Skip to content
ایران اور امریکا۔اسرائیل جنگ کا انجام
ایرانی دانشور ڈاکٹر سید محمد مرندی کا تجزیہ
ترجمانی: ڈاکٹر انجم ضیاء الدین تاجی
جب میں اس جنگ کی میڈیا کوریج دیکھتا ہوں، تو پاتا ہوں کہ کیمرے دھماکوں پر مرکوز اورپریس بریفنگ یاسفارتی بیانات ہلاکتوں کی تعداد تک محدود ہوتےہیں۔ بلاشبہ ان باتوں کا جاننا بھی اہم ہے، لیکن ان سے یہ آگاہی نہیں ہوتی کہ حالات کس سمت جا رہے ہیں۔ اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ معاملات کدھر جا رہے ہیں، تو آپ کو سطحی پرتیں ہٹاکر دیکھنا ہوگا، تاکہ آپ واقعی صورتِ حال کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح وہ ترکیبی قوتیں، حقیقی محرکات، اور تاریخی نقوش بھی سرخیوں میں کہاں نظر آتے ہیں جو پس پردہ طے کرتے ہیں کہ انسانی تاریخ کا ہر بڑا تنازُع اپنے انجام کو کیسے پہنچتا ہے۔
آج میں پوری دیانت داری کے ساتھ اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ جو پیچیدہ حالات ہمارے سامنے ہیں، ان کا اختتام کیا ہوسکتا ہے۔لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ اپنے دلائل مرحلہ وار آپ کے سامنے رکھوں،تاکہ میری پیشین گوئی استدلال کے ساتھ واضح ہوجائے۔
بہتر ہوگا کہ میں پہلے اس کا پس منظر آپ کے سامنے رکھ دوں تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو پیشین گوئی میں آج کرنے جا رہا ہوں، وہ محض خیال آرائی نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت ہے۔ یہ ایک فکری تسلسل ہے ،جو کچھ عرصہ پہلے شروع ہوا، جب تین مخصوص پیشین گوئیاں کی گئی تھیں، جنہیں زیادہ تر باخبر، سنجیدہ اور معتبر ماہرین نے ناممکن سمجھا اور بعض نے مضحکہ خیز گردانا۔
پہلی پیشین گوئی یہ تھی کہ ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ وھائٹ ہاؤس پہنچیں گے، حالانکہ اس وقت وہ سو سے زائد مختلف فوجداری مقدمات میں الجھے ہوئے تھے۔ عام رائے یہ تھی کہ ان کا سیاسی کریئر عملاً ختم ہو چکا ہے۔دوسری پیشین گوئی یہ تھی کہ ریاستہاے متحدہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کرے گا۔ کوئی بالواسطہ جنگ نہیں، کوئی محدود جھڑپ نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان حقیقی اور براہِ راست فوجی تصادم ہوگا۔ تیسری پیشین گوئی دماغ کی چولیں ہلاڈالنے والی، مگر سب سے زیادہ ناگوار تھی، اور وہ یہ کہ امریکا کو اس جنگ میں شکست ہوگی، اور یہ شکست عالمی طاقت کےتوازن کو اسی طرح تبدیل کرکے رکھ دے گی، جس طرح کی تبدیلی کا نظارہ سرد جنگ کے بعد ہوا تھا۔
ان تین میں سے دو پیشین گوئیاں اب حقیقت بن چکی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ چناو جیت کر امریکی صدارت کا تاج پہن چکے ہیں، دوسرے یہ کہ انھوں ایران کے ساتھ طبل جنگ بجادیا ہے۔ میں یہ باتیں اپنی ستائش کے لیےنہیں بلکہ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ پیشین گوئیاں محض اندھیرے میں چلائے گئے تیر نہیں تھے، اور نہ ہی یہ دوسروں سے مختلف نظر آنے کی کوششیں محض تھیں۔ یہ نتائج ،مخصوص تجزیاتی طریقۂ کار سے اخذ کیے گئے تھے، جو ساختی تجزیے، گیم تھیوری، اور صدیوں پر پھیلے تاریخی نقوش کے مطالعے پر محیط ہوتا ہے۔اور آج میں اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں، جو میرے خیال میں اس وقت بین الاقوامی معاملات کا سب سے اہم سوال ہے: یہ جنگ حقیقت میں ختم کیسے ہوگی؟
میں اپنی بات کا آغاز طریقۂ کار کی وضاحت سے کرتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک اسے سمجھنا نتیجے کو سمجھنے کی طرح ہی اہم ہے۔ جب میں یہ پیشین گوئی کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کوئی بڑا جغرافیائی سیاسی معاملہ کیسے آگے بڑھے گا، تو میں تین چیزوں پر توجہ دیتا ہوں۔
(۱) ساخت(Structure): ساخت سے میری مراد وہ گہری اور سست رفتار قوتیں ہیں، جو امکانات کے دائرے کو پابند کرتی ہیں۔یعنی جغرافیہ، آبادیاتی خصوصیات، معاشی نظام، عسکری صلاحیتیں، تجارتی راستوں کی طبعی ترتیب، اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے۔ یہ چیزیں جلدی نہیں بدلتیں۔ یہ تقاریر یا سفارتی اشاروں پر ردِ عمل نہیں دیتیں۔ یہ وہ حدود متعین کرتی ہیں ،جن کے اندر تمام انسانی ڈراما وقوع پذیر ہوتا ہے۔
