Skip to content
ظریفانہ:اب کی بار گیانیش سرکار
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن بھٹاچاریہ سے کلن بنرجی نے پوچھا کیوں دادا ووٹ دیا کہ نہیں ؟
کیسا سوال کرتے ہو ؟ ووٹ نہیں دیں گے تو اور کیا دیں گے؟
کیا مطلب کچھ اور نہیں ہے دینے کے لیے؟
جی ہاں مرکزی حکومت نے پچھلے پندرہ سال سے پریشان کررکھا ہے ۔ کوئی روزی نہ روزگار اوپر سے مہنگائی کی مار ۔ آخر کریں تو کریں کیا ؟
کلن بولا ہاں بھیا خود ہمارا اپنا جی ایس ٹی بھی نہیں آتا اس لیے میں نے سوچا کہ اس بار بی جے پی کو ہی کامیاب کردیا جائے ۔
چلو اچھا ہوا ۔ میں تو پچھلے پندہ سال سے تمہیں سمجھا رہا تھا خیر اب تمہاری سمجھ میں آگیا’دیر آید درست آید‘۔
ہاں بھائی کیا کریں پرانے کانگریسی ہیں ، اشتراکی راج میں بھی کبھی لال سلام نہیں کیا ۔ ترنمول آئی تو اس کے ساتھ ہولیے مگراب ہار گئے۔
للن بولا لیکن بھیا تمہارے یہاں کمل پر پٹی تو نہیں بندھی تھی۔ سنا ہے کچھ مقامات پر کمل کو ٹیپ سے ڈھانپ دیا گیا تھا ؟
لیکن بھائی پٹی بندھی ہو یا پٹاّکمل سے اپنا کیا لینا دینا؟
کیا بکواس کرتے ہو کمل سے نہیں تو پنجے یا پتوں پر مہر لگا کر آئے ہوکیا؟
نہیں بھائی بتایا نا اس بار بی جے پی کو کامیاب کرنے کا من بنا لیا تو ۰۰۰۰۰۰۰
وہی تو پوچھ رہا ہوں ، بی جے پی کو کامیاب کرنے کے لیے کس نشان پر مہر لگا کر آگئے؟
مچھلی کے نشان پر اور کس پر ؟
مچھلی کا نشان یہ کہاں سے آگیا ؟ ارے بھائی ہماری پارٹی کا نشان تو کمل ہے ۔
کیا بکتے ہو۔ میں تو اپنی امیدوار بھانو شری گپتا کو پچھلے ایک ہفتے سے مچھلی لے کر گھومتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ کمل تو اس کے ہاتھ میں کبھی نظر نہیں آیا۔
ارے پاگل واگل ہو کیا؟ کمل تو ہمارے دل میں رہتا ہے ۔ وہ ہماری رگوں میں دوڑتا ہے ۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ؟
دیکھو بھائی للن میں نہ تو بھانو شری کے دل میں جھانک کر دیکھ سکتا ہوں اور نہ اس کی رگوں میں دوڑسکتا ہوں ۔ مجھے تو اس کے ہاتھ میں جو دِکھا اسی پر ۰۰۰
اس گفتگو کو سن کر بغل میں بیٹھا جمن بول پڑا۔ ارے للن بابو کیا آپ نہیں جانتے اپناچمن سیٹھ اس بار آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہا ہے؟
کون وہ بنگلہ دیشی سیٹھ ؟ اس کو الیکشن لڑنے کی کیا سوجھی؟ وہ تو دن رات نوٹ گنتا ہے اوربی جے پی سمیت ساری پارٹیوں کو بانٹتا ہے۔
جی ہاں وہی چمن سیٹھ اور اس کا انتخابی نشان مچھلی ہے ۔
کلن چونک کر بولا کیا بکتے ہو ؟ تم یہ تو نہیں کہنا چاہتے کہ میں نے چمن سیٹھ کو ووٹ دے دیا؟؟
جمن بولا بھیا یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ تم خود یہی کہہ رہے ہو۔
کلن سینہ ٹھونک کر بولا میں نے تو بھائی بھانو شری گپتا کی مچھلی کو اپنا قیمتی ووٹ دیا۔
للن نے بگڑ کر کہا ارے بیوقوف بھانو شری کا کا نشان تو کمل کا پھول ہے اور تو مچھلی پر مہر لگا کر آگیا تو تیرا ووٹ چمن سیٹھ کو نہیں گیا تو کس کو گیا؟
