Skip to content
جامعہ ملیہ میں غیر آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب پر مولانا نثار احمد نقشبندی کا اظہارِ رنج.
انڈیا یونین مسلم لیگ کے دہلی صدر کا وائس چانسلر سے وضاحت طلب
نئی دہلی:2مئی(پریس نوٹ) انڈیا یونین مسلم لیگ کے دہلی صدر مولانا نثار احمد نقشبندی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے صد سالہ تقریب کے انعقاد پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام آزادی کے دور میں اس مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا کہ ہندوستان میں جمہوری اقدار کو مضبوط کیا جائے اور ایسے نوجوان تیار کیے جائیں جو ملک کی ترقی، اتحاد اور سیکولر مزاج کو آگے بڑھائیں۔
مولانا نقشبندی نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کے خوابوں اور آزادی کی تحریک سے جڑی ہوئی ایک عظیم امانت ہے، جس کا مقصد قوم کو تعلیم، اتحاد اور انصاف کی بنیاد پر مضبوط بنانا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جبکہ ملک میں نفرت انگیزی اور فرقہ وارانہ ماحول کو فروغ دیا جا رہا ہے، جامعہ جیسے عظیم تعلیمی ادارے میں اس نوعیت کی تقریب کی اجازت دینا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ملک کی جمہوریت مخالف قوتیں سرگرم ہیں اور ان کا طرزِ عمل اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احاطے میں اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
مولانا نثار احمد نقشبندی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مذہب کیا ہے اور آپ کس تنظیم سے وابستہ ہیں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن ایک قومی اثاثہ اور سرکاری یونیورسٹی کے وقار کو برقرار رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس دباو ¿ میں ایک غیر سرکاری تنظیم کو سرکاری یونیورسٹی کے اندر اس طرح کا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی گئی؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر اس معاملے میں عوام کے سامنے واضح وضاحت پیش کریں، کیونکہ ایسے اقدامات نہ صرف جامعہ کے وقار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ملک کے موجودہ حساس ماحول میں نفرت اور انتشار کو مزید تقویت دینے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
مولانا نقشبندی نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے تاریخی ادارے میں اس قسم کے پروگرام کے لیے جگہ فراہم کرنا خود ایک بڑا سوال ہے اور قوم کو اس کا جواب چاہیے۔
Post Views: 51
Like this:
Like Loading...