Skip to content
مودی-شاہ کی زبان درازی
’پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ‘
ازقلم:عبدالعزیز
بھارتیہ جنتا پارٹی میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر اس وقت موجود ہے جس میں متانت و سنجیدگی ہو۔ عام طور پر چھوٹے بڑے لیڈران بد زبانی، بد گوئی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پارٹی کے مکھیا نریندر مودی اور ان کے دست راست امیت شاہ کی طرف سے بھاجپائی لیڈروں کو پورے طور پر چھوٹ ملی ہوئی ہے جس کو چاہیں جب چاہیں اس کی توہین اور بے عزتی کرسکتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں لیڈران خود غلط زبانی، بدگوئی کو اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک دو مثال نہیں ہے بلکہ سیکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔
2019ء میں وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’’او دیدی، اویدی‘‘۔ ایسی زبان وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جو تہذیب اور شائستگی سے گرے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو عام طور پر ’سڑک چھاپ‘ کہا جاتا ہے۔ سڑک چھاپ کی زبان سے ملتی جلتی زبان اگر کسی ملک کے وزیر اعظم کی ہو تو نہ صرف اس کی شخصیت مجروح ہوتی ہے، وزیر اعظم کے عہدے کی بھی توہین ہوتی ہے بلکہ ملک و قوم کی دنیا بھر میں بے عزتی اور بدنامی ہوتی ہے۔ دنیا ایک گاؤں اور ایک محلہ میں تبدیل ہوگئی ہے، ایک کونے سے آوازدور دراز کونے تک آناً فاناً پہنچ جاتی ہے۔
گجرات اسمبلی کے ایک الیکشن کے موقع پر کرشنا ایئر نے مودی کے لئے بہت ہی گھٹیا قسم کی زبان استعمال کی تھی۔ انھوں نے مودی کے لئے کہا تھا کہ ’’بہت ہی نیچ‘‘ قسم کا آدمی ہے۔ اس بیان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی اور اس کی پارٹی نے یہ کہنا شروع کردیا کہ مودی جس ذات سے تعلق رکھتے ہی کرشنا ایئر نے اس ذات کو نیچ کہا ہے۔ حالانکہ ایئر نے کسی ذات کو نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ انھوں نے مودی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ کئی ہفتے سے اسکالر مدھو کیشور نریندر مودی کو نشانۂ ملامت بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے کردار پر ایسے حملے کر رہی ہیں جو نہ لکھا جاسکتا ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ مدھو کیشور ایک ہندو پرست خاتون ہیں ، ان کا دائیں بازو سے تعلق ہے۔ 2014ء میں انھوں نے مودی کی زندگی پر ’’مودی، مسلم اور میڈیا‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی تھی۔ جس کا بہت زیادہ چرچا ہوا تھا۔ اسے ’مودی نامہ‘بھی کہا جاتا تھا۔اب وہی مدھو کیشور ہاتھ دھوکر نریندر مودی کے پیچھے پڑگئی ہیں۔ اس طرح پیچھے پڑی ہوئی ہیں کہ نہ تو بی جے پی کے آئی ٹی سیل سے ان کا کاؤنٹر کیا جارہا ہے اور نہ ہی بی جے پی کا کوئی لیڈر نریندر مودی کے دفاع کے لئے سامنے آرہا ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور اس کی دیگر تنظیموں میں سنّاٹا چھایا ہوا ہے۔ اب وہی مدھو کیشور صاحبہ نے اپنے ایک انٹرویو میں فرما رہی ہیں کہ جب کرشنا ایئر نے مودی کو نیچ آدمی کہا تھا تو وہ ہل گئی تھیں لیکن جب مجھے مودی کا کچا چٹھا معلوم ہوا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی کے لئے نیچ کا لفظ بھی بہت کم ہے۔ نریندر مودی نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ جو خاتون ان کے لئے رطب اللسان ہے ، ان کی تعریف میں دریا بہا رہی ہے وہ اس قدر نیچے اتر کر ان کی شخصیت اور ان کے کردا ر پر کیچڑ اچھالے گی۔ اس سے ہر آدمی کو یہ سبق ملتا ہے کہ جو شخص دوسروں کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کرتا ہے وہ خود اس نقصان میں مبتلا ہوجاتا ہے’چاہ کن را چاہ درپیش‘۔ جو دوسروں کی عزت و آبرو کا مذاق اڑاتا ہے دنیا کبھی بھی اس کی عزت اور اس کا احترام نہیں کرتی۔
