Skip to content
رات کو رات کہہ دیا میں نے، سنتےہی بوکھلاگئی دنیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر وزیر اعظم نریندرمودی جان گنوانے والوں کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کررہے ہوں اور اگر کوئی ان کو دہشت گرد کہہ دے تو بھگتوں کو کیسا لگے گا؟ وہ اگر الزام لگانے والے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ بھی نہ کریں تو کیا کریں گے؟؟ اور وہ روتے پیٹتے اپنے نئے محافظِ اعظم گیانیش کمار کی پناہ میں نہ جائیں تو کس کے پاس جائیں گے ؟؟ یہ سب فطری ہے لیکن قدرت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی دن ممبئی ہائی کورٹ نے مالیگاوں بم دھماکے کے آخری چار ملزمین کو بھی رہا کرکے بی جے پی کے چہرے پر پڑی قوم پرستی کی چمکتی دمکتی زعفرانی نقاب نوچ کر پھینک دی ۔ مالیگاوں دھماکے کے اہم ترین ملزم کو سبکدوشی کے بعد زیادہ سے زیادہ سرکاری سہولیات مہیا کرنے کی خاطر کرنل پروہت کو فوج میں واپس لے کر ترقی دے دی گئی۔ کیا یہ سب مودی سرکار کی مرضی کے خلاف ہوگیا؟ جو حکومت اس طرح دہشت گردی کے ملزمین کی پذیرائی کرتی ہو اس کے سربراہ کو دہشت گرد کہلانے پر فخر ہونا چاہیے اور پارٹی کو مذمت کرنے کے بجائے الزام دینے والے کا مشکور ممنون ہونا چاہیے تاکہ اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ بھگتوں کے ووٹ یقینی بنائے جائیں لیکن اس پر بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتو حفیظ میرٹھی کا شعر یاد آتا ہے؎
آخرش چوٹ کھاگئی دنیا ، اپنی زد میں آگئی دنیا
رات کو رات کہہ دیا میں نے، سنتے ہی بوکھلاگئی دنیا
مثل مشہور ہے ’’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘‘ فی زمانہ وطن عزیر میں انتخابی جنگ کا معرکہ برپا ہے اور سیاست میں تو کچھ بھی ناجائز نہیں ہے اس لیے جس کے منہ میں جو آئے بکتا چلا جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ہیں۔ انہوں نے کانگریسی ترجمان پون کھیڑاکو نہ صرف دھمکی دی بلکہ کھلے عام مغلظات بکے ۔ ان کے پیچھے اپنی وفادار پولیس چھوڑ دی جو گوہاٹی سے دہلی کھیڑا کے گھر تک پہنچ گئی مگر الیکشن کمیشن نے سرما کو انتخابی ضابطۂ عمل کے حوالے سے خبردار تک کرنے کی جرأت نہیں کی۔ ہیمنت بسوا سرما نے نہایت حقارت سے اپنے والد کی عمر والے کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے کے بارے میں کہا ’کون کھڑگے؟‘ ایسے ماحول میں اگروہ کہہ دیں کہ ’’پیریار، ڈاکٹر امبیڈکر، انا درائی، کمال راج اور کلا ئی نگر جیسے رہنماؤں نے خواتین کے حقوق، انصاف، برابری اور بھائی چارے کے لیے جدوجہد کی۔ مودی ان اصولوں کے حق میں نہیں ہیں۔ پھر ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کیسے ان کے ساتھ جا سکتی ہے؟ وہ ایک دہشت گرد ہیں۔ وہ برابری پر یقین نہیں رکھتے، ان کی پارٹی بھی انصاف اور مساوات پر یقین نہیں رکھتی۔‘‘ تو اس میں کیا غلط ہوگیا؟ اس پر اتنا زیادہ آگ بگولہ ہونے کی وجہ ناقابلِ فہم ہے۔
