Skip to content
ایران امریکا کے مذاکرات کیا ناکام ہوجائیں گے؟
ترتیب: عبدالعزیز
قارئین سب سے پہلے تو یہ نوٹ فرمالیجیے کہ مَیں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ امریکا اور ایران کے مابَین ہونے والے مذاکرات فی الواقعی ناکام ہوجائیں کیونکہ ہر امن پسند آدمی جنگ سے نفرت کرتا ہے اِسی طرح مَیں بھی جنگ کے عمل کو بُرا ہی سمجھتا ہوں۔ ویسے بھی ہر عقل مند آدمی سارے مسائل کا حل مل بیٹھ کر ہی طے کرتا ہے اور جو کام جنگ شروع کرنے سے قبل کیا جانا چاہیے تھا وہ کام امریکا اور اسرائیل نے تو نہ کیے‘ پہلے تو ہزاروں افراد کو مَوت کے گھاٹ اتار دیے اور اربوں کی جائدادیں تلف کردیں‘ اب میز پر بیٹھنے کی خواہش کی جارہی ہے۔ جنگ شروع کرکے پھر میز پر بیٹھنے کا مشورہ دینے والوں کی دماغی صحت پر اگر شبہ نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔
مذاکرات شروع کرنے سے قبل ایران نے جو دس نکاتی ایجنڈا دے رکھا ہے امریکا بہادر نے شاید اس کی صرف سرخی دیکھ کر گفت وشنید کرنے پر آمادگی کا اظہار کردیا تھا کیونکہ ایجنڈے کے مندرجات اسرائیل اور امریکا کے لیے لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہیں‘ ویسے ایران کے پیش کردہ تمام نکات بِالکل درست ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ایران کے مذاکراتی عملے نے اپنے مطالبات فارسی زبان میں تحریر کرکے مسٹر ٹرمپ کو بھیج دیا تھا اور جس کا ترجمہ کرنے کے لیے مترجم کو ڈھونڈا جارہا تھا جب مترجم نے مسٹر ٹرمپ کو ان نکات اور مطالبات کے مندرجات سمجھانے کی کوشش کی ہے تو ٹرمپ بوکھلاہٹ میں مبتلا نظر آرہے ہیں۔ بوکھلایا ہوا شخص دو میں سے ایک کام کرتا ہے‘ وہ چادر اوڑھ کر سوجاتا ہے یا اپنا گریبان کھول کر پھوں پھاںکرنا شروع کر دیتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ بھی فی الوقت پھوں پھاں ہی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے نکات مندرجہ ذیل ہیں:
٭ امریکا ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دے۔ ٭ لبنان اور حزب اللہ پر حملے بند کیے جائیں۔ ٭ ایران کو آبنائے ہُرمز پر مکمّل اختیار حاصل ہوگا۔ ٭ ایران کو یورینیم انرچمنٹ کی اجازت ہوگی۔ ٭ ایران پر کی جانے والی تمام پابندیاں اور سینکشنز ختم کردی جائیں گی۔ ٭ یو این اور آئی اے ای اے میں منظور کی جانے والی تمام قراردادیں منسوخ کی جائیں۔ ٭ ایران نے جنگ کے نتیجے میں جو نقصانات اٹھائے ہیں امریکا معاوضے کی شکل میں ان نقصانات کا ازالہ کرے۔ ٭ ایران کے پراکسیز (حزب اللہ اور حوثی وغیرہ) کے خلاف دشمنوں جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ٭ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اڈّوں کا خاتمہ اور افواج کا انخلا کیا جائے گا۔
امریکا نے مذاکراتی میز پر بظاہر تو پندرہ نکاتی ایجنڈا رکھا ہے لیکن اس کے مرکز ِ نگاہ میں ایران کا جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز سے اس کی بے دخلی کی کوشش ہے جو ناقابل ِ عمل ہے۔ مسٹر ٹرمپ کا مزاج اپنے پیش رو آں جہانی مسٹر ہیری ایس ٹرومَین سے بہت ملتا جلتا ہے جس نے جاپان سے جنگ کرتے ہوئے Victory at any cost کا نعرہ لگایا تھا اور ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم سے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں جاپان کے ڈھائی تین لاکھ افراد چشم ِ زدن میں ہلاک ہوگئے تھے۔ مسٹر ٹرمپ بھی اہل ِ ایران کو پتھّر کے زمانے میں پہنچانے اور پوری ایرانی تہذیب کو چشم ِ زدن میں ختم کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ایسی زبان درازی کرنے والا شخص اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی بات کرنے لگے تو کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو بات دل میں پیدا ہوتی ہے وہی بات زبان پر آتی ہے۔
میرے خیال میں مذاکرات کی آڑ میں تعطل دراصل ایران کو گھیرنے اور اسرائیل کو تازہ کمک پہنچانے کی کوشش ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سطح زمین پر تین بڑے پہلوان ہیں ایک تو لنگوٹ کَس کر سامنے آکھڑا ہوا ہے, باقی دو شاید ابھی لنگوٹ ڈھونڈنے یا ڈنڈ پیلنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چِین اور روس شاید کسی حکمت ِ عملی کے تحت گوشہ نشین ہیں یا وہ اپنے اپنے میدانوں کی گھاس خراب ہونے نہیں دینا چاہتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ زمین کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا ہے اس پر جو کچھ گرایا یا پھینکا جاتا ہے اس کے اثرات صرف جغرافیائی حد تک نہیں رہتے ہیں اِسی طرح سیاہ بارش صرف ایک ہی ملک میں نہیں برسے گی۔سیّد شکیل انور
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 50
Like this:
Like Loading...