(۲)محرکات: کسی بھی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال میں ہر فریق کسی نہ کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے: امن و سلامتی، دولت، سیاسی بقا، نظریاتی مقاصد، وراثت یا ناموری۔ اور خاص طور پر، جو مقصد ایک فریق عوام کے سامنے رکھتا ہے ،وہ اس مقصد سے مختلف ہوتا ہے،جو اس کے دل میں ہوتا ہے۔ ذاتی مقاصد اور اعلان کیے گئے مقاصد کبھی بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ درحقیقت، اعلان کردہ مقصد اور حقیقی مقصد کے درمیان جو خلا ہوتا ہے، اکثر وہی کسی بھی تنازُع کو سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ معنی خیز ہوتا ہے۔
(۳) تاریخی نقوش: تاریخ خود کو مشینی انداز میں نہیں دہراتی ہے۔تاریخ کےواقعات میں مماثلت اس وجہ سے نظر آتی ہے کہ وہ انسانی سماج کی آئینہ دار ہے۔ جذبات و احساسات، شہوات و خواہشات اور حرص و حسد کی بنیاد پر مختلف ادوار کے انسانوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ہے۔یہی معاملہ انسانی سلطنتوں کا ہے۔اس لیے متعدد محرکات ہزاروں برس کی تحریری تاریخ میں بار بار نہایت حیرت انگیز یکسانیت کے ساتھ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اگر آپ نے تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہو، تو آپ حالات کی ساخت کو پہچاننا شروع کر دیتے ہیں، چاہے ان کی مخصوص تفصیلات نئی ہی کیوں نہ ہوں۔
اس طریقہء کار کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اب آئیے اس تنازع کا منظم انداز میں جائزہ لیتے ہیں۔ میں فریقین اور ان کے حقیقی مفادات کے تجزیہ سے آغاز کرتا ہوں، کیونکہ یہی چیز باقی تمام امور کی بنیاد ہے۔
ایران پر امریکی یورش کے مختلف اہداف بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایران کو جوہری ہتھیار سازی کے عمل سے روکنا ۔ دوسرے یہ کہ ایران میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کی حمایت کرنا ۔ تیسرے یہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام، اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو ممکن العمل بنانا۔یہی اہداف ہیں، جنھیں سرکاری سطح پر بیان کیا جاتا ہے۔ اور انھیں کانگریس کے اجلاس، صدارتی خطابات، اور محکمۂ خارجہ کی پریس ریلیزوں میں تکرار کے ساتھپیش کیا جاتا ہے۔مگر ایسا نہیں ہے۔ لیکن جب امریکی قومی مفاد کی روشنی میں اس پر غور کیا جاتا ہے، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اصل مقصد ’’پیٹرو ڈالر نظام کا تحفظ‘‘ ہے۔ یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں ہے۔ یہ دستاویزی طور پر ثابت شدہ، علمی حلقوں میں زیربحث، اور سنجیدہ ماہرینِ معاشیات و خارجہ پالیسی تجزیہ کاروں کے نزدیک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
۱۹۷۰ء کی دہائی کے اوائل ہی سے امریکا نے سعودی عرب سے ایک معاہدہ کے تحت یہ طے کیا کہ عالمی سطح پر تیل کی خرید و فروخت امریکی ڈالر میں کی جائے ۔اس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہمیشہ امریکی کرنسی کی مستقل طلب پائی جاتی ہے۔ اس لیے دنیا کے ہرملک کو تیل کی خریداری کے لیے امریکی ڈالر اپنے پاس رکھنا پڑتا ہے۔ اس سے امریکہ کو غیر معمولی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ اپنی کرنسی کو دوسرے ممالک کی طلب پر مسلسل چھاپنا، بڑے مالی خسارے چلانے کی گنجائش، اور نسبتاً کم لاگت پر حکومت کی مالی اعانت، کیوںکہ امریکی قرض اور امریکی ڈالر کے خریدار ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔معلوم تاریخ میں یہ حیثیت کسی دوسری قوم کو نصیب نہیں ہوئی۔
