Skip to content
مشکل حالات میں مسلمان اپنے اندر پریشان حال اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا مزاج پیدا کریں
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شاد نگر24اپریل (پریس نوٹ)مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں نماز جمعہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا : ہر شخص پر حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، اس میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، اچھے حالات میں آدمی مطمئن اور پرسکون رہتا ہے اور مشکل حالات میں وہ پریشان ہو جاتا ہے، گزشتہ چند دنوں پہلے امریکہ اور ایران کی جنگ کی وجہ سے گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی، بالخصوص ہمارے آٹو ڈرائیور حضرات بہت ہی پریشان تھے ، گاڑی کا کرایہ اور روزمرہ کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے تھے ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ ہم معاشرہ کے ضرورت مندوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کریں، ان کا خیال رکھیں، اللّٰہ تعالی نے جنہیں مال و دولت سے نوازا ہے، وہ آگے بڑھ کر ایسے افراد کا تعاون کریں، نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ خود بھی اس پر ظلم کرتا ہے کہ اس کا حق مار لے اور نہ دوسروں کا ظلم سہنے کے لیے اس کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے، آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص اپنے پریشان حال اور مصیبت زدہ بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللّٰہ تعالی بھی اپنے خزانہ غیب سے اس کی ضرورتوں کو پورا فرماتے ہیں اور جو بندہ پریشانی اور مصیبت میں مبتلا اپنے مسلمان بھائی کے غم کو دور کرتا ہے، اللّٰہ تعالی قیامت کے دن اس کی پریشانیوں کو دور فرماتے ہیں، اس وقت مسلم معاشرہ میں کتنے ایسے غریب اور ضرورت مند ہیں، جو اپنے بچوں کے اسکول کی فیس ادا نہیں کر پاتے کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، لیکن کرایہ کی ادائیگی میں مشکلات پیش آتی ہیں، بعض لوگ اپنے غربت وتنگ دستی کی وجہ سے سودی قرضوں کے جال میں پھنس رہے ہیں، ان حالات میں ملت کے مالدار طبقے کو آگے انا چاہیے اور منظم انداز میں سُلم بستیوں میں رفاہی و فلاحی خدمات کو فروغ دینا چاہیے، اس وقت ملت کی سب سے بڑی ضرورت اسلامی فکر و سوچ پر مبنی اسکولوں کو قائم کرنا ہے، مالدار حضرات نہ نفع اور نہ نقصان کی بنیاد پر ایسے اسکول قائم کریں جہاں دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ پختہ عصری تعلیم بھی دی جا سکے الحمداللّٰہ اج بھی کچھ مسلمان سرمایہ دار ہیں، جو مسلم معاشرے میں خاموش اور ٹھوس انداز میں تعلیم اور علاج کے میدان میں غریب اور ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کر رہے ہیں ،مولانا نے کہا: انتہائی مصیبت زدہ اور پریشان حال بندوں کی جب فوری مدد کی جاتی ہے اور وہ مدد کرنے والوں کے لیے دعا کرتے ہیں، تو اللّٰہ تعالی کی بارگاہ میں ان کی دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں، کتنے ایسے واقعات ہیں کہ ایک بہت ہی مالدار شخص کے بارے میں ڈاکٹر نے بتا دیا کہ یہ صرف چند دن زندہ رہنے والے ہیں وہ امریکہ میں دواخانہ میں شریک تھے، ڈسچارج ہو کر اپنے وطن ممبئی انڈیاواپس آ گئے ،ایک دن کسی کام سے باہر نکلے اور ایک مصیبت زدہ خاتون کو دیکھا، اس خاتون کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، اس بندہ خدا نے فوری طور پر اس کی مدد کی اور زندگی بھر کے لیے اس خاتون اور اس کے بچوں کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری قبول کی، خاتون نے شکریہ ادا کیا اور دل سے دعائیں دی، اس کے بعد یہ شخص جو ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق صرف چند دن تک زندہ رہنے والا تھا پورے 16 سال تک باحیات رہا، اس لیے کہتے ہیں زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں ہے بل کہ دوسروں کو جینے کے حوصلہ دینے کا نام ہے۔
Post Views: 60
Like this:
Like Loading...