Skip to content
رحمن کے مہمان ہیں حجاج کرام
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
لیجئے موسم حج شروع ہوگیا ،اقطاع عالم سے عازمین حج سفر کرکے ارض مقدس پہنچ رہے ہیں اور اپنی دیرینہ آرزو پوری کر رہے ہیں ،یہ وہ آرزو اور تمنا ہے جو ہر صاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتی رہتی ہے ، غالبا ہمارے ملک ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے بھی بعض عازمین حج ارض مقدس پہنچ چکے ہیں اور بعض رخت سفر باندھنے اور مقدس ترین سفر کی تیاریوں میں ہمہ تن مصروف ومشغول ہیں، بندگان ِ خدا عشق ومستی میں ڈوب کر ،آنکھوں میں دیدارِ بیت اللہ کا خواب سجائے دن گنتے جارہے ہیں ، خوشی سے وہ پھولے نہیں سمارہے ہیں ، ان کے دل کروٹیں لے رہے ہیں، جس میں ارمانیں مچل رہی ہیں ، آنکھیں رات دن کھلی ہیں اور نگاہیں بس بیت اللہ کے دیدار کی منتظر ہیں، یقینا سچے عشاق اور مومنین صادقین کی یہی کیفیت ہواکرتی ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ حج محبوب سے محبت کی انتہاء اور اس سے بے مثال عشق کی علامت کانام ہے، قبول ایمان کے ذریعہ جب بندہ اپنے معبود حقیقی سے محبت اور اس کی غلامی کا اعلان کرتا ہے تو اس کے ساتھ عشق ومحبت کا دور شروع ہوجاتا ہے ، قبول ایمان کے بعدنماز کے ذریعہ عشق ومحبت کا سفر شروع ہوتا ہے ،محب اپنے محبوب سے ملاقات کے لئے دن میں پانچ مرتبہ اس کے گھر کا چکر لگاتا ہے ،رکوع وسجود کے ذریعہ اپنی غلامی کا ثبوت پیش کرتا ہے ،تلاوت قرآن کے ذریعہ گفتگو کرتا ہے اور ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگتا اور فریاد کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی عاجزی ،مجبوری اور درماندگی اور اُس کی بادشاہت ،شہنشاہیت اور داتا ہونے کا اظہار کرتا ہے،جب محبت آگے بڑھتی ہے تو پھر زکوۃ وصدقات نافلہ کے نام پر مال ودولت لٹا تا ہے ، جس وقت محبت کا غلبہ ہوتا ہے تو پھر خر چ کرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے ،وہ ایک ہاتھ سے دیتا ہے تو دوسرا اس سے لاعلم رہتا ہے ،محبت جب جنون کی سر حدوں پر قدم رکھتی ہے تو پھر اپنے محبوب کی محبت میں روزہ رکھتا ہے اور کھانا پینا سب بھول جاتا ہے ،اس کی اس کیفیت کو دیکھ کر محب بھی بہت خوش ہوتا ہے اور اعلان کرتا ہے روزہ کی وجہ سے میرے محبوب کے منہ سے جو بو آرہی ہے وہ مجھے مشک سے بھی زیادہ پسند ہے ،پھر جب محبتوں کا سفر طے کرتے ہوئے عشق کی وادی میں قدم رکھتا ہے تو پھر اسے محبوب کی زیارت اور اس کی یاد بے چین وبے قرار کر دیتی ،کسی پہلو بھی قرار نہیں آتا ،تب وہ دیوانگی کی کیفیت میں گھر بار چھوڑ کر ،تجارت وکاروبار موقوف کرکے ،عزیز واقارب سے کنارہ کش ہوکر اور اپنے شہر وملک کو خیر آباد کہہ کر شہر مقدس ،وادی محترم اور بیت اللہ الحرام کے لئے نکل پڑتا ہے ،سفر حج در اصل اسی عشق ومحبت اور محبوب کی زیارت کا نام ہے ،جس وقت وہ محبوب کے گھر کی زیارت کے لئے نکلتا ہے تو اس وقت اس کی حالت قابل رشک ہوتی ہے ،جسم پر صرف دوچادریں لپیٹ لیتا ہے ،سر کھلا ہے،معمولی چپل پہنے ہوئے ہے،زیب وزینت سے بہت دور بس دیوانہ وار اپنے محبوب کو پکار تا ہے ’’ لبیک اللہم لبیک ‘‘اے پرور دگار میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں،پھر مکہ پہنچ کر بیت اللہ کے اردگرد چکر لگاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا محبوب کے گرد گھوم رہا ہے،حجر