اگر پیٹرو ڈالر نہ ہو، تو امریکہ کا فوجی بجٹیکسر بدل جائے۔ وہ عسکری بجٹ، جو اس وقت دنیا بھر میں سینکڑوں بیرونی اڈوں، گیارہ طیارہ بردار بحری بیڑوں، اور انسانی تاریخ کی سب سے جدید مسلح فوج کے نظم کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے، اسے برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہو جائے۔ اور اس عسکری طاقت کے بغیر، امریکہ وہ عالمی معاشی نظام نافذ نہیں کر سکتا، جس سے اسے غیر معمولی فائدے پہنچتے ہیں۔لہٰذا جب آپ بیانیوں کو صرف نظر کرکے اس امریکی یلغار کی منطق پر غور کرتے ہیں، تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ جنگ دراصل ایک ایسے معاشی نظام کے دفاع کی جنگ ہے، جس نے نصف صدی سے امریکی تسلط کو دنیا پر قائم رکھا ہے۔
مشرق وسطیٰ عالمی تیل کی پیداوار کا جغرافیائی مرکز ہے۔ جو بھی مشرق وسطیٰ پر اپنا تسلط قائم رکھےگا، یا دوسرے الفاظ میں مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے والے تیل کے بہاؤ کو قابو میں رکھے گا، وہ عالمی معیشت پر بے پناہ اثر و رسوخ رکھے گا۔ امریکہ کو یہ بات ۱۹۴۰ء کی دہائی ہی سے سمجھ میں آگئی تھی۔اس وقت ہی سے ہر ممکن ذریعے سے اس کنٹرول کو برقرار رکھنا ہی اس کااصل بنیادی ہدف ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی پہلو ہیں۔
اب اس بات پر غور کریں کہ ایران کیا چاہتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔اگرچہ یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن میرے خیال میں اکثر اہل مغرب پوری طرح نہیں سمجھتے کہ ایرانی نقطۂ نظر سے یہ تنازع کس قدر وجودی نوعیت رکھتا ہے۔
ایران کئی دہائیوں سے امریکی ہمہ گیر اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ امریکہ نے ہمسایہ ممالک میں، جن سے اس کے ثقافتی، تاریخی اور سرحدی روابط ہیں، حکومتوں کو گرا دیا یا عدم استحکام سے دوچار کیا۔ اس نے عراق کو دیکھا، جو کبھی سب سے طاقتور عرب عسکری ریاست تھا، لیکن امریکا نے اس پر حملہ کرکے،اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ اسی طرح لیبیا، جہاں ایک فعال حکومت اور نسبتاً خوشحال معیشت موجود تھی، مگر NATO کی مداخلت نے اسے تباہ کر دیا، اور دنیا کے سامنے اسے انسانی ہمدردی کے مشن کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ شام کو برسوں ایک تباہ کن خانہ جنگی میں مبتلا رکھا گیا، اور اس خانہ جنگی کو جزوی طور پر بیرونی طاقتوں نے ہوا دی۔
ایرانی قیادت نے ان تمام واقعات سے ایک نہایت واضح سبق اخذ کیا ۔ وہ یہ کہ وہ حکومتیں جو کمزوری دکھاتی ہیں، یا خود کو امریکی حسنِ سلوک پر منحصر بنا لیتی ہیں، باقی نہیں رہتیں۔اصل تحفظ صرف طاقت، دشمن کو باز رکھنے کی صلاحیت (ڈیٹرنس) اور اس عملی عزم کے اظہار میں ہے کہ جو کوئی بھی آپ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
لیکن ایران کے پیش نظر اپنی بقا اور تحفظ سے آگے بڑھ کر کچھ اور خاص مقاصد اور بلند عزائم ہیں۔ وہ پابندیوں سے مستقل اور قانونی طور پر واجب راحت چاہتا ہے؛ نہ یہ کہ عارضی طور پر کچھ نرمی کا معاملہ ہو یا مشروط معطلی کا ، بلکہ وہ اس معاشی بائیکاٹ کا حقیقی خاتمہ اور مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔اس لیے کہ اس معاشی انزوا نے کئی دہائیوںسے اس کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔اس کے علاوہ ایران خود کو ایک جائز علاقائی طاقت کے طور پر تسلیم کروانا چاہتا ہے۔اس نے اتحادی تحریکوں کے نیٹ ورک کے ذریعےاپنے اثر و نفوذ کے دائرہ میں عراق، شام، لبنان اور یمن کو شامل کر لیا ہے۔وہ قانونی طور پر آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے، صرف جنگی حکمتِ عملی کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی جغرافیائی سیاسی حیثیت کی ایک مستقل ساختی خصوصیت کے طور پر۔ تاکہ اس راستے کو وہ آئندہ کسی بھی مذاکرات میں دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔علاوہ از ایں وہ ان ضمانتوں کا بھی خواہشمند ہے کہ اس کی اتحادی تحریکوں کو، جن پر اس نے دہائیوں سرمایہ کاری کی اور ان کی حمایت کی، انہیں جائز سیاسی قوتوں کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کبھی بھی امریکا انھیں ”دہشت گرد تنظیمیں“ قرار دےکر ،ان کے خلاف کاروائی نہ کرسکے۔
