Skip to content
”حافظ نور احمد ازہری“ اظہار رائے کی جنگ اور اقتدار کی سیاست!
✍️ (حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
ہندوستانی جمہوری نظام کی بنیاد آئینی اقدار و اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کی بالادستی پر قائم ہے۔ جب بھی ان اصولوں کو کسی بھی سطح پر چیلنج کیا جاتا ہے یا ان کے اطلاق میں امتیازی رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف عوامی اعتماد متزلزل ہوتا ہے بلکہ جمہوری ڈھانچہ بھی سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔ حالیہ دنوں مسلم پرسنل لاء بورڈ آف انڈیا کے ریاستی صدر حافظ نور احمد ازہری کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر اور ان کے بعد پیش آنے والی عدالتی کارروائیاں اسی نوعیت کے ایک اہم قضیے کی نشان دہی کرتی ہیں جس نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔
حافظ نور احمد ازہری (جو ایک مذہبی و سماجی شناخت رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں) کو ان بیانات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا جو انہوں نے مختلف قومی چینلز پر جاری مباحثوں کے دوران دیے تھے۔ یہ بیانات بظاہر حکومت کے طرزِ عمل اور انتظامی نظام کی کارکردگی پر تنقیدی نوعیت کے تھے لیکن انہیں ایک مخصوص زاویے سے پیش کرتے ہوئے اس طرح تعبیر کیا گیا جیسے وہ معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے پورا معاملہ پیچیدگی اختیار کرتا ہے کیونکہ ایک جمہوری معاشرے میں تنقید کو بغاوت یا اشتعال انگیزی سے تعبیر کرنا بذاتِ خود ایک فکری انحراف کی علامت ہے۔ ریاست کے مختلف تھانوں میں یکے بعد دیگرے درج کی گئی ایف آئی آرز نے اس شبہے کو تقویت دی کہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ کسی حد تک منظم حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ہی نوعیت کے بیان پر مختلف مقامات پر مقدمات کا اندراج اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے قانونی راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ آئین کی روح کے منافی ہے۔ تاہم اس تمام تر صورتحال میں عدلیہ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل رہا جس نے اس کیس کو ایک متوازن سمت فراہم کرنے کی کوشش کی۔ حافظ نور احمد ازہری نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ الہ آباد سے رجوع کیا جہاں عدالت نے انہیں ٹرائل کورٹ جانے کی ہدایت دی۔ یہ ہدایت دراصل قانونی عمل کی اس ترتیب کی عکاسی کرتی ہے جو انصاف کے نظام کو منظم اور مؤثر بناتی ہے۔ ٹرائل کورٹ میں پیشی کے دوران ان کے وکلاء نے جس انداز میں اپنے دلائل پیش کیے وہ اس بات کا مظہر تھا کہ قانونی جنگ صرف جذباتی بیانیے سے نہیں بلکہ مضبوط دلائل اور شواہد سے جیتی جاتی ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر انہیں دو مرتبہ عبوری ضمانت فراہم کی جو اس بات کا عندیہ تھا کہ الزامات کی نوعیت فوری گرفتاری یا سخت کارروائی کی متقاضی نہیں ہے۔ بالآخر سیشن کورٹ کی جانب سے پیشگی ضمانت کو مستقل کر دینا اس پورے معاملے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہ فیصلہ نہ صرف حافظ نور احمد ازہری کے لیے ایک بڑی قانونی راحت کا باعث بنا بلکہ اس نے اس اصول کو بھی تقویت دی کہ انصاف کے تقاضے محض الزامات کی بنیاد پر پورے نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے ٹھوس شواہد اور غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔ عدالت کا یہ اقدام اس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں ہر فرد کو صفائی کا پورا موقع ملنا چاہیے اور محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت سے باہر آکر حافظ نور احمد ازہری نے جس انداز میں اپنے موقف کو پیش کیا وہ ایک سنجیدہ اور پُر اعتماد لب و لہجہ کا عکاس تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ ان کا یہ مؤقف اپنی جگہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارے سماج میں تنقید کو برداشت کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے؟ اگر ایک شہری حکومت کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتا ہے تو کیا اسے فوراً ہی اشتعال انگیزی یا دشمنی کے زمرے میں ڈال دینا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی مخصوص برادری یا طبقے کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہ محض حکومتی پالیسیوں اور انتظامی نظام کی کارکردگی پر مرکوز تھی۔ یہ بات آئینی طور پر ہر شہری کا حق ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے اور اس کی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ اگر اس حق کو محدود کیا جائے یا اس پر قدغن لگائی جائے تو جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ان کے بیان میں یہ پہلو بھی نمایاں تھا کہ دو برادریوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کا الزام اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب تنقید کا محور حکومتی کارکردگی ہو، نہ کہ سماجی یا مذہبی تقسیم۔ پولیس پر عدالت کو گمراہ کرنے کا الزام بھی ایک سنگین نوعیت کا دعویٰ ہے جو اگر درست ثابت ہو تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبداری کے ساتھ کام کریں اور کسی بھی معاملے میں حقائق کو مسخ کیے بغیر عدالت کے سامنے پیش کریں۔ اگر اس اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
