Skip to content
مغربی بنگال میں زخمی شیرنی کے مقابلے شاطر لومڑی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مغربی بنگال کی انتخابی مہم آج ختم ہوگئی ۔ اس میں ممتا بنرجی کی سب سے بڑی کامیابی بی جے پی کو مچھلی خور ثابت کردینا ہے۔ ممتا نے جب عوام کو خبردار کیا کہ ’بی جے پی آپ کو مچھلی کھانے نہیں دے گی۔ نہ ہی وہ آپ کو گوشت یا انڈے کھانے دیں گے۔‘تو بی جے پی کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔اب کیا تھا اس نے’ گولی مارو سالوں کو‘ کا نعرہ لگانے والے انوراگ ٹھاکر وہاں بھیج کر اسے کیمرے کے سامنے مچھلی کھانے کا حکم دیا۔ اس نے منگل کے دن مچھلی کھالی جبکہ گوشت خور ہندو بھی اس دن سبزی کھاتے ہیں۔ منوج تیواری جیسے برہمن نے مچھلی کھائی تو لوگوں نے انہیں ذات یاد دلائی۔ اس پر وہ بولے چونکہ بغیر پیاز کے بغیر کھائی اس لیے سبزی ہوگئی۔ تب تو بیف بھی مچھلی سمجھ کر بنا پیاز کھالو کیونکہ پنڈت سدھانشو’متھن ‘ گائے کو ماتا نہیں مانتے ہاں اسٹار پرچارک متھن چکرورتی کو پتِا ضرور ہیں۔ اس نعرے کا یہ اثر ہوا کہ بی جے پی امیدوار اپنے پرچار میں مچھلی لے کر گھومنے لگے اور بعید نہیں کہ زعفرانی ووٹرس مچھلی کا نشان والے آزاد امیدوار کو ووٹ دے آئیں۔ ٹی ایم سی کے سامنے مچھلی کے معاملے ہتھیار ڈالنے کے بعد بی جے پی آئی پیک پر چھاپہ مار کر جنگ بندی کے ساتھ ناکہ بندی والی حرکت کردی ۔
ایران کے لیے آبنائے ہر مزجتنی اہم ہے ممتا بنرجی کی خاطر ’آئی پیک ‘ نامی اشتہاری ایجنسی اس سے کم نہیں ہے۔ ٹی ایم سی کے لیے وہ شہ رگ کی مانند ہے کیونکہ انتخابی مہم کا سارا انتظام و انصرام اسی کے ذریعہ ہورہاتھا ۔ اس لیے مرکزکی مودی حکومت ٹرمپ کی مانند بار بار انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ اس کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ دوران خون رک جائے اور ٹی ایم سی کا دم نکل جائے ۔ پچھلے ۴؍ ماہ سے یہ سازش جاری ہے اور پہلی رائے دہندگی سے ۴؍ دن قبل بھی ای ڈی نے تیسری بار مغربی بنگال میں انتخابی حکمت عملی پر کام کرنے والے پیشہ ور ادارے ’’ آئی پیک (I-PAC)‘‘ پر ای ڈی کا چھاپہ ماردیا۔ یہ دراصل بی جے پی کی شدید گھبراہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تازہ چھاپے کی کارروائی کے بعد اچانک آئی پیک نے اپنے تمام کارکنان کو کام بند کرکے 20؍ دن کی چھٹی پر جانے کی درخواست کردی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سرکاری احکامات کی تابعداری میں ایسا کیا جارہا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مرکزی حکومت عملاً آئی پیک کو ایک ایسے وقت میں کام سے روک رہی کہ جب کہ ٹی ایم سی کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ بددیانتی اور اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں تو اور کیا ہے؟
