Skip to content
بچوں کے لئے دینی تعلیم کا اہمیت!
شمع فروزاں
2026.05.01
ازقلم: مولانا خالد سیف الله رحمانی
انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے ، اسی لئے ہر شخص سچائی ، انصاف ، دیانت داری ، مروت اور شرم و حیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ ، ظلم ، خیانت ، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتا ہے ، یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے اوربعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ، انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے ؛ لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ، یہ دراصل فطرت کی آواز ہے ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیدا ہوتا ہے ، یعنی خدا کی فرمانبرداری کے مزاج پر پیدا کیا جاتا ہے ؛ لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں : کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ ، او ینصرانہ او یمجسانہ(مسند احمد ، حدیث نمبر : ۷۱۸۱) لیکن خارجی حالات کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے ، اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے ، ظلم و ناانصافی ، بے حیائی و بے شرمی ، کبر وغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے ، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ہے ؛ بلکہ خارجی عوامل کی وجہ سے پیدا ہونے والا انحراف ہے !
جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ، وہ بنیادی طورپر دو ہیں : ایک : ماحول ، دوسرے : تعلیم ، تعلیم کا مطلب تو واضح ہے ، ماحول کے اصل معنی گرد و پیش کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ، فکر و نظر اور عملی زندگی میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، پانی کی اصل فطرت ٹھنڈا ہونا ہے ، وہ نہ صرف خود ٹھنڈا ہوتا ہے ؛ بلکہ دوسرے کو بھی ٹھنڈک پہنچاتا ہے ؛ لیکن جب سخت گرمی اور تپش کا موقع ہوتا ہے اور دُھوپ کی تمازت بڑھی ہوئی ہوتی ہے تو پانی بھی گرم ہوجاتا ہے اور پینے والوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی ، اسی طرح انسان پر اس کے ماحول کا اثر پڑتا ہے ۔
اگر اس کو نیک ، شریف ، با اخلاق لوگوں کا ماحول میسر آجاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہوجاتی ہیں ، اس کی مثال ایسی ہے ، جیسے پانی میں برف ڈال دیا جائے کہ اس سے اس کی ٹھنڈک اور بڑھ جاتی ہے اور یہ پانی پیاسوں کے لئے اکسیر بن جاتا ہے ، اگر اس کو غلط ماحول ملے تو اس کے اندر جو خوبیاں تھیں وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں ، اس کی مثال اس صاف شفاف پانی کی ہے ، جس کے اندر کسی نے گندگی ڈال دی ہو ۔
رسول اللہ ﷺ نے ماحول کی اہمیت اور اس کے اثرات کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے ، آپ ﷺنے فرمایا نیک آدمی کی مثال اس شخص کی ہے جو مشک رکھے ہوا ہو ، اگر تم کو اس سے مشک نہ مل سکے تو خوشبو تو مل جائے گی ، اور خراب آدمی کی دوستی و ہم نشینی کی مثال بھٹی دُھونکنے والے کی ہے ، اگر تمہارا کپڑا نہ جلے تو کم سے کم اس کے دُھوئیں سے نہ بچ سکوگے ، (بخاری ، باب المناسک ، حدیث نمبر : ۵۵۳۴ ، مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزہد ، حدیث نمبر : ۳۴۸۱۹) ماحول کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن و حدیث میں اس کی خاص طورپر تاکید کی گئی ہے کہ انسان اچھے ماحول میں رہے اور خراب ماحول سے اپنے آپ کو بچائے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم راست گو اور راست عمل لوگوں کے ساتھ رہا کرو : کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْن (التوبۃ : ۱۱۹)
مدینہ تشریف لانے کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے تمام مسلمانوں پر یہ بات واجب قرار دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آکر مقیم ہوجائیں ؛ چنانچہ جزیرۃ العرب کے طول و عرض سے صحابہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے ، ہجرت کرنے والوں کی تعداد چند سو تھی ؛ لیکن فتح مکہ کے موقع کے سے جو لوگ آپ کے ہم رکاب تھے ، ان کی تعداد دس ہزار تھی ، اور ظاہر ہے کہ فتح مکہ کی مہم میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ مدینہ بالکل خالی ہوجائے ، بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کے علاوہ بہت سے جوان بھی مدینہ میں موجود رہے