Skip to content
ایران کے خلاف جنگ کے دو ماہ ایک جائزہ
ازقلم:شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،ممبئی
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کو دو ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اب یہ تنازع ایک محدود فوجی کارروائی سے بڑھ کر ایک وسیع جغرافیائی، معاشی اور اسٹریٹجک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ابتدا میں امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ کے ذریعے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو تباہ کرنے، اس کی علاقائی طاقت کو محدود کرنے اور خطے میں اپنی برتری کو دوبارہ قائم کرنے کا ہدف رکھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صرف بارہ گھنٹوں کے اندر تقریباً نو سو فضائی حملے کیے گئے جن میں ایران کے فوجی اڈوں، جوہری تنصیبات اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے لیے یہ جنگ اپنی بقا کی جنگ اور ایرانی خطرے کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمے کے طور پر پیش کی گئی، جس میں ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور اس کے اتحادی نیٹ ورک کو کمزور کرنا مرکزی مقصد تھا۔
یہ جنگ بنیادی طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ نہ تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی منظوری دی اور نہ ہی امریکی کانگریس نے اسے باقاعدہ اجازت دی۔ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کانگریس کا اختیار ہے، مگر اس بنیادی آئینی تقاضے کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو اس جنگ پر آمادہ کیا اور انہیں یہ یقین دلایا کہ ایرانی قیادت کو ختم کر دینے کے بعد ایران کے اندر سے ایک عوامی بغاوت اٹھے گی، عوام خود اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکہ کو ایک سریع اور فیصلہ کن فتح حاصل ہو گی۔ اس خوش فہمی پر مبنی منصوبے کے تحت یہ سوچا گیا تھا کہ جنگ کے بعد ایران میں ایک ایسی حکومت قائم کی جائے گی جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق چلے اور خطے میں ان کی مرضی کی پالیسیاں اختیار کرے۔امریکا بڑے مزے سے تیل پر قبضہ کر لیگا ،مگر یہ اندازے غلط ثابت ہوئے، ایرانی عوام نے بیرونی جارحیت کے سامنے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے قومی یکجہتی کا زبر دست مظاہرہ کیا اور وہ سریع فتح جس کا خواب دیکھا گیا تھا، ایک طویل اور مہنگے اور بھیانک خواب میں بدل گئی۔
دو ماہ بعد اگر حاصل شدہ نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو کچھ محدود فوجی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئیں۔ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی اور بعض اہم عسکری قیادت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے باوجود کوئی فیصلہ کن فتح حاصل نہ ہو سکی۔ ایران کی لیڈرشپ برقرار ہے اور وہ مکمل طور پر شکست سے دوچار نہیں ہوا، جس کی وجہ سے یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والے تنازع میں تبدیل ہو گئی ہے۔
ایران کو اس جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اندازوں کے مطابق تین ہزار سے زائد افراد ہلاک اور چھبیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ابتدائی دنوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ ملک بھر میں فوجی اڈوں، سرکاری عمارتوں،یونیورسٹی اسکولوں ہسپتالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی معیشت پر بھی اس جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں، پابندیاں مزید سخت ہوئیں اور کرنسی دباؤ کا شکار ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیل بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ ایران نے سیکڑوں میزائل اور ڈرون اسرائیل پر مارے اب تک درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں سے زائد رہائشی مکانات تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو گئے ہیں۔وہاں سینسر شپ کی وجہ سے خبریں نہیں ا رہیں مسلسل میزائل حملوں کے خطرے نے اسرائیلی معیشت کو سست کر دیا ہے، سیاحت اور فضائی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے اور عوامی سطح پر ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت بھی اس جنگ کے براہِ راست اثرات سے نہ بچ سکے۔ وہاں ایران نے حملہ کرکے امریکی اڈوں اور تنصیبات کو زبر دست نقصان پہنچایا ان ممالک میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث جانی نقصان ہوا اور انہیں اپنی سلامتی پر بھاری اخراجات کرنے پڑے۔ تیل کی پیداوار اور برآمدات میں خلل آیا جس نے ان کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔ امریکا خلیجی ریاستوں کی حفاظت کرنے میں پوری طرح ناکام ہو گیا۔
