Skip to content
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
7؍اپريل 2026 کو زخمی شیر کی مانند امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایرانی تہذیب کو ایک ہی رات میں ختم کرکے اسے ’پتھر کے دور میں دھکیلنے ‘کی کی خوفناک دھمکی دی ۔ ایران کے بدخواہ توقع کررہے تھے کہ ایران پر بم برسیں گے ۔ آگ اورخون کی ہولی کھیلی جائے گی مگر ٹرمپ نے 24 گھنٹے کے اندر ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کے لیے ایک ’قابل عمل بنیاد‘ قرار دے کر گلاب کا پھول اچھالااور مودی جی کی مانند پیشنگوئی فرمادی کہ ’مشرقِ وسطیٰ کا سنہرا دور آنے والا ہے‘ ۔اس طرح پانچ ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں مبتلا عوام نے سکون اور اطمینان کاسانس لیا ۔ اگلے دن اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کردیا کہ ’ایران اور امریکہ نے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر، لبنان سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو فوراً نافذ العمل ہے۔‘ ۔ ٹرمپ کا یہ سیماب صفت رویہ اس شعر کی مصداق تھا کہ؎
نرالی شان ہے ہر آن ہر پل میرے دلبر کی
مثال شعلہ یا شبنم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے
مذاکرات کا پہلا دور بخیر و خوبی گزرکیا اورامید تھی کہ بہت جلد بات بن جائے گی مگر ٹرمپ نے بیچ میں آبنائے ہر مز کی ناکہ بندی کا اعلان کرکے پھولوں کے گلدستے میں کانٹے سجا دئیے ۔ بیک وقت جنگ بندی اور اس کے ساتھ ناکہ بندی نے ایران کے اندر امریکہ کی نیت و ارادہ کے تعلق سےشکوک و شبہات پیدا کردئیے۔ نائب صدر وینس دو سرے دور کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آ نے کی خاطر پر تول ہی رہے تھے کہ ایران نے سرد مہری کا مظاہرہ کردیا ۔ اب امریکی انتظامیہ کے لیے یہ مشکل صورت حال پیدا ہوگئی کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کی میز پر پہنچنے کی یقین دہانی کے بغیر نائب صدر کو کیسے روانہ کیا جائے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ وینس کی قیادت میں تذبذب کا شکار خصوصی مشیر سٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنرپر مشتمل امریکی مذاکراتی وفد میامی سے اسلام آباد آنے کے بجائے واشنگٹن پہنچ گیاکیونکہ وہاں صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر آئندہ کی حکمتِ عملی طے کررہے تھے ۔
ساری دنیا پھر سےسانس روک کر ٹرمپ کی جانب دیکھنے لگی اور جنگ بندی کےخاتمے پر خوفناک حملے کی قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی ٹرمپ دھمکی دے ہی چکے تھے مگر موصوف نے پھر سے قلابازی کھاکر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا۔ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست کا حوالہ دے کرسوشیل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم سے کہا گیا ہے کہ جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز سامنے نہ لے آئیں ایران پر حملہ نہ کیا جائے ۔‘ اب جئے شنکر کو بتانا ہوگا کہ کیا کسی دلال کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور اس پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع مل سکے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان تنازع کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا‘ اور انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’دونوں فریقین جنگ بندی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور میں مستقل حل کے لیے جامع امن معاہدہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔‘ اس بیان کے بعد ہندوستانی وزیر خارجہ کو دلال والے بیان پر کتنا ملال ہوا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
امریکی نائب صدر کے نہ آنے کی وجہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن ایران اس میں اس وقت شریک ہو گاجب مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے ۔ مذاکرات کے راستے میں موجود رکاوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے امریکہ کے ذریعہ کھلے سمندروں میں ایرانی جہازوں اور تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ سمندری ڈکیتی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے یہ اقدامات مجموعی طور پر اس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہیں پھر بھی پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ جنگ بندی کو مزید 14 دن کے لیے بڑھاکرسفارت کاری اور مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جائے۔ اس صورتحال میں جبکہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر ٹرمپ نے ایک روز قبل معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا ، اچانک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یہی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ٹرمپ کی اس حالت پر عبدالہادی کاوش کا یہ شعر صادق آتاہے؎
