Skip to content
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
(اقرا کا ابدی پیغام: ہر دور ہر زمانے کے نام)
از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
چودہ سو سال قبل غارِ حرا کی وہ تاریک اور پراسرار رات تھی جب اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل فرمائی۔ اس وحی کا آغاز "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ” (سورۃ العلق) سے ہوا۔ یہ پڑھو کا حکم صرف قرآن کا آغاز نہ تھا بلکہ پوری انسانیت کے لیے علم کی تلاش کا ابدی اعلان ثابت ہوا۔ اس ایک لفظ نے صدیوں کی جہالت کے اندھیروں کو چیر دیا اور ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جو علم کو اپنا قومی شعار بنا کر آٹھویں سے تیرہویں صدی تک دنیا کی سائنسی، فکری اور تہذیبی قیادت کرتی رہی۔
آج جب سائنسی ترقی نے علم کی طاقت کو نئی جہتیں عطا کی ہیں، علامہ اقبال کا مصرعہ "علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب” (نظم: بچے کی دعا، بانگِ درا، 1924ء) محض ایک خوبصورت دعا نہیں بلکہ عملی منشور ہے۔ یہ مضمون اسی اقرا کے فلسفے کی روشنی میں علم کی دینی فضیلت، تاریخی اثرات، فلسفیانہ جہت اور موجودہ دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتا ہے۔
اسلام میں علم کی کوئی ثانوی حیثیت نہیں بلکہ یہ فرضِ عین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ” یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے (سنن ابن ماجہ، راوی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ)۔ علمائے کرام جیسے امام نووی کے مطابق یہ فرض دینی احکام، پیشہ ورانہ مہارت اور معاشرتی ذمہ داریوں تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ "مَنْ سَلَكَ اللَّهُ سَبِيلَ الْعِلْمِ سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبِيلَ الْجَنَّةِ” جس کا مطلب ہے کہ علم کی راہ اختیار کرنے والے کے لیے اللہ جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے (صحیح مسلم، راوی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
یہ ارشادات علم کی طلب کو آخرت کی کامیابی سے جوڑتے ہیں۔ علم محض دنیوی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو روح کو معرفتِ الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود دعا سکھائی کہ "وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا” (سورۃ طہٰ)۔ تفسیرِ ابن کثیر کے مطابق یہ آیت علم کی لامتناہی تلاش کی ترغیب دیتی ہے۔ آج جب معلومات کا سیلاب آ رہا ہے، یہ آیت سکھاتی ہے کہ حقیقی علم محض معلومات اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا ادراک اور عمل ہے۔
اہلِ حکمت نے علم کی اس عظمت کو مختلف زاویوں سے بیان کیا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "العِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ، فَإِنَّ الْعِلْمَ يَحْفَظُكَ وَأَنْتَ تَحْفَظُ الْمَالَ” (نہج البلاغہ) جس کے معنی ہیں کہ علم دولت سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ دولت کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔ موجودہ مادی دور میں جب ہر شخص دولت کی دوڑ میں لگا ہے، یہ قول آئینۂ حقیقت ہے کیونکہ دولت بازار کے اتار چڑھاؤ میں ختم ہو جاتی ہے مگر علم کردار میں امر رہتا ہے۔
