اور دوسرا/موجود نہیں ہے)
۲۸۔کیا لیپ ٹاپ/کمپیوٹر موجود ہے؟(ہاں یا نا)
۲۹۔کیا ٹیلی فون/موبائل فون/اسمارٹ فون موجود ہے؟(لینڈ لائین/اسمارٹ فون/کوئی دوسرا موبائل/ دونوں/موجود نہیں ہے)
۳۰۔کیا سائیکل/اسکوٹر/موٹر سائیکل/موپیڈ موجود ہے؟(سائیکل/اسکوٹر۔موپیڈ۔موٹر سائیکل/دونوں/موجود نہیں)
۳۱۔کیا کار/جیپ/وین موجود ہے؟ (ہاں یا نا)
۳۲۔گھرانے میں استعمال ہونے والا بنیادی اناج کیا ہے؟(چاول/گیہوں/جوار/باجرہ/مکئی/کوئی اور دوسرا)
۳۳۔مردم شماری سے متعلق رابطے کے لیے موبائل نمبر کیا ہے؟
(نوٹ:مذکورہ با لا سوالات کے آگے قوسین میں آپشنس دئیے گئے ہیں جن میں درست اور کسی ایک آپشن کا انتخاب کر نا ہوتا ہے۔بعض آپشن کوڈ سے منسلک ہوں گے جس کے لیے درست کوڈ درج کیا جاسکتا ہے۔)
Post Views: 65
Like this:
Like Loading...