Skip to content
محرومیوں سے ماورا
ایمان کی روشنی میں عظمتِ نسواں
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
انسانی تاریخ کے اوراق میں کچھ ہستیاں ایسی درخشاں مثالوں کے طور پر ثبت ہیں جن کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محرومیاں اصل ناکامی نہیں ہوتیں، بلکہ ایمان کی کمزوری اصل خسارہ ہے۔ اسلام نے عورت کو محض ایک سماجی کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک کامل انسان اور صاحبِ عزیمت شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بعض خواتین کی زندگیاں رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بنا دی گئیں۔ یہی روشن مثالیں ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ عظمت کا معیار ظاہری آسائشیں یا دنیاوی وسائل نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی، صبر و استقامت، اور حق کے لیے ثابت قدمی ہے۔
چنانچہ جب ہم ان عظیم خواتین کی سیرت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے کٹھن ترین حالات میں بھی اپنے عقیدے اور کردار کی بلندی کو برقرار رکھا۔ کبھی ظلم و ستم کا سامنا کیا، کبھی معاشرتی دباؤ برداشت کیا، اور کبھی ذاتی محرومیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا؛ لیکن ان کے قدم حق کی راہ سے کبھی متزلزل نہ ہوئے۔ یہی وہ تسلسل ہے جو اسلام کے تصورِ انسانیت کو واضح کرتا ہے کہ مرد ہو یا عورت، اصل قدر و قیمت اس کے ایمان، عمل اور اخلاق سے متعین ہوتی ہے۔ لہٰذا ان مقدّس و باوقار ہستیوں کی زندگیاں نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک زندہ پیغام ہیں کہ اگر مقصد بلند ہو اور یقین مضبوط ہو تو محرومیاں بھی انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
حضرت مریم علیہا السلام کی ذات پر غور کیجیے! نہ نکاح ہوا، نہ دنیاوی سہارے میسر آئے، مگر عفت و پاکیزگی، توکل اور عبادت میں وہ اس مقام تک پہنچیں کہ قرآن نے انہیں "سیدۃ نساء العالمین” کے شرف سے نوازا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انسان کی قدر اس کے حالات سے نہیں بلکہ اس کے تعلق بااللّٰہ سے متعین ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت صرف ایک مثال تک محدود نہیں، بلکہ اسلام نے بارہا ایسی پاکیزہ اور باعظمت خواتین کو پیش کیا ہے جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے ایمان اور کردار کی قوت سے بلندیوں کو چھوا۔ ان کے حالات مختلف تھے، آزمائشیں جدا تھیں، مگر ان کا مرکز ایک ہی تھا۔ اللّٰہ پر کامل یقین اور اس کی رضا کی طلب۔
حضرت مریم علیہا السلام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب انسان کا تعلق اپنے ربّ سے مضبوط ہو جائے تو تنہائی بھی کمزوری نہیں رہتی، بلکہ قوت میں بدل جاتی ہے۔ دنیاوی سہاروں کا نہ ہونا اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنتا، بلکہ اس کے توکل اور اعتماد کو مزید جلا بخشتا ہے۔ چنانچہ یہی پیغام دیگر عظیم خواتین کی زندگیوں میں بھی جھلکتا ہے کہ اصل کامیابی ظاہری وسائل کی فراوانی میں نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی، نیت کی سچائی اور اللّٰہ کے ساتھ مضبوط تعلق میں مضمر ہے۔ یہی وہ ربط ہے جو ان تمام مثالوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے اور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عظمت کا راستہ ایمان، صبر اور استقامت سے ہو کر گزرتا ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کا تذکرہ آتا ہے تو ایثار، وفا اور استقامت کی ایک پوری داستان سامنے آ جاتی ہے۔ اگرچہ آپ کے یہاں بیٹے زندہ نہ رہ سکے، مگر آپ نے کبھی شکوہ زبان پر نہ لایا۔ رسول اکرمﷺ کی نبوت کے ابتدائی کٹھن دور میں آپ نے جس بے مثال قربانی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے معیارِ وفاداری ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقام عطاء فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے سلام بھیجا گیا۔ یہی وہ شانِ رضا اور مقامِ تسلیم ہے جو ایک بندۂ مومن کو عام انسانوں سے ممتاز کر دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ ہے کہ آزمائشیں خواہ کسی بھی نوعیت کی ہوں؛ اولاد کی محرومی ہو یا معاشرتی مخالفت؛ اگر دل اللّٰہ کی رضا پر راضی ہو جائے تو یہی آزمائشیں انسان کو رفعتوں تک پہنچا دیتی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی زندگی علم و حکمت کا روشن مینار ہے۔ اولاد نہ ہونے کے باوجود آپ نے امت کو علم کی ایسی دولت عطاء کی کہ سینکڑوں صحابہ و تابعین آپ کے شاگرد بنے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث، فقہی بصیرت اور دینی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقی وراثت علم اور کردار کی ہوتی ہے، نہ کہ محض نسب کی۔ یہی وہ علمی و روحانی وراثت ہے جو انسان کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ بنا دیتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اگر دل میں علم کی طلب، فہمِ دین کی گہرائی اور امت کی رہنمائی کا جذبہ ہو تو انسان اپنی ذات سے بڑھ کر ایک پورے عہد کو متاثر کر سکتا ہے۔
حضرت آسیہ علیہا السلام، فرعون جیسے جابر حکمران کی زوجہ تھیں۔ ایک طرف دنیا کی عظیم سلطنت، دوسری طرف ایمان کی روشنی آپ نے بغیر تردد ایمان کو اختیار کیا اور ظلم و ستم کے باوجود حق سے پیچھے نہ ہٹیں۔ قرآن نے انہیں مومنین کے لیے مثال قرار دیا: "ربّ ابنِ لی عندک بیتاً فی الجنۃ”، یہ دعا اس بات کا اعلان ہے کہ ایک مومنہ کی اصل آرزو دنیا نہیں بلکہ قربِ الٰہی ہے۔ یہی وہ یقینِ کامل ہے جو ایک مومنہ کے دل کو دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اسے حق کے راستے پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ حضرت آسیہ علیہا السلام کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب ایمان دل میں راسخ ہو جائے تو تخت و تاج کی کشش بھی بے معنی ہو جاتی ہے، اور ظلم و جبر کی سختیاں بھی انسان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
حالات مختلف، راستے جدا، مگر منزل ایک! اللّٰہ کی رضا اور اس کا قرب۔ چنانچہ یہ عظیم ہستیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ عورت کی عظمت نہ تو کسی ایک کردار تک محدود ہے اور نہ ہی کسی مخصوص حالت کی مرہونِ منت؛ بلکہ ہر حالت میں، ہر مرحلے پر، اگر ایمان زندہ ہو اور نیت خالص ہو تو وہ تاریخ کے صفحات پر اپنی ایک درخشاں مثال قائم کر سکتی ہے۔ گویا یہ سب مختلف رنگ ہیں، مگر ایک ہی حقیقت کے مظاہر؛ ایمان کی قوت اور اللّٰہ سے گہرا تعلق۔ پس یہ پاکیزہ زندگیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ محرومی کسی بھی صورت میں انسان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی؛ بلکہ اگر اسے ایمان، علم اور عمل کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہی محرومی ایک عظیم مقصد اور دائمی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
کہیں تنہائی میں ربّ پر بھروسا ہے، کہیں رفاقت میں دین کی نصرت، کہیں علم کے ذریعے امت کی رہنمائی، اور کہیں جبر کے ماحول میں حق پر ڈٹ جانے کا عزم۔ گویا یہ تمام مثالیں ایک ہی حقیقت کی مختلف جہتیں ہیں: ایمان، صبر، استقامت اور اللّٰہ سے تعلق۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو حالات کا اسیر نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے حالات سے بلند ہو کر جینے کا حوصلہ عطاء کرتے ہیں۔ چنانچہ ان پاکیزہ ہستیوں کی زندگیاں رہتی دنیا تک یہ پیغام دیتی رہیں گی کہ اصل کامیابی دنیاوی آسائشوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی سربلندی اور قربِ الٰہی کے حصول میں مضمر ہے۔
یہی سلسلہ دیگر عظیم خواتین کی حیاتِ مبارکہ تک بھی وسیع ہو جاتا ہے:
