Skip to content
شعوری اور پیدائشی مسلمان کا فرق
ترتیب: عبدالعزیز
اے ابن آدم یہ وہ وقت ہے جب تمام مسلم ممالک کو ایک ہوجانا چاہیے مگر افسوس؛ سب اپنی مستی میں مست ہیں۔ آج آپ کو ایسا واقعہ بتارہا ہوں جو شعوری اور پیدائشی مسلمان کا فرق سمجھا دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آج محمد علی کلے زندہ ہوتا تو وہ ایران کے ساتھ کھڑا ہوتا، باکسنگ کا بے تاج بادشاہ قبولِ اسلام کے بعد متعدد بار حجاز مقدس آچکے تھے، شاہ فیصل کے شاہی مہمان کی حیثیت سے 1972ء میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی، یہ 1978ء کا ذکر ہے، وہ دوبارہ شاہی مہمان بنے۔ اس ملاقات کے لیے سعودی عرب کا واشنگٹن میں سفارت خانہ کافی دیر سے منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ محمد علی کلے اس وقت 36 برس کے تھے۔ اسی برس انہوں نے تیسری مرتبہ ’ورلڈ ہیوی ویٹ چمپئن شپ‘ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ بلاشبہ اس وقت محمد علی دنیائے کھیل کا سب سے بڑا نام تھا مگر ان کے مالی حالات اچھے نہیں تھے معاوضوں کے مقابلے میں، تب اسٹار کھلاڑیوں کو کافی کم معاوضہ ملتا تھا۔ محمد علی نے کبھی مال و زر سے دل نہ لگایا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے بڑے خاندان کی فلاح وبہبود اور خیراتی کاموں میں خرچ کرتے۔ شاہ خالد بن عبدالعزیز بن سعود ان کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے مگر ان کا اصل مقام قبول اسلام کے نتیجے اور ویت نام کی جنگ میں شرکت سے انکار کی پاداش میں باکسنگ چمپئن شپ کے ٹائٹل اور مراعات کے چھن جانے پر صبر، استقامت اور جرأت مندی سے اسلام کا دفاع کرنا تھا۔ ان کے کردار کے اس دلکش پہلو نے انہیں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا بنادیا تھا۔
یہ ان کے کیریئر کے عروج کے آخری ایام تھے۔ ہیرے، جواہرات اور سونے سے جڑے اس خوب صورت محل جو شاہ کا تھا اس کے پرسکون گوشے میں مترجم اور شاہ کے خواص موجود تھے۔ شاہ نے محمد علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ کی ویت نام کی جنگ کے دوران جرأت مندی، اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت اور پاسداری کو عالم اسلام محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آپ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا ہیں۔ محمد علی کلے نے تشکر بھرے لہجے میں اسے محض اللہ پاک کی کرم نوازی گردانا۔ شاہ صاحب نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا اور بولے کہ میں آپ اور آپ کی آئندہ نسلوں کے مالی تحفظ کے لیے ایک آفر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ شاہ خالد کا ایک نائب آگے بڑھا اور ایک بڑا بیگ میز پہ رکھ دیا اور ایک بریف کیس کھول کر شاہ خالد کے سامنے رکھ دیا۔ شاہ نے محمد علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں آپ کو ایک سو ملین ڈالرز (آج کے 30 ارب روپے) آپ کی اسلام کے لیے بیش بہا خدمت پر ہدیہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمارے سفیر ہوں گے اور آپ کو سالانہ دس لاکھ ڈالرز (30 کروڑ روپے) معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ایک پرائیویٹ جیٹ طیارہ آپ کی ملکیت ہوگا، اس کے عوض آپ مغربی ممالک اور بقیہ دنیا میں مسلمانوں اور سعودی عرب کے نمائندے کے طور پر سفر کریں گے اور تقریبات میں سعودی عرب اور اسلام کی نمائندگی کریں گے۔ وہ 6 ماہ سعودی عرب میں قیام رکھیں گے۔ انہیں سعودی شہریت عطا کی جائے گی مگر انہیں امریکی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اتنی شاندار آفر محمد علی کلے، ان کی اہلیہ ویرونیکا اور وفد کے لیے ناقابل یقین تھی۔ اتنی دولت تو محمد علی اور ان کی سات پشتوں کی پُرتعیش زندگی کے لیے کافی تھی۔ محمد علی دم بخود تھے، کچھ توقف کے بعد بولے شاہ معظم مجھے سوچنے کا موقع دیجیے۔
شام کو ان کی اہلیہ اور فنانشیل ایڈوائزر انہیں بتارہے تھے کہ باکسنگ کے کیریئر سے انہوں نے چند لاکھ ڈالر ہی بچائے اب ان کا کیریئر ختم ہونے کے قریب ہے۔ مشیر نے کہا: آپ سو مرتبہ بھی چمپئن بن جائیں تو اتنی دولت نہیں پاسکتے، یہ ایک ناقابل تصور پیکیج ہے۔ محمد علی کلے عالم اضطراب میں شاہی مہمان خانہ کے آراستہ کمرے کے چکر لگارہے تھے۔ ان کی اہلیہ نے ان کی یہ حالت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، انہوں نے محمد علی کا ہاتھ تھام لیا اور بولی میں آپ کی آزمائش اور راحت دونوں کی ساتھی ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ ویت نام کی جنگ میں جبری شرکت سے انکار پر آپ کو جیل میں قید کردیا گیا تھا مگر تب آپ بہت پرسکون تھے، آپ کے لیے شاید آج فیصلہ کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ آپ جو فیصلہ کریں ضمیر کی آواز کو سامنے رکھ کر کریں۔