امام ابوحامد غزالی رحمہ اللہ نے احیاء علوم الدین میں فرمایا کہ عمل کے بغیر علم بے کار اور علم کے بغیر عمل حماقت ہے۔ آج بے شمار لوگ اعلیٰ درجے حاصل کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں ناکام ہوتے ہیں اور یہ علم اور عمل کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ مغربی مفکر فرانسس بیکن نے سولہویں صدی میں کہا کہ علم ہی طاقت ہے (میڈیٹیشنز ساکری، 1597ء)۔ آج سائنسی ترقی اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ چینی فلسفی کنفیوشس نے فرمایا کہ حقیقی علم اپنی جہالت کا ادراک ہے اور یہی ہمیں علم کی تواضع سکھاتا ہے۔ مشرق و مغرب، قدیم و جدید سب علم کی مرکزیت پر متفق ہیں۔
یہی فلسفہ مسلم سنہری دور کا راز تھا۔ آٹھویں صدی میں عباسی خلیفہ مامون الرشید نے بغداد میں بیت الحکمہ قائم کیا جو دنیا کا پہلا عالمی علم کا مرکز بنا۔ یہاں یونانی، فارسی، ہندی اور سریانی علوم کے عربی میں ترجمے ہوئے۔ ابن سینا کی القانون فی الطب یورپ میں سترہویں صدی تک طبی نصاب رہی۔ الخوارزمی نے علمِ الجبر کی بنیاد رکھی جس سے جدید ریاضی وجود میں آئی۔ البیرونی نے زمین کی جسامت ایسی درستگی سے ناپی کہ جدید آلات حیران رہ جاتے ہیں۔ آٹھ سو سے بارہ سو عیسوی تک دنیا کی سائنسی کتابوں کا بڑا حصہ عربی میں شائع ہوتا رہا۔ مگر جب امتِ مسلمہ نے تحقیق اور جدت سے منہ موڑ لیا تو زوال آ گیا۔ آج مسلم ممالک عالمی سائنسی اشاعت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتے ہیں اور یہ ایک تاریخی سبق ہے کہ علم ترک کرنے والی قومیں مٹی کے ڈھیر بن جاتی ہیں۔
علامہ اقبال نے اس فلسفے کو شاعری میں امر کر دیا۔ بانگِ درا میں وہ فرماتے ہیں کہ نگاہ بلند، سخنِ دل نواز، جاں پرسوز، یہی ہے رختِ سفرِ میرِ کارواں کے لیے۔
یہ شعر علم کی تین بنیادی خصوصیات بیان کرتا ہے جن میں بلند نظر جو دور اندیشی دیتی ہے، دل نواز کلام جو دلوں کو جوڑتا ہے اور جاں پرسوز جذبہ جو تبدیلی کی تحریک دیتا ہے شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ
"عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں،
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے”
یہ انسانی عروج علم کی طاقت سے ہے تلواروں سے نہیں۔ اقبال کا فلسفہ سائنس اور اخلاقی تربیت دونوں کا امتزاج ہے کیونکہ سائنس بغیر اخلاق کے خطرناک اور اخلاق بغیر سائنس کے بے اثر ہے۔
موجودہ دور میں جب دنیا ایک عالمی قصبے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور سائنسی ترقی نے علم کی نئی جہتیں کھول دی ہیں، علم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج سب سے بڑا چیلنج معلومات اور علم میں فرق کرنا ہے۔ افواہوں اور غلط فہمیوں کا طوفان ہے مگر تنقیدی سوچ غائب ہے۔ حل مسلسل سیکھنے کا جذبہ ہے۔ فن لینڈ اور سنگاپور نے تعلیم کو قومی منشور بنا دیا ہے جہاں بالغوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیمی بجٹ بڑھائیں، تحقیق کو فروغ دیں اور ہر شخص کو سوالات کرنے کی ترغیب دیں۔
ایک تعلیم یافتہ شخص نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ فرائض بھی نبھاتا ہے اور یہی معاشرتی تبدیلی کا بیج ہے۔ علم وہ خزانہ ہے جو خرچ کرنے سے بڑھتا ہے جسے نہ چور چرا لیتا ہے نہ حالات برباد کر سکتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول یاد رکھیں کہ "علم تمہارا محافظ ہے۔”
لہٰذا صدقِ دل سے دعا کریں اور اسے عمل کا روپ دیتے ہوئے کتابیں پڑھیں، تحقیق کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ اقرا کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ "وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا” (سورۃ طہٰ)۔ اے اللہ ہمیں علم کی شمع سے محبت عطا فرما اور عمل کی توفیق دے، آمین۔
Post Views: 35
Like this:
Like Loading...