کلن بولا اچھا لیکن چمن سیٹھ تو میرے گاوں والا ہے۔ میں اسے بچپن سے جانتا ہوں وہ الیکشن کے جھنجھٹ میں پڑ ہی نہیں سکتا۔
جمن بولا للن تو کہہ رہا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ وہ تمہارے گاوں والا ہے تو تم میں سے کون جھوٹ بول رہا ہے؟
کلن نے کہا بھیا دونوں سچ بول رہے ہیں ۔ وہ میرے گاوں والا ہے اور ہمارا گاوں اب بنگلہ دیش میں ہے ۔
جمن نے سوال کیا اچھا تو اگر وہ گھس پیٹھیا ہے تو تم بھی بھی درانداز ہوگئے ۔
کلن بگڑ کر بولا میرے والدین آزادی سے پہلے یہاں آگئے تھے تو میں گھس پیٹھیا کیسے ہو گیا ؟
جمن نے پوچھا اور چمن کے ماں باپ؟
وہ بھی میرے والدین کے ساتھ آگئے تھے ۔
جمن نے نے للن سے پوچھا بھیا اب بتاو تم کیا کہتے ہو؟ یاتو دونوں غیر ملکی یا دونوں ہم وطن ۔ ایک دیسی اور دوسرا پردیسی کیسے ہوسکتاہے؟
للن پھنس گیا تو وہ بات بدلنے کے لیے بولا بھائی کلن کیا تم جاننا چاہتے ہو کہ تمہارا بچپن کا یار الیکشن کے بازار میں کیسے کود پڑا؟
کلن بولا ہاں بھیا مجھے بتاو کیونکہ میرے لیے اس گتھی کو سلجھانا ناممکن ہے۔
بھائی دیکھو یہ ہماری پارٹی کے چانکیہ کا کمال ہے۔ اس نے خود چمن سیٹھ کو الیکشن لڑنے کی ترغیب بلکہ دھمکی دی ۔ کیا سمجھے ؟
اپنے چانکیہ کا چمن سیٹھ سے کیا لینا دینا ؟ اب تو بات اور بھی الجھ گئی ۔
میں کہہ تو چکا ہوں کہ وہ بنگلہ دیش سے روہو مچھلی درآمد کرکے بیچتا ہے اور اپنے دھندے کے لیے بی جے پی سمیت ساری پارٹیوں کو چندہ دیتا ہے۔
کلن نے پوچھا تو کیا چندے کے لین دین نے اس کو ہمارا دوست بنادیا مگر پھر بھی ہمیں اس کو الیکشن لڑنے کی ترغیب دینے کی کیا ضرورت؟
ارے بھائی مخالفین کے ووٹ کٹوانے کے لیے آزاد امیدوار کھڑے کرنا عام بات ہے۔ وہ ترنمول کے مسلم ووٹ کو کاٹے گا تاکہ ہم لوگ جیت جائیں۔
کلن بولا تب تو میرا اس کو ووٹ دینا اپنے ہی خلاف ہوگیا۔
جمن نے سوال کیا۔ بھائی یہ بتاو کہ ترغیب والی بات تو سمجھ میں آتی مگر دھمکی کا معاملہ سمجھ میں نہیں آیا۔
ارے بھیا اس کا جواب کلن سے پوچھو کیوں بھائی اس کو بتاو کہ وہ مچھلی درآمد کی آڑ میں دوسرا کون سا کاروبار کرتا ہے؟
کلن نے کہا بھیا وہ گائے کی بنگلہ دیش میں برآمد یعنی اسمگلنگ بھی کرتا ہے۔ اسی میں وہ خوب کماتا ہے۔
جمن نے کہا یار گئوماتا کے اسمگلر سے تعلقات کا کیا مطلب ؟
للن بولا بھائی تم سدھانشو تریویدی کو جانتے ہو۔ ان کے مطابق متھن گائے ماتا نہیں ہے۔ اس لیے جمن صرف متھن گائے کو اسمگل کرتا ہے ۔
جمن نے قہقہہ لگا کر بولا یہ اچھا ہے جس گائے کو کھانا ہو اسے متھن کہہ دو لیکن جو غیر متھن گائے ہندوستان میں بچ جاتی ہے ان کا کیا ہوتا ہے۔
کلن بولا بھیا وہ گئو آشرم میں بھیج دی جاتی ہیں ۔
جمن بولا جی ہاں میں نے ویڈیو دیکھی تھی گئو آشرم کے منتظم ان کا چارہ خود کھالیتے ہیں اور وہ بھوکے مر جاتی ہیں۔