اگلے دن شاہ خالد کے شاہی کمرے میں محمد علی کلے، ان کی اہلیہ اور وفد کے استقبال کے لیے شاہ خود چشم براہ تھے۔ شاہ خالد نے محمد علی کلے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں نے آپ کے انعام میں 20 لاکھ ڈالرز کا مزید اضافہ کردیا اور ایک خوب صورت مسجد آپ کی پسند کے ملک اور شہر میں آپ کے نام سے تعمیر کی جائے گی۔ شاہ خالد دل میں سوچ رہے تھے کہ کون اتنی عالی شان اور فیاضانہ پیشکش کو مسترد کرسکتا ہے۔ شاہ خالد نے محمد علی سے پوچھا کہ آپ کا اب کیا فیصلہ ہے تو محمد علی نے کہا: شاہ صاحب میں آپ کی عنایات اور انتہا درجے کی فیاضی اور محبت کے احسان تلے دبا ہوں، آپ کی جانب سے مجھ ناچیز کو کی گئی پیشکش غیر معمولی اور ناقابل یقین حد سے بھی بڑھ کر ہے۔ بادشاہ غور سے سن رہے تھے، محمد علی نے کہا: حضور میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، میں آپ کی اس عظیم پیشکش کو قبول نہیں کرسکتا، میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا۔ کمرے میں موجود سب لوگوں کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ ترجمان نے محمد علی سے پوچھا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ محمد علی بولے: شاہ معظم میں نے اسلام اس کی عالمی حقانیت اور اللہ پاک کا پسندیدہ دین سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں نے قرآن پاک کا گہرائی سے مطالعہ کیا، میں نے شعوری طور پر اسلام قبول کیا ہے، مجھے مال کی طلب نہیں، اگر میں نے یہ انعام قبول کرلیا تو لوگ سوال کریں گے کہ میں نے اکرام و انعام اور جاہ و جلال کے لیے اپنا مذہب ترک کیا، میں دنیا میں اسلام کا سفیر بحیثیت امریکا اور اپنے شہر کنٹکی کے کرنا چاہتا ہوں، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں امریکی ہوتے ہوئے ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہوں، میں انہیں یہ باور کروائوں گا کہ اسلام امریکا میں اجنبی نہیں بلکہ امریکا کا حصہ ہے۔
بادشاہ کے لیے یہ سب ناقابل یقین تھا، ان کے نزدیک اربوں روپے اور اتنی دلکش مراعات کو کون ٹھکرا سکتا ہے۔ محمد علی نے کہا اگر آپ مجھ سے سوال کریں کہ اسلام نے مجھے کیا دیا تو اس میں سب سے بڑھ کر میرا امریکی ہونے کے ناتے اسلامی تشخص اور شناخت جو میرے نزدیک اربوں ڈالرز سے بڑھ کر ہے، میرا امریکا کا غریب خانہ امریکی مسلمانوں کا قلعہ ہے۔ میں مغرب اور اسلام کے درمیان ایک پل کی طرح رہنا چاہتا ہوں۔ شاہ خالد محمد علی کی جامع اور مدلل گفتگو سن کر گہری سوچ میں پڑ گئے۔ انہوں نے کہا میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ایمان والا دیکھا ہے۔ آپ کے عمل نے یہ ثابت کیا کہ آپ عقیدہ اور اللہ پاک کی ذات میں یقین ہم پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ افریقی امریکی آبادی میں قبول اسلام کا اہم کلیدی حصہ محمد علی کی ذات کے گہرے نقوش کا ہے۔
محمد علی کلے 80 کی دہائی میں باکسنگ کی دنیا سے دستبردار ہوگئے۔ اگلے برس میں ان کے مالی اثاثے سکڑنے لگے۔ چند برس بعد انہیں رعشہ (Parkinsonism) کا عارضہ لاحق ہوگیا، مگر محمد علی نے اپنی مبلغ اسلام کی سرگرمیوں میں کمی نہ آنے دی۔ سال 1996ء میں اٹلانٹا اولمپکس کی شمع ان کے ہاتھ سے روشن کروائی گئی۔ امریکا میں انہیں انسانی حقوق، برابری اور انصاف اور استحصال مخالف تحریک کا سرخیل قرار دیا۔ تاریخ نے اربوں روپے کی رقم ٹھکرانے کے اس درویشانہ فیصلے کی تائید کی۔ محمد علی کلے نے امریکی تاریخ میں ایک مسلمان حق گو اور راست باز رہنما کے طور پر اتنا بڑا نام بنایا جسے آج تک کوئی سر نہیں کرپایا۔ محمد علی نے اپنے نام کی لاج رکھی۔ روز قیامت نبی کریمؐ اور علی حیدر کرارؓ کے مقربین میں شامل ہوگا۔ یہ ہے ابن آدم کی عظیم مسلمان انسان کے لیے دعا۔ اے ابن آدم ایک سبق ہے مگر ان کے لیے جو واقعی مسلمان ہیں، ان کے لیے جو ایک تحفہ لے کر ضمیر کا سودا کرلیتے ہیں، وہ جو مسلمان ہو کر بھی بلاخوف رشوت لیتے ہیں۔ وہ حکمران، وہ طاقت و سرمایہ دار جو ایک ڈیل میں اربوں کا کرپشن کرکے اپنے مادر وطن کو مقروض بنارہا ہے۔ بااختیار ہونے کے باوجود خلق خدا کی داد رسی نہیں کرتا۔ تبلیغ اسلام تو محمد علی کلے کر گیا۔شجاع صغیر
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 56
Like this:
Like Loading...