Skip to content
امیت شاہ اورابھیشیک بنرجی: تم ڈال ڈال ہم پات پات
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مغربی بنگال میں پہلے مرحلے پولنگ میں ریکارڈ 90 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی ۔ چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال نے تاریخی ٹرن آوٹ کا سہرا کمیشن کے اقدامات اور عوام کےسرباندھا ۔ سی ای او کے مطابق انتخابات سے قبل SIR کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے مرنے والے اور دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد کے نام نکالنے سے جب فہرست ‘کلین’ (صاف) ہوتی ہے، تو ووٹنگ کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے مثال دی کہ آسام سمیت جن ریاستوں میں حال ہی میں انتخابات ہوئے ہیں، وہاں بھی ووٹنگ کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہےلیکن وہ بھول گئے کہ آسام میں تو ایس آئی آر ہوا ہی نہیں۔ منوج اگروال نے ووٹرز کے بے خوف ہوکر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کو خوش آئند بتایا۔لیکن جب ان سے کولکتہ میں ووٹنگ کی کم شرح پر سوال ہوا تو وہ لاجواب ہوکر نصیحت اور فضیحت کرنے لگے ۔بڑے پیمانے پر پولنگ کا کریڈٹ الیکشن کمیشن کو تو جاتا ہے مگر اس کی وجہ عوام کا غم و غصہ اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر ایک ہی خاندان کے کچھ لوگوں کا نام رکھنا اور کچھ کا نکال دینا دراصل ووٹرز کو مرکزی حکومت و الیکشن کمیشن کو سبق سکھانے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔ لوگوں کو یہ کوف بھی لاحق ہوسکتا ہے کہ اگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا تو شاید شہریت پر سوالیہ نشان نہ لگ جائے اور سرکاری مراعات بند نہ ہوجائیں ۔ اس لیے بعید نہیں اس جوش و خروش کی قیمت بی جے پی چکانی پڑے۔
بی جے پی کی سمجھ میں جب آ گیا کہ ممتا کو سامنے سے ہرایا نہیں جاسکتا تو اس نے چور دروازے یعنی الیکشن کمیشن کے ذریعہ حملہ کرکے بڑے پیمانے پر ٹی ایم سی ووٹرس کے نام کاٹنے کی مشق کی ۔ اس میں بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ یہ بات واضح کرچکی ہے کہ شہریت کا فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن پھر بھی لاکھوں لوگوں کو مشکوک رائے دہندگان کی فہرست میں شامل کرکے ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیاگیا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو اس نے کمال عدم توجہی کے ذریعہ مرکزی حکومت کی بلواسطہ تائید کردی۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ شک کا فائدہ مشکوک کو دیا جائے۔ وہ لوگ جو برسوں سے اپنا حق رائے دہندگی استعمال کررہے ہیں انہیں موقع دیا جائے مگر الٹا فیصلہ آگیا۔ جج صاحب نے فرمادیااگر وہ لوگ ایک سال ووٹ نہیں دیں گے تو کیا فرق پڑے گا؟ سوال یہ ہے کہ اگر وہ ایک بار اور ووٹ دے دیتے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتالیکن جیسا مالک ویسا گھوڑا کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا ۔
نیکر دھاری جسٹس سوریہ کانت سے یہی توقع تھی اور وہی ہوا۔ الیکشن کمیشن سے بات نہیں بنی توبی جے پی پھر سے آئی پیک کی طرف لوٹ آئی ۔ اس نے 13؍اپریل کو پھر ایک بارانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمت ساز ادارہ ’ آئی پیک‘ کے ایک اہلکار کے گھر پر کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کابہانہ بناکر چھاپہ ماردیا ۔ اس بار ان کا ہدف تنظیم کے ڈائریکٹر اور شریک بانی ونیش چندیل تھے۔ ا ن کو دہلی میں گرفتار کرنے کے بعد ای ڈی کے حوالےسے منی لانڈرنگ کا الزام لگا دیاگیا۔ اس سے قبل 2؍ اپریل کو، ای ڈی نے دہلی میں چندیل کی رہائش گاہ کےعلاوہ بنگلورو میں آئی پیک کے ایک اور شریک بانی اور ڈائریکٹر رشی راج سنگھ نیز ممبئی میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سابق کمیونیکیشن آفیسر وجے نائر کے گھر کی تلاشی لی تھی اور آگے چل کر اس تفتیش کو بنیاد بناکر گرفتاری کی گئی۔ اس تفتیش اور گرفتاری کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ شک و شبہ پیدا کرتا ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس کے ذریعہ نہ صرف ٹی ایم سی کو بدنام کرنے کی بلکہ اس کی انتخابی مہم کو متاثر کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ آئی پیک کے کھاتے چونکہ جزوی طور پر منجمد کردئیے گئے اس لیے اسے ای میل کے ذریعہ اپنے کارکنان کو فارغ کرنا پڑا مگر ٹی ایم سی نے ان سب کی ادائیگی اپنے سر لے لی اور اس مشکل سے نمٹنے کی کوشش کرر رہی ہے۔
