Skip to content
فریضۂ حج کس پر واجب ہے
ازقلم:شفیع احمد قاسمی
خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد
8090063071
حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ یہ عاشقانہ عبادت ہے۔ نماز و روزے کی طرح یہ صرف بدنی عبادت نہیں اور نہ ہی زکوۃ کی طرح صرف مالی عبادت ہے؛ بلکہ اس کی ایک خاص شان ہے کہ جسمانی اور مالی دونوں رنگ اس میں نمایاں ہیں۔ جہاں اس میں جسم و بدن کا مجاہدہ مطلوب ہے تو وہیں اس میں مال کی ایک بھاری مقدار بھی درکار ہوتی ہے۔
*حج ایک لازمی فریضہ ہے*قرآن پاک کی سورت. [آل عمران ٩٧] میں ہے ’’ کہ خدا کے لیے بیت اللہ کا حج ان لوگوں پر لازم ہے جو استطاعت رکھتے ہیں‘‘۔
چونکہ اس میں مال کی ایک بھاری مقدار مطلوب ہوتی ہے اس بناء پر کم لوگوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے؛ مگر جن لوگوں پر فریضۂ حج لازم ہوتا ہے ان میں کچھ تو وہ ہیں جنہیں معلوم ہے کہ حج کا فریضہ ان پر لازم ہو چکا، تاہم غفلت و کوتاہی میں ان سے تاخیر ہوجاتی ہے۔ جبکہ بعض فقہاء اس تاخیر کو موجب گناہ مانتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں پر فریضہ حج تو لازم ہوتا ہے لیکن انہیں احساس تک نہیں کہ حج اسلام ان پر فرض ہو چکا، غالباً ان کے خیال میں یہ بات جم گئی ہے کہ فریضہ حج صرف ان اہل ثروت پر عائد ہوتا ہے جن کے پاس مال کیش اور نقد کی صورت میں ہو اور بس۔
حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جس کے پاس ضرورت سے زائد اتنی زمین یا اس کے علاوہ کوئی قیمتی چیز ہو جس کی مالیت مصارف حج کے لیے کافی ہو، تو اس پر حج اسلام فرض ہو جاتا ہے۔ مصارف حج کی مقدار یہ ہے کہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کے نفقہ کے علاوہ حرم مکی تک آمد و رفت کا سفر خرچ ہو۔ بدائع الصنايع /٢/ص/ ٢٩٧ : فتاوى هنديه /ج ١ ص ٢١٧ :
*فریضہ حج مال کی کتنی مقدار پر عائد ہوتا ہے*کتب فقہ سے فریضہ حج سے متعلق کچھ مسائل خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں، جنہیں پڑھ کر شاید یہ علم و آگہی ہوجائے کہ فرضیت حج خود پر بھی عائد ہوگئی ہے کہ نہیں۔ چنانچہ فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ : 1ـ جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ کوئی زائد مکان ہو تو اسے فروخت کر کے حج کرنا لازم ہوگا جبکہ مکان کی مالیت اس قدر ہو کہ مصارف حج کافی ہو جائیں-
2ـ اگر کسی کے پاس قیمتی کپڑے یا مہنگے ساز و سامان ہیں جنہیں استعمال کی نوبت نہیں آتی اور ان کی مالیت مصارف حج کو کافی ہوں تو انہیں فروخت کرنا اور حج کرنا لازم ہوگا ۔
ان كان له دار لايسكنها وعبد لا يستخدمه فعليه ان يبيعه ويحج به……… الخ. (فتاوى هنديه ٢/٢١٧)
اگر اس کے پاس رہائشی مکان یا اس جیسی چیز نہ ہو یعنی ضرورت اصلیہ سے زائد نہ ہو، اور اتنی رقم ہو کہ یا تو اس سے حج ہو سکے، یا اس سے مکان خادم اور کھانے پینے کا انتظام ہو سکے تو اس پر حج کرنا لازم ہے پس اگر اس رقم کو حج کے علاوہ میں استعمال کیا ،تو گنہگار ہوگا، حوالہ بالا:
واضح رہے کہ زائد برتنوں کا یہی حکم ہے۔ اور زر زیورات تو خیر شرعاً بالکل نقد کے حکم میں ہیں-
3ـ اگر دکان میں اس قدر مال جمع ہو کہ اس کا ایک حصہ فروخت کر کے اور باقی ماندہ مال سے ضرورت بھر تجارت ہوسکے تو اس پر حج فرض ہے- فتاوی ہندیہ ٢/٢١٨ مثلاً: فی زمانہ کسی دوکان میں 10 / 12 لاکھ کی مالیت کا ساز و سامان ہو اور اس سے 5/4 لاکھ کی مالیت کا مال الگ کر لیے جائیں؛ اگر ایسا کرنے سے اس کی تجارت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی تو بایں صورت لازماً اس پر حج فرض ہوگا ۔
4ـ کسی کے پاس اس قدر زائد زمین ہو کہ اس کے ایک حصہ کی مالیت مصارف حج کے لیے کافی ہو اور باقی ماندہ زمین کی آمدنی سے اس کا گزر اوقات ہو جائے تو اس پر بھی یہ مبارک فریضہ لازم ہے۔ حوالہ بالا
5ـ کسی عالم کے پاس فقہ کی کتابیں ہوں اور ان کتابوں کے استعمال کی انہیں ضرورت ہو تو اس پر حج فرض نہیں- اور اگر یہ کتابیں کسی غیر عالم کی ملکیت ہیں تو ان پر حج فرض ہے- حوالہ بالا
6ـ اگر کسی کے پاس طب اور نجوم کی کتابیں ہیں، تو اس پر فریضہ حج لازم ہے خواہ ان کتابوں کی انہیں ضرورت ہو یا نہ ہو- حوالہ بالا
7۔ اگر کسی کا رہائشی مکان اس قدر وسیع ہے کہ اس کے ایک حصہ میں رہائش کافی ہے تو حج کے لیے زائد حصے کو فروخت کرنا لازم نہیں، گویا حج اس پر فرض نہیں ہے-
8ـ کسی کے پاس قیمتی مکان ہو اگر اس مکان کو فروخت کر کے اس قیمت سے ایک قابل رہائش معمولی مکان خرید سکتا ہو اور باقی ماندہ زائد رقم سے حج کی ادائیگی ممکن ہو، تو اس صورت میں بھی اس پر فریضہ حج لازم نہیں ۔ تاہم اگر اخیر کی ان دونوں صورتوں پر وہ عمل کر لے اور فریضہ حج ادا کر لے تو یہ افضل ہے،اور فضیلت کی بات ہے۔ حوالہ بالا
خدا ہم سب کو بھی حج مبرور کی دولت سے مالا مال فرمائے ـ
Post Views: 62
Like this:
Like Loading...