ملک ارجن کھڑگے کے بیان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو دلچسپ حقائق ہاتھ آتے ہیں۔کھرگے نے کہا کہ مودی جی حقوق ِ نسواں کے دشمن ہیں۔ اس کی گواہی تو مودی نامہ لکھنے والی ہندوتوا نواز پروفیسر مدھو کشور بھی دیتی ہیں۔ وہ ببانگِ دہل کہتی ہیں کہ وزیر اعظم خواتین کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہیں کہ وہ انہیں کتاب دینے تک کے لیے نہیں گئیں۔ وزیر اعظم کا برابری اور بھائی چارے کے خلاف ہونا بھی اظہر من الشمس ہے۔ وہ لباس سے مسلمانوں کو پہچان کر دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ ان کو بیس کروڈ مسلمانوں کے اندر ایک فرد بھی وزیر بنانے لائق نہیں ملتا ۔ ان کے انصاف و مساوات کے خلاف ہونے کا ثبوت مالیگاوں بم دھماکے کے حملے میں ان کا منافقانہ تعصب ہے ۔ ویسے تو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے 1991 میں ہی درگا واہنی قائم کرکے اس کی قیادت اترپردیش کی رہنے والی زہریلی سادھوی رتھمبرا کو سونپ دی تھی ۔ یہ تنظیم بابری مسجد کی شہادت، امرناتھ یاترا کا تنازع، کاندھمل ، ممبئی اور گجرات فسادات میں پیش پیش تھی۔
اٹل بہاری و جپائی کی انتخابی ناکامی کے بعد سنگھ پریوار کے اندر پھیلنے والی مایوسی نے سنگھ پریوار کو تشدد سے دہشت گردی کی جانب ڈھکیل دیا۔ اقتدار سے محرومی کے تقریباً ایک سال بعد آر ایس ایس کے کچھ پرچارکوں نے نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ہندو جاگرن منچ قائم کیا۔ اسی زمانے میں ممبئی سے قریب ہنویل میں ابھینو بھارت کی داغ بیل ڈالی گئی اور اس کا سربراہ ناتھو رام گوڈسے کی بھتیجی ہیمانی ساورکر تھی۔ ان کا تعلق ساورکر کے خاندان سے بھی تھا ۔سادھوی پرگیہ ٹھاکر مدھیہ پردیش کی رہنے والی تھی اور اس کا تعلق آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے تھا۔ اس کی شعلہ بیانی کے سبب پرگیہ کا موازنہ اوما بھارتی سے کیا جاتا تھا مگر مالیگاوں دھماکوں کی تحقیقات میں ا س کہانی کی پرتیں ایک ایک کرکے کھلنے لگیں ۔ چار ریاستوں کی اینٹی ٹیرر اسکواڈز (ATS) نے مالیگاؤں اور موداسا میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں، پرگیہ پر ہاتھ ڈالا تو اس کا دائرۂ کار یوپی، مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر تک پھیل گیا۔
آنجہانی ہیمنت کرکرے کی جرأتمندانہ زعفرانی دہشت گردی اور اس پر کار فرما دہشت گرد ہندو تنظیمیں بے نقاب ہوگئیں۔ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ان میں سابق فوجی افسر رمیش اپادھیائے جیسے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد کی گرفتارری نے معاملے کو سنگین بنادیا ۔ ان کی نشستوں میں شامل ہونے والی پرگیہ سنگھ مختلف اجتماعات میں اشتعال انگیز تقاریر بھی کرتی اور سامعین کو مسلمانوں کے قتل پر اُکسا تی تھی۔ وہ اس دہشت گردی کو ہندوؤں کے لیے انصاف سے منسوب کرتی تھی۔اس کے ساتھ مدھیہ پردیش کے سمیر کلکرنی کو گرفتار کیا گیا تو راشٹریہ جاگرن منچ اور ابھینو بھارت جیسی دہشت گرد تنظیموں کا جال بھی سامنے آگیا۔ اس وقت دائیں بازو کی تنظیموں مثلاً بجرنگ دل اور درگا واہنی پر پابندی لگانے کی کارروائی کرنے کے لیے شواہد اکٹھا کرکے حکومت کو پیش کرنے کی کوشش شروع ہوگئی۔ عام انتخابات کے قریب آنے کے باعث کانگریس نے’’ہندو دہشت گردی‘‘ کا معاملہ اٹھایا ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے جب کہا کہ ’’یہ دھماکے عام دہشت گردی سے زیادہ خوفناک ہیں کیونکہ ان میں ایک بڑی سیاسی جماعت کا نام بھی آ رہا ہے ‘‘۔
