Skip to content
جمعہ نامہ:
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ وہ لوگ آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ (اللہ کو خوش کرنے کے لیے) کیا خرچ کریں؟آپ ان سے کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین ، قریبی رشتہ دار ، یتامیٰ ، مساکین اور مسافروں کے لیے ہونا چاہیے اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو اللہ اس کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہے‘‘۔ رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر صرف ذکر و اذکار کافی نہیں بلکہ انفاق فی سبیل اللہ بھی ضروری ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے۰۰۰‘‘مال کی محبت کے باوجود اپنا من پسند سرمایہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کسی پر احسان نہیں جتاتے کیونکہ وہ توان کا حق اداکرتے ہیں ۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’ تم قریبی رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو ۔ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں‘‘۔
بندۂ مومن کسی انسان سے کوئی توقع نہیں کرتا ۔ وہ تو صرف اور صرف خوشنودیٔ رب چاہتا ہے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’اور اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کاطویل ترین دن ہو گا‘‘۔ مومنین کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ:’’ جو لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال اس دانے کی سی ہے جس نے سات خوشے اگائے، جس کے ہر خوشے میں سو دانے ہیں، اور اللہ جس کو چاہتاہے مزید عطا فرماتا ہے، اللہ وسعت وعلم والا ہے‘‘۔قرآن حکیم میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ :’’جو ایک نیکی کرے اس کے لیے دس نیکیوں کے مثل ثواب ہے، اور جو ایک گناہ کرے اس کو ایک ہی گناہ کی سزا دی جائے گی، اور اس پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘۔ اسی لیے مومن بندے مساکین کی حق تلفی سے اجتناب کرکے اللہ کی ناراضی اورخود دوزخ کا ایندھن بننے سے بچاتے ہیں ۔ ارشادِ ربانی ہے:’’(جنتی ؛ جہنمیوں سے پوچھیں گے)تمہارے کس عمل نے تمہیں دوزخ میں ڈالا؟ وہ کہیں گے کہ ہم نمازی نہیں تھےاور مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے‘‘ ۔
پچھلے دنوں اڑیشہ کے اندر ایک دہل دہلانے والے واقعہ پیش آیا۔ وہاں پر دین دیا ل ضلع میں 56 سالہ کالرا منڈل اور اس کا 52 برس کا بھائی جیتو منڈل رہتے تھے ۔ وہ دونوں محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ کالرا منڈل کے پاس ایک بچھڑا تھا۔ اسےفروخت کرکے جو 19300 ؍ روپئے حاصل ہوئے وہ گرامن بنک میں رکھ دئیے اور آگے چل کر اس کا انتقال ہوگیا۔ کالرا کی موت کے بعد اس کا بھائی بنک میں اپنی بہن کی رقم لینے پہنچا تو بنک والوں نے موت کا ثبوت مانگا۔ وہ غریب دو مہینہ دھکے کھاتا رہا مگر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ ڈبل انجن سرکار میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتااور وہ بیچارہ اسے نہیں دے سکا۔بلآخر زچ ہوکر اس نےاپنے بہن کی لاش قبر سے نکالی اور تین کلومیٹر دور بنک میں ثبوت کے طور پر لے آیا۔ بنک والے مان گئے اور اس کو لاش قبر میں ڈالنے کے لیے واپس بھیج دیا۔ گرمی کی چلچلاتی دھوپ میں وہ پھر سے تین کلومیٹر پیدل سمشان بھومی میں آیا اور لاش دفن کردی ۔ اس پورے راستے میں اس کے لیے کوئی گاڑی نہیں رکی۔ کوئی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔ بنک والوں نے کسی ایمبولنس کا انتظام نہیں کیا۔ ان میں سے کسی نے ندامت کا اظہار نہیں کیا اور نہ کسی پر کوئی کارروائی ہوئی ۔ اس اندوہناک واقعہ نےنام نہاد ترقی یافتہ اور مہذب سماج کو پوری طرح برہنہ کرکے رکھ دیا۔ ہمارے ملک کے لوگ اور انتظامیہ کس قدر سنگدل ہوچکا ہے اس کو کھول کر دنیا کے سامنے پیش کرکے ہندوستان کو جہنم کا گھڑا کہنے والے ٹرمپ کو سچا ثابت کردیا۔
فی زمانہ غرباء کی تحقیر کی جاتی ہے۔ انہیں کے ووٹ سے جیتنے والے سیاسی رہنما غریبوں کے ٹیکس کے دولت پر ہیلی کاپٹر میں اڑتے پھرتے ہیں۔ سماج میں مساکین کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہےجبکہ رسول اللہ (ﷺ) دعا فرماتے : ’’اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اُٹھانا اورقیامت کے دن مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرمانا‘‘۔اپنی زوجہ حضرتِ عائشہؓ کو ترغیب فرماتے :’’مساکین سے محبت کرو اور ان کے قریب رہو اس کی وجہ سے اللہ تمہیں قیامت والےدن اپنے قرب سے نوازیں گے‘‘۔ ایک عملی مثال دے کر آپؐ نے فرمایا:’’بدتر دعوت ولیمہ وہ ہے جس میں صرف مال دار لوگوں کو بلایا جائے اور مساکین کو نہ بلایا جائے ‘‘۔ جہاں تک ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کا سوال ہےہ حضرت عمرؓ کا یہ واقعہ دیکھیے۔ ایک مرتبہ خلیفۃ المسلمین کا گزر ایک ایسے دروازے کے سامنے سے ہوا جہاں ایک نابینا بوڑھا آدمی بھیک مانگ رہا تھا۔ آپؓ کے پوچھنے پراُس نے کہا کہ میں یہودی ہوں اور جزیہ کی وجہ سے اس بڑھاپے میں بھیک مانگ رہا ہوں۔ حضرت عمرؓ اُسے اپنے گھر لے گئے اور کچھ چیزیں اُسے عطیہ کیں۔ پھر بیت المال سے اُس کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔ آپؓ نے اُس کا اور اُس جیسے دوسرے افراد کا جزیہ بھی معاف فرمادیا۔ گاندھی جی نے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آزادی کے بعد ہمیں عمر ؓجیسی طرزِ حکمرانی درکار ہے ۔کسی غریب کی مدد کے لیے انسان کا امیر کبیر ہونا ضروری نہیں ۔ علامہ اقبال کی نظم ہمدردی میں غمزدہ بلبل سےایک معمولی جگنو کہتا ہے؎
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے،کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جو کام دوسروں کے
Post Views: 89
Like this:
Like Loading...