Skip to content
غلام احمد خاں آرزو: اردو صحافت کا درخشاں باب
(48ویں برسی پر خصوصی تحریر)
تحریر: جاوید جمال الدین
اردو صحافت کی تاریخ محض خبروں کی ترسیل کی داستان نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور قومی بیداری کی تحریک کا نام ہے۔ اس تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو عہد ساز حیثیت رکھتے ہیں—جنہوں نے نہ صرف قلم کو وقار دیا بلکہ صحافت کو ایک مقصد، ایک مشن اور ایک نظریاتی قوت میں تبدیل کیا۔ غلام احمد خاں آرزو انہی شخصیات میں سے ایک ہیں، جن کی خدمات اردو صحافت کے افق پر آج بھی روشن ستارے کی مانند جگمگا رہی ہیں۔غ
L
اردو صحافت: ایک مختصر پس منظر
برصغیر میں اردو صحافت کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1822 میں “جامِ جہاں نما” کے اجرا نے اردو زبان میں صحافتی روایت کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد “اودھ اخبار”، “دہلی اردو اخبار” اور “الہلال” جیسے اخبارات نے نہ صرف زبان کو فروغ دیا بلکہ آزادیٔ اظہار اور قومی شعور کو بھی جلا بخشی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے “الہلال” نے صحافت کو انقلابی فکر سے ہم آہنگ کیا، جبکہ بیسویں صدی کے وسط تک اردو صحافت ایک مؤثر سماجی اور سیاسی قوت بن چکی تھی۔
اسی زرخیز روایت میں غلام احمد خاں آرزو جیسے افراد نے قدم رکھا اور اسے نئی جہت عطا کی۔
روزنامہ انقلاب کا قیام: ایک نئے دور کا آغاز
یہ وہ زمانہ تھا جب عبدالحمید انصاری نے “الہلال” سے علیحدگی اختیار کر کے ایک نئے اخبار کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ ممبئی کے گھاس بازار میں واقع “تاج محل پریس” کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، اور 1938 میں عابد علی جعفر بھائی اور صالح بھائی عبدالقادر کے مشورے سے ایک نئے روزنامہ کی بنیاد رکھی گئی۔ یوں 31 دسمبر 1938 کو “روزنامہ انقلاب” منظر عام پر آیا۔
یہ محض ایک اخبار نہیں تھا بلکہ ایک فکری انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔ اس کے اولین مدیر کے طور پر غلام احمد خاں آرزو کا انتخاب بذات خود ان کے علمی مقام اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔
غلام احمد خاں آرزو: ایک مدیر، ایک معلم
غلام احمد خاں آرزو نے مدیر کی حیثیت سے “انقلاب” کو ایک مضبوط اور باوقار ادارہ بنایا۔ ان کی شخصیت میں شرافت، دیانت، علمیت اور اصول پسندی کا حسین امتزاج تھا۔ عبدالحمید انصاری انہیں نہایت معتمد ساتھی اور قوم کا درد رکھنے والا انسان قرار دیتے تھے۔
ابتدائی دور میں محمد عثمان جیسے نوجوان کاتب کو موقع دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آرزو صاحب صرف معیار کے قائل نہیں تھے بلکہ صلاحیت کو پروان چڑھانے کے بھی حامی تھے۔ مترجمین اور کاتبوں کے انتخاب میں ان کی باریک بینی اور علمی معیار نے ادارتی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ادارتی بصیرت اور جرات مندانہ صحافت
آرزو صاحب کی اداریہ نویسی ان کی پہچان تھی۔ 24 جون 1942 کا اداریہ “ہٹلر پاگل ہو گیا ہے!” اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور جرات مندی سے اظہار خیال کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم جیسے حساس موضوع پر ان کی تحریر نہ صرف معلوماتی تھی بلکہ فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی تھی۔
انہوں نے کسانوں کے مسائل، غربت اور سماجی ناانصافیوں پر بھی قلم اٹھایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی صحافت عوامی مسائل سے جڑی ہوئی تھی۔
سادگی، محنت اور یکسوئی
محمد عثمان کے مطابق آرزو صاحب پنسل سے اداریے لکھتے تھے اور مکمل ہونے تک پنسل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا باقی رہ جاتا تھا۔ یہ محض ایک عادت نہیں بلکہ ان کی محنت، یکسوئی اور سادگی کی علامت تھی۔ ان کی تحریر میں جو اثر تھا، وہ اسی خلوص کا نتیجہ تھا۔
ترقی کا سفر اور اثرات
