Skip to content
قربانی کی حقیقت اور ہماری ترجیحات کا بحران
خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
________________________________
عید الاضحیٰ اللہ ربّ العزت کی ایک عظیم عبادت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و قربانی کی یادگار ہے جو ہر سال اہل ایمان کو ایثار اخلاص اور تقویٰ کا درس دیتی ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب مسلمان اللہ ربّ العزت کے حکم پر اپنے مال کو اس کی راہ میں خرچ کر کے اپنی بندگی اور وفاداری کا عملی اظہار کرتے ہیں۔
مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس عظیم عبادت کی روح کہیں نہ کہیں دھندلا سی گئی ہے اور اخلاص کی جگہ نمود و نمائش اور تقویٰ کی جگہ رسم و رواج نے لے لی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم قربانی کے اصل مقصد کو سمجھ سکیں اور اسے صحیح معنوں میں ادا کر سکیں۔
عید الاضحیٰ کے موقعہ پر سب کو معلوم ہے کہ اہلِ اسلام کی طرف سے قربانی کا عمل انجام دیا جاتا ہے جس میں الحمد للہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے اور اس بابرکت عمل کو انجام دیتی ہے جو کہ بڑی سعادت کی بات ہے۔
لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ کسی بھی بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے عمل کے بارگاہ الہی میں قبول ہونے کے لیے اخلاص نیت شرط ہے اخلاص نیت کے بغیر بارگاہ الہی میں کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا قربانی کا عمل بھی اس میں داخل ہے جس میں اخلاص کا پایا جانا بےحد ضروری ہے۔
مگر آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ قربانی کے عمل میں ریاکاری اور شہرت کی آمیزش کر کے موٹی رقم خرچ کرنے کے باوجود اس بابرکت عمل کے ثواب اور اصل فضیلت سے اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔
چنانچہ آج کل بہت سے لوگ قربانی کے لیے ایسے جانور کا انتخاب کرتے ہیں کہ جس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے یہاں تک کہ ایک قربانی کے جانور پر کئی کئی لاکھ روپے خرچ کر دیتے ہیں۔
اولا تو قربانی کے عمل میں بلا وجہ اتنا تکلف اختیار کرنے کی ضرورت کیا ہے بالخصوص جب کہ اس قسم کے تکلف اکثر وہ لوگ اختیار کرتے ہیں کہ جو زکاۃ وصدقات وغیرہ کی ادائیگی کا اتنا اہتمام نہیں کرتے دوسرے عام طور پر اس طرز عمل میں ریا کاری اور شہرت کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اتنے مہنگے اور قیمتی جانور خاموشی کے ساتھ قربان کرنے کے بجائے پہلے ان جانوروں کی خوب نمائش کی جاتی ہے عوامی گزرگاہوں اور مقامات پر ان کی نمائش کی جاتی ہے اور پھر قربانی کے موقع پر بھی نمود و نمائش والا طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے پھر ان جانوروں کی قربانی کے مناظر کی تصاویر بنا کر نیٹ وغیرہ پر ڈالی جاتی ہیں۔
اگر ان کو کہا جائے کہ آپ قربانی کا جانور تو عام انداز کا کرلیں جس میں اس قسم کی شہرت نہ ہو اور باقی جو رقم بچے اس کو اخلاص کے ساتھ غریبوں و مسکینوں وغیرہ پر خرچ کر دیں تو یہ اس پر تیار نہ ہوں گے حالانکہ اس میں بوجہ اخلاص کے زیادہ ثواب اور غریبوں کا بڑا فائدہ ہے۔
اسی طرح بہت سے لوگ گوشت خوری کی بنیاد پر بھاری اور بڑے جانور کا انتخاب کرتے ہیں جس پر غیر معمولی رقم خرچ کرتے ہیں لیکن یہ لوگ زکاۃ اور دوسرے مالی واجبات بلکہ قرض تک کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں اور اس فرق کی بظاہر وجہ یہ ہوتی ہے کہ قربانی کا گوشت تو اپنے کھانے کے استعمال میں آتا ہے جب کہ زکاۃ وغیرہ دوسرے غرباء و مساکین کے استعمال میں آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے لوگ عموماً قربانی کا سارا گوشت خود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور غریبوں یا دوسرے لوگوں کو یا تو بالکل نہیں دیتے یا تھوڑا بہت برائے نام دے کر باقی خود رکھ لیتے ہیں اور پھر کئی کئی ماہ تک استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اگر چہ فی نفسہ قربانی کا گوشت رکھنا اور کھانا منع نہیں لیکن قربانی سے گوشت خوری کو مقصود و بنیاد بنالینا قربانی کی روح کے خلاف ہے قربانی کا اصل مقصد اللہ کے حکم کو پورا کرنا اللہ کی رضا کو حاصل کرنا اور اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
چنانچه قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے کہ
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (سورة الحج رقم الآية ٣٧)
ہرگز نہیں پہنچتا اللہ کو ان ( قربانی کے جانوروں ) کا گوشت اور نہ ان کا خون لیکن پہنچتا ہے اللہ کو تقویٰ( واخلاص) تمھاری طرف سے۔
لہذا قربانی کے موقع پر تمام اہل اسلام کو اخلاص نیت و تقوے کا بطور خاص اہتمام کرنا ضروری ہے۔
امید ہے کہ اگر تمام اہلِ اسلام عید الاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی کے عمل کو اخلاص و تقوے کے ساتھ انجام دیں گے تو ان کے اندر قربانی کا سچا جذبہ پیدا ہوگا اور اس کے نتیجے میں اپنے جان مال اور وقت کو اللہ اور اس کے دین کے لیے قربان کرنے کے عمل میں ترقی اور اضافہ ہوگا۔
اگر قربانی ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے ہماری نیتوں کو صاف کر دے اور ہمیں اللہ کے قریب کر دے تو یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہماری قربانی کو اخلاص و تقویٰ کے ساتھ قبول فرما آمین یارب العالمین۔
8235703061
Post Views: 112
Like this:
Like Loading...