مزاج یار کا عالم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے
دل مجروح کا مرہم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکومت اس وقت اندرونی طور پر منقسم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا اپنا ذہن بنٹاہوا ہے۔ موصوف کنفیوژڈ ہیں اس لیےکوئی فیصلہ نہیں کرپاررہے ہیں اور گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ بھی مذکورہ بالا شعر میں ’دل مجروح‘ کہہ کر بیان کی گئی ہے۔ ایران کے حملوں نے ٹرمپ کا سینہ چھلنی کردیا ہے اور ان کو اپنے زخموں کا مرہم نہیں مل پارہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کرکے ان دونوں حضرات کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کی سفارش کے،احسان کا بدلہ چکا دیا۔ ویسے ٹرمپ نے اپنی عادت کے مطابق یہ ضرور کہا کہ امریکی فوج پوری طرح تیار ہے لیکن اب ساری دنیا یہ جان چکی ہے کہ امریکہ کے اندر فی الحال ایران کے اندر اپنی فوج اتارنے کی جرأت نہیں ہے۔ ٹرمپ کے بقول وہ ایران کو مشترکہ تجویز پیش کرنے کے لیے وقت دے رہے ہیں تاہم اس دوران ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ صدر ٹرمپ کی یہی تضاد بیانی سار ے فساد کی جڑ ہے اور اس گتھی کو سلجھانے میں ساری دنیا ناکام ہےبقول شاعر؎
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے کوئی جانے تو کیا جانے
بدلتا رنگ ہے پیہم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کبھی تو جنگ بندی کا راگ الاپتے ہیں مگر اسی کے ساتھ ایران کی سمندری تجارت کو روکنے کے لیے سخت ناکہ بندی کرتے ہوئے آبنائے ہر مز سے دور دراز مقام یعنی بنگال کی کھاڑی میں بھی ایک جہاز کو یہ الزام لگا کر روک دیا جاتا ہے کہ وہ ایران سے آرہا ہے۔ سوال یہ ہے اتنا عرصہ تک امریکیوں کو اس کا پتہ کیوں نہیں چلا اور چونکہ وہ بہت دور نکل کر ہندوستان سے قریب آگیاتھا ، اس لیے اسے بھول جایا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ بڑے میاں ٹرمپ تو ٹرمپ ان کے وزیر خزانہ ا سکاٹ بیسنٹ بھی شیخ چلی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے جزیرہ خرگ پر تیل کا ذخیرہ جلد ہی بھر جائے گا، جس سے اسے تیل کی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جزیرہ خرگ چونکہ ایران کی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس لیے یہ حرکت براہ راست اس کی معیشت کو نشانہ بنا نے کے مترادف ہے۔ بیسنٹ کے ان مونگیری لال والے سپنوں پر غالب کا یہ شعرصادق آتا ہے؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہس پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
امریکہ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جو جہاز یا فرد ایران کی مدد کرے گا اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کے اندر ان گیدڑ بھپکیوں سے کوئی پریشانی یا جھنجھلاہٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی نے نہایت پرسکون انداز میں جواب دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان بے معنی ہیں یعنی انہیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے ٹرمپ انتظامیہ ایک رسی پر لاٹھی کے ذریعہ مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنا اور دوسری طرف کھلی جنگ سے بھی بچنے کی خاطرجنگ بندی میں توسیع امریکہ کی مجبوری ہے۔ ایران امریکہ کی اس مجبوری کو سمجھ چکا ہے اس لیے خوب فائدہ اٹھا رہاہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی میں کھلے تضاد کے باوجود کہ جس میں جنگ بندی کے ساتھ جارحانہ اقتصادی اور سمندری کارروائی بھی موجود ایران اشتعال میں آکر کوئی ایسی غلطی نہیں کررہا ہے جس سے دشمن کا فائدہ اور اپنا نقصان ہوجائے۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس طرح کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ایران کے خود اعتمادی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پابندیوں سے گزر چکا ہے اس لیے اسے ان نمٹنا بھی آگیا اور اس نے ان مشکل ترین حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے جینےکا فن سیکھ لیا ہے۔ وہ لوگ تو ٹرمپ کے بیانات اس شعر کی مصداق ہیں؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
Post Views: 68
Like this:
Like Loading...