عام طور پر اس طرح کی زیادتی عوام کو متنفر کرتی ہے اور قوی امکان ہے کہ اس سے ممتا کا ہی فائدہ ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مرکز ی حکومت نے ٹی ایم سی کی شاہ رگ دبا دی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو رشوت دینے کا الزام لگادیا۔ اس کے علاوہ موصوفہ نے بنگال کے انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی(ایس آئی آر)کو حالیہ دنوں میں ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیا۔ ممتا بنرجی نے مشرقی بردوان ضلع کے کھنڈاگھوش میں ریلی سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی ریاست کے اندر اقتدار میں آتی ہے تو وہ مغربی بنگال کے لوگوں سے سب کچھ چھین لے گی۔ انہوں نے بہار کے انتخابات کی مثال دے کہا کہ ’’بی جے پی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو رشوت دیتی ہے لیکن ووٹنگ کے فوراً بعد اپنے وعدوں کو بھول جاتی ہے۔ ‘‘ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی بنگال کو ’سونار بنگلہ‘ بنانے کی بات کرتی ہے، لیکن جن ریاستوں میں وہ اقتدار میں ہے وہاں بنگال کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔
بردوان ضلع کے ہی بانکورا میں ریلی کے دوران ممتا نےکہا کہ بی جے پی نے ٹی ایم سی کو شکست دینے کیلئے ایک ہزار کروڑ روپے کا سودا کیا ہے۔ انتخابی علاقوں میں تلاشی کے نام پر مرکزی فورسیز خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہیں۔ انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات سمیت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سربراہ نے مزید کہا کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے ووٹنگ کے عمل میں ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ محتاط رہیں اور ووٹنگ مشینوں پر نظر رکھیں۔ ممتا بنرجی نے کہا’’ووٹنگ مشینوں کے بارے میں محتاط رہیں۔ بی جے پی نے سست ووٹنگ اورسست گنتی کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کے تمام منصوبے ناکام کردیں۔ ‘‘بھارتیہ جنتا پارٹی چونکہ یہ حربے استعمال کرتی رہی ہے اس لیے عوام کو اس سے خبردار کرکے مقابلہ کرنے کی خاطر پہلے سے تیار کردینا ضروری ہے۔ عوام کے اندر جوش و خروش پیدا کرنے کی خاطر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کو حالیہ دنوں کا سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دےکر پیشنگوئی کی کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت امسال ہی گر جائے گی۔ وہ بولیں ’’ دنیا جانتی ہے کہ آپ کی حکومت2026ءمیں گر جائے گی۔ پھر ہم آپ کی حکومت کے متعارف کرائے گئے تمام عوام مخالف قوانین کو منسوخ کر دیں گے۔ ‘‘
بی جے پی کی دھاندلی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے امید افزا بیانات بہت ضروری ہیں۔لوگ بتاتے ہیں کہ جب کسی ستارے گردش میں آجائیں تو اسے اونٹ پر بھی کتا کاٹ کھاتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ بی جے پی کے ساتھ ہمایوں کبیر کے معاملے میں ہوا۔ اس نے ایک وائرل ویڈیو میں اعتراف کرلیا کہ بی جے پی بابری مسجد کی تعمیر کے لیے تین سو کروڈ پیشگی دے چکی ہے اور وہ سودہ جملہ ایک ہزار کروڈ کا ہے۔ اس بنیاد پر ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے بی جے پی پرایک ہزار کروڑ روپے کی سودے بازی کا الزام لگادیا ۔ ممتا کے مطابق عام آدمی اُنین پارٹی (اے جے یو پی) کے سربراہ ہمایوں کبیر مبینہ طور پر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اقلیتی ووٹوں کو تقسیم کرکے ٹی ایم سی کو شکست دینےکیلئے انہوں نےبی جے پی کے ساتھ ایک ہزار کروڑکی سودے بازی کی ہے اور پیشگی بھی وصول کرچکے ہیں‘‘۔یہ انکشاف اتنا خطرناک ہے کہ اس کے منظر عام پر آتے ہی اویسی کی ایم آئی ایم نے ہمایوں کبیر سے تعلق توڑ لیا۔
مغربی بنگال میں انتخابی مہم کس سطح پر پہنچ گئی ہے اس کا اندازہ امیت شاہ کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے کہ جس میں انہوں نے ممتا بنرجی کے حامیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 23 اپریل (انتخابات) کو اگر تشدد ہوا تو "غنڈوں کو الٹا لٹکا کر جیل بھیج دیں گے”۔ ملک کا وزیر داخلہ اگر اس طرح کی زبان استعمال کرے تو اس کا فطری جواب کیسے آتا ہے اس کا نمونہ ابھشیک بنرجی نے پیش کیا۔ وہ بولے "میں امیت شاہ کو چیلنج کرتا ہوں۔ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ اپنے باپ کےاصلی بیٹے ہیں، تو 4 مئی کی آدھی رات 12 کے بعد بنگال میں موجود رہیں۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کتنے بڑے غنڈے ہیں۔ آپ نے یہ کھیل شروع کیا، ہم اسے ختم کریں گے۔” وطن عزیز میں انتخاب کھیل کی روح کے ساتھ لڑا جاتا تھا لیکن بی جے پی نے اس میں نفرت و عناد اور سازش و دغابازی ڈال کر جس سطح تک پہنچا دیا ہے کہ اس کو بحال کرنے میں بہت وقت لگے گا ۔ ان بھگوا دھاریوں نے جو آگ لگائی اب خود اس کی آنچ میں جھلس رہے ہیں اور یہ سب کرنے کے بعد بھی اگر یہ ہار گئے تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
Post Views: 81
Like this:
Like Loading...