Skip to content
بے اعتدالی کا عذاب
ترتیب: عبدالعزیز
لوگ تفریحی مقامات پر جانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ کبھی آپ نے اِس بات پر غور کیا ہے کہ کوئی بھی تفریحی مقام چاہے جتنا خوش نما اور پرفضا ہو، ایک یا دو دن ہی اچھا لگتا ہے۔ اِس کے بعد وہاں رہنا کَھلنے لگتا ہے۔ تفریحی مقامات یعنی ہل اسٹیشنز کی ساری دل کشی ایک دو دن کی ہوتی ہے۔ پھر انسان اکتاہٹ سی محسوس کرنے لگتا ہے۔ محفل ہو یا کوئی جلسہ، سفر ہو یا پارٹی، ایک خاص سے زیادہ قیام کی صورت میں بیزاری، اکتاہٹ اور پریشانی پیدا ہوتی ہے۔ زندگی کے ہر معاملے کا یہی حال ہے۔ جب ہم کسی بھی معاملے میں حد سے گزرتے ہیں تب معاملات عدمِ توازن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ معقولیت کی حد سے گزرنے سے بچنا ایک ایسا ہنر ہے جو راتوں رات نہیں آتا۔ یہ ہنر سیکھنے کے لیے بہت تگ و دَو کرنا پڑتی ہے۔ کم ہی لوگ ہیں جو اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں کس حد تک جانا چاہیے اور کس حد تک اپنے آپ کو بروئے کار لانا چاہیے۔ یہ دنیا بہت دل کش ہے۔ اِس کا ہر پہلو اپنے اندر سو رنگ لیے ہوئے ہے۔ دنیا کی رنگینی ہمیں بہت کچھ دیتی ہے، بہت کچھ سکھاتی ہے۔ یہ دنیا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں آگے بڑھنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی بھی چیز سے، کسی بھی معاملے سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں تو طے کرنا ہوگا کہ ہم اْس سے کس حد تک مستفید ہونے کو ترجیح دیں گے۔ میٹھا ایک خاص حد تک اچھا لگتا ہے۔ تِکھاس اور کھٹاس کا بھی یہی معاملہ ہے۔ کھانے میں نمک بھی ایک معقول حد تک اچھا لگتا ہے۔ ہر معاملے میں معقولیت کی ایک حد کا تعین ہمیں خود کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر انسان کا مزاج باقی سب سے الگ ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے کون سا معاملہ کہاں تک اچھا ہے اور کہاں سے ناگواری کی حد شروع ہوتی ہے اِس کا اندازہ خود اس انسان ہی ہوسکتا ہے۔
اعتدال ہمارا آپ کا نہیں اور محض اس دنیا کا معاملہ نہیں بلکہ پوری کائنات کا بنیادی اصول ہے۔ اللہ نے ہر معاملے میں معقولیت کی حد مقرر کی ہے جس کا ہمیں اندازہ لگانا پڑتا ہے اور اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی اللہ ہی نے عطا فرمائی ہے۔ جسے اپنے تمام معاملات کو معقولیت کی حدود میں رکھنے کی فکر رہتی ہو اسی کو اللہ کی طرف سے ایسا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور کے نصیب میں لکھے گئے ہیں جس میں ہر معاملہ شدید بے اعتدالی کی طرف گامزن دکھائی دے رہا ہے۔ لوگ پریشان ہوتے ہیں تو اِتنے پریشان ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر الجھن ہوتی ہے۔ جنہیں خوش رہنے کا شوق ہے وہ سوشل میڈیا اور دیگر جدید ترین علتوں میں ایسے گم رہتے ہیں کہ زندگی کے بنیادی مسائل کا کچھ ہوش ہی نہیں رہتا۔ فی زمانہ بیش تر انسانوں کا یہ حال ہے کہ ہر معاملے میں حد سے گزر جانے کو زندگی کا بنیادی تقاضا سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہنسنا ہے تو ہر معاملے پر ہنسنا ہے اور اگر رونا ہے تو بس لگاتار روتے ہی رہنا ہے۔ بھرپور تھکن کے بعد راحت ملتی ہے مگر لوگ تھکن سے بہت پہلے آرام راحت تلاش کرنے عادی ہوچکے ہیں۔ جب کسی بھی معاملے میں اعتدال کا دامن چھوڑ دیا جائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ پیاس لگی ہو تو اْتنا ہی پانی پینا چاہیے جس سے پیاس بجھ جائے۔ پیاس بجھنے پر بھی پانی پیا جائے تو طبیعت ڈگمگا جاتی ہے۔ زندگی اپنے ہر معاملے میں ہم سے متوازن اور معتدل سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔
ہم اپنے معاشرے پر تنقیدی نظر ڈالیں تو فوری طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ اعتدال کو دیس نکالا دیے جانے کے نتیجے میں ہر معاملہ غیر متوازن ہوکر رہ گیا ہے۔ لوگ کھانے پینے، گھومنے پھرنے، دوستوں میں بیٹھنے، اعزا و اقربا سے ملنے، خرچ کرنے اور دیگر بہت سے معاملات میں شدید بے اعتدالی کا شکار ہیں۔ جن معاملات سے زندگی بنتی ہے ان پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی جاتی یعنی وہاں بھی بے اعتدالی ہی جلوہ گر ہے۔ کمانے ہی کو لیجیے۔ لوگ خرچ کرنے پر تو یقین رکھتے ہیں، کمانے پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ قدم قدم پر یہ خواہش جلوہ فرما دکھائی دیتی ہے کہ کچھ زیادہ نہ کرنا پڑے اور بہت کچھ مل جائے۔ گویا ڈھلوان سطح پر چڑھنے میں لوگ جاں فشانی کا مظاہرہ کرنے سے کتراتے ہیں اور اترتے وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں سیدھے کسی گڑھے میں جا گِرتے ہیں۔ ملنا جلنا ہو، کھانا پینا، محنت ہو، کمانا دھمانا ہو، خرچ کرنا ہو، کسی کی مدد کرنا ہو، تفریحی سرگرمی میں شریک ہونا ہو … ہر معاملے میں زندگی ہم سے صرف اور صرف اعتدال کا تقاضا کرتی ہے۔ اِس راہ پر گامزن ہونے سے گریز یا انکار کرنے والوں سے زندگی ایسا سلوک روا رکھتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے سبق اور نشانِ عبرت بن جاتے ہیں۔ ہم اپنے ماحول ہی پر بھرپور تنقیدی نگاہ ڈالیں تو یہ اندازہ لگانے میں ذرا سی بھی دیر نہ لگے گی کہ لوگ جب اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تب وہ اپنی بھرپور کامیابی کو بھی ناکامی میں تبدیل کر بیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ بے اعتدالی ہی کے ہاتھوں اپنی پوری صلاحیت، لیاقت اور سکت کو داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ زندگی بہت سوچ سمجھ کر بسر کرنے کا معاملہ ہے۔ اِس معاملے میں آپشن کوئی نہیں یعنی جو کرنا ہے سو کرنا ہے۔ زندگی توجہ اور انہماک چاہتی ہے۔ ایسا کیے بغیر چارہ نہیں۔ابو صباحت
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 47
Like this:
Like Loading...