بی جے پی ان الزامات سے گھبرا گئی اور اس نے سادھوی پرگیہ سے پلہ جھاڑ لیا ۔ اس وقت پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی اور یشونت سنہانے “ہندو دہشت گردی” کی اصطلاح پر اعتراض تو کیامگر سادھوی کی پارٹی سے لاتعلقی پر جمے رہے۔ اس بے رخی سے ناراض ہوکر سنگھ پریوار کے کارکن اور وی ایچ پی رہنما نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرگیہ چاہے رکن تھیں یا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ سنگھ نظریے کی پیروکار تھیں۔اس وقت بجربگیوں کو شکایت تھی کہ پارٹی ان کو ضرورت کے وقت استعمال کرتی ہے، لیکن مشکل میں چھوڑ دیتی ہے۔ایک سینئر رہنما نے کہا کہ پارٹی ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی تاریخ رکھتی ہے، یہاں تک کہ پروین توگڑیا کو بھی دودھ سے مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا گیا۔ کیلاش وجئے ورگیہ اور پرشوتم روپالا کا موقف تھا کہ پرگیہ کو پھنسایا جا رہا ہے۔ اکھنڈ ہندو سینا نے کے حق میں یجنا بھی کیا تھا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰولاس راو دیشمکھ نے 2006 میں یہ کیس سی بی آئی کو سونپ دیا تھا۔کانگریس نے ہندو ووٹرس کی ناراضی کے ڈر سے ان سانپوں کو اپنی آستین میں پالا اور پھر انہوں نے اسی کو ڈس لیا ۔
مذکورہ بالا تحقیق شدہ حقائق کے باوجود کھرگے کے بیان میں دہشت گردی والے حصے پر بی جے پی کا شور شرابہ نے معنیٰ ہے۔ اس پر جب بی جے پی نے ہنگامہ کیاتو اس کے پالتو میڈیا نے سوال کھڑے کیے تو کھرگے نے وضاحت کی کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ۔ وہ بولےکہ مودی ای ڈی اور انکم ٹیکس جیسے مختلف اداروں کے ذریعےعوام اور سیاسی جماعتوں کو ڈراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ دہشت گرد ہیں۔الیکشن کمیشن کو اس وضاحت سے اطمینان نہیں ہوا اس لیے اس نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر اپنی وضاحت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ الیکشن کمیشن کے نزدیک یہ معاملہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے لیکن جیسےناانصاف مودی ویسا ہی ان کا جانبدار کمیشن کے جسے ہیمت بسوا سرما جیسے بدزبانوں کے بیانات سنائی نہیں دیتے مگر کھرگے کا بیان نظر آجاتا ہے۔یہی حال مرکزی وزیر پیوش گوئل کاہے کہ جن کو ایسے بیانات سیاسی شائستگی کے تمام حدود پار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اگر ہیمنت بسوا سرما کے بیانات کی بھی مذمت کی ہوتی تو انہیں کھرگے پر تنقید کا اخلاقی حق ہوتا مگر جو اپنے پر بولنے سے کتراتا ہو اور دوسروں پر بول کر اتراتا ہو اس کی کوئی نہیں سنتا ۔ بی جے پی نے اس بیان کو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ 140 کروڑہندوستانی عوام کی توہین بھی قرار دیااور کھرگے سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم سے فوری معافی مانگیں۔یہ لوگ ملک اور فرد کے درمیان فرق نہیں جانتے۔ وزیر اعظم مودی ہندوستان نہیں ہیں۔ اس لیے مودی کی توہین پورے ملک کی توہین نہیں ہوتی ۔ ویسے بی جے پی کی دہشت گردی کا تو فی الحال امریکہ اور کناڈا میں بھی چرچا ہے ۔اس الزام سے سنگھ بچ نہیں سکتا۔
Post Views: 88
Like this:
Like Loading...