Skip to content
تعلیمی سفر میں وقت کا صحیح استعمال کامیابی وکامرانی کے لئے شاہِ کلید
المعہد العالی الاسلامی میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ،مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کا خصوصی خطاب
حیدرآباد،23اپریل(پریس ریلیز)

پریس نوٹ : المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے آڈیٹوریم دار التربیۃ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر طلبہ کا خصوصی تربیتی پروگرام منعقد ہوا، اس موقع پر ممتاز اور مایۂ ناز عالم دین فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی بانی و ناظم المعہد العالی الاسلامی و صدر آل انڈیا مسلم پر سنل لاء بورڈ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا : ہمارا نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا ہے، اس موقع پر ہمیں خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے اور فہم دین کے حصول کے حوصلہ کو باقی رکھنے کے لیے اپنے عہد وعزم کی تجدید کرنا ہے اور اپنی نیتوں کی اصلاح بھی کرنا ہے، اس سے انشاءاللہ ہمارا تعلیمی سفر کامیاب رہے گا، مولانا رحمانی نے معہد کے نصاب تعلیم کی وضاحت کی اور کہا بنیادی طور پر یہ نصابِ تعلیم سلفِ صالحین کی فکر اور ان کے مزاج و مذاق سے ماخوذ ہے، اس کو عصری تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی، تاکہ طلبہ میں زمانہ شناسی اور حالات حاضرہ سے آگاہی کی صلاحیت پیدا ہو سکے ، معہد میں علوم تفسیر ،علوم حدیث، فقہ و افتاء، مطالعہ مذاہب اور انگریزی وغیرہ تخصصات کے مختلف شعبے ہیں، ان تمام شعبوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور قوم کو ان علوم کے ماہرین کی ضرورت ہے، اس لیے جس شعبہ میں بھی ہمارا داخلہ ہوا ہے ہم پوری یکسوئی اور محنت و جستجو کے ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ دیں ،معہد کے تمام اساتذہ اور طلبہ ایک خاندان و کنبہ کی طرح ہیں ،ان میںمن وتو کا فرق نہیں ہے ،ہمیں یہاں لسانی، علاقائی، درسگاہی ،اور مسلکی فرق و امتیاز سے پرے ہو کر علم و تحقیق کے سفر کو جاری رکھنا اور آگے بڑھانا ہے اور عملی زندگی میں بھی مسلمانوں کے درمیان اسلامی اخوّت اور ملّی وحدت کے پیغام کو عام کرنا ہے، مولانا رحمانی نے مزید کہا: درسیات کے علاوہ غیر نصابی کتب کے مطالعہ سے فکر میں وسعت اور علم میں گیرائی وگہرائی پیدا ہوتی ہے ، اس لیے سوشل میڈیا پر مطالعہ کرنے کے بجائے کتابوں کی خوب ور گردانی کریں، اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں، اس سے زندگی میں ڈسپلن پیدا ہوتی ہےاور کامیابی کی راہ آسان ہوگی، تمام طلبہ کی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتی بعض ذہین اور بعض کمزور ہوتے ہیں، البتہ محنت و کوشش اور جہد مسلسل ذہانت کا بدل ہے،بعض مرتبہ ذہنی طور پر کمزور طالب علم اپنی محنت و کوشش سے ذہین طلبہ سے آگے بڑھ جاتا ہے، اس لیے حصولِ علم میں محنت و کوشش سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ، مولانا رحمانی نے خطاب کے آخر میں زور دے کر کہا کہ علم کے ساتھ حلم بھی ضروری ہے تب ہی یہ علم خود کے لیے اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہوگا، ایک عالم دین میں تواضع انکساری اور علم و بردباری کی بجائے تکبر اور عجب پسندی ہو تو یہ علم لوگوں کے لیے نفع بخش نہیں ہوگا، اسی لیے حدیث میں علم کے حصول کے ساتھ حلم کی بھی دعا سکھائی گئی ہے، مولانا نے کہا: ایک طالب علم بل کہ ایک عالم دین کا سب سے بڑا ہتھیار رجوع الی اللّٰہ ہے، ہم کو دعاؤں کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، ہم دو رکعت صلوۃ الحاجت پڑھ کر اپنے تعلیمی سفر کی شروعات کریں، تاکہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں، اور ہمارے والدین و سرپرستوں کی تمنا بھی پوری ہو، قبل ازیں شعبہ فقہ دوم کے طالب علم ملحان پٹیل کی پرسوز تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا اور محمد سعد متعلم فقہ دوم نے مسحور کن انداز میں کلام اقبال پیش کیا، مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی معتمد شعبہ ثقافت نے بڑی خوبی اور خوش اسلوبی سے پروگرام کی کاروائی چلائی، اس موقع سے شہ نشین پر مولانا مفتی اشرف علی قاسمی معتمد مالیات ،مولانا مفتی شاہد علی قاسمی معتمد تعلیمات ،مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم معہد کے علاوہ اساتذہ معہد مولانا ناظر انور قاسمی، مولانا انظر قاسمی، مولانا ارشد قاسمی، مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی، مولانا نوشاد اختر ندوی اور مولانا انصار اللہ قاسمی بھی موجود تھے۔
Post Views: 105
Like this:
Like Loading...