Skip to content
شہنشاہِ سیاست : دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی اپنی اداکاری کے زور سے مغربی بنگال کا انتخاب جیت لینا چاہتے ہیں۔ پچھلی بار انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی مانند داڑھی بڑھا لی تھی اور ان کی طرح شال بھی اپنے کندھےپر رکھنے لگے تھے لیکن لوگ سمجھ گئے کہ یہ نقلی ڈگری والا جعلی ٹیگور ہے۔اس بار وہ مختلف انداز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ پہلے تو انہوں نے خواتین کے حق میں ٹیلی ویژن پر خوب مگر مچھ کے آنسو بہائے اور دوسرے دن ایک معمولی سی ’جھال موڑی‘ کی دوکان پر جاکر راہُل گاندھی کے مانند بھیل پوری کھائی ۔ اس کے بعد خطاب عام میں غنڈوں کودھمکاکر ’اینگری اولڈ مین‘ کی اداکاری کی۔ اس طرح الگ الگ بہروپ میں رائے دہندگان کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ہوتے اس نوٹنکی کی کیا ضرورت؟مذکورہ بالا تینوں معاملات میں مودی جی کی ’جھال موڑی‘ والی ویڈیو خوب چلی کیونکہ اس میں تفریح کاسامان زیادہ تھا اور نہایت پیشہ وارانہ انداز میں تقریباً ۶؍ عدد کیمروں سے فلمایا گیا تھا جو اندر اور باہر کے مناظر دکھاتا تھا۔ وہاں موجود خواتین اور بچوں کو مختلف زاویوں سے دکھانا مہارت اور مشقت طلب کام تھا۔
ان لوازمات کے باوجود مہورت غلط نکل گیا ۔ دلیپ کمار سے بہتر اداکار ثابت کرنے کے چکر میں مودی جی ’جھال موڈی ‘کو جھال مولی بول گئے حالانکہ اویسی اور سوامی جیسے وغیرہ مودی کو موڈی کہتے ہیں ۔ ویسے درازیٔ عمر کے سبب ایسی غلطی اور اوور ایکٹنگ قابل معافی ہے ۔ اس کے بعد ا نہوں نے امیتابھ بچن کے انداز میں کہا ’پیاز کھاتا ہوں دماغ نہیں کھاتا‘۔ سبزی خور مودی بھیجا تو کھانے سے رہے لیکن دماغ خراب ضرور کرتے ہیں۔ اس دوکان سےمودی جی نے دس روپئے کی جھال موڈی خریدکر خود بھی کھائی اور وہاں موجود خواتین و بچوں میں تقسیم بھی کی ۔ اس سےمعلوم ہوا کہ مودی کے راج میں مہنگائی کی شکایت غلط پروپگنڈا ہے۔ آج بھی دس روپئے میں اتنی جھال موڈی مل جاتی ہے کہ وزیر اعظم سمیت خواتین اور بچےاپنا پیٹ بھر سکتے ہیں اور اس سے بھی محروم بھگت جئے شری رام کا نعرہ لگا کر شکم پروری کرلیتے ہیں۔ ویڈیو میں پیچھے سے جئے شری رام کے دھن وہ لوگ سنا رہے تھے جن کی جانب مودی جی کے کیمرنے گھومنے کی زحمت بھی نہیں کی ا۔ایسے بھگتوں کے لیے سلیم کوثر کہتےہیں ؎
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر
مودی جی کی اس جھال موڈی پارٹی کے دوران دوکان کے اندر منظر گواہی دے رہا تھا کہ وزیر اعظم اس کے پہلے گاہک ہیں کیونکہ ساری برنیاں اوپر تک بھری ہوئی تھیں۔ وہاں موجود خواتین نے جوش عقیدت میں کہہ دیا یہ ہمارے لیے پرساد ہے۔ وہاں تو نہ مندر تھا اور نہ پوجا ہوئی پھربھی وہ جھال موڑی پرشاد کیسے ہوگئی یہ تو کوئی مودی بھگت سادھو سنت ہی بتا سکتا ہے۔ مودی جی کی روانگی کے بعد للن ٹاپ کے سدھانت موہن وہاں پہنچ گئے تو پتہ چلا دوکاندار وکرم ساہو بارہ سال قبل بہار سے بیروزگاری کے سبب جھارگرام آیا تھا ۔وہ اب لوٹ کر جانا بھی نہیں چاہتا کیونکہ پیٹ کیسے بھرے گا۔ سوال یہ ہے پچھلے چوبیس سال سے بہار کے اندر بی جے پی کے این ڈی اے کی سرکار ہے تو پھر ساہو کو اپنا وطن چھوڑ کر جھارگرام کیوں آنا پڑا؟ وکرم کمار ساہو سے پسندیدہ پارٹی کی بابت پوچھا گیا تو اس نے بتانے سے انکار کردیا ۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ بی جے پی کا حامی نہیں ہے ورنہ بول دیتا کہ ہم کمل چھاپ ہیں۔ وکرم کی ماں سویتا دیوی نے تو نہایت صاف کہا کہ ہمارے لیے سارے گاہک برابر ہیں چاہے وہ نریندرمودی ہوں یا ممتا دیدی ہوں ۔ نام لینے کے انداز نے بتا دیا کہ جھکاو ممتا کی جانب ہے اور پھر یہ کہنا کہ ’ہم کسی کی مخالفت نہیں کرتے‘خوف و دہشت کی علامت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی جی کا جادو جھال موڈی والے وکرم اور اس کے خاندان پر بھی نہیں چل سکا۔
اس سے قبل خواتین ریزرویشن کےنام پر لوک سبھا کی سیٹیں بڑھانے والی آئینی ترمیمی بل کی ناکامی پر وزیراعظم نریندر مودی نے ’’قوم کے نام خطاب‘‘ میں اداکاری کے بڑے جوہر دکھائےلیکن حزب اختلاف نے اسے ’’انتخابی تشہیر‘‘، سرکاری مشنری کا غلط استعمال اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قراردےکر رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ جبکہ بی جے پی اوراس کے لیڈروں نے مودی کو ’’خواتین کے حقوق کا چمپئن‘‘ بنا کر پیش کرتے ہوئے دفاع کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نےا لزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے سرکاری نظام کا غلط استعمال اور یہ انتخابی مہم کا حصہ تھا۔ممتا بنرجی نے بتایا کہ ’’لوک سبھا میں ہمارے اراکین کی تعداد میں خواتین9.38؍ فیصد ہیں۔ راجیہ سبھا میں یہ فیصد 46؍ فیصدہے۔ ‘‘ سوال یہ ہے بی جے پی کے یہان کیا تناسب ہے؟ نیز بی جے پی نے پورے ملک میں کسی خاتون وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بنایا؟
