Skip to content
حاجیوں کے بن رہے ہیں قافلے پھر یانبی ﷺ
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
حج- یہ لفظ اپنے اندر ایسی روحانی کشش، باطنی ہیبت اور ایسی نورانی تاثیر رکھتا ہے کہ جس کے تذکرے ہی سے قلوبِ اہلِ ایمان میں ایک غیر مرئی اضطراب، بے قراری اور عارفانہ تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ایک عبادت نہیں بلکہ عبدیتِ کاملہ کا وہ مظہرِ اتم ہے جس میں بندہ اپنے تمام تر ظاہری و باطنی تعلقات سے منقطع ہوکر بارگاہِ رب العزت میں سراپا نیاز بن جاتا ہے۔ جب ایامِ حج قریب آتے ہیں اور حجاجِ کرام کے قافلے سوئے طیبہ رواں دواں ہوتے ہیں تو گویا فضاؤں میں ایک خاص طرح کی روحانیت گھل جاتی ہے، دلوں میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب کوئی خوش نصیب اپنے نامہ اعمال میں سعادتِ حج کا سنہرا باب رقم کرنے کے لیے لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ نکلتا ہے اور کوئی محروم اپنی بے بضاعتی، کوتاہیوں یا تقدیر کے فیصلے کے باعث درِ کعبہ تک نہ پہنچ سکنے کے غم میں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہیں بلاوا آ چکا ہے، جن کے لیے درِ رحمت کھل چکے ہیں، جن کے قدموں کو حرمینِ شریفین کی خاک چومنے کا شرف حاصل ہونے والا ہے اور دوسری طرف وہ عاشقانِ بیت الله ہیں جو حسرت و اشتیاق کے آنسو بہاتے ہوئے قافلوں کو رخصت کرتے ہیں گویا اپنے دل کا ایک حصہ ان کے ساتھ روانہ کر دیتے ہیں۔
حج کی حقیقت دراصل فنا فی الله کی ایک عملی تصویر ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں انسان اپنی انا، تفاخر، دنیاوی حیثیت کو پسِ پشت ڈال کر ایک سادہ سے احرام میں ملبوس ہو جاتا ہے جہاں نہ کوئی امیر رہتا ہے نہ غریب، نہ کوئی حاکم نہ محکوم، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر اس ربّ کریم کی بندگی کا اعلان کرتے ہیں جس کے سامنے تمام تر کائنات سرنگوں ہے۔ میدانِ عرفات میں وقوف، مزدلفہ کی شب گزاری، منیٰ کی قربانیاں یہ سب صرف افعال نہیں بلکہ معانی و اسرار کے وہ سمندر ہیں جن میں ڈوب کر انسان اپنے وجود کی حقیقت کو پا لیتا ہے۔ جب کوئی خوش نصیب بیت الله کے صحن میں قدم رکھتا ہے اور پہلی بار کعبۃ الله پر نگاہ پڑتی ہے تو وہ منظر الفاظ کی حدود سے ماورا ہوتا ہے۔ دل دھڑکنا بھول جاتا ہے، زبان گنگ ہو جاتی ہے اور آنکھیں اشکوں کا سیلاب بن جاتی ہیں۔ وہ لمحہ دراصل قبولیت کی امید کا، مغفرت کی بشارت کا اور قربِ الٰہی کی لذت کا نقطہ عروج ہوتا ہے۔ طوافِ کعبہ کے دوران بندہ اپنے رب کے گرد گردش کرتا ہوا اپنی تمام تر خطاؤں، لغزشوں اور گناہوں کو پیچھے چھوڑتا جاتا ہے اور ہر چکر کے ساتھ اس کا باطن مزید منور ہوتا جاتا ہے۔
ان تمام روحانی کیفیات کے درمیان وہ دل بھی کم قابلِ توجہ نہیں جو اس سعادت سے محروم رہ جاتا ہے۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کو رخصت کرتے وقت اشکبار آنکھوں سے دعائیں دیتی ہے، وہ بوڑھا باپ جو اپنے عصا کے سہارے کھڑا ہوکر قافلے کو جاتا ہوا دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو مالی یا دیگر مجبوریوں کے باعث اس سال حج پر نہ جا سکا، ان سب کے دلوں میں ایک مشترک کیفیت ہوتی ہے۔ حسرت و آرزو اور امید۔ یہ محرومی دراصل محرومی نہیں بلکہ ایک آزمائش، انتظار اور شاید ایک آئندہ بلاوے کی تمہید ہے۔ اہلِ دل جانتے ہیں کہ حج کا بلاوا محض ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ یہ رب کریم کی عنایت اور اس کے انتخاب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کتنے ہی لوگ وسائل رکھنے کے باوجود اس سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں اور کتنے ہی ایسے ہیں جن کے پاس بظاہر کچھ نہیں ہوتا مگر ان کے اخلاص اور شوق کی بدولت ان کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ اس سال نہیں جا سکے ان کے لیے مایوسی کا کوئی جواز نہیں بلکہ انہیں اپنے دلوں میں شوقِ حج کو زندہ رکھنا چاہیے، اپنے اعمال کو سنوارنا چاہیے اور اس یقین کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے کہ جب رب العالمین کا بلاوا آئے گا تو کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکے گی۔
حجاجِ کرام کی روانگی کے یہ مناظر دراصل ہمیں اپنی حقیقت کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ کہ دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے، اصل منزل وہی ہے جہاں ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اگر آج ہم بیت الله کے سفر سے محروم ہیں تو کیا ہوا ہمیں اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ کل جب ہمیں اپنے اعمال کے ساتھ اس کے حضور حاضر ہونا ہوگا تو ہمارا حال کیا ہوگا۔ حج دراصل اسی حاضری کی ایک جھلک ہے، ایک مشق ہے، ایک تیاری ہے۔ لہٰذا! جب ہم قافلوں کو جاتے ہوئے دیکھیں تو صرف حسرت ہی نہ کریں بلکہ اپنے دلوں میں عزم پیدا کریں، اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کریں، اپنی زندگیوں کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالیں اور یہ دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے۔ کیونکہ اصل سعادت یہی ہے، اصل کامیابی یہی ہے اور یہی وہ نعمت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام تر کامیابیاں ہیچ ہیں۔ الله تعالیٰ ان تمام حجاجِ کرام کے سفر کو قبول فرمائے، ان کی عبادات کو شرفِ قبولیت عطا کرے اور جو لوگ اس سال اس سعادت سے محروم رہ گئے ہیں انہیں بھی جلد اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے۔
محترم قارئین! اس روحانی ہیبت، نورانی فضا اور اس قدسی ماحول کے درمیان ایک نہایت افسوسناک اور قلب کو مجروح کرنے والا پہلو بھی نمایاں ہونے لگا ہے جو اربابِ بصیرت کے لیے لمحہ فکریہ اور اہلِ دل کے لیے موجبِ اضطراب ہے۔ وہ یہ کہ بعض ناسمجھ اور سطحی فکر کے حامل افراد جنہیں اس عظیم الشان عبادت کی روح تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی وہ اس موقعہ سعادت کو بھی صرف ایک ظاہری مظاہرہ اور دنیاوی نمائش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ لوگ جنہیں احرام کی سادگی میں فنا ہو جانا چاہیے تھا وہ اپنی ذات کے اظہار میں گم ہو جاتے ہیں۔ جنہیں بیت الله کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا چاہیے تھا وہ اپنی ہی تصویر کو محفوظ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جنہیں لبیک کی صداؤں میں اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی چاہیے تھی وہ موبائل کے کیمروں میں مسکراہٹیں قید کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر نہ صرف روحِ حج کے منافی ہے بلکہ اس عظیم عبادت کے تقدس کے ساتھ ایک طرح کی بے اعتنائی بھی ہے۔ حج کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنی انانیت کو کچل دے، اپنے نفس کی خواہشات کو زیر کر لے اور اپنے ظاہر و باطن کو اس طرح ہم آہنگ کرے کہ اس کے ہر عمل سے عاجزی و انکساری اور خشوع و خضوع ٹپکتا نظر آئے۔ مگر جب یہی بندہ طوافِ کعبہ جیسے مقدس عمل کے دوران اپنی توجہ کو بارگاہِ الٰہی سے ہٹا کر کیمرے کے لینز کی طرف مرکوز کر دیتا ہے تو یہ طرزِ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس کے دل میں ابھی تک دنیا کی محبت پوری طرح زائل نہیں ہوئی۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ریاکاری عبادات کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کوئی عمل محض الله تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں دکھاوا، شہرت یا خود نمائی کا شائبہ بھی شامل ہو جائے تو اس کی روح سلب ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر لمحہ اپنی نمائش کا ایک رجحان پیدا ہو چکا ہے وہاں یہ خطرہ اور بھی بڑھ گیا ہے کہ عبادات بھی اسی ذہنیت کی نذر ہو جائیں۔ چنانچہ بعض لوگ حج جیسے مقدس فریضے کو بھی ایک یادگار ٹرپ کی صورت میں پیش کرنے لگتے ہیں جہاں اصل توجہ عبادت پر نہیں بلکہ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے پر ہوتی ہے۔
ایسے میں اہلِ علم اور اربابِ فکر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس رجحان کی اصلاح کریں اور لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ حج کوئی سیاحتی سفر نہیں بلکہ ایک روحانی انقلاب کا نام ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے ماضی کے تمام گناہوں سے توبہ کر کے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے نہ کہ اسے ایک نمائشی سرگرمی بناکر اس کی اصل روح کو مجروح کیا جائے۔ اگر کوئی شخص واقعی اس سعادت کی قدر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کو الله تعالیٰ کی یاد سے معمور کرے، اپنی زبان کو ذکر و دعا میں مشغول رکھے اور اپنی نگاہوں کو ادب و احترام کے ساتھ جھکائے رکھے۔ یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ بیت الله اور حرمینِ شریفین کے مقدس مقامات وہ جگہیں ہیں جہاں ہر لمحہ الله تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ وہاں کی ہر ساعت قیمتی، ہر لمحہ ایک خزانہ ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اس قیمتی وقت کو غیر ضروری مشاغل میں ضائع کر دیتا ہے تو یہ دراصل اپنی ہی محرومی کا سامان کرتا ہے۔ وہ لمحہ جو آنسوؤں اور دعاؤں میں گزرنا چاہیے تھا اگر وہ کیمرے کے ایک کلک میں ضائع ہو جائے تو یہ ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔ لہذا! حجاجِ کرام اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنے اس مقدس سفر کو خالصتاً الله تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کریں۔ وہ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ حج کی اصل کامیابی تصاویر کی کثرت میں نہیں بلکہ آنسوؤں کی صداقت میں ہے، ویڈیوز کی تعداد میں نہیں بلکہ دعاؤں کی قبولیت میں ہے۔ اگر وہ اس راز کو پا لیں تو یقیناً ان کا حج نہ صرف ظاہری طور پر ادا ہوگا بلکہ باطنی طور پر بھی مقبول و منظور ہوگا۔پس جو لوگ اس سعادت سے بہرہ مند ہو رہے ہیں وہ اپنی نیتوں کا جائزہ لیں، اپنے اعمال کو خلوص کے سانچے میں ڈھالیں اور اس عظیم عبادت کو ہر قسم کی ریاکاری اور نمود و نمائش سے پاک رکھیں۔ کیونکہ حج کا اصل جوہر یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے اس طرح جھک جائے کہ اس کی اپنی کوئی پہچان باقی نہ رہے اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکی تو پھر محض ظاہری اعمال اس عظیم مقصد کی تکمیل نہیں کر سکتے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
Post Views: 40
Like this:
Like Loading...