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللّٰہ عنہا، جن کی زندگی صبر، قناعت اور زہد کی تصویر تھی۔ شدید گھریلو تنگی کے باوجود کبھی شکوہ نہ کیا، بلکہ ہر حال میں اللّٰہ کی رضا کو مقدم رکھا۔ یہی وہ مقامِ رضا ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے رب کی مرضی کو اپنی زندگی کا محور بنا لیتا ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللّٰہ عنہا کی سیرت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اصل عزّت و عظمت دنیاوی آسائشوں میں نہیں، بلکہ صبر، قناعت اور زہد کے ساتھ اللّٰہ کی رضا پر راضی رہنے میں ہے۔ پس حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کی مشکلات انسان کو توڑنے کے لیے نہیں آتیں، بلکہ اسے سنوارنے اور اس کے مقام کو بلند کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، بشرطیکہ وہ صبر و رضا کا دامن تھامے رکھے۔
حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا واقعہ دیکھیے، ویران صحرا میں ایک شیر خوار بچّے کے ساتھ تنہاء چھوڑ دی گئیں، مگر ناامیدی کے بجائے سعی و کوشش کا راستہ اختیار کیا۔ صفا و مروہ کی سعی آج بھی اسی یقین و توکل کی علامت ہے۔ یہی وہ زندہ پیغام ہے جو حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سعی سے ہمیں ملتا ہے کہ ایمان صرف دل کا یقین نہیں، بلکہ عمل کی مسلسل جدوجہد کا نام بھی ہے۔ ویران صحرا میں تنہائی اور بے سروسامانی کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری، بلکہ امید اور کوشش کا دامن تھامے رکھا اور یہی کوشش اللّٰہ کے ہاں ایسی مقبول ہوئی کہ اسے رہتی دنیا تک عبادت کا حصّہ بنا دیا گیا۔ چنانچہ یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، ایک مومن کبھی مایوسی کو اختیار نہیں کرتا۔ وہ اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے رب پر کامل بھروسا رکھتا ہے، اور یہی توکل بالآخر رحمتِ الٰہی کو متوجہ کرتا ہے۔
حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنہا، اسلام کی پہلی شہیدہ، جنہوں نے بدترین اذیتیں برداشت کیں مگر کلمۂ حق سے دستبردار نہ ہوئیں۔ ان کی استقامت یہ پیغام دیتی ہے کہ ایمان کی قیمت کبھی کبھی جان سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وہ استقامت ہے جو ایمان کو محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بنا دیتی ہے۔ حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنہا کی شہادت اس امر کی روشن دلیل ہے کہ جب دل میں حق کی معرفت راسخ ہو جائے تو ظلم و ستم کی کوئی شدّت انسان کو اس سے ہٹا نہیں سکتی۔ حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنہا کی قربانی اس سلسلے کی آخری کڑی نہیں بلکہ اس کی معراج ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ایمان اپنے کمال کو پہنچتا ہے تو انسان ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے حقیقی عظمت کا سفر شروع ہوتا ہے۔
حضرت رابعہ بصری رحمہا اللّٰہ کی زندگی زہد و عشقِ الٰہی کا ایک درخشاں باب ہے۔ دنیاوی آسائشوں سے بے نیاز ہو کر انہوں نے اللّٰہ کی محبت کو اپنا مقصدِ حیات بنایا اور ایک نئی روحانیت کی مثال قائم کی۔ یہی وہ مقامِ عشق ہے جہاں عبادت محض فرض کی ادائیگی نہیں رہتی بلکہ ایک سچی چاہت اور قلبی وابستگی میں ڈھل جاتی ہے۔ حضرت رابعہ بصری رحمہا اللّٰہ کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جب دل اللّٰہ کی محبت سے سرشار ہو جائے تو دنیا کی تمام کششیں خود بخود ماند پڑ جاتی ہیں، اور انسان کا ہر عمل اسی محبت کا مظہر بن جاتا ہے۔ حضرت رابعہ بصری رحمہا اللّٰہ کی حیات ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان جب اپنے ربّ کو اپنی سب سے بڑی چاہت بنا لے تو اس کی زندگی ایک نورانی مثال بن جاتی ہے۔ ایسی مثال جو نہ صرف خود اس کے لیے باعثِ نجات ہوتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت اور روشنی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