اسود کو بوسہ دیتا ہے تو لگتا ہے محبوب کے ہاتھ چوم رہا ہے اور جب بیت اللہ شریف پر نگاہ ڈالتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ گویا محبوب کو دیکھ رہا ہے تب کہیں جاکر اس کے جذبہ ٔ عشق کو سکون ملتا ہے،اس کی بے قرار آنکھوں کو قرار ملتاہے اور اس کا پورا وجود عشق ومستی میں مست ہوجاتا ہے ،اس عمل کے ذریعہ وہ عشق و محبت کی اس بلند ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کا محبوب کی طرف سے استقبال کیا جاتا ہے اور اس کے آنے پر مبارک بادی اور انعام واکرام کی بارشیں برسائی جاتی ہیں ۔
دیگر عبادات نماز ،روزہ اور زکوۃ کی طرح بیت اللہ کا حج بھی فرض ہے ، حج اسلام کا بنیادی اوراہم ترین رکن ہے، سن ۹ ہجری میں حج فرض کیا گیا ، حج کی فرضیت کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ(ال عمران ۹۷)’’اور جو لوگ بیت اللہ تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں ،ان پر اس کا حج فرض ہے ،اور جو انکار کرے تو یقینا اللہ پوری دنیا سے بے نیاز ہیں‘‘،صاحب استطاعت پر پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج فرض ہے ،اگر کوئی اس کے بعد بھی حج کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے نفل ہوگا، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ؐ ہم کو خطا ب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض فرمایا ہے ،تو ایک صحابی حضرت اقرع بن حابسؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہر سال میں حج فرض ہے؟تو نبی ا کرمؐ نے ارشاد فرمایا’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوتا تو تم اس پر عمل نہ کرپاتے اور تمہارے بس میں بھی نہیں تھا کہ تم اس پر عمل کرتے ،حج تو بس ایک مرتبہ فرض ہے اور اس سے زیادہ نفل ہے‘‘(مسند احمد:۲۶۴۲)،جس شخص پر حج فرض ہوجائے تو اسے اداکرنے میں عجلت سے کام لینا چاہیے ،حج کی ادائیگی میں کسی بھی چیز کو بہانا بناکر تاخیر کرنامناسب نہیں،نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ:فریضہ ٔ حج کے ادا کرنے میںجلدی کرو؛کیونکہ تم میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ آئندہ کیا رکاوٹ پیش آجائے(مسند احمد:۸۲۶۷)،ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے فریضہ ٔ حج کی ادائیگی میں جلدی کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اشاد فرمایا :من اراد الحج فلیتعجل(ابوداؤد:۱۷۳۲ )،عموماً دیکھا جاتا ہے کہ حج فرض ہونے کے باوجود بھی لوگ اس کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں ،بعض لوگ اولاد کی شادیوں کی وجہ سے ،تو بعض حضرات وظیفہ ہونے کا انتظار کرتے ہیں،بعضے لوگ جائداد کی تقسیم کے بعد تو بعض حضرات مکان کی تعمیر یا پھر کاروبار کے جمنے کا انتظار کرتے ہیں ،لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ان وجو ہات کو بنیاد بناکر فریضہ ٔ حج کی ادائیگی میں تاخیر کرنا شرعاً درست نہیں ،نبی اکرم ؐ نے اس شخص کو سخت الفاظ میں وعید سنائی ہے جو استطاعت کے باوجود حج کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے اور مختلف بہانے بناتا ہے، نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ:جو شخص زاد راہ اور بیت اللہ شریف تک پہنچانے والی سواری پر قادر ہو پھر بھی حج نہ کرے تو اس پر کچھ نہیں کہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر،اور یہ بات اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلا(ال عمران:۹۷)اور اللہ کے لئے لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا ہے جو شخص وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو‘‘(ترمذی :۸۱۷)،اس حدیث میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والے کو کس قدر سخت وعید سنائی گئی ہے کہ وہ یہود ی یانصرانی ہوکر مر ے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،یہود ونصاریٰ وہ قومیں ہیں جن پر اللہ نے اپنی پھٹکار اور لعنت فرمائی ہے،ان کے بُرے کرتوت ،ہٹ دھرمی ،بدسلوکی ،حد سے تجاوز ، اور کھلے عام شریعت کی نافرمانی کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان پر ذلت و رسوائی کو مسلط کر دیا گیا ہے ۔
حاجی کے لئے حج خدا کی طرف سے انعامات کا تحفہ ،سابقہ گناہوں سے معافی کا وصیلہ اور مغفرت کا عظیم ذریعہ ہے،اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین عبادت کو اپنے بندوں کے لئے مغفرت کا وصیلہ اور بہانہ بناکر زندگی میں ایک مرتبہ فرض فرمایا ہے تاکہ اس کی ادائیگی کے ذریعہ بندے اپنے گناہوں سے دھل کر پاک وصاف ہوجائیں اور ان کی گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی نہ رہے ،نبی اکرم ؐ نے حج کو مغفرت کا بڑا ذریعہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:من حج فلم یرفث ولم یفسق رجع من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ( مسلم:۲۴۰۴)’’جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں کوئی گناہ کا کام اور بے حیائی کی بات نہ کرے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوکر واپس ہوتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے‘‘ ،یہی نہیں بلکہ حج اس قدر مبارک عبادت ہے کہ جس میں حاجی کے لئے بلاتوقف رحمتوں کی بارشیں برستی رہتی ہیںاور یہ سلسلہ ان کے گھر سے نکلنے سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور حج کے افعال تکمیل کرنے تک جاری رہتا ہے ، حاجی کے لئے ہر قدم پر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر رکن کی ادائیگی پر خصوصی انعام دیا جاتا ہے ،ایک حدیث میں نبی اکرم ؐ نے حاجی کے لئے خدا کی طرف سے انعام واکرام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:حاجی کے لئے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک غلطی معاف کی جاتی ہے،اور طواف کے بعد دورکعت پڑھنے پر بنی اسماعیل کے غلام آزاد کر نے کا ثواب دیا جاتا ہے،اور صفا ومروہ کی سعی کا ثواب ستر غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہے،اور جب بندہ میدان عرفات میں وقوف کرتا ہے تو اس دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماکر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ میرے پراگندہ بالوں والے بندے دنیا کے کونے کونے سے میری جنت کی امید لگا کر میرے پاس آئے ہیں،لہذا ان کے گناہ اگر چہ ریت کے ذرات ،بارش کے قطرات اور سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں پھر بھی میں انہیں بخش دوں گا ،پس اے میرے بندو! جاؤ بخشے بخشائے واپس جاؤ تم بھی بخش دئیے گئے اور جس کے لئے تم نے بخشش کی سفارش کی ان کی بھی مغفرت کردی گئی ہے،اورشیطان کو کنکری مارنے کے بدلے ہر کنکری پر کسی بڑے گناہ کی معافی ہوتی ہے ،اور قربانی کا ثواب آخرت کے ذخیرہ میں جمع کیا جاتا ہے،اور احرام کھولنے کے وقت سر منڈانے پر ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک بُرائی مٹائی جاتی ہے،اور طواف زیارت کے بعد گناہوں سے بالکل پاک وصاف کر دیا جاتا ہے اور فرشتہ حاجی کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ اب آئندہ کے لئے ازسر نو اعمال کرو،تمہارے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں(مسند البزار:۶۱۷۷) ۔