آئی۔ پیک کے اس اقدام کی ایک وجہ تو اس کے اندر خوف دہشت یا دوسرا سبب سیاسی حکمت عملی بھی ہوسکتا ہے۔ ای ڈی نے ابھی پچھلے ہفتے 14؍ اپریل کو( 2026) کو کوئلہ بدعنوانی کی تفتیش کرتے ہوئے آئی پیک کو لپیٹ لیا اور ادارے کے ڈائریکٹر ونیش چندیل کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ اس کارروائی سے قبل اپنے پرانے تلخ تجربہ کی روشنی میں ای ڈی نے آئی-پیک کے دفتر پر چھاپہ مارنے کی خاطر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا ۔ ای ڈی نے الزام لگایا تھا کہ ممتا بنرجی اور پولیس افسران نے تحقیقات میں تعاون کرنے کے بجائے مداخلت کرتے ہیں ۔ اس پر گودی عدالت نے ای ڈی کو انتخابی عمل میں مداخلت سے گریز کرنے کا حکم دینے کے بجائے مغربی بنگال حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ ۸؍ جنوری (2026 )کو شروع ہوا تھا ۔ اس وقت کولکاتا میں ای ڈی چھاپے کے دوران ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی تھی کیونکہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے صرف مقامی سطح پر ہنگامہ کیا بلکہ عدالتِ عظمیٰ میں ای ڈی کی کارروائی پر اعتراض بھی کیا تھا سماعت ہنوز جاری ہے۔
ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کسی وزیر اعلیٰ نے عہدے پر رہتے ہوئے بذاتِ خود اپنی پیروی کی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی کے پاس انٹایر پولٹیکس میں جعلی ڈگری نہیں بلکہ وکالت کا اصلی سرٹیفکیٹ ہے ۔ اس قانونی موشگافی سے قطع نظر ممتا بنرجی کا بی جے پی کو اصل چیلنج یہ ہے کہ ’’ اگر ہمت ہے تو جمہوری طریقے پر ہم سے جیت کر دکھاو، ای ڈی کا استعمال بند کرو ‘‘۔ بی جے پی کو چونکہ یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتی اس لیے نت نئے ہتھکنڈے اپناتی رہتی ہے۔ ۴؍ ماہ قبل ای ڈی کی پہلی ہی چھاپہ ماری میں ممتا بنرجی نے یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ نہ ڈرنے والوں میں سے ہیں اور جھکنے کا بھی ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ تو لڑنے اور جیتنے والے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ۸؍جنوری کو جب ای ڈی نے سیاسی مشاورتی ادارہ انڈین پولیٹکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) کے دفاتر پر ریڈ کی تو ممتا بنرجی کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اس کے خلاف ٹویٹ کرتا اور اس میں بی جے پی الزامات لگا کرآنسو بہاتا۔ اس طرح عوام کی ہمدردی بٹورنے کی کوشش کی جاتی جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نےخواتین ریزرویشن قانون منظور کروانے میں ناکامی کے بعد کیا ۔ ایسا کرتے وقت مودی جی بھول گئے ایسا کرکے مہامانو نریندر مودی نے اپنے بھگتوں کو مایوس کیا ہے۔ وہ اپنے وشو گرو کو روتا بلکتا نہیں دیکھ سکتے۔ وہ تو مودی کو پھاڑ کھانے والا چیتا سمجھتے تھے مگر موصوف شیرکی کھال میں بلی نکلے۔
وزیر اعظم نریندر مودی جیسے رہنما وں کی مقبولیت کا دارو مدار ان کی تعلیم و تربیت یا ہنر و قابلیت پرنہیں ہے۔ اسی لیے بھگتوں کو اس بات کی مطلق فکر نہیں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے یا نقلی ہے۔ مودی جب یہ کہتے ہیں کہ ہمیں آکسفورڈ کی نہیں ہارڈ ورک کی ضرورت ہے تو لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ مودی جیسے کاغذی شیر کو میڈیا کی مدد سے جنگل کا راجہ بناکر پیش کیا گیا ۔ لوگ اس لیے ان کے مداح ہیں کہ ’مودی ہے تو ممکن ہے‘۔ خواتین کے قانون کی منظوری میں ناکامی اور اس کے بعد ہائے ماتم نے ان کی اس شبیہ کو زبردست نقصان پہنچایا اور چھپنّ انچ کا غبارہ پھوٹ کر فضا میں بکھر گیا۔ اب یہ ثابت ہوگیا کہ ’مودی ہو تب بھی سب کچھ ممکن نہیں ہے‘ بلکہ اگر حزب اختلاف نہیں چاہے تو مودی سرکار کوئی آئینی ترمیم نہیں کرواسکتی اس لیے یہ مضبوط و طاقتور نہیں بلکہ محتاج ومجبورسرکار ہے۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو ۲۰۰۲ میں اسی طرح کی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب یہ ذلت مودی کے حصے میں آئی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی فرد کمزور رہنما کی پیروی نہیں کرنا چاہتا اس لیے جو لوگ اس امید میں مودی کے فریب میں گرفتار ہوئے تھے کہ یہ جادوگر ہے اور کچھ بھی کرسکتا اب مایوس ہوکر دور نکل جائیں گے کیونکہ بقول راہل گاندھی یہ جادو کا کھیل ختم ہوچکا ہے۔ مودی بے نقاب ہوچکے ہیں۔
عوام تو ممتا بنرجی کی مانند نڈر رہنما چاہتے ہیں ۔ چار ماہ قبل جب ای ڈی نے آئی پیک کے دفتر پر چھاپہ مارا تو کارروائی کےلیے اپنی پولیس کو بھیج کر اس کے پیچھے چھپنے کے بجائےوہ بذاتِ خود جائے واردات پر پہنچ گئیں۔ ای ڈی کے افسران کو چونکہ اس کی توقع نہیں تھی اس لیے وہ ہکا بکا رہ گئے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر ممتا بنرجی نے ان کے ہاتھوں سے کاغذات چھین لیے اور وہ کچھ نہیں کرسکے ۔ اس طرح کے دلیرانہ اقدامات سے عوام دل جیتا جاتا ہے۔ ممتا بنرجی نے وہیں پریس کانفرنس کر کے یہ سنگین الزام لگا دیا کہ ای ڈی نے آئی پیک کے دفتر سے ترنمول کانگریس پارٹی کے اہم دستاویزات چرائے ہیں اس لیے مذکورہ کارروائی سیاسی مقاصد کے تحت کی جارہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرکے ان دعوؤں کو مسترد کیا لیکن میڈیا پر تو ممتا کا بول بالا اور امیت شاہ کا منہ کالا ہوگیا۔ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر داخلہ پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی انتخابات سے پہلے ترنمول کانگریس کی حکمت عملی، امیدواروں کی فہرست اور اندرونی منصوبہ بندی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔یہ الزام معقول ہے کیونکہ مغربی بنگال سمیت ملک بھر میں امیت شاہ مخالفین کو بلیک میل کرکے انہیں توڑنے کی حرکت کرتے رہے ہیں۔
ممتا بنرجی کی اس بات میں بھی دم تھا کہ مرکز جان بوجھ کر ریاستی حکومت کو بدنام کرنے اور سیاسی دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہی ہتھکنڈا استعمال کرکے بی جے پی نے چھتیس گڑھ میں بگھیل اور دہلی میں کیجریوال پر بدعنوانی کا الزام لگا کرانہیں بدنام کیا۔ انتخاب جیت جانے کے بعد عدالتوں نے الزامات کو بے بنیاد پایا مگر اس وقت تک بی جے پی اپنا سیاسی فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آچکی تھی۔ ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ کیا یہ ای ڈی یا مرکزی وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی ہارڈ ڈسک اور امیدواروں کی فہرست ضبط کرے؟ اس کے بعد حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ (گھس پیٹھیاکا شور مچانے والا) ایک ایسا وزیر داخلہ جو ملک کو محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہے وہ ان کی پارٹی کے تمام دستاویزات چرانے میں مصروف ہے۔اس طرح ممتا بنرجی نے بی جے پی کی بساط الٹ کر اس کے منہ پر ماردی تھی۔
Post Views: 97
Like this:
Like Loading...
بہترین اور بیباک تبصرہ ہے ۔