1942 کے بعد اگرچہ رئیس احمد جعفری نے ادارتی ذمہ داریاں سنبھالیں، مگر “انقلاب” کی بنیاد آرزو صاحب ہی نے مضبوط کی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران کاغذ کی قلت کے باوجود اخبار نے ترقی کی اور دیگر اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ان کی ادارت نے “انقلاب” کو اردو صحافت میں ایک ممتاز مقام عطا کیا، اور ان کے اداریے عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔
علمی و ادبی مقام
غلام احمد خاں آرزو اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہیں “چلتی پھرتی ڈکشنری” کہا جاتا تھا۔ ادبی حلقوں میں ان کی بڑی قدر تھی، اور فلمی دنیا میں بھی ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ اداکارہ ویجنتی مالا کا ان کے قریب بیٹھ کر اشعار سننا ان کی ادبی شخصیت کا مظہر ہے۔
اردو زبان اور صحافیوں کے لیے جدوجہد
آرزو صاحب نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔ انہوں نے آل انڈیا اردو پارٹی کے قیام میں کردار ادا کیا اور مختلف شہروں میں اس کی شاخیں قائم کیں۔
1967 میں فاروق احمد چھوٹانی کے تعاون سے “جرنلسٹ بینیفٹ فنڈ” قائم کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ان کی کوششوں سے کلیئر روڈ نزد بائیکلہ جیل صحافیوں کی رہائش کے لیے ایک پلاٹ بھی ریزرو کیا گیا تھا—یہ ایک دور اندیش قدم تھا، اگرچہ بعد میں مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
سماجی خدمات اور انسانی ہمدردی
1969 کے احمد آباد فسادات کے دوران انہوں نے اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ متاثرین کی مدد کی اور ایک وفد کے ساتھ احمد آباد کا دورہ کیا۔ یہ ان کے انسانی جذبے اور سماجی ذمہ داری کا مظہر ہے۔
آخری ایام اور ایک حسرت
ان کا تعلق رام پور (اتر پردیش) سے تھا۔ 1978 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک سیمینار میں شرکت کے بعد وہ اپنے وطن گئے اور 23 اپریل 1978 کو انتقال کر گئے۔
ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں ان کا وہ جملہ—“یہاں تو مر کے بھی چین نہیں”—ان کی حساس طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ قدرت نے ان کی خواہش پوری کی اور انہیں آبائی وطن میں سپرد خاک کیا گیا۔
سرفراز احمد خاں آرزو: روایت کا تسلسل
غلام احمد خاں آرزو کے بعد ان کی صحافتی روایت کو جس شخصیت نے نہایت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا، وہ سرفراز احمد خاں آرزو ہیں۔ 1978 سے ادارتی ذمہ داریاں سنبھالنے والے سرفراز آرزو نہ صرف ایک تجربہ کار صحافی ہیں بلکہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک بھی ہیں۔
طالبعلمی کے دور سے صحافت سے وابستہ سرفراز آرزو نے اپنی محنت، اصول پسندی اور بصیرت سے ادارے کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔ ان کی ادارت میں ادارہ آج بھی ایک “تربیت گاہ” کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں نوجوان صحافیوں کو موقع اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
سرفراز آرزو صرف صحافت تک محدود نہیں ہیں۔ وہ تعلیمی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ ملی اور قومی مسائل میں نمایاں آواز رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں کئی سماجی اقدامات اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں، جو ان کے وسیع وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے اردو زبان کے فروغ، صحافیوں کی فلاح اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ ان کا طرز قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی روایت کے سچے امین ہیں۔
ایک عہد، ایک روایت
غلام احمد خاں آرزو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کو سچائی، دیانت اور عوامی خدمت کے لیے وقف رکھا۔
آج جب ہم ان کی 48ویں برسی منا رہے ہیں، تو یہ اعتراف کرنا لازم ہے کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ تھے۔ ان کی روایت آج بھی زندہ ہے—اور سرفراز احمد خاں آرزو جیسے افراد اس چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔
اردو صحافت کا یہ درخشاں باب آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے، اور غلام احمد خاں آرزو کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
Post Views: 38
Like this:
Like Loading...