Skip to content
ٹرمپ پر حملہ : کتنا اصلی کتنا جعلی؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پرپچھلے دوسال سے کم وقفہ میں پانچواں جان لیوا حملہ کیا پیغام دیتا ہے؟ یہ حملے اگر اصلی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے دنیا کی سب سے طاقت کے حفاظتی نظام میں بہت بڑے بڑے سوراخ ہیں ورنہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے میں حملہ آوربار بار کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ اپنی غیر معمولی ذہانت سے حفاظتی نظام میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ درست نشانہ نہیں لگا پاتے۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ فی الحال دنیا میں بے شمار سیاسی رہنما ہیں۔ ان کی حفاظت کا اتنا مضبوط انتظام بھی نہیں ہے اس کے باوجود کوئی انہیں ان پر حملہ کیوں نہیں کرتا جبکہ ٹرمپ صاحب بار بار نشانے پر آجاتے ہیں؟ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان کی پہلی انتخابی مہم یا اس کے بعد پانچ سالہ میعادِ کار میں ایک بھی حملہ نہیں ہوا اور اب اوسطاًہر چار ماہ میں یہ کہانی دوہرائی جاتی ہے۔ موصوف کو پہلے حملے میں ہلکی سی کھرونچ ضرور آئی اور کان سے نکل کر ہلکی سی خون کی لکیر بھی چہرے پر پھیل بھی گئی مگر پھر اس کے بعد بال بیکا نہیں ہوا۔ ٹرمپ پر حملے کی خبر خوب بحث و مباحثہ کا موضوع بنی ، ہمدردیاں سمیٹی گئیں اور مقبولیت بڑھائی گئی ۔ اس لیے شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری ہے۔
آگے بڑھنے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہونے والے حملوں کا جائزہ اور کے اثرات و عوامل کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔فی الحال جو حملہ میڈیا پر چھایا ہوا اس میں ڈونلڈ ٹرمپ اورقصرِ ابیض کے اعلیٰ عہدیدار مثلاً نائب صدر جی ڈی وینس اور وزیر دفاع یا وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ بھی موجود تھے ۔ وائٹ ہاوس سے متعلق اخبارنویسوں کے اس سالانہ تقریب میں ایک مسلح شخص نے لابی میں دھاوا بول کر فائرنگ شروع کر دی۔اس ملزم کو ہفتہ کی رات واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں عشائیہ کے دوران گرفتار کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس کی شناخت کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر کی گئی۔اس حملہ آور کے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نہایت دلچسپ ہیں اس لیے ان پر نظر غائر ڈال لینا بہتر ہے۔ ٹامس ایک جز وقتی استاد اور ویڈیو گیم ڈویلپر کے طور مشہور ہے۔ اس خاموش طبع حملہ آور کی شناخت کے تین مخصوص پہلواس شخصیت کو اجاگر کرتے ہیں مثلاً اس کا مذہبی عقیدہ، اس کی نسلی وراثت اور اسرائیل یا آئی ڈی ایف سے اس کا مبینہ تعلق۔
ایلن ٹامس کے پاس کیلٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر کی اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری ہے۔ پیشہ ورانہ طور پر، وہ ایک ٹیوٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور اسے 2024 کے آخر میں ’’ٹیچر آف دی منتھ‘‘ کے اعزاز سے بھی نوازہ گیا تھا۔ عوامی ریکارڈ کے مطابق بظاہر کول ٹامس ایلن روایتی طور پر امریکی پروٹسٹنٹ ہے۔ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں اپنے تعلیمی دور میں اسے ایک عیسائی فیلوشپ بھی مل چکی ہے۔ اس کی ابتدائی پرورش توروایتی عیسائی ماحول میں ہوئی اور اس سے نظریاتی ہم آہنگی بھی رہی مگریہ غیر تصدیق شدہ خبر بھی میڈیا میں موجود ہے کہ ، ایلن اپنی والدہ کی طرف سے نصف یہودی ہے۔ وہ آن لائن طریقہ سے انتہا پسند شخصیات سے منسلک رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایلن کی ابتدائی تعلیم یہودی سینیگاگ اسکول میں ہوئی اور اس کی تکمیل کے بعدیہودی رسومات کے مطابق ٹامس کےلیے بار مِتصوا کی تقریب بھی انجام دی گئی اور ظاہر ہے یہ ماں کی خواہش پر ہوا ہوگا اور اپنی والدہ سے اسے یہودیت کے