Skip to content
ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے !!
تحریر: جاوید بھارتی
خوش نصیب ہے وہ انسان جن کے والدین باحیات ہیں اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے والدین کی خوب خدمت کرتا ہے کیونکہ اسلام کے اندر دو طرح کے حقوق ہیں ایک کا نام حقوق اللہ ہے تو دوسرے کا نام حقوق العباد ہے یاد رکھیں کہ حقوق اللہ میں کوتاہی ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی اسے معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد میں کوتاہی ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک کہ بندہ خود معاف نہ کرے یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے جہاں اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے اور جہاں حقوق العباد کا ذکر کیا ہے تو اس میں سب سے پہلے والدین کی خدمات کو ترجیح دی گئی ہے والدین کی بیٹے کے حق میں کی جانے والی دعا بڑی موثر ہوتی ہے والدین کا مقام و مرتبہ کیا ہے قران میں بھی ملتا ہے اور احادیث کی کتابوں میں بھی ملتا ہے ساتھی ہی بہت سارے بزرگان دین کے واقعات بھی ملیں گے جنہوں نے اپنے ماں باپ کی بے حد د خدمت کی ہے اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کی خدمت کریں ان کو کسی طرح کی تکلیف پہنچانے کا تصور میں بھی خیال نہ لائیں،، لیکن اج کے دور میں بڑا افسوس ہوتا ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان اکثر دوریاں کھائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں سوشل میڈیا پر تو ماں باپ کی خدمت کرتے ہوئے خوب پرچار کیا جاتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ خدمات اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ سبسکرائبر اور فالور بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اج بڑی تعداد میں والدین کو گھروں سے نکالا نہیں جاتا اور ہاسٹلوں میں بھیجا نہیں جاتا بلکہ اپنے گھر پر رکھ کر انہیں خوش کیا جاتا ان کی خدمت کیا جاتا ان کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھا جاتا اور ان سے دعائیں لی جاتی نتیجہ یہ ہوتا کہ اللہ تبارک و تعالی بھی خوش ہوتا اور بندہ قدم قدم پر کامیابیاں حاصل کرتا
زید کے ہوٹل پر ایک بوڑھی عورت ہاتھوں میں خشک روٹی لے کر اتی ہے اور تندور پر موجود بکر نامی ملازم سے کہتی ہے اس روٹی کو ذرا گرم کر دو تندور پر کام کرنے والا بکر کہتا ہے کہ ہوٹل مالک سے اجازت لینا ضروری ہے اپ کاؤنٹر پر جائیے ہوٹل مالک سے اجازت لیجئے وہ اگر روٹی گرم کرنے کی اجازت دے دیں گے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا میں خوشی خوشی اپ کی روٹی گرم کر دوں گا
بوڑھی عورت کاؤنٹر پر جاتی ہے ہوٹل کے مالک سے کہتی ہے کہ مجھے اس روٹی کو گرم کروانا ہے اپ اگر اجازت دے دیں تو اپ کا ملازم روٹی کو گرم کر دے گا اور میں اسے کھا کر اپنا پیٹ بھر لوں گی ہوٹل مالک نے بکر کو اواز دی اس ماں کی روٹی گرم کر دو تو بکر نے روٹی کو گرم کر کے بوڑھی عورت کے ہاتھوں میں دے دیا،،
اب بوڑھی عورت ہاتھ میں روٹی لے کر دوبارہ کاؤنٹر پر جاتی ہے اور ہوٹل مالک کا شکریہ ادا کرتی ہے ہوٹل مالک پوچھتا ہے کہ ماں جی تمہارے پاس تو صرف روٹی ہے اخر اس روٹی کو کیسے کھاؤ گی روٹی کھانے کے لیے تو سبزی یا سالن کا ہونا ضروری ہے تو بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے پاس پیاز ہے میں اس پیاد سے روٹی کھا لوں گی جب یہ بات سنی تو ہوٹل مالک نے کہا کہ نہیں ماں جی اخر پیاز سے بھی کوئی روٹی کھاتا ہے اپ ٹیبل پر بیٹھئیے میں اپ کے لیے سبزی اور سالن لگوا دیتا ہوں اپ بھر پیٹ کھا لیں تو وہ عورت کہتی ہے کہ نہیں ایک دن سبزی اور سالن کھا کر کیا کروں گی جب کہ روزانہ مجھے روٹی اور پیاز ہی کھانی ہے جب یہ بات سنی تو ہوٹل مالک کی انکھوں میں انسو اگئے اور وہ کھڑا ہو گیا پوچھتا ہے اور کہتا ہے کہ بھلا کوئی سوکھی روٹی بھی کھاتا ہے ماں جی،، مجھ سے سوکھی روٹی کھانے کا اور پیاز روٹی کھانے کا ماجرا کیا ہے یہ بتائیے-