یہ مطالبات غیر منطقی نہیں ہیں۔ آپ ایرانی حکومت سے بہت سی باتوں میں اختلاف کر سکتے ہیں۔ مجھے بھی اس کے داخلی ریکارڈ پر کچھ سنجیدہ تحفظات ہیں، لیکن خالص گیم تھیوری کے نقطۂ نظر سے، یہ ایک ایسی ریاست کے منطقی اہداف ہیں، جو دہائیوں سے محاصرے میں رہی ہے اور اب بین الاقوامی نظام کے ساتھ بنیادی طور پر ایک مختلف تعلق کے لیے لڑ رہی ہے۔
اسرائیل کی پوزیشن محتاط تجزیے کی مستحق ہے، کیونکہ میرے خیال میں اس کے بارے میں مغربی مین اسٹریم میڈیا کے مبصرین کا غالب بیانیہ اسرائیل کو ایک ردِعملی کردار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ان کی نظر میں وہ ایک ایسا ملک ہے،جو اپنا دفاع کر رہا ہے، خطرات کا جواب دے رہا ہے، اور ایک دشمن ماحول میں اپنی سلامتی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بیانیے میں کچھ سچائی ضرور ہے، لیکن میرے خیال میں اس کے نیچے ایک گہری تزویراتی منطق بھی کارفرما ہے، جسے واضح کرنا ضروری ہے۔
آج اسرائیل خود کو ایک غیر معمولی تاریخی لمحے میں پاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت واضح طور پر زوال پذیر ہے۔ امریکی سلامتی کی ضمانتوں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اس کے رویے پر خطے کی ہر حکومت سوال اٹھا رہی ہے۔ اور ان حالات میں اسرائیل اپنی بقا سے بڑھ کر اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ کی جگہ لے سکے ۔اور ایک ایسی قوت بن کر ابھرے،جو عالمی مالیاتی مفادات کے لیے سلامتی، انٹیلی جنس، اور تزویراتی ہم آہنگی فراہم کرے۔ان مقاصد کے مد نظر اسرائیل بین الاقوامی اشرافیہ کے سامنے اپنی قدر و قیمت ثابت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ وہ انھیں اپنی عسکری مہارت اور انٹیلی جنس صلاحیت سے متاثر کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہ اسے اس خطے کی ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر قبول کرلیں۔اسرائیل اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگا یا نہیں یہ وقت ہی بتائےگا۔
خلیجی ریاستیں، یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین، موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ کمزور فریق ہیں، اور بعض پہلوؤں سے دلکش بھی ہیں۔یہ نہایت دولت مند ممالک ہیں، جدید انفراسٹرکچر رکھتے ہیں، اور قابلِ ذکر سفارتی اثر و رسوخ بھی۔ لیکن منفی پہلو یہ ہے کہ یہ ریاستیں عسکری طور پر کمزور ہیں۔ ان کی آبادی بھی نسبتاً کم ہے۔ ان کی مسلح افواج، بھاری دفاعی اخراجات کے باوجود، خود اپنی عسکری قوت سے بڑی جنگوں میں فتح حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کا پورا سلامتی ماڈل امریکی حفاظتی حصار پر قائم ہے۔لیکن اب اس حفاظتی حصار کی دیواریں انھیں کمزور دکھائی دے رہی ہیں،اس لیے یہ حکومتیں اب وہی طرز عمل اختیارکر رہی ہیں، جسے تاریخ میں ان کے جیسی ریاستوں نے اختیار کیا تھا۔یعنیوہ ہوا کے رخ کا اندازہ کرکے نئی صف بندی کا منصوبہ بنارہی ہیں، تاکہ جنگ کی گرد بیٹھنے کے بعدغالب قوت کے ساتھ تعلقات استوار کیے جاسکیں۔ان ریاستوں میں قیادت کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے وہ غالب طاقت کی متبع بن جائیں گی۔
اب میں بنیادی حقائق کی طرف آتا ہوں، کیوںکہ یہاں تجزیہ سب سے زیادہ مشکل مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے، اور میرے خیال میں سب سے زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔اس جنگ کے بارے میں سب سے اہم بنیادی حقیقت وہ ہے، جسے امریکی فوج اور امریکی میڈیا، دونوں مختلف وجوہ سے، صاف الفاظ میں بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں: صرف فضائی طاقت کبھی بھی جدید جنگ کی پوری تاریخ میں کسی ایسی پُرعزم حکومت کے خاتمے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی ،جسے نمایاں عوامی حمایت حاصل ہو۔یہ سنجیدہ عسکری مورخین کے درمیان کوئی مختلف فیہ دعویٰ نہیں ہے۔ جنگی مطالعے کے علمی ادب میں یہ سب سے زیادہ مستند اور بارہا ثابت شدہ نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔
امریکا نے شمالی ویتنام پر اتنے بم برسائے جتنے دوسری جنگ عظیم میں تمام فریقوں نے مل کر بھی نہیں برسائے تھے۔ مگر شمالی ویتنام نے ہتھیار نہیں ڈالے۔Royal Air Force اور United States Army Air Forces نے جرمنی کے خلاف کئی برس تک بمباری کی مہم چلائی، جس کی وجہ سے سینکڑوں شہر تباہ ہوگئے اور لاکھوں شہری ہلاک ہوئے۔ مگر جرمنی فضائی حملوں سے نہیں ٹوٹا۔ اس نے صرف اس وقت ہتھیار ڈالے، جب سوویت افواج برلن تک پہنچ گئیں اور امریکی و برطانوی افواج Rhine River عبور کر گئیں۔
موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے یہ دو تاریخی مثالیں بے حد اہم ہیں۔ اگر امریکہ کا اصل ہدف ایران میں رجیم چینج ہے، یعنی موجودہ حکومت کو ہٹا کر ایسی حکومت لانا ،جو امریکی مفادات کے لیے زیادہ موافق ہو، تو پھر اس مقصد کے حصول کے لیے زمینی فوج کو اتارناناگزیر ہو جاتا ہے،کیوں کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا کوئی راستہ ممکن نہیںہے۔لیکن عسکری مبصرین کی رائے میں ایران پر زمینی یلغار نہایت خطرناک اقدام ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران تقریباً نو کروڑ آبادی والاملک ہے، جس کا رقبہ عراق سے چار گنا بڑا ہے۔ اس کا جغرافیہ پہاڑی سلسلوں سے گھرا ہوا ہے: مغرب میں سلسلۂ کوہ زاگرس، شمال میں کوہ البرز ۔ یہ قدرتی دفاعی رکاوٹیں ہیں، ہزاروں برس سے حملہ آور ان کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں۔
جہاں تک ایران کی عسکری قوت کا تعلق ہے، تو ایرانی فوج نے دو تین سال نہیں تقریباً پچیس برس خاص طور پر ایک ممکنہ امریکی زمینی حملے کی تیاری میں صرف کیے ہیں۔ یقیناًپورے پچیس سال کی منصوبہ بندی، تیاری، اور عسکری صلاحیتوں میں سرمایہ کاری، کسی بھی روایتی امریکی زمینی مہم کو بے حد مہنگا اور خونریز بنانے کے لیے کافی ہے۔علاوہ از ایں پہاڑوں کی چٹانوں میں گہرائی تک بنائی گئی زیرِ زمین فوجی تنصیبات؛ مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی غیر مرکزی ڈرون اور میزائل سازی، تاکہ ایک حملہ پیداواری صلاحیت کو مکملنقصان نہ پہنچا سکے؛ بکتر شکن اور ہیلی کاپٹر شکن نظام، جو خاص طور پر قریبی فاصلے کی پہاڑی جنگ کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم پہلو عوام کا جذبۂ حب الوطنی ہے۔ملک میں ایسے بھی لوگ ہیں، جو اپنی حکومت کے بارے میں جو بھی رائے رکھتے ہوں، مگر بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کا شدید جذبہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ایران نے اس کے ساتھ خطے میں جس مزاحمتی اتحاد کی تشکیل کی ہے، وہ بھی زمینی حملہ کے وقت خطرات پیدا کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی پوزیشن خلیجی ریاستوں میں موجود اڈوں اور رسد کے راستوں کے جال پر قائم ہے۔ اگر امریکی فوجی حقیقتاً ایرانی سرزمین کے اندر ہوں، تو ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کو ان رسدی راستوں پر حملہ کرنے سے کون روکے گا؟اور یمن کو سعودی عرب پر اس قدر حملے کرنے سے کون روک سکے گا، جن کے باعثوہاں موجودامریکی اڈے غیر موثر ہوجائیں۔اس صورت میں امریکہ ایک ملک سے نہیں لڑ رہا ہوگا، بلکہ خلیج فارس سے لے کر بحر احمر تک اسے متعدد محاذوں پر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک طرف اس کی رسد خطرے میں پڑےگی اوردوسری طرف اس کے علاقائی اتحادی مختلف درجوں کی گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔اس لیے مجھے یقین ہے کہ امریکہ ایران پر بڑے پیمانے پر زمینی یلغار سے گریز کرےگا۔اس گریز کا دوسرا سبب یہ ہے کہ زمینی یلغار کی صورت میں مکمل فتح کے لیے بے پناہ افواج اور وسائل کو جھونکنا پڑےگا۔ اس کی اجازت کبھی بھی امریکی سیاسی نظام نہیں دےگا۔لیکن اگر امریکی صدر نے یہ ہمت دکھائی ،تو وہ امریکہ کو برسوں کے لیے ایک تھکا دینے والی تباہ کن جنگ میں ڈھکیل دےگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خود یا اس کی پارٹی طویل عرصے تک انتخابی میدان میں شکست کھاتی رہے گی۔