ان تمام واقعات کا خلاصہ یہی ہے کہ ان عظیم خواتین نے زندگی کی محرومیوں کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، بلکہ انہیں اپنی روحانی بلندی کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے شکوہ نہیں کیا، بلکہ شکر کو اختیار کیا؛ مایوسی کو جگہ نہیں دی، بلکہ امید اور یقین کو تھاما؛ دنیا کی کمیوں پر نظر نہیں رکھی، بلکہ آخرت کی کامیابی کو اپنا نصب العین بنایا۔ یوں یہ تمام واقعات مل کر ایک ہمہ گیر اور روشن حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار حالات کی سازگاری پر نہیں، بلکہ دل کی کیفیت اور یقین کی پختگی پر ہوتا ہے۔
جنہوں نے محرومی کو صبر میں بدلا، آزمائش کو استقامت میں ڈھالا، اور کمی کو قناعت سے بھر دیا؛ وہی دراصل عظمت کی راہوں پر گامزن ہوئے۔ چنانچہ یہ پاکیزہ مثالیں ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم بھی زندگی کے نشیب و فراز کو محض آزمائش نہ سمجھیں، بلکہ انہیں اپنے ایمان، کردار اور تعلقِ الٰہی کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ یہی وہ زاویۂ نظر ہے جو انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر یقین و امید کی روشنی میں لے آتا ہے، اور اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں ہر حال میں رضا، ہر حالت میں شکر، اور ہر قدم پر اپنے ربّ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔
آج کے دور میں جب معمولی محرومیاں بھی انسان کو بے چین کر دیتی ہیں، یہ مقدّس ہستیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل کامیابی اللّٰہ کی رضا میں ہے۔ اگر زندگی میں کچھ کمی رہ جائے تو اسے تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر صبر و شکر کے ساتھ قبول کرنا ہی مومن کا شیوہ ہے۔ چنانچہ جب ہم ان عظیم اور مقدّس ہستیوں کی زندگیوں کو سامنے رکھتے ہیں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مومن کی پہچان راحتوں میں نہیں، بلکہ آزمائشوں میں اس کے رویّے سے ہوتی ہے۔ وہ محرومی کو محرومی نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنے ربّ کی طرف سے ایک حکمت بھرا امتحان جانتا ہے، جس میں صبر و شکر کے ذریعے سرخرو ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی شعور کے ساتھ جب انسان زندگی کے حالات کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب اطمینان اور وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ نہ وہ نعمتوں پر غرور کرتا ہے اور نہ ہی کمیوں پر دل شکستہ ہوتا ہے، بلکہ ہر حال میں اپنے ربّ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے۔
پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان پاکیزہ نمونوں کو محض قصّے کہانیوں کے طور پر نہ پڑھیں، بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنائیں۔ صبر کو اپنا زیور بنائیں، شکر کو اپنی زبان کی عادت، اور دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو محرومیوں کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔ اور جب یہ اوصاف انسان کی زندگی میں راسخ ہو جاتے ہیں تو اس کی شخصیت میں ایک ایسا توازن اور پختگی پیدا ہوتی ہے جو اسے ہر حال میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ پھر نہ حالات کی سختی اسے توڑ پاتی ہے اور نہ ہی آسائشوں کی فراوانی اسے غافل کرتی ہے، بلکہ وہ ہر لمحہ اپنے مقصدِ حیات سے جڑا رہتا ہے۔
یوں یہ راستہ محض انفرادی اصلاح تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ جب افراد صبر، شکر اور خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا لیتے ہیں تو اجتماعیت میں خیر، ہمدردی اور عدل کی فضاء قائم ہوتی ہے۔ پس یہی وہ عملی پیغام ہے جو ان مقدّس ہستیوں کی زندگیوں سے ہمیں ملتا ہے کہ ایمان کو محض الفاظ تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے کردار کا حصّہ بنایا جائے۔ تبھی انسان نہ صرف اپنی ذات میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی اور رہنمائی کا سبب بن جاتا ہے۔
🗓 (24.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 62
Like this:
Like Loading...