Skip to content
گتھیاں ایسی بھی ہیں کچھ جن کو سلجھاتی ہے جنگ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اردو کے معروف شاعر ساحر لدھیانوی نے بجا طور پر کہا تھا کہ ’جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی ‘ لیکن ایران اور امریکہ کی حالیہ جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ ’جنگ بھی مسئلوں کا اِک حل ہے‘ ۔ موسمِ حج کی آمد آمد ہے۔ دنیا بھر کے حجاج ِ کرام جوق در جوق مرکز توحید کی جانب رواں دواں ہیں ۔ فی الحال مشرق وسطیٰ پر عالمی جنگ کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں مگر ان خطرات سے بے نیاز حضرت ابراہیم ؑ کی پکار پر لبیک کہنے والے ضیوف الرحمٰن جنگ و جدال کے باوجود کعبۃ اللہ کی جانب نکل کھڑے ہیں۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ جذبۂ اطاعت و عبادت کو ماند تو نہیں کرسکی بلکہ اس نے الٹا عالم ِ اسلام کے اس عظیم اتحاد میں چار چاند لگا دئیے ۔ اس بارسعودی عرب میں جب ایرانی زائرینِ حج کا پہلا قافلہ پہنچا تو اس کے خیر مقدم کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ میزبان حکام نے ایران سے آنے والے عازمین حج کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا۔
سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز کے پس منظر میں ’ طلع البدر علينا من ثنيات الوداع. وجب الشكر علينا ما دعا لله داع‘ کی نغمگی نے ایسا روح پرور ماحول بنایا کہ آنکھیں پر نم ہوگئیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ہجرت مدینہ کے موقع پر اسی ترانے سے استقبال کیا گیا تھا ۔ یہ ایک ایسا نظارہ تھا کہ جس کا تصور محال تھا لیکن آسمان گیتی نے اس کا بھی مشاہدہ کرکے اپنی آنکھوں ٹھنڈا کرلیا ۔ دنیا بھر سے آنے والے تیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کا اس طرح استقبال کرنا ممکن نہیں ہے مگر جو قافلہ میدان جنگ سے آیا ہو وہ بجا طور پرخصوصی توجہ مستحق ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی نصف صدی سے دشمنانِ اسلام نے دو بڑے اسلامی ممالک کے درمیان بداعتمادی کو ہوا دے کر اپنے مفاد کی روٹیاں سینکنے کی کامیاب کو شش کی ۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو پہلے تو اسرائیل سے ڈرایا اور پھر ایران سے خوفزدہ کیا ۔یہاں تک کہ نوبت آگئی کہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ کے نام پر انہیں جوڑنے اور ایران کے خلاف متحد کرنے کی مذموم کوشش تک کی گئی مگر یہ سازش تین مراحل میں ناکام ہوئی ۔
اس سمت پہلا مستحسن قدم چین کے ایماء پر بڑھایا گیا۔ چین کو بیک وقت ایران کے سستے تیل کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی آبادی کو روزگار مہیا کرکے مصنوعات بنا سکے ۔ اسی کے ساتھ اسے اپنا مال فروخت کرنے کے لیے عربوں کے بازار کی بھی ضرورت ہے۔ اس لیے چین نے سعودی عرب اورایران کو اپنے یہاں بلا کر دوست بنا دیا۔ اس کے بعد یہ دونوں ممالک امریکہ اور یوروپ کے متوازی کھڑے ہونے والے ’برکس‘ کا بھی حصہ بن گئے۔ دوسرا معاس املہ طوفان الاقصی ٰ کے جواب میں اسرائیل کی بدترین درندگی کا مظاہرہ تھا۔ غزہ کی نسل کشی اور تباہی و بربادی نے ابراہیم اکارڈ کو زندہ درگور کردیا ۔ عرب ممالک کو یہ گمان تھا کہ امریکی اڈوں کی موجودگی اسرائیلی حملے کے خلاف تحفظ کی ضمانت ہے مگر حماس کی قیادت کوشہید کرنے کوشش میں اسرائیل نے قطر پر حملہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ یہ محض خوش گمانی ہے۔
اس عدم تحفظ کے احساس نے سعودی عرب کو پاکستان کے ساتھ ناٹو جیسا منفرد معاہدہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس کےبعد دونوں کے دشمن مشترک ہوگئے۔ اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب پر حملہ کو پاکستان کےخلاف جنگ سمجھی جائے۔ اسی طرح پاکستان پر فوج کشی سعودی عرب پر حملہ مانا جائے اور ان کے درمیان مفاہمت رہے ۔ یہ معاہدہ اب ترکی میں بھی زیر غور ہے ۔ ایسا اگر ہوجائے اور اس تریمورتی کا ایران کے مزاحمتی طاقتوں سے برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں تو اس کو کون روک سکتا ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل کی سرزمین سے ایران پر حملہ نے مسلم ممالک کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا۔ انہوں نے طے کرلیا کہ وہ امریکی اڈوں کو بچانے کے لیے ایران پر جوابی حملہ کرکے اسلام دشمن ممالک کے اسلحہ کاروبار کو فروغ نہیں دیں گے۔ سعودی عرب کا یہ موقف قابل ستائش ہے کہ اس نے اپنی زمین اور فضا کو ایران کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دی ۔ یہی اعتماد کی بحالی بالآخر حاجیوں کے خصوصی خیر مقدم پر منتج ہوئی۔ جہادِ اسلامی اور اخوتِ ملت کے ان فیوض و برکات پر حفیظ میرٹھی کا یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتاہے؎
حل ہوئے ہیں مسئلے شبنم مزاجی سے مگر