اگرچہ زمینی حملہ کا امکان بہت کم ہے،تو پھر کونسی صورتِ حال سامنے آسکتی ہے؟میرے خیال میں ایک ایسی صورت حال منظر عام پر آئے گی، جو طویل عرصے تک مالی لحاظ سے بہت گراں اور سیاسی طور پر زہر آلود ہوگی، نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ آخرکار پسپائی پر مجبور ہوجائےگا۔ میں اس بات کو بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ صرف معاشی دباؤ ہی اس نتیجے کو ناگزیر کیوں بنا دیتا ہے؟ لائحۂ عمل کے لحاظ سے آبنائے ہر مز زمین کے سب سے اہم جغرافیائی مقامات میں سے ایک ہے۔ دنیا کا تقریباً ۲۰ فیصد تیل اس راستے سے مختلف ملکوں کو جاتا ہے۔ ایران اس کے شمالی کنارے پر واقع ہے، اور ایران میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ اس تجارت کو خطرے میں ڈال سکے۔اس کے ساتھ بحر احمر پر بھی نظر ڈال لیجیے، جہاںیمن کی وہ عسکری قوتیں، جنہیں ایران کی مدد و حمایت حاصل ہے، تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی شپنگ کمپنیاں پہلے ہی اپنے مال بردار جہاز راس امید ( Cape of Good Hope )کے گرد موڑنے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے مال پہنچانے میں ہفتوں کی تاخیر ہورہی ہے اور لاگت میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے۔
بحر احمر اور خلیج عدن مل کر عالمی تجارت کا تقریباً ۱۲ سے ۱۵ فیصد بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب آپ آبنائے ہرمز پر دباؤ اور بحرِ احمر میں خلل کو یکجا دیکھتے ہیں، تو آپ دنیا کے دو نہایت اہم بحری گزرگاہوں کو بیک وقت خطرے میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس کے معاشی نتائج محض نظریاتی نہیں ہیں۔تیل کی قیمتیں اگر طویل مدت تک بلند رہیں، تو یہ دنیا کی ہر تیل درآمد کرنے والی معیشت کے ہر فرد پر حملے کے مترادف ہے۔ اس سے نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے بحری راستے سے منتقل ہونے والی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔جیسے اگر کھاد کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، تو عالمی سطح پر خوراک مہنگی ہوگی۔نتیجہ میں کمپنیوں کے منافع کے مارجن سکڑجائیںگے، صارفین کے اخراجات میں کمی واقع ہوگی اور عالمی معیشت کی نمو سست پڑ جائےگی۔
جب دنیا میںتیل کی قیمت ۱۵۰سے ۲۰۰؍ ڈالر کے درمیان ہوجائے گی،توپوری دنیاشدید معاشی کرب سے گزرےگی۔ اور اس تکلیف کا سب سے زیادہ بوجھ عام محنت کش لوگوں پر پڑےگا، جن کے پاس بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جمع پونجی نہیں ہوتی ہے۔دیگر پس ماندہ ممالک کی طرح یہی صورت حال امریکہ کی بھی ہوگی۔ تیل، گیس اور گروسریس کی قیمتوں میں اضافہ کو دیکھ کر وہاں کا ہر فرد سوال کرےگا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟اس کی وجہ سے وہاں ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا ہوگا، جسے کوئی بھی حکومت غیر معینہ مدت تک سنبھال نہیں سکےگی۔ ایک وقت ایسا آئےگا کہ واشنگٹن ڈی سی کی خارجہ پالیسی اور اس کے جنگی جنون کو عام خاندانوں پر پڑنے والامالی بوجھ متزلزل کردےگا اور حکومت جنگ کے لیے عوامی حمایت کو کھودےگی۔
ہم نے یہ منظر گزشتہ نصف صدی کی ہر بڑی امریکی فوجی مداخلت میں دیکھا ہے۔خواہ معاملہ ویتنام پر یورش کا ہو یا عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کا۔ امریکی عوام نے ان کی پرزور مخالفت کی۔ نتیجتاً امریکی صدور جنگ جاری رکھنے کی سیاسی گنجایش کو گنوا بیٹھے۔
ایران نے اس طرح کے حالات میں امریکی عوام کے رد عمل اور اس کے نتیجے میں رونما سیاسی رجحانات کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کیا۔اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اگرچہ امریکہ کو عسکری طور پر شکست دینا ضروری نہیں ہے۔ اسے اگر جنگ میں ایک مدت تک الجھا کے رکھا جائے، تو وہاں کے حکمرانوں کی عقل ٹھکانے لگ سکتی ہے اور وہ اپنے عزائم کو چھوڑسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے کم قیمت کے حامل ہر ڈرون کےحملہ کے نقصان سے بچنے کے لیے امریکہ لاکھوں ڈالر کے دفاعی میزائل خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ سطحی ذہن رکھنے والے اسے محض ایک جنگی تماشا سمجھتے ہیں۔لیکن معاشیات پر نظر رکھنے والے امریکی نقصان کا اندازہ بخوبی لگا لیتے ہیں۔اسی طرح تیل کی قیمت میں اضافہ سے امریکہ کی اندرون ملک سیاست کے نازک اور حساس حصوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔
ایران کسی ایک جنگی معرکے میں فتح پانے کے لیے برسر پیکار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسے سیاسی نظام کے خلاف استنزافی جنگ (وہ جنگ جس میں آہستہ آہستہ دشمن کی قوت کو ختم کیا جاتا ہے۔)میں فتح حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی مہنگی، غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی فوجی مہمات کو برقرار رکھنے میں ناکامی اچھی طرح دستاویزی اور تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے۔
ان تمام عوامل کے پیش نظر،میری رائے میں عسکری بنیادی مزاحمتیں، معاشی دباؤ، سیاسی رجحانات کی تبدیلی کے اثرات اگلے ایک سے دو برس میں رونما ہوںگے۔بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات، گرتی ہوئی عوامی حمایت، اور چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کا دباؤ ،جو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہیں،جیسے عوامل مشرق وسطیٰ سے امریکی انخلا کے حالات پیدا کریں گے۔لیکن امریکہ شکست تسلیم کرنے کے بجائے،اس انخلاکو سیاسی تدبیراور اہداف میں کامیابی سے تعبیر کرےگا۔
امریکہ کے انخلا کے ساتھ ہی ایک نئی کہانی کا آغاز ہوگا۔ اس انخلا سے جو خلا رونما ہوگا، اسے پُر کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کا کوئی نہ کوئی طاقتور ملک آگے بڑھے گا۔ اس وقت عسکری قوت کے لحاظ سے دو ہی ملک باقی بچیں گے۔ ایک ایران جس کے اتحادی روس اور چین ہیں۔جسے آبنائے ہرمز پر بالادستی حاصل ہوگی۔ دوسرے اسرائیل ہوگا، جو اپنی غیر معمولی انٹیلی جنس صلاحیت، تکنیکی برتری، اور عالمی مالیاتی اداروں سے گہرے روابط کو استعمال کرتے ہوئے خطے کے مغربی حصے میں غالب قوت بننے کی کوشش کرے گا، اور ان ابھرتی ہوئی تجارتی راہداریوں پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کرےگا،جو خلیج کے ذریعے جنوبی ایشیاکو یورپ سے جوڑتی ہیں۔خلیجی ریاستوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگاکہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک سے وابستہ ہوجائیں۔لیکن سعودی عرب اسرائیل کی طرف جھکاؤ اختیار کرنے کے باوجودایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرےگا، تاکہ اپنی تیل تنصیبات محفوظ رکھ سکے۔عمان اور قطر ایران کے قریب ہو جائیں گے۔
خطہ میں اگرچہ مکمل امن قائم ہوگا، مگر ایک نیا توازن منظر عام پر آئےگا۔ مشرق وسطیٰ دو مضبوط علاقائی طاقتوں کی وجہ سے ایک کثیر القطبی خطے میں تبدیل ہوجائے گا۔اب میں وہ پیشین گوئی کررہا ہوں، جو ایران اور اسرائیل کے متعلق ہے،جسے سن کر آپ تعجب میں پڑجائیں گے۔
ایران اور اسرائیلجو آج نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے شدیددشمن ہیں، بالآخر ایک قسم کے’’سرد بقائے باہمی‘‘ کے اصول کو اختیار کرلیںگے۔ نہ ان میں دوستی ہوگی اور نہ ہی عداوتمیں کسی قسم کی گرم جوشی، بلکہ دونوںایک دوسرے کی طاقت کا باہمی اعتراف کرکےخاموشی کے ساتھ یہ عملی فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنی قوت اور توانائی کو ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست جنگ میں جھونکنے کے بجائے اپنے اپنے دائرۂ اثر کی کمزور قوتوں پر مرکوز کریں۔یہ معاملہ ویسا ہی ہوگا، جیسا امریکہ اور سویت روس کے درمیان تھا۔ دونوں نے چار دہائیوں تک شدید نظریاتی مقابلہ کیا، مگر بعد میں خاموشی کے ساتھ اصولوں کا ایسا نظام بنا لیا، جس نے انہیں ایک دوسرے کو اور دنیا کو تباہ کرنے سے روکے رکھا۔یقیناً دودشمن بھی ساتھ رہ سکتے ہیں، اگر وہ طاقتور ہونے کے ساتھ اتنے عقلمند ہوں کہ متبادل کی قیمت کا اندازہ لگاسکیں۔
