Skip to content
مالیگاوں دھماکے کی روشنی میں دہشت گردی کا قضیہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
زعفرانی ٹولہ کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے کے اس بیان سے چراغ پا ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو دہشت گرد کے خطاب سے نواز دیا حالانکہ یہ تو موصوف کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ مودی جی سے پہلے کسی ہندوستانی وزیر اعظم کی عزت افزائی نہیں ہوئی ۔ مودی کی حمایت میں ان کے اندھے بھگت اور گودی میڈیا شور شرابہ تو کررہا مگر بھول گیا ہےکہ دہشت گردی کا معاملہ محض دہشت گرد کی ذات تک محدود نہیں ہوتا ۔ پاکستان کو دہشت گرد ملک اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ان کے خلاف قرار واقعی کارروائی نہیں کرتا ۔ اسی لیے مودی جی کو سرجیکل اسٹرائیک یا آپریشن سیندور کرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں یہ دیکھا جائے کہ کیا مودی سرکار ہندوتوا نواز دہشت گردوں کا تحفظ نہیں کرتی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انہیں انعام و اکرام سے نہیں نوازتی ؟ اس کی سب سے بڑی مثال تو محمد اخلاق کے قاتلوں کے لیے یوگی سرکار کا معافی طلب کرنا ہے یا بلقیس بانو خاندان کو قتل کردینے والوں کی سزا میں تخفیف کرواکر انہیں چھڑانا اور ان کا عزت و تکریم کرنا ہے ۔ اس معاملے کی سب سے بڑی مثال سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاوں بم دھماکے کے معاملات میں مودی سرکار کا جانبدارانہ رویہ اور اس کا اگر پہلگام حملےکے بعد کی کارروائی سے موازنہ کیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔
پہلگام حملےکی برسی پرجب مودی جی اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے تھے تو اسی دوران مالیگاوں بم بلاسٹ کے آخری 4؍ ملزم بھی رہا ہوگئے۔ان دونوں واقعات موازنہ کریں تو پہلگام میں 26 ؍ اور مالیگاوں میں 31؍ بے قصور لوگوں کی جان گئی۔ ان دونوں سانحات میں صرف ایک مذہب کے ماننے والےلوگ مارے گئے یعنی سب کے سب ہندو یا مسلمان اور قاتل کا الزام بھی صرف ایک ہی مخالف طبقہ پر لگا ۔ یہ اور بات ہے ابتداء میں مالیگاوں دھماکے میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا یعنی مرنے والے اور مارنے والے سب کے سب مسلمان تھے صرف پکڑنے والی پولیس ہندو تھی مگر بھلا ہو ایس آئی ٹی چیف ہیمنت کرکرے کا جنھوں نے مالیگاوں دھماکوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ۔ مالیگاوں میں 320 ؍ لوگ زخمی بھی ہوئے تھے ۔ ہیمنت کرکرے نے جب اس معاملے میں ہندوتوا نوازوں پر شکنجا کسا تو ان پر 17؍ سال تک مقدمہ چلا لیکن چونکہ ا س دوران بی جے پی برسرِ اقتدار آگئی اس لیے کسی ملزم کو کوئی سزا نہیں ملی۔ یعنی دہشت گردی کے خلاف طول طویل دعویٰ کرنے والی مودی سرکار مالیگاوں بم بلاسٹ میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے میں پوری طرح ناکام رہی۔ کیا یہ ہندوتوا نواز دہشت گردی کی سرپرستی نہیں ہے ؟ کیا اس معاملے میں تلک دیکھ کر دہشت گردوں کی پہچان کی جاتی ہے اور انہیں بخشوا دیاجاتا ہے ؟
پہلگام کے معاملے میں گرفتاری اور مقدمہ وغیرہ چلانے کی زحمت ہی نہیں کی گئی ۔ چند ماہ کے اندر سارے ملزمین کو آپریشن مہا دیو کے تحت انکاونٹر کرکے فائل بند کردی گئی ۔ کیا ان پر مقدمہ چلا کر پاکستان سے تعلق جوڑنا بہتر نہیں تھا ۔ ایسا ہوجاتا تو دنیا بھر میں پچاس وفود بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور پاکستان خود کو بے قصور بناکر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا لیکن حکومتِ ہند نے ایسانہیں کیا بلکہ لوگ تو یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ پلوامہ دھماکے پر قرطاس ابیض بھی ہنوز کیوں شائع نہیں ہوا؟ کشمیر میں ملزمین کے انکاونٹر سے قبل ان کے گھروں کو سرکار نے بم لگا کر اڑا دیا ۔ مالیگاوں دھماکے میں تو پہلگام سے پانچ لوگ زیادہ ہلاک ہوئے تھے ان کے مکانات کی جانب حکومت نے ترچھی نظر کیوں نہیں کی اور یہ درست اقدام تھا تو کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی کیوں کی گئی ؟ ملزمین کے اہل خانہ کو سزا دنیا کہاں کا انصاف ہے اور اس تفریق و امتیاز کی وجہ کیا ہے؟ پہلگام کے متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتےہوے وزیر اعظم مودی نے لکھا کہ اس دہشت گرد حملے میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں کو کبھی بھلایا نہیں جائے گالیکن کیا انہوں نے مالیگاوں دھماکے مہلوکین کو کبھی یاد کیا؟ پہلگام کے متاثرین کے غم زدہ خاندانوں سے ہمدردی جتانے والے وزیر اعظم مالیگاوں کو کیوں بھول گئے۔ اس بھید بھاو کے بعد اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پرزوردینا اور بطور قوم غم اور عزم میں متحد ہونے کی جملہ بازی بے معنیٰ ہے۔