عالمی سطح پر اس جنگ نے سب سے زیادہ اثر توانائی اور تجارت کے شعبوں پر ڈالا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، مسلسل خطرات کی زد میں رہا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی، اشیاء کی ترسیل مہنگی ہو گئی اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں قیمتیں بڑھ گئیں۔خلیجی ممالک میں ایران نے سب سے زیادہ حملے امارات پر کیے جس سے وہاں کافی نقصانات ہوئے سیاحت متاثر ہوئی پراپرٹی مارکیٹ پر مندی کے آثار ہیں ظاہر ہے جنگ کی حالت میں سیاح کیوں آئیں گے اور سرمایہ کار پراپرٹی کیوں خریدیں گے وہ کسی اور محفوظ جگہ جانا پسند کریں گے
شپنگ انڈسٹری اس جنگ کی ایک خاموش مگر شدید متاثر ہونے والی صنعت بن کر سامنے آئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پڑے جس سے ترسیل میں ایک سے دو ہفتوں تک تاخیر ہونے لگی۔ بحری انشورنس کی قیمتیں دو سے چار گنا تک بڑھ گئیں اور فریٹ ریٹس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت مہنگی ہوئی اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح فضائی صنعت Airlines Industry بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران، عراق اور خلیجی فضائی حدود کے بند یا محدود ہونے کے باعث سینکڑوں پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کی گئیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایوی ایشن فیول مہنگا ہوا جس سے ایئرلائنز کے آپریٹنگ اخراجات میں پندرہ سے پچیس فیصد تک اضافہ ہوا۔ طویل راستوں کی وجہ سے ایندھن کی کھپت بڑھی، شیڈول متاثر ہوئے اور عالمی سطح پر اربوں ڈالر کے نقصانات سامنے آئے۔
بھارت بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خلیجی راستوں پر انحصار کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، شپنگ اخراجات بڑھے اور فضائی سفر مہنگا ہو گیا۔ یورپ جانے والی پروازوں کو لمبے راستے اختیار کرنے پڑے جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی شہریوں کی سلامتی بھی ایک تشویش بن
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ جنگ کسی بھی فریق کے لیے واضح کامیابی نہیں بن سکی۔ امریکہ اور اسرائیل کو محدود فوجی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئیں مگر وہ اپنے بڑے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے، ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا مگر وہ مکمل طور پر کمزور نہیں ہوا، خلیجی ممالک کو بلاواسطہ نقصان ہوا اور عالمی معیشت ایک نئے بحران کا شکار ہو گئی۔ اس وقت یہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر گزرتا دن تمام فریقین کے لیے مزید نقصان کا باعث بن رہا ہے اور یہی حقیقت اسے ایک No Victor بنا دیتی ہے۔
اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان نے اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور اسلام آباد نے دونوں فریقین سے رابطے کر کے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ تاہم امریکہ نے جنگ بندی کے لیے کچھ سخت شرائط عائد کی ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی، حزب اللہ اور حوثیوں سمیت علاقائی اتحادی گروپوں کی حمایت سے دستبرداری اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو غیر محدود رسائی کی فراہمی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی اپنے مطالبات پیش کیے ہیں اور تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خودمختاری کو تسلیم کیا جائے اور یہ ضمانت دی جائے کہ اس کی باقی ماندہ جوہری تنصیبات پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔ ایران کا موقف ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور کسی بھی مذاکرات کی بنیاد اس اصول کے اعتراف پر ہونی چاہیے۔ فی الحال یہ سفارتی کوششیں ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں اور مکمل جنگ بندی کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔مگر ایک چیز صاف ہے اس جنگ کے بعد امریکا واحد سپر پاور نہیں رہا چین اور روس دونوں اب برابری پر نظر آئیں گے اور مشرق وسطی ایک تبدیلی کی طرف گامزن ہے ڈالر کے متبادل یوآن اُبھر رہا ہے تیل کی قیمتیں اب ڈالر کے ساتھ دوسری کرنسیوں میں بھی وصول کی جائے گی اور اس کا براہ راست اثر امریکی معیشت پر پڑیگا۔
Post Views: 66
Like this:
Like Loading...