یہی وجہ ہے حاجی جب ادائیگیٔ فرض کے بعد لوٹتا ہے تو گناہوں سے پاک صاف اور دھلا دھلایا ہوا ہوتا ہے ،اس کانامۂ اعمال گناہوں سے خالی ہوتا ہے ،رحمت خداوندی کا اس پر سایہ ہوتا ہے ، جب وہ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ، نبی اکرم ؐکا ارشاد ہے کہ حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں ،اللہ نے انہیں بلایا جس پر انہوں نے لبیک کہا اور یہ لوگ جو مانگیں گے اللہ تعالیٰ انہیں عطا کریں گے(ابن ماجہ: ۲۸۹۲)،حضرت ابن عباس ؓ کی روایت جن میں پانچ لوگوں کی دعائیں قبول ہونے کا ذکر ہے ان میں سے ایک حاجی بھی ہے (البحر العمیق :۱؍۷۰)،انہیں احادیث کی وجہ سے حجاج سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے ،حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا’’جب تم حاجی سے ملو تو اس سے سلام ومصافحہ کرو اور اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لئے استغفار کراؤ کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہے‘‘(مسند احمد:۵۴۹۷)۔
قرآنی آیات اور احادیث شریفہ اور ان کی تشریحات سے پتہ چلتا ہے کہ حاجی کا کس قدر اونچامقام ومرتبہ ہے،سفر حج کس قدر مبارک سفر ہے اور مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کرنے والا کس درجہ محترم ومعظم ہے ،لاکھوں انسانوں میں سے ایک ہے جس کا انتخاب خود خالق نے فرمایا ہے ،اسے رحمن کی مہمانی کا شرف حاصل ہوا ،قدم قدم پر نیکیاں ہی نیکیاں اور جب گھر واپس ہوتا ہے توہلکا پھلکا آتا ہے ،اس پر سے گناہوں کا بوجھ اُتر چکا ہوتا ہے اور وہ اس بچے کی طرح معصوم ہوتا ہے جس سے ابھی گناہ سرزد ہی نہیں ہوئے ہیں ،عازمین حج اپنے کو سعادت مند تصور کریں ،خدا کے حضور شکر بجالاتے رہیں ،سفر کا ہر لمحہ اس شوق میں گزاریں جیسے کوئی اپنے کسی قریب ترین عزیز سے ایک عرصہ بعد ملنے کا اشتیاق رکھتا ہے،مناسک حج نہایت اطمینان سے اور بے حد اہتمام سے اداکریں ، لمحہ بھر کے لئے بھی وقت ضائع نہ کریں ،آداب حرمین شریفین کو ملحوظ رکھیں،مدینہ منورہ میں اس طرح حاضر ہوں جیسے ایک غلام اپنے کرم فرما آقا کے دربار میں حاضر ہوتا ہے،مسجد نبوی میں جب تک رہیں معتکف بن کر رہیں ،بار گاہ رسول اقدس ؐ میںصلاۃ وسلام کا نذرانہ پیش کرتے رہیں،اپنی نیت کو اللہ کی محبت کے لئے خالص کرلیں ،ریا ،دکھلاوا ،شہرت ،ناموری اور فخر وبڑائی سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں،اگر نیت میں ذرا سابھی فطور آجائے تو پورا عمل ضائع ہوجائے گا ، نبی اکرم ؐ نے یہ پیشن گوئی فرمائی ہے کہ ’’ آخری زمانہ میں چار طرح کے لوگ حج کریں گے،بادشاہ تفریح کی غرض سے ،امراء تجارت کے مقصد سے ،فقراء بھیک مانگنے کے لئے اور علماء شہرت طلبی کے لئے‘‘(احیاء العلوم :۱؍۱۶۲)،یہاں کا ہر عمل اخلاص پر مبنی ہو بلکہ زندگی کا ہر عمل ہی للہیت کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بندوں کا وہی عمل قبولیت پاتا ہے جس میں اخلاص ہوتا ہے۔
Post Views: 60
Like this:
Like Loading...