بوڑھی عورت کہتی ہے کہ بیٹا میری کہانی بڑی عجیب ہے ہمارا بھی ایک اچھا خاصا کنبہ تھا مکان تھا لیکن شوہر کا اچانک انتقال ہوگیا ، میری دنیا اجڑ گئی ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ،، ایک بیٹا تھا جسے میں نے پال پوسٹ کر بڑا کیا پڑھا لکھا کر اس کو کسی قابل بنایا اور وہ سروس بھی کرنے لگا،، لیکن اس کی سوچ بدلتی گئی اور اپنے اپ کو بہت اونچے لیبل کا انسان سمجھنے لگا اس نے اپنی مرضی سے شادی بھی کی لیکن میں نے اس کی مخالفت نہیں کی کیونکہ اس کی خوشی میں میں اپنی خوشی سمجھتی تھی لیکن شادی کے بعد اس نے صرف اپنی بیوی کی باتوں کو ترجیح دی اور مجھے نظر انداز کرنے لگا میری باتوں کو ان سونی کرنے لگا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی بیوی کا مزاج دن پر دن گھٹیا ہوتا گیا اور وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی ایک دن ایسا بھی ایا کہ اس کی بیوی کہتی ہے کہ اس گھر میں یا تو میں اور اپ یعنی ہم دونوں رہیں گے یا کہ پھر اپ کی ماں رہے گی میں اپ کی ماں کے ساتھ اس گھر میں نہیں رہ سکتی اب فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ اس گھر میں کون رہے گا،، بیوی کی باتوں کو سن کر اس نے مجھے گھر سے نکال دیا میں اب در در کی ٹھوکر کھا رہی ہوں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اٹا چاول دال سبزی اور سالن کا انتظام کروں ایک طویل عرصے سے میں پیاز روٹی سے اپنا گزارا کر رہی ہوں ،، اس عورت کی باتوں کو سن کر ہوٹل مالک رو پڑا اور کہتا ہے کہ بس اب تک جو ہوا ہوا لیکن اگے سے اپ کو پیاز روٹی نہیں کھانا ہے کیونکہ اپ کو بیٹے کی ضرورت ہے اور مجھے ایک ماں کی ضرورت ہے میری ماں کا ایک عرصہ ہوا انتقال ہو گیا میرے پاس سب کچھ ہے لیکن ایک ماں نہیں ہے اس لیے اپ سے میری درخواست ہے کہ اج سے مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور میں اپ کو اپنی ماں سمجھوں گا اور اج سے اپ کو میرے ہی گھر میرے ساتھ رہنا ہے اتنا کہنے کے بعد اپنے ہوٹل کے ایک ملازم سے کہتا ہے کہ انہیں میرے گھر پہنچا دو اج سے یہ میرے گھر میں رہیں گی اور اج سے یہی میری ماں ہیں –
دنیا میں گنی چونی ایسی مائیں ہونگی جو اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتی ورنہ اپنی اولاد کے لیے ماں کا دل کیسا ہوتا ہے اس کی ایک مثال تحریر کرنا انتہائی مناسب معلوم ہوتا ہے،، یعنی ایک بیٹا جو ماں کے ساتھ رہتا ہے ماں اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور بیٹا بھی اپنی ماں کو بہت چاہتا ہے اور اس کی خوب خدمت کرتا ہے لیکن ایک لڑکی اس سے فریبی محبت کرتی ہے اور یہ شرط لگاتی ہے کہ تم اپنی ماں کا کلیجہ میری خدمت میں پیش کرو گے تو میں سمجھوں گی کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور پھر میں بھی ہمیشہ کے لیے تمہاری ہو جاؤں گی بیٹے کے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی اور اہستہ اہستہ اس کے قدم بہکنے لگے اخر وہ دن بھی اتا ہے کہ ہاتھوں میں چاقو اور تھالی لے کر رات کے اندھیرے میں ماں کے پاس پہنچتا ہے اور ماں کا کلیجہ نکال کر تھالی میں رکھ کر بڑی تیزی کے ساتھ عورت کے پاس پہنچنے کے لیے دوڑ لگاتا ہے راستے میں ٹھوکر لگتی ہے تو وہ گر جاتا ہے تھالی ہاتھوں سے چھوٹ جاتی ہے اور کلیجہ کہیں اور جھٹک کر گرتا ہے بڑی تیزی کے ساتھ اٹھنے کی کوشش میں پھر گر جاتا ہے اس سے گھٹنا چھل جاتا ہے اور بھی جسم کے مختلف حصوں میں چوٹ اتی ہے اس کے باوجود بھی وہ اٹھتا ہے تو ایک ہاتھ سے تھالی اٹھاتا ہے اور جلدی سے پہنچ کر کلیجے کو دوسرے ہاتھ سے اٹھا کر تھالی میں رکھتا ہے تو کلیجے سے اواز اتی ہے کہ اے بیٹا تجھے کہیں چوٹ تو نہیں ائی،، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے سے کتنی محبت کرتی ہے-
حقیقت تو یہ ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں کی خدمت میں پوری زندگی ختم کر دے اور ان خدمات میں بڑا سے بڑا کام کر دے یہاں تک کہ اپنے کندھے پر بٹھا کر اسے طواف تک بھی کرا دے تو بھی وہ ماں کا حق ادا نہیں کر سکتا یہاں تک کہ ماں کے لئے بیٹا چاہے جو کچھ بھی کر دے لیکن جب وہ چھوٹا تھا تو بستر پر پیشاب کر دیا کرتا تھا تو ماں اس بستر کو موڑ کر خشک حصے پر بیٹے کو سلا دیتی تھی اور خود بغیر بستر کے سو جایا کرتی تھی اس کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ بیٹے کی ولادت کے وقت تکلیف کے باعث ماں کے منہ سے جو آہ نکلی اس کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا-
+++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
Post Views: 40
Like this:
Like Loading...