ان تبدیلیوں کا گہرا اور دیرپا اثر ’’پیٹرو ڈالر‘‘ پر پڑے گا۔جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی محفوظ رسد کی ضمانت دینے کے قابل نہیں رہے گا، جب وہ اپنی افواج واپس بلا چکا ہوگا اور خطے میں کم تر کردار قبول کر چکا ہوگا، تو اس انتظام کی بنیاد، جس نے امریکی مالیاتی غلبے کو قائم رکھا، تیزی سے کمزور ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی ڈالر فوراً بے قیمت ہوجائے گا یا امریکی معاشی طاقت اچانک ختم ہو جائے گی۔ سلطنتیں آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوتی ہیں۔ مالیاتی نظام دہائیوں میں بدلتے ہیں، ایک رات میں نہیں۔لیکن سمت بدل جاتی ہے۔
امریکی مالیاتی مراعات کی طویل المدت ساختی بنیاد، وہ بنیاد جو اسے سستے قرض لینے، آزادی سے کرنسی چھاپنے، اور ایسے خسارے چلانے کی اجازت دیتی ہے جو کسی اور کرنسی کو تباہ کر دیں،میں شگاف پڑنا شروع ہوںگے۔ اور یہ شگاف خودبخود بھر نہیں پائیں گے۔ میری نظر تاریخ میں اس امریکی مہم کی عمدہ نظیر سسلی میں ایتھینین کی مہم ہے۔۴۱۵ قبل مسیح میں ایتھنزکی عسکری طاقت عروج پر تھی۔ وہ یونانی دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت کا مالک تھا۔ اس کی معیشت مضبوط تھی۔ اس کی جمہوریت محدود ہونے کے باوجود، اپنے عہد کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ سیاسی نظام تھی۔ اور اسی حالت میں اس نے سسلی کو فتح کرنے کے لیے ایک عظیم فوجی مہم شروع کی۔ اس منصوبہ کو اس کے اپنے تجربہ کار عسکری مشیروں نے غرور پر مبنی اور خطرناک مہم قرار دیا تھا۔یہ مہم پہلے ہی مرحلے میں ناکام ہوگئی۔ ایتھنز کا پورا بحری بیڑا تباہ ہو گیا۔ دسیوں ہزار سپاہی مارے گئے یا غلام بنا لیے گئے۔ اور ایتھنز اگرچہ اس کے بعد چند برس تک باقی رہا، مگر اپنی سابقہ حیثیت کبھی مکمل طور پر بحال نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ ایک نسل کے بعد یونانی دنیا پر ایتھنز کی بالادستی ختم ہو گئی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ریاستہاے متحدہ امریکہ کے زوال کی پیش گوئی کر رہا ہوں۔ بلاشبہ امریکہ ایک غیر معمولی طور پر مضبوط معاشرہ ہے، بے پناہ وسائل رکھتا ہے، گہری ادارہ جاتی صلاحیت رکھتا ہے، اور لائحہء عمل کی غلطیوں سے سنبھلنے کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔میں جس چیز کی پیش گوئی کر رہا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ عالمی سطح پر امریکی اثر میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ بالخصوص وہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ اپنا دبدبہ قائم نہیں رکھ پائےگا۔ جس نے نصف صدی سے اس کی معاشی طاقت کو کئی گنا بڑھایا ہے۔اس مرحلے کے بعد ایک دوسرا امریکہ منظر عام پر آئےگا۔ اس کا شمار بھی دنیا کے کئی طاقتور ممالک میں ہوگا۔ اور عالمی نظام کو مربوط کرنے کی اس کی حیثیت باقی نہیں رہےگی۔ یقیناً یہ بات بیشتر امریکیوں کو ناگوار گزرےگی۔ اور وہ اس پیشین گوئی کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔لیکن انھیں برطانیہء عظمیٰ کی تاریخ کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ یہ عظیم سلطنت دوسری جنگ عظیم کے بعد بتدریج یورپ کا ایک عام ملک بن گئی۔
میری رائے میں دنیا میں امن اس وقت قائم ہوگا، جب وہ یک قطبی کے بجائے کثیر القطبی ہوجائے گی۔ اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کریں گی۔ ممکن ہے اس تجزیے کے بعض حصے آپ کی رائے میں غلط ہوں۔ واضح رہے کہ میں نے دیانت داری کے ساتھ کوشش کی ہے کہ میں اپنی بات کو مدلل انداز میں رکھوں۔
Post Views: 170
Like this:
Like Loading...
سب سے پہلے اس رواں اور عمدہ ترجمہ کے ذریعہ ایک غیر معمولی تجزیہ اردو داں طبقہ تک پہنچانے کے لیے ڈاکٹر انجم ضیاء الدین تاجی صاحب کا بہت شکریہ۔ بے شبہ تجزیہ نگار نے مدلل طریقہ سے اپنی بات کہی ہے لیکن یہ پڑھ کر طبیعت افسردہ ہو گئی کہ اسرائیل طاقتور ملک کے طور پر باقی رہے گا۔ اللہ کرے یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہو اور اسرائیل کا نام و نشان مٹ جائے۔ آمین۔