وزیر اعظم نے فرمایا ہندوستان کبھی بھی دہشت گردی کی کسی بھی شکل کے سامنے نہیں جھکے گا لیکن کیا مالیگاوں کے معاملے میں مودی سرکار ہندوتوا نواز دہشت گردوں کی جانب جھکی ہوئی نظر نہیں آتی ؟ ماونوازوں کے ساتھ جو سختی برتی جارہی ہے وہ سرخ سے زعفرانی ہوتے ہی کیوں نرم پڑجاتی ہے؟ دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے مودی سرکار کی پیشانی پر سب سے بڑا کلنک مالیگاوں دھماکے کی ملزمہ سادھوی پرگیہ ہے۔ اس نے دہشت گردی سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے حق پسند این آئی اے چیف ہیمنت کرکرے کی موت پر کھلے عام خوشی منائی اور اس موت کو اپنی بدعا کا نتیجہ بتایا تو کیا وہ دہشت گردی کی کھلی حمایت نہیں تھی؟فی الحال وہ بری ہوچکی ہیں مگر ۷؍ سال قبل وہ ملزمہ تھیں اس کے باوجود مودی جی کی قیادت میں ببانگ دہل ناتھو رام گوڈسے کو اپنے لیے نمونہ مان کر اس گاندھی جی کے قاتل کی تعریف و توصیف کرنے والی دہشت گردی کی ملزمہ کو بی جے پی نے ٹکٹ دے کر دگ وجئے سنگھ کے خلاف انتخاب لڑایا ۔ وہ کامیاب ہوکر ایوانِ بالا میں پہنچیں تو انہیں قومی سلامتی کی کمیٹی میں شامل کیا گیا ۔ کیا مودی جی کا یہ سب کرنا دہشت گردی کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ مودی کے سرکاری وکیل نے پوٹا عدالت میں پرگیہ کے لیے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیاجو پھانسی بھی ہوسکتا تھا مگر وہ چھوٹ گئی تو کیا یہ سرکار کی مرضی کے خلاف ہوگیا؟ ایسا ہوتا تو عمر خالد کو ضمانت مل گئی ہوتی ۔
بی جے پی والے جب مودی کودہشت گرد کہنے پر ملک ارجن کھرگے کی مخالفت کررہے تھے تو بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں چار ملزمان کو خصوصی عدالت کی جانب سے ان پر فردِ جرم عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر بری کر دیا ۔ راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما پر بھارتی تعزیرات ہند کے تحت قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کے تحت بھی مقدمات درج تھےکیونکہ 8 ستمبر 2006 کو مالیگاؤں میں ہونے چار بم دھماکوں میں ان کے ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ان میں تین حمیدیہ مسجد اور بڑا قبرستان کے احاطے میں نمازِ جمعہ کے فوراً بعد جبکہ چوتھا مشاورت چوک میں ہوا تھا۔ ان دھماکوں میں 31؍ افراد ہلاک اور 312 زخمی ہوئے تھے۔ابتدائی طور پر جن 9 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا مگر وہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی تفتیش کے سبب بری ہوگئے بلکہ اس نے ان چار ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پرپہلے تو روک لگا ئی پھر ملزمین کوبری کردیا۔ کیا اس فیصلے میں دہشت گردوں کو بچانے کی بو نہیں ہے؟مالیگاوں میں 29 ستمبر 2008 کو دوسرا دھماکہ ہوا۔ شہر کے بھیکو چوک علاقے میں ایک مسجد کے قریب موٹرسائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ اس دوسرےدہشت گردانہ حملے میں چھ افراد ہلاک اور 95 دیگر زخمی ہوئے تھے۔اس دھماکہ کیس میں 11؍ افراد کو ملزم بنایا گیا تھا لیکن عدالت میں صرف سات ملزمین کے خلاف ہی الزامات طے کیے گئے۔ان میں سے پچھلے سال کرنل پروہت سمیت سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجر (ریٹائرڈ) رمیش اپادھیائے، سدھاکر چترویدی، اجے رہیرکر، سدھاکر دھر دویدی (شنکراچاریہ) اور سمیر کلکرنی بری کردئیے گئے ۔ ان دھماکوں میں ملوث لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت پروہت کی مثال چونکانے والی ہے۔ اس کورہائی کے بعد فوج میں شامل کرکے بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سرکاری خزانے پر موج کرسکے ۔
کرنل شری کانت پرساد پروہت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پہلے ریٹائرمنٹ کے باوجود ملازمت میں توسیع کی گئی۔ اس کے بعد آرمڈ فورسز ٹربیونل نے اسے ترقی دے کر بریگیڈیئر بنانے کی راہ ہموار کر دی ۔سوال یہ ہے کہ آخرٹربیونل نے نہ صرف پروہت کی ملازمت میں توسیع بلکہ سابقہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کی سفارش کیوں کی؟ کیا یہ مالیگاوں دھماکے میں ملوث ہونے کا انعام نہیں ہے؟ جو حکومت زعفرانی دہشت گردوں کو اس طرح نوازتی ہے اس کے سربراہ کو ’دہشت گرد‘ کہلانے پر عار کیسی؟ اسے تو ناز ہونا چاہیے اور سینہ ٹھونک کر کہنا چاہیے کہ ’ہم دھرم یودھا ہیں‘ جس کو جو کرنا کرلےلیکن اس کی جرأت نہیں ہے اس لیے روتے بلکتے الیکشن کمیشن کے پاس جاتے ہیں اور میڈیا میں ٹسوے بہاتے ہیں لیکن ان کے کرتوت شاہد ہیں کہ یہ کون ہیں ۔ ایسے میں ملک ارجن کھرگے کے کہنے نہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Post Views: 88
Like this:
Like Loading...