2021ء میں مودی جی نے ممتا بنرجی کا مذاق اڑایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مودی کی پارٹی کو بنگال میں شرمناک شکست ہوئی تھی۔
اس وقت نریندر مودی کی جگہ امیت شاہ ممتا بنرجی کے لئے جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ انتہائی قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے۔ امیت شاہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’’اے دیدی، اے دیدی‘ ایک دوسری تقریر میں انھوں نے کہاکہ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آرہی ہے جس میں چن چن کر حساب لیا جائے گا‘‘۔ امیت شاہ کو نریندر مودی سے سبق لینا چاہئے تھا اور اپنے لب و لہجے کو درست رکھنا چاہئے تھا لیکن سبق لینے کے بجائے موصوف نریندر مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی شعلہ بیان مقرر مہوا موئترا نے امیت شاہ کی پست زبانی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2021ء میں بنگال کے لوگوں نے نریندر مودی کا جواب دیا تھا۔ اس بار 2026ء میں بنگال کے عوام امیت شاہ کی بدزبانی کا کرارا جواب دیں گے۔ مہوا موئترا نے بھی جو لفظ امیت شاہ کے لئے استعمال کیا وہ بھی نہ لکھا جاسکتا ہے اور نہ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن شاید انھوں نے ان کی پچھلی زندگی کے پیش نظر ایسی بات کہی ہوگی۔
آج (23اپریل) پہلے مرحلے کا الیکشن ہورہا ہے۔ 152سیٹوں کے لئے ووٹرس اپنے اپنے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اب تک کی جو خبر ہے وہ یہ ہے کہ ووٹ کافی تعداد میں لوگ ڈال چکے ہیں اور لمبی لمبی قطاریں ہر پولنگ بوتھ پر لگی ہوئی ہیں۔ ممتا بنرجی نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ ’’2014ء میں وہ کہتی تھیں کہ ’بدلہ نہیں بدلاؤ‘ لیکن اب وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ’بدلاؤ نہیں بدلہ‘ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنگال کو بدل دیں گی۔ ابھی تک جو صورت حال ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ ممتا بنرجی کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ہے۔ عوام ان کے ساتھ ہیں۔ خاص طور پر خواتین کی حمایت ممتا بنرجی کے حق میں ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی ’ایس آئی آر، الیکشن کمشنر اور اپنی طاقت اور اختیارات کے سہارے جو دیگر ریاستوں میں کر چکی ہے وہ یہاں بھی اسے دہرانے سے باز نہیں آئے گی۔ سنٹرل ریزرو فورس ہزاروں کی تعداد میں ڈیوٹی میں تعینات کئے گئے ہیں۔ ایک درجن سے زیادہ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی فرقہ پرستانہ تقریریں کر رہے ہیں۔ ہریانہ، جھارکھنڈ، بہار سے بھی لوگ بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے لائے جارہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ ، ہیمنتا بسوا سرما نفرت انگیز تقریریں ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی جہالت اور نادانی کا بھی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مشہور قول ’’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا‘‘ کو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سوامی ویویکا نند سے منسوب کردیا۔ جو اسکول میں پڑھتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کا قول ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی ایک تقریر میں یہ بھی کہاکہ ’’ہم بنگال کی سر زمین کو کعبہ بنانے نہیں دیں گے‘‘۔ ایسے کم ظرفوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جہاں ایسے لوگ رہیں گے وہاں فتنہ و فساد، بدنظمی اور بدامنی کا دور دورہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کے رہتے ہوئے کوئی بھی جگہ اور مقام پُر امن اور پُرسکون نہیں رہ سکتا۔ ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کا الیکشن میں دندانِ شکن جواب دیا جائے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 55
Like this:
Like Loading...