ہوں گے ؛ تاکہ مدینہ کا تحفظ خطرہ میں نہ پڑجائے ، ان میں بیشتر لوگ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے ، ہجرت کے حکم کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگوں کو ایک معیاری دینی ماحول ملے ، جو وہ لوگوں کو دیکھ کر دین کو سیکھ سکیں اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بن سکیں ، یہ ماحول ہی کا اثر تھا کہ جو لوگ ظلم و جور ، قتل و قتال ، بے حیائی و بے شرمی اور شراب و کباب کے لئے مشہور تھے ، انھوںنے ایک ایسی بلند پایہ سوسائٹی کا نقشہ چھوڑا کہ انبیاء کرام کے سوا زمین کے سینے پر اور آسمان کے سائے میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ، یہ رسول اللہ ﷺکی بافیض صحبت اور ماحول کا اثر تھا ۔
آپ ﷺنے مختلف طریقوں پر ماحول سازی کا حکم دیا ہے ، جیساکہ گذرا ، آپ نے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھروں میں پڑھو ، یہ افضل طریقہ ہے : … فصلوا أیھا الناس فی بیویکم فإن افضل صلاۃ المرء فی بیتہ الا الصلاۃ المکتوبۃ(بخاری ، کتاب الاعتصام ، باب مایکرہ من کثرۃ السوال ، حدیث نمبر : ۷۲۹۰)حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے آپ ﷺکا ارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو ، اس کو قبرستان نہ بناؤ : اجعلوا من صلا تکم فی بیوتکم ولا تتخذوھا قبوراً (مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ ، حدیث نمبر : ۷۷۷) فقہاء نے بھی یہ بات لکھی ہے کہ فرض نمازوں کے پہلے اوربعد میں جو سنن مؤکدہ ہیں ، انھیں گھر میں ادا کریں : والأفضل فی السنن القبلۃ والبعدیۃ اداؤھا فی المنزل(حاشیۃ الطحطاوی ، فصل فی بیان النوافل : ۱؍۳۰) — غور کیجئے کہ مسجد سے زیادہ پاکیزہ جگہ کونسی ہوسکتی ہے اور نماز جیسی عبادت کے لئے کونسا مقام ہے جو اس سے زیادہ موزوں ہو ؛ لیکن اس کے باوجود رسول اللہ ﷺنے سنن و نوافل کو گھر میں پڑھنے کا حکم دیا ، بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول دینی بنے گا ، بچے جب اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اکثر وہ ان کی نقل کرنے لگتے ہیں اور نماز کی اہمیت ان کے تحت الشعور میں بیٹھ جاتی ہے ۔
اسی طرح آپ ﷺنے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص طورپر ترغیب دی ہے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ؛ بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو ، خاص کر سورۂ بقرہ کی ، کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے ، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے : لا تجعلوا بیوتکم مقابر ، إن الشیطان ینفر من البیت الذی تقرأ فیہ سورۃ البقرۃ(مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ ، حدیث نمبر : ۷۸۰ )— گھر میں تلاوت ِقرآن ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت مؤثر ہوتا ہے ، گھر کے بچوں کے ذہن میں بھی یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئے ، اسی طرح آپ ﷺنے گھر میں ذکر کرنے کی فضیلت بیان کی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اورجس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا ہے ، ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص کی ہے : مثل البیت الذی یذکر اﷲ فیہ ، والبیت الذی لا یذکر اﷲ فیہ ، مثل الحی والمیت(مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب استحباب صلاۃ النافلہ فی بیتہ الخ ، حدیث نمبر : ۷۷۹۲)
اسی طرح اس بات کو بھی بہتر قرار دیا گیا ہے کہ گھر میں کوئی جگہ نماز کے لئے مخصوص کرلی جائے ، اگر گھر میں نماز پڑھنی ہوتو وہیں نماز پڑھی جائے ، اس کو حدیث و فقہ کی کتابوں میں ’ مسجد البیت ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، ماحول کو بگاڑ سے بچانے کی تدبیر کے طورپر شریعت کے اس حکم کو دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے مکان یا زمین کے پڑوس میں مکان یا زمین فروخت کی جائے تو پڑوسی کو اس میں حق شفعہ حاصل ہوتا ہے ، اگر پڑوسی وہی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو ، جو قیمت دوسرا دے رہا ہے تو اس کو اس پڑوسی کے ہاتھ ہی بیچنا واجب ہے ، آپ ﷺ نے اس کی ہدایت فرمائی : الجار أحق بشفعتہ جارہ ینتظر بھا الخ(سنن ابی داود ، کتاب البیوع ، باب فی الشفعۃ ، حدیث نمبر : ۳۵۱۸ )