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود وزیر اعظم کا سرکاری مشینری کوکانگریس کی مخالفت کے لیے استعمال کرنا جمہوریت اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس صدر نے نشاندہی کی کہ 29؍ منٹ کے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے 59؍ بار کانگریس کا ذکر کے ثابت کردیا اس تقریر تعلق خواتین کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ حزب اختلاف کی توہین تھا۔ایوانِ بالامیں آر جے ڈی کے قومی ترجمان منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کےبارے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ٹویٹ لکھ کر ’قوم سے خطاب‘ انتخابی تقریر قرار دیااوراسے انتخابی اخراجات میں شامل کرنے کی درخواست کی ۔زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن سندوش کمار نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو باقائدہ خط لکھ کروزیر اعظم نریندر مودی کے قومی خطاب کو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی خلاف ورزی کی شکایت درج کروادی ۔ 19؍ اپریل کو لکھے گئے اپنے خط میں رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب اس وقت آیا جب۵؍ ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ یہ خطاب سیاسی نوعیت کا تھا، جس میں جانبدارانہ باتیں اور ’منتخب حقائق‘ پیش کئے گئے۔ ان کا مقصد ایک ایسے مسئلے پر عوامی رائے کو متاثر کرنا تھا جس پر اس وقت زوردار سیاسی بحث جاری ہے۔اس لیے الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرنا چاہیے ۔
معروف وکیل اور رکن پارلیمان کپل سبل نے وزیراعظم کےقومی خطاب کو ہندوستانی سیاست کی نئی پستی سے تعبیرکیا۔ انہوں نے وزیراعظم کے ذریعہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزی کی بابت لکھا ’’ ماضی میں کبھی کسی وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا۔ آپ الیکشن جیت سکتے ہیں مگر ادارے کو تباہ نہ کریں۔‘‘ ۔ یہ درست بات ہے کیونکہ مودی جی نے ہر اہم انتخاب کے موقع پر ایسی غلیظ حرکت کی ہے ۔ وہ رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے لیے کیمروں سمیت چار دھام مندر میں بیٹھ کر اداکاری کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ نے اسےمودی سرکار کا ’’سیلف گول‘‘ قرار دیا۔ اس کے برعکس بی جےپی والے وزیراعظم کے خطاب کا دفاع کرتے پھر رہے ہیں۔ وہ مودی کو خواتین کے حقوق کا بہی خواہ قرار دے رہے ہیں جبکہ ہندوتوا نواز مدھو کشور انہیں خواتین کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتا رہی ہیں ۔ اس طرح مودی کے رونے دھونے کی اداکاری پر پانی پھر رہا ہے اور انہیں حقیقت میں رونا آرہا ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎
اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے
کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے
خواتین کو بااختیار بنانے کا ڈھونگ کرنے والی مودی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اس بل کو منظور ہوئے ایک سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ اس پر عمل در آمدکو خود اس نے مردم شماری اور حد بندی کے بہانے ٹال دیاتھا تو اس دوران ان دونوں میدانوں میں کیا پیش رفت ہوئی۔ ایس آئی آر پر زور دینے والی بی جے پی مردم شماری سے کیوں منہ چھپا رہی ہے؟ کورونا کے بہانے مردم شماری کو ٹالا گیا تھا اس وبا کے سبب دنیا کا کوئی کام نہیں رکا تو یہ کیوں رک گیا؟ دراصل سرکار کی نیت کا کھوٹ اسے روک رہا ہے۔ وہ ذات پات کی بنیاد پر نہ تو مردم شماری کروانا چاہتی ہے اور اس کا انکار کرنے کی ہمت کرسکتی ہے ۔ اس لیے ٹال مٹول کا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں کیرلم کےاندر بی جے پی نے خود کو سی جے پی بنالیا ۔ آسام وہ بہت پر امید تھی مگرزُبین گرگ کی سنگاپور میں حادثاتی موت اور ہیمنتا بسوا سرما پر ان کی زوجہ رنکی سرما کے حوالے سے لگنے والے سنگین بدعنوانی کے الزامات نے دیکھتے دیکھتے سارا منظر نامہ بدل دیا اور ایک جیتی ہوی بازی ہاتھ سے نکل گئی۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر مصیبت بنا ہوا تھا اور تمل ناڈو کے اندر وفاقی ڈھانچے پر سوالات تھے لیکن ا ب خواتین کے ریزرویشن سے منسلک حد بندی نے بی جے پی کا کھیل خراب کردیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ فی الحال مودی سمیت ان کی سرکار کے ستارے بری طرح گردش میں آچکے ہیں اور اسے تحفظ درکار ہے ۔
Post Views: 100
Like this:
Like Loading...