Skip to content
عام آدمی پارٹی اور بھاجپا کا مدھر ملن
ازقلم:شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،ممبئی
عام آدمی پارٹی کے چھ راجیہ سبھا میں ممبران نے بھاجپا میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ اور راجیہ سبھا سے عام آدمی پارٹی کا تقریباً خاتما ہو چکا ہے۔ آئے عام آدمی پارٹی کی مختصر تاریخ پر ایک نظر میں ہیں ۔
عام آدمی پارٹی کا باقاعدہ قیام 26 نومبر 2012 کو آئینی کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں عمل میں آیا۔ اس موقع پر اروند کیجریوال نے پارٹی کا باضابطہ اعلان کیا۔ یہ تاریخ خاص طور پر اس لیے منتخب کی گئی تھی کیونکہ اسی دن ہندوستان کا آئین نافذ ہوا تھا، جس کے ذریعے پارٹی نے آئینی اقدار اور بدعنوانی کے خلاف اپنی وابستگی ظاہر کی۔ یہی تقریب عام آدمی پارٹی کی پہلی مستند اور دستاویزی میٹنگ مانی جاتی ہے۔ پارٹی کے قیام سے قبل، اس کی بنیاد دراصل انسدادِ بدعنوانی تحریک سے جڑی ہوئی تھی جس کی قیادت انا ہزارے کر رہے تھے۔ اس تحریک کے بڑے اجتماعات رام لیلا میدان اور جنتر منتر جیسے مقامات پر 2011 اور 2012 کے دوران منعقد ہوئے۔ اتنے بڑے اجتماعات کو کس نے فنڈ کیا یہ اب تک ایک معمہ ہے۔ یہ عوامی احتجاج تھے اور میڈیا کے اس طبقے نے جو دائیں بازو والوں سے قربت رکھتا تھا، اس احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور مرکزی حکومت کے خلاف ایک ماحول بنایا اور پھر اسی میڈیا نے 2014 کے انتخابات میں گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرا مودی کو متبادل کے طور پر پیش کیا اور 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار حاصل کیا۔ ایسی بھی خبریں ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی پہلی میٹنگ کسی "وویکانند ہال” میں ہوئی جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلق رکھتا ہے، حالانکہ نہ تو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور نہ ہی عام آدمی پارٹی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایسی کوئی میٹنگ منعقد ہوئی، مگر بعد میں ہونے والے واقعات نے عملاً ثابت کیا کہ عام آدمی پارٹی نے کانگریس کو مرکزی حکومت سے ہٹانے میں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار میں لانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا اور کیجریوال کا پورا دورِ حکومت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج سیاست میں زبردست ہلچل مچانے والی خبر آئی ہے جہاں عام آدمی پارٹی کے کئی ممبران نے بھارتیہ جنتا پارٹی جوائن کر لیا۔ عام آدمی پارٹی کے کل 7 راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ تعداد عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا اراکین کا تقریباً دو تہائی حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ ان رہنماؤں میں راگھو چڈھا (راجیہ سبھا رکن اور اہم پارٹی چہرہ)، سندیپ پاٹھک (پارٹی کے حکمت عملی ساز)، اشوک مٹل (راجیہ سبھا رکن)، ہربھجن سنگھ (سابق کرکٹر و راجیہ سبھا رکن)، سواتی مالیوال (راجیہ سبھا رکن)، راجندر گپتا (راجیہ سبھا رکن) اور وکرم جیت سنگھ سہنی (راجیہ سبھا رکن) شامل ہیں۔ یہ تمام رہنما زیادہ تر پنجاب سے منتخب ہوئے تھے اور عام آدمی پارٹی کی پارلیمانی طاقت کا اہم حصہ سمجھے جاتے تھے۔ یہ پیش رفت عام آدمی پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران بن کر سامنے آئی ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں اتنے سینئر ممبران کا پارٹی چھوڑنا پارٹی کے لیے ایک بڑے دھکے سے کم نہیں، یعنی راجیہ سبھا میں پوری پوری پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ضم ہو چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان اراکین پر عام طور پر دل بدل قانون لاگو نہیں ہوگا، کیونکہ بھارتی آئین کے دسویں شیڈول کے مطابق اگر کسی پارٹی کے دو تہائی یا اس سے زیادہ اراکین اجتماعی طور پر کسی دوسری پارٹی میں ضم ہو جائیں تو اسے انضمام مانا جاتا ہے، نہ کہ انفرادی انحراف، اسی وجہ سے ان اراکین کی رکنیت ختم نہیں ہوگی اور وہ قانونی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی میں برقرار رہ سکتے ہیں۔
جہاں تک اُن بھولے بھالے عوام کا تعلق ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور ہر الیکشن کے وقت خاص طور پر الیکشن سے کچھ پہلے ایسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں، اُن کے لیے جلسے جلوس کرتے ہیں، اُن کے لیے دری بچھاتے اور اسٹیج سجاتے ہیں، آج اُن کے لیے ایک مایوسی کا دن ہوگا، سوچتے ہوں گے ہم پھر سے ایک سیکیولر سمجھے جانے والی پارٹی سے ٹھگے گئے ہیں۔ دلّی والوں کے لیے آج جو ہوا وہ دیش کے دوسرے حصے میں بہت پہلے سے ہو رہا ہے، کانگریس کے دو سو سے زیادہ ایم ایل اے بھاجپا میں جا چکے ہیں، شیو سینا اُدھو ٹھاکرے، این سی پی شرد پوار سبھی ایسے صدمے جھیل چکے ہیں اور مہاراشٹرا والوں کے لیے یہ سیاسی سرکس نیا نہیں ہے۔ سیکیولر پارٹیوں کو بنا سوچے سمجھے اپنا مسیحا بنانا کتنا خطرناک ثابت ہو رہا ہے یہ آج کی خبروں سے پتہ چلتا ہے، سیاست سے اخلاق و کردار رخصت ہو چکا ہے اور اس کی جگہ موقع پرستی نے لے لی ہے۔لہٰذا اب زیادہ تجربات کرنے کی ضرورت نہیں ہے اپنی پارٹی اپنی لیڈرشپ پر بھروسہ کرنا چاہیے اُتر پردیش ہی کو دیکھ لیجیے ہر سماج نے اپنی پارٹی اور اپنی لیڈرشپ کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
Post Views: 85
Like this:
Like Loading...