Skip to content
نشۂ جمہوریت.
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ترتیب: عبدالعزیز
ول ڈیو رانٹ (امریکی مورخ اور فلسفی) نے اپنی مشہور کتاب ’’نشاط فلسفہ‘‘ کا ایک باب جمہوریت کے حوالے سے مخصوص کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’کیا جمہوریت ناکام ہوچکی ہے‘‘۔ یہ باب 1926ء میں تحریر کیا گیا تھا جو 1929ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’نشاط فلسفہ‘‘ میں شامل کردیا گیا تھا۔ کیا واقعی جمہوریت ناکام ہوچکی ہے؟ کیا عوام کی حکومت، عوام کے لیے۔ صرف ایک خوبصورت نعرہ رہ گیا ہے؟ اگر جمہوریت بہترین نظام ہے تو پھر جمہوری دنیا میں اتنی ناانصافی، کرپشن اور کمزور لیڈر شپ کیوں نظر آتی ہے؟ کیا عوام واقعی اپنے رہنما خود منتخب کرتے ہیں یا پھر طاقت ور لوگ عوام کے فیصلوں کو خاموشی سے کنٹرول کررہے ہیں؟ جمہوریت کی کمزوریاں کیا ہیں اور یہ باربار بحران کا شکار کیوں ہوتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج 2026ء میں بھی سب کے ذہنوں میں گردش کررہے ہیں۔
ڈیو رانٹ کہتے ہیں جمہوریت کا جنم کسی بلند وبالا نظریے یا فلسفے سے نہیں بلکہ دو بہت ہی حقیقی اور زمینی چیزوں سے ہوا۔ پیسہ… اور… بارود۔ یہ ایک بہت ہی حیران کن بات ہے جو جمہوریت کو بڑے بڑے فلسفوں سے نکال کر سیدھا طاقت کی سیاست میں لاکھڑا کرتا ہے۔ جمہوریت کی پیدائش کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ ایسی معاشی اور ٹیکنالوجیکل تبدیلی کا نتیجہ تھی جس نے طاقت کا توازن ہی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ پرانی دنیا میں طاقت کے مراکز کون تھے؟ جاگیردار طبقہ جن کی ساری طاقت زمین، خاندانی القابات اور تلوار پر منحصر تھی لیکن پھر دو چیزوں نے آکر سارا کھیل بدل دیا۔ بندوق اور پیسہ…بندوق نے جنگ کے میدان میں امیر اور غریب سپاہی کا فرق مٹادیا۔ پیسے نے تاجروں اور ساہوکاروں کو اتنا طاقتور بنادیا جتنا پہلے کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہیں سے متوسط طبقے کے عروج کا آغاز ہوا۔ نئے ہتھیاروں نے نوابوں کی فوجی برتری ختم کردی۔ تجارت اور سکّوں کے نظام نے دیکھتے ہی دیکھتے امیر شہروں کو جنم دیا اور اس دولت مند متوسط طبقے نے جسے بورژوائی کہا جاتا ہے اپنی معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی طاقت کا بھی مطالبہ کرنا شروع کردیا۔
وہ مشہور انقلابی نعرے جو عوام کے نام پر لگائے گئے ان میں عوام سے کیا مراد تھی؟ کیا یہ انقلاب واقعی سب کے لیے تھا؟ انقلاب کا سب سے مشہور نعرہ تھا: آزادی، مساوات، بھائی چارہ۔ یہ الفاظ آج بھی جمہوریت کی روح سمجھے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ نعرے لگائے گئے تھے اس وقت ان کا اصل مطلب کیا تھا۔ ان الفاظ کے معنی بہت محدود اور خاص طبقے کے لیے تھے۔ آزادی کا مطلب تھا جاگیرداروں کے ٹیکس اور ظلم سے چھٹکارہ، مساوات کا مطلب تھا نئے امیر طبقے کو بھی حکومت میں حصہ ملے اور بھائی چارہ وہ تو بس تاجروں اور بینکروں کے لیے تھا تاکہ وہ بھی اشرافیہ کی محفلوں تک پہنچ سکیں۔ اگر اس بات کا کوئی ثبوت چاہیے تو اس بات سے اندازہ کریں کہ 1791ء کے انقلاب فرانس میں جسے جمہوریت کا مرکز ومحور مانا جاتا ہے صرف 15 فی صد لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ باقی 85 فی صد میں تمام عورتیں اور وہ مرد شامل تھے جن کے پاس کوئی جائداد نہیں تھی وہ اس جمہوری حکومت سے مکمل طور پر باہر تھے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ جمہوریت کے سب سے بڑے حامی روسو خود ان دونوں طبقوں کو عوام میں شامل نہیں سمجھتے تھے۔ فرانس کے آئین میں تقریباً 60 فی صد بالغ مردوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ شروع شروع میں امریکا میں بھی ووٹ ڈالنے کے لیے جائداد کا مالک ہونا شرط تھی۔