کلن نے کہا ہاں بھیا شنکر آچاریہ اوی مکتیشور آنندسرسوتی تو انہیں بھینس برآمد کرنے کے لیے کھولے گئے مذبح خانوں میں بھیجنے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
للن بولا وہ شنکراچاریہ کانگریسی دلال اور ہمارا دشمن ہے۔ وہ نقلی شنکرا چاریہ ہے ہم اس کی کوئی بات نہیں مانتے ۔
کلن بگڑ کر بولا بکواس نہ کرو۔ میں ان کا شاگرد ہوں ۔ یہ کیا بات ہے کہ سوامی جی کی کوئی بات اپنے خلاف ہوتو انہیں نقلی شنکر اچاریہ کہہ دیا جائے ۔
جمن بولا تب تو اچھا ہی ہوا جو تم نےکمل کے بجائے مچھلی پر مہر لگایا کیونکہ چمن سیٹھ نے شنکر اچاریہ کو کبھی بھی برا بھلا نہیں کہا۔
ہاں مگر چمن سیٹھ اتنا چالاک ہوگا یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔
للن نے پوچھا کہنا کیا چاہتے ہو ؟ میں نہیں سمجھا۔
کلن بولاارے بھائی اس نے نہ صرف بھانو شری گپتا کو مچھلی پکڑائی بلکہ منوج تیواری اور انوراگ ٹھاکر کو مچھلی کھلا کر ان کی ویڈیو بنائی اور وائرل کردی۔
للن نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا یار میں تو سمجھ رہا تھا کہ ہم نے چمن کو استعمال کیا ہے مگر اس نے تو ہمیں کو چونا لگا دیا ؟
جمن نے چھیڑتے ہوئے کہا یار تم لوگ تو سبزی خور ہو پھر ایک برہمن منوج تیواری کو مچھلی کھاتے ہوئے شرم نہیں آئی۔
للن بولا زیادہ ہوشیار نہ بنو ۔منوج نے بتایا چونکہ انہوں نے پیاز کے بغیر مچھلی کھائی اس لیے وہ سبزی ہی نہیں شکتی پرساد ہے۔
جمن کو مزہ آنے لگا تھا ۔ وہ بولا تب تو۴؍ مئی کو الیکشن جیتنے بعد اس پرساد کا پردھان جی اورچانکیہ جی بھی سیون کریں گے۔
کلن بولا کیوں نہیں ۔ بنگال پر اگر حکومت کرنی ہے تو’ ماچھی بھات ‘کھانا ہی پڑھے گا ورنہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوجائے گا۔
للن نے کہا یار ایسے فریب تو ہم ہمیشہ دیتے رہے ہیں اور پچھلے بارہ سالوں سے تو یہ کاروبار عروج پر ہے۔ ہمیں اس سے ڈر نہیں لگتا ۔
جمن نے پوچھا کہیں تم یہ توکہنا نہیں چاہتے کہ شمال مشرق میں اقتدار کی خاطر بیف بھی کھایا جائے گا؟
للن نے جواب دیا ۔جی ہاں لیکن وہ بیف گئو ماتا کا نہیں بلکہ متھن گائے کا ہوگا۔
کلن بولا یار تمہاری اس بات نے میرے افسوس کو خوشی میں بد ل دیا۔
للن نے سوال کیا یار یہ ’کبھی خوشی کبھی غم والا ‘ معاملہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔
جمن نے کہا میں سمجھاتا ہوں یہ کہناچاہتا ہے کہ پہلے کمل پر نشان نہیں لگنے کا افسوس تھا مگر اب وہ غم خوشی میں بدل گیا ہے ۔
للن نے پوچھا کیوں کلن ؟ کیا تم بھانو شری کے بجائے چمن کو ووٹ دے کر خوش ہو؟
کلن بولا کیوں نہیں میرا بچپن کا دوست تم اور تمہاری پارٹی کی مانندمنا فق نہیں ۔
للن بولا زیادہ منہ نہ چلاو ہمیں تم جیسے احسان فراموش ووٹر کی ضرورت نہیں ہماری کامیابی کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانش کمار کافی ہے۔
جمن بولا یہ اچھا ہے میں نے کہیں پڑھا تھا ۔ ’اب کی بار گیانیش سرکار۔ چلو چلتے ہیں۔
Post Views: 84
Like this:
Like Loading...