حافظ نور احمد ازہری کا یہ کہنا کہ انہیں اپنے ملک کے نظامِ انصاف پر مکمل بھروسہ ہے دراصل اس امید کی عکاسی کرتا ہے جو ہر شہری اپنے عدالتی نظام سے وابستہ رکھتا ہے۔ انہوں نے جس انداز میں یہ بات کہی کہ سچ بالآخر سامنے آکر رہتا ہے وہ ایک مثبت پیغام ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وقتی مشکلات کے باوجود انصاف کا چراغ بجھتا نہیں بلکہ دیر سویر اپنی روشنی ضرور پھیلاتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے ان کا بیان بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک جمہوری ملک میں ہر شہری کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اگر اس آزادی کو محدود کیا جائے تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی نفی کے مترادف ہوگا۔ ان کا یہ جملہ کہ ظلم کی زندگی زیادہ دیر نہیں چلتی اور انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن وہ ملتا ضرور ہے ایک گہری معنویت کا حامل ہے جو نہ صرف ان کے ذاتی تجربے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک وسیع تر سماجی حقیقت کو بھی بیان کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعہ محض ایک فرد کے خلاف درج مقدمات اور اس کی ضمانت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بڑے تناظر میں ہمارے جمہوری، قانونی اور سماجی رویوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اظہارِ رائے، تنقید اور اختلاف کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہر آواز کو سنا اور سمجھا جائے یا ہم بتدریج ایک ایسے ماحول کی طرف جا رہے ہیں جہاں اختلاف کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عدلیہ کا غیر جانبدار اور مضبوط کردار جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ جب دیگر ادارے کسی وجہ سے متنازع ہو جائیں تو عدالت ہی وہ آخری امید ہوتی ہے جہاں سے انصاف کی کرن پھوٹتی ہے۔ حافظ نور احمد ازہری کو ملی مستقل ضمانت اسی کرن کی ایک جھلک ہے، جو اس امید کو زندہ رکھتی ہے کہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رہے گا، چاہے راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو۔
یہاں یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ ابلاغی ماحول میں علماء و اہلِ دانش اپنی ذمہ داریوں کا ادراک پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ کریں۔ آج کا زمانہ صرف خیالات کے اظہار تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر لفظ، جملہ اور ہر اشارہ لمحوں میں سیاق و سباق سے کاٹ کر ایک نئے مفہوم کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی برق رفتاری اور سوشل میڈیا کی بے لگام فضا نے جہاں اظہار کے مواقع کو وسیع کیا ہے وہیں غلط تعبیر، تحریف اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے امکانات کو بھی کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں علماء کے بیانات نہ صرف علمی و فکری حیثیت رکھتے ہیں بلکہ وہ ایک حساس سماجی اثر کے حامل بھی ہوتے ہیں اس لیے ان کے الفاظ کا انتخاب، اندازِ بیان اور موقع و محل کی رعایت غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ لہذا! علماء اپنے بیانات میں نہ صرف اعتدال اور توازن کو ملحوظ رکھیں بلکہ وہ اس پہلو پر بھی گہری نظر رکھیں کہ ان کی گفتگو کو کس زاویے سے لیا جا سکتا ہے۔ صرف نیت کا صالح ہونا کافی نہیں بلکہ اس نیت کے اظہار کا اسلوب بھی ایسا ہونا چاہیے جو کسی قسم کے ابہام یا غلط فہمی کی گنجائش نہ چھوڑے۔ کیونکہ موجودہ فضا میں بعض عناصر دانستہ طور پر الفاظ کو توڑ مروڑ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو اصل مقصد اور مدعا کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اس لیے علماء کو چاہیے کہ وہ اپنے خیالات کے اظہار میں حکمت، تدبر اور دور اندیشی کو اپنا شعار بنائیں اور ہر اس امکان کو پیشِ نظر رکھیں جو ان کے بیان کی غلط تعبیر کا سبب بن سکتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ناگزیر ہے کہ علماء جدید ذرائع ابلاغ کی نفسیات اور اس کے طریقہ کار سے واقفیت حاصل کریں۔ محض روایتی اندازِ گفتگو آج کے تیز رفتار میڈیا کے سامنے اکثر بے اثر ثابت ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات یہی روایتی انداز کسی جملے کو متنازع بنانے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ لہٰذا! ایک بالغ نظر عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پیغام کی صداقت پر یقین رکھے بلکہ اس کے ابلاغ کے ذرائع اور انداز کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔ صاف دو ٹوک اور غیر مبہم اندازِ بیان اپنانا، جذباتی لب و لہجے سے اجتناب کرنا اور ہر ممکن حد تک قانونی و آئینی دائرے میں رہ کر گفتگو کرنا ایسے اصول ہیں جو نہ صرف کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ ایک مثبت اور تعمیری مکالمے کی فضا بھی ہموار کرتے ہیں۔ یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ علماء معاشرے میں صرف مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ فکری رہنمائی کا ایک معتبر ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے الفاظ کو عام افراد کی نسبت زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کے بیانات کو ہدف بنانا بھی بعض حلقوں کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ان کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے منصب کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ہر اس پہلو پر غور کریں جو ان کے بیان کو تنازع کا شکار بنا سکتا ہے۔ صبر و تحمل، حکمت و دانائی اور حالات کی نزاکت کا شعور وہ اوصاف ہیں جو ایک عالم کو نہ صرف مشکلات سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ اسے ایک مؤثر اور باوقار رہنما کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ بالآخر موجودہ دور میں جبکہ فکری اختلاف کو اکثر غلط رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔ علماء کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنے طرزِ گفتگو اور اظہارِ خیال میں غیر معمولی احتیاط و بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کریں۔ یہی احتیاط نہ صرف انہیں ممکنہ قانونی و سماجی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ ان کے پیغام کو بھی اپنی اصل روح کے ساتھ عوام تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنے منصب کی پاسداری کر سکیں گے بلکہ ایک صحت مند، متوازن اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر پائیں گے، جو درحقیقت کسی بھی جمہوری نظام کی اصل روح اور اس کا بنیادی تقاضا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یو.پی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 32
Like this:
Like Loading...