Skip to content
اسرائیل، امریکا، ایران اور اسلام آباد مذاکرات کا نیا موڑ
ترتیب: عبدالعزیز
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر فریق دوسرے کو اپنی طاقت، کمزوری اور مجبوری کے آئینے میں دیکھ رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا اسرائیل واقعی جنگ کو طول دینا چاہتا ہے؟ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اور کیا ایران اس صورتِ حال کو دیکھ کر اپنے مطالبات مزید سخت کر رہا ہے۔ انہی سوالات نے اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کو بھی غیر معمولی اہمیت دے دی ہے، کیونکہ اب یہ مذاکرات صرف ایران اور امریکا کے درمیان نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل سے جڑ گئے ہیں۔ نیتن یاہو کی حکمت ِ عملی اس وقت سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ متنازع ہے دستیاب رپورٹوں کے مطابق وہ ایران کے خلاف مہم کو محض ایک دفاعی ضرورت نہیں بلکہ سیاسی بقا اور اسٹراٹیجک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران پر ایسا دباؤ برقرار رہے جس سے تہران کے جوہری، میزائل اور علاقائی اثرو رسوخ کے ڈھانچے کو مسلسل نقصان پہنچتا رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی و بربادی سے نہیں جیتی جاتیں، ان کے لیے سیاسی مقصد، بین الاقوامی حمایت اور طویل المدتی قیمت بھی اہم ہوتی ہے، لیکن اسرائیل کے اہداف تباہی کے ہیں، مگر نتائج ان اہداف کو پورا نہیں کر رہے۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ کی ترجیح بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹیں اشارہ کرتی ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئی اور بڑی جنگ میں پھنسنے سے گریز کررہے ہیں اور جنگ بندی کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کی اس پوزیشن کی وجہ صرف جنگ مخالف جذبات نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ امریکا پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں ایک تھکا دینے والے اور مہنگے بحران میں الجھ چکا ہے۔ اس لیے واشنگٹن کا بنیادی ہدف شاید یہ ہے کہ فوجی تصادم کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچایا جائے، چاہے اس کے بدلے محدود سفارتی رعایتیں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اسرائیل اور امریکا کے درمیان ترجیحات کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایران نے بھی اس فرق کو فوراً بھانپ لیا ہے۔ تہران کی حکمتِ عملی یہ محسوس ہوتی ہے کہ جب امریکا جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے تو اس کی کمزوری کو سفارتی فائدے میں تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ایران کے مطالبات سخت ہیں: منجمد اثاثوں کی واپسی، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، علاقائی سلامتی کی ضمانتیں اور بعض رپورٹوں کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر بھی ایرانی قبضے کی گنجائش۔ یہ مطالبات بظاہر زیادہ سخت لگتے ہیں، مگر سفارت کاری کی زبان میں یہ ایک پیغام بھی ہے: اگر امریکا جنگ نہیں چاہتا تو اسے محض طاقت سے نہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی سطح پر بھی قیمت ادا کرنی ہوگی۔
اسلام آباد مذاکرات اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں رپورٹوں سے یہ تاثر ملا کہ فریقین ایک دوسرے کے مؤقف سے باخبر تو ہیں مگر بنیادی اختلافات ابھی بھی برقرار ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اسے سیکورٹی، معاشی اور سیاسی سطح پر کچھ ضمانتیں ملیں، جبکہ امریکا فوری معاہدہ اور کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات کے نتائج کا تجزیہ کیا جائے تو تین یا چار امکانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا اور سب سے زیادہ قابلِ تصور یہ ہے کہ کوئی جزوی سمجھوتا سامنے آئے، جس میں ایران کچھ نرم روی دکھائے اور امریکا کچھ محدود رعایتیں دے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ جنگ بندی کو وقتی طور پر توسیع مل جائے، تاکہ فریقین مزید وقت حاصل کر سکیں۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو جائیں، جس سے کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور چوتھا، سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ ناکامی کی صورت میں امریکی حملوں یا سخت پابندیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو، جس کے جواب میں ایران بھی علاقائی سطح پر ردعمل دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی دفاعی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرونز اور جہاز شکن صلاحیت موجود ہے۔ بعض میزائل 2000 کلومیٹر یا اس سے زائد مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن کی زد میں اسرائیل، خلیج کے امریکی اڈے اور بحری راستے آ سکتے ہیں۔ اگر ایران نے سخت ردِعمل کا فیصلہ کیا تو اس کی جوابی کارروائی کسی ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گی۔ قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام یا عراق میں موجود امریکی اہداف لیے خطرے میں آسکتے ہیں۔ اس لیے جنگ کا خطرہ صرف دو ریاستوں کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی خطرہ بن چکا ہے۔
اس پورے معاملے میں اسرائیل کا کردار ایک ایسے فریق کا ہے جو جنگ کو بطور پالیسی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ نیتن یاہو کی سیاست ہمیشہ سے داخلی دباؤ، سلامتی کے خوف اور عسکری برتری کے بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دباؤ کم نہ ہو، کیونکہ ان کے نزدیک نرمی کا مطلب کمزوری ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جس جنگی بیانیے کو اسرائیل کامیابی سمجھتا ہے، وہی بیانیہ امریکا کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، اور ایران کے لیے مذاکراتی سودے بازی کا موقع پیدا کرتا ہے۔ یہی تضاد اس بحران کو الجھاتا ہے۔ ایران کی داخلی اور علاقائی پوزیشن بھی اس وقت پیچیدہ ہے۔ ایک طرف اس کی قیادت سخت مؤقف رکھتی ہے، دوسری طرف اسے معلوم ہے کہ مکمل جنگ اس کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے تہران ایک دوہری حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے: مذاکرات میں سختی اور میدان میں مزاحمتی صلاحیتوں میں آگے بڑھ جانا۔ اس کی یہی دوہری پالیسی اسے یہ موقع دیتی ہے کہ وہ دشمن کو یہ احساس دلائے کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو قیمت بڑھے گی۔ یہ قیمت صرف فوجی نہیں ہوگی، بلکہ تیل، تجارت، سمندری راستوں اور سیاسی استحکام پر بھی پڑ سکتی ہے۔
پاکستان کی سفارتی حیثیت اس سب کے درمیان ایک نئے تناظر میں سامنے آتی ہے۔ اسلام آباد مذاکرات نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان محض ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ کردار محدود اور نازک ہے، مگر اس کے اثرات غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ اگر یہاں کوئی جزوی سمجھوتا نکلتا ہے تو پاکستان کی سفارتی ساکھ بڑھے گی؛ اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو بھی پاکستان اس بحران کے اہم سفارتی مراکز میں شمار ہوگا۔ اس لحاظ سے اسلام آباد اب صرف ایک شہر نہیں، بلکہ خطے کی اس سالمیت کا ایک عالمی علامت بن چکا ہے۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ یا امن کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا، بلکہ ارادوں کے تصادم میں ہوتا ہے۔ اسرائیل جنگ کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر رکھنا چاہتا ہے، ٹرمپ اس سے نکلنا چاہتے ہیں اور ایران اسی کھینچا تانی میں اپنی قیمت بڑھا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل طور پر فاتح نظر نہیں آ رہا۔ اسرائیل کو فوری سیاسی کامیابی نہیں ملی، امریکا کو مکمل سفارتی برتری حاصل نہیں ہوئی اور ایران بھی اپنی شرائط منوانے کے لیے اب بھی خطرناک حد تک سخت ہے۔ یہی صورتِ حال اس بحران کو سب سے زیادہ خطرناک بناتی ہے، کیونکہ جب سب فریق خود کو جزوی طور پر مضبوط سمجھتے ہیں، تو سمجھوتے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی کشیدگی میں اصل امتحان ہتھیاروں کا نہیں بلکہ اعصاب کی مضبوطی کا امتحان ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات سے کوئی جزوی پیش رفت نکلتی ہے تو وہ شاید وقتی سکون دے، مگر بنیادی تنازع حل نہیں کرے گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطہ ایک بار پھر ایسی کشیدگی میں داخل ہو سکتا ہے جس میں کسی بھی لمحے کوئی حادثہ پورے نقشے کو بدل دے۔ موجودہ حقائق یہی بتاتے ہیں کہ اسرائیل جنگ کے دباؤ کو مکمل طور پر چھوڑنے کو تیار نہیں، ٹرمپ جنگ کی قیمت سے بچنا چاہتے ہیں اور ایران اس فرق کو اپنے فائدے میں استعمال کر رہا ہے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا سفارت کاری اس جنگ کو چند لمحوں کے لیے بھی روک سکے گی یا نہیں؟ وجیہ احمد صدیقی
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 36
Like this:
Like Loading...