دیکھا جائے تو امریکی انقلاب بھی بنیادی طور پر یورپ جیسا ہی تھا یعنی ایک ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کی بغاوت جو انگلینڈ سے مسلط کی گئی اشرافیہ کے خلاف تھی۔ تو پھر یہاں جمہوریت کامیاب کیسے ہوگئی؟ ڈیورنٹ کے مطابق اس کی واحد اور سب سے اہم وجہ تھی سماجی مساوات۔ یہی وہ جادوئی جزو تھا جس نے امریکی جمہوریت کو باقی دنیا سے منفرد بنادیا۔ سوال یہ ہے کہ معاشی مساوات پیدا کیسے ہوئی؟ اس کا جواب تھا کہ امریکا میں اس وقت مفت اور بے تحاشا زمین دستیاب تھی اس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چھوٹے موٹے زمیندار بن گئے۔ کوئی بہت زیادہ امیر بھی نہیں تھا اور بہت زیادہ غریب بھی نہیں تھا۔ معاشی برابری نے سیاسی آزادی کی بنیاد رکھی۔ ڈیورنٹ کے اپنے الفاظ میں ’’جو لوگ اپنی زمین پر کھڑے تھے اور اپنے حالات پر قابو رکھتے تھے ان میں خاص شخصیت اور کردار پیدا ہوا جسے حقیقی معنوں میں جمہوری کہا جاسکتا تھا‘‘۔
معاشی مساوات کے علاوہ بھی کئی اور ستون تھے جیسے آزادانہ مقابلے کا ماحول، ہنر مند کاریگروں کی بڑی تعداد جو اپنے کام پر فخر کرتے تھے اور دیہی زندگی جو لوگوں کو زیادہ خود مختار بناتی تھی۔ یہ تمام چیزیں اور ان جیسے نہ جانے کتنے ہی عوامل مل کر امریکی جمہوریت کوایک حقیقت بناتے تھے لیکن آج ان میں سے زیادہ تر موجود نہیں ہیں۔ زمین محدود ہوچکی ہے، دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہے اور صنعتی دور نے فرد کی خود مختاری کو بہت کم کردیا ہے۔ سوچیں ایک ایسی دنیا میں جہاں مسابقت کی آزادی ہی نہ رہے جہاں سب کو برابر کے مواقع نہ ملیںایسی دنیا میں جمہوریت کیا ہوگی؟ صرف ایک خواب، ایک خیال۔ ڈیورنٹ کا کہنا ہے کہ جمہوریت جس زرخیز زمین پر اْگی تھی وہ زمین اب بنجر ہوچکی ہے؛ یعنی وہ شرائط جن کی وجہ سے جمہوریت پنپ سکی جیسے قومی تنہائی، ہنر مند محنت کی قدر اور مفت زمین کی دستیابی۔ یہ سب چیزیں اب ماضی کا قصہ بن چکی ہیں۔
ڈیورنٹ جمہوریت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ معیشت کی بدلتی ہوئی شکل کو قراردیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب معیشت کی جان تھے ہنر مند مزدور، آزاد مقابلہ اور وہ چھوٹاخود مختار دکاندار جو اپنا مالک خود تھا لیکن آج کی حقیقت کیا ہے؟ ہنر مند محنت کی جگہ ایک بے جان روٹین نے، مقابلے کی جگہ بڑی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری نے اور چھوٹے دکانداروں کی جگہ بڑے بڑے چین اسٹورز نے لے لی ہے۔ یہ دراصل خودمختاری سے غلامی کا سفر ہے۔ اس ساری صورتحال کو ڈیورنٹ ایک طاقتور جملے میں سمیٹتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’ہر چیز زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے‘‘ یعنی معاشی آزادی اور انفرادی اختیاراب نہیں رہا اور جب معاشی آزادی نہیں رہتی تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ ایک نئی قسم کی اشرافیہ پیدا ہوتی ہے، چند گنے چنے ایگزیکٹوز اور بینکرز جن کا کنٹرول کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا جاتا ہے ایسے میں سیاسی برابری کا دعویٰ کتنا کھو کھلا ہو جاتا ہے۔
یہ بات ہمیں ایک بہت گہرے فلسفیانہ تضاد کی طرف لاتی ہے۔ سب آزادی بھی چاہتے ہیں اور مساوات بھی لیکن کیا یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن ہیں؟ شاید نہیں۔ اور یہی مساوات کا سب سے بڑا فریب ہے۔ عام طور پر مساوات کو ایک مستقل حالت اور منزل سمجھا جاتا ہے لیکن ڈیورنٹ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے ان کے نزدیک مساوات صرف ایک غیر مستقل رشتہ ہے۔ دو درجہ بندیوں کے درمیان صرف ایک عبوری دور ہے۔ یہ بس ایک عارضی پڑائو ہے۔ اور یہیں وہ تضاد سامنے آتا ہے جس سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔ انسان صرف اسی وقت آزاد ہوسکتے ہیں جب وہ برابر ہوں۔ آزادی کے لیے برابری ضروری ہے اس کے باوجود ان کی مساوات ان کی آزادی ہی سے تباہ ہوجاتی ہے؛ یعنی جب لوگوں کو آزادی ملتی ہے تو وہ اپنی صلاحیت کو استعمال کرکے ایک دوسرے سے آگے نکل جاتے ہیں جس سے عدم مساوات پیدا ہوتی ہے۔ یہ عدم مساوات آزادی کو کھا جاتی ہے۔ بابا الف
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 55
Like this:
Like Loading...