گتھیاں ایسی بھی ہیں کچھ جن کو سلجھاتی ہے جنگ
میدان جنگ میں اپنا لوہا منوانے کے بعد اب ایران اپنی سفارت کاری کے جوہر دکھا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ماسکو جاکر ملاقات کی اور ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پہنچایا ۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم مسائل پر گفتگو ہوئی اور پوتن نے کھل کر ایران کے ساتھ بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام ہمت اور بہادری کے ساتھ اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں اس لیے وہ کسی ظالم و جابر کے آگے نہیں جھکیں گے۔ پوتن نے کہا کہ روس کو توقع ہے کہ ایرانی عوام موجودہ مشکل وقت کا سامنا کریں گے اور ملک میں امن قائم ہوگا۔ صدر پوتن نے امن و امان کا دائرۂ کار وسیع کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں روس ہر ممکن کوشش کرے گا۔ عباس عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی قومی سلامتی کے شعبے کا اہم اجلاس کرکےایران کے ساتھ جاری کشیدگی، رکی ہوئی بات چیت اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کررہے تھے ۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذکورہ بالا اجلاس میں ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کےامکان پر بھی بات ہوئی ہوگی ۔ اس تناظر میں روس کے خصوصی ایلچی آندرے بیلوسوف نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس فوجی کارروائی کے دور رس اثرات ہوں گے اور اس کا اثر بین الاقوامی تعلقات سے لے کر جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام تک پر پڑے گا۔ روس نے الزام لگایا کہ ایران کے جوہری مراکز پر حملوں سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے۔ بیلوسوف کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظر انداز کر کے کی گئی تھی اس لیے روس اس مسئلے کو نیویارک میں شروع ہونے والی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی کانفرنس میں اٹھائے گا۔ وہ بولے ایران پر حملہ ایک سنجیدہ اور غیر معمولی قدم ہوگا اور اس سے عالمی کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور کئی ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
روس کے اس موقف سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف نیٹو سے لڑ کر امریکہ کی عالمی تنہائی کا شکار ہورہا ہے تو دوسری جانب ایران اپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کررہا ہے۔روس کا شمار آج بھی امریکہ کے حریفوں میں ہوتا ہے مگر جرمنی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ وہ نہ صرف یوروپ بلکہ اسرائیل کا بہت بڑا حامی رہا ہے۔ اس کے باوجود جرمنی کے سربراہ( چانسلر) فریڈرک مرز نے طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سامنے امریکہ رسوا ہو رہا ہے۔ جرمنی کی جانب سے واضح اعلان ایران کی فوجی کامیابی کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے اس ناکامی کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ (یا صدرٹرمپ) کے پاس واضح حکمت عملی کا فقدان ہے ۔ایران کی سفارتی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے مرز بولے ایران بات چیت کرنے سے زیادہ اسے ٹالنے میں ماہر ہے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندے اسلام آباد گئے اور بغیر کسی نتیجے کے واپس لوٹ آئے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اس بحران سے نکلنے کے لیے کون سی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔سچ تو یہ ہے مرز تودور خود ٹرمپ بھی حکمت عملی سے ناواقف ہیں۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے موقف کو سمجھانے کے لیے عراق اور افغانستان کی مثال پیش کی اور کہا کہ بغیر ایگزٹ پلان کے جنگ میں اترنے کے نتائج دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ مرز نے ایران کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا ہے۔ جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جرمنی چاہتا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان نہ پہنچےلیکن امریکہ کو کون سمجھائے کہ دن اور رات کی مانندجنگ بندی اور ناکہ بندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے؟ ان میں سے ایک از خود دوسرے کا خاتمہ بن جاتی ہے مگر ٹرمپ ایک ساتھ مخالف سمتوں کی کشتی میں سوار ہونے کی کوشش میں خود بھی پریشان ہیں اور دنیا بھر کو مصیبت میں ڈالے ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے ساحر لدھیانوی کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے نام نہاد سُپر پاور کو خوب اچھا سبق سکھایا ہے؎
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گرجنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
Post Views: 99
Like this:
Like Loading...