ماحول کا اثر یوں تو ہر سن و سال کے لوگوں پر پڑتا ہے ؛ لیکن بچوں پر اس کا اثر زیادہہوتا ہے ، انسان کے جسم میں سب سے پہلے دماغ کی نشوو نما ہوتی ہے اور دماغ کی ترقی کا مرحلہ تیز رفتاری کے ساتھ طے پاتا ہے ؛ اسی لئے بچوں میں کسی بات کے اخذ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے ، وہ بولنے والوں سے الفاظ سیکھتا ہے ، چلنے والوں سے چلنے کا انداز سیکھتا ہے ، اپنے بڑوں سے اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے طریقے سیکھتا ہے ، گانے سن کر گنگناتا ہے ، گالیاں سن کر گالیاں ہی اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں اور اگر اچھی باتیں سنے تو ان کو دُوہراتا ہے ، ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو رُکوع و سجدے کی نقل کرتا ہے ، مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو مسجد جانے کی کوشش کرتا ہے ، لڑکے اپنے والد کے سر پر ٹوپی دیکھ کر ٹوپی پہننا چاہتے ہیں اور لڑکیاں اپنی ماں کے سر پر اسکارف اور جسم پر برقعہ دیکھ کر اسکارف اور برقعہ پہننا چاہتی ہیں ، غرض کہ اس کا ذہن تیزی سے ماحول میں پیش آنے والی چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔
موجودہ حالات میں صورتِ حال یہ ہے کہ بچہ صبح سات بجے اسکول جانے کی تیاری کرتا ہے اور شام پانچ بجے یا اس کے بعد گھر واپس آتا ہے ، جانے سے پہلے کا وقت سونے اورتیاری کرنے میں گذرجاتا ہے ، واپسی کے بعد بھی مغرب تک کا وقت کھیل کود وغیرہ میں ، گویا ان کا پورا دن اسکول کے ماحول میں گذرتا ہے ، مغرب کے تین ساڑھے تین گھنٹے کے بعد بچے سوجاتے ہیں ؛ کیوں کہ ان کے عمر کے لحاظ سے انھیں آٹھ گھنٹہ سونا چاہئے ، اس تین چار گھنٹے میں انھیں اسکول کا ہوم ورک بھی کرنا ہے اور کھانا پینا بھی ہے ؛ اس لئے بہت کم وقت ایسا بچتا ہے ، جس میں وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بیٹھیں ، کچھ وقت مغرب کے بعد اور کچھ وقت فجر کے بعد ، عمومی صورت حال یہ ہے کہ والد آفس اور کاروبار سے اتنی دیر سے آتے ہیں کہ بچے نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں ، ماں کھانا پکانے اور اگر خدانخواستہ ٹی وی دیکھنے کا شوق ہوتو ٹی وی دیکھنے میں اپنا وقت گذاردیتی ہیں ، اکثر بچوں کے لئے ماں باپ کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔
اسکول کا ماحول یہ ہے کہ اگر عیسائی مشنری اسکولوں میں گئے تو وہ صبح سے شام تک عیسائی طور طریقوں کو برتتے ہوئے دیکھتے ہیں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر اس طرح آویزاں ہوتی ہے کہ گویا وہ خدا ہیں اور بندوں پر اپنا دست کرم رکھ رہے ہیں ، ہندو انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں داخل ہوئے تو وہاں مورتیاں ہیں ، وندے ماترم کا مشرکانہ ترانہ ہے ، ہندو تہوار منائے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ بچوں پر ہندو آئیڈیا لوجی نقش ہوکر رہ جائے ، مسلم انتظامیہ کے تحت جو اسکول ہیں ان میں معیار ِتعلیم کے پست ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا فقدان ہے ، مخلوط تعلیم کا نظام ہر جگہ ہے ، یونیفارم شرم و حیا کے تقاضا سے آزاد ہے ، کلچرل پروگرام کے نام پر بے ہودہ ڈرامہ کرایا جاتا ہے اور لڑکیاں رقص کرتی ہیں ، چند ہی مسلم ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں اور وہ بہر حال قابل تحسین اور لائق تشکر ہیں ۔
ان حالات میں ماں باپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائیں ، چھٹی کے اوقات اور بچوں کی تعطیل کے ایام اپنے بچوں کے ساتھ گذاریں ، ان اوقات میں انھیں ضروری دینی باتیں سکھائیں اور سمجھائیں ، نماز اور تلاوت ِقرآن کا ماحول بنائیں ، گھر کی خواتین ڈھکا چھپا باپردہ لباس پہنیں ، گھر کے بڑے مرد و عورت آپسی گفتگو میں تہذیب و شائستگی اور باہمی ادب و احترام کا لحاظ رکھیں ، زبان کی حفاظت کریں اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں جس میں بچوں سے تربیت کی باتیں کہی جاسکتی ہوں ، موجودہ حالات میں اگر ہم نے بچوں کو دین و اخلاق سے ہم آہنگ ماحول فراہم نہیں کیا تو آئندہ نسل کے لئے بڑا خطرہ ہے ؛ کیوںکہ ہمارا تعلیمی نظام بھی دین و اخلاق سے بیگانہ ہے اور تعلیم گاہ کا ماحول بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے ، ان حالات میں اگر والدین نے بچوں کو مناسب ماحول فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی تو یہ بچوں کے ساتھ یقیناً بڑا ظلم ہے اور ان کے والدین وسرپرست عند اللہ جواب دہ ہیں ۔
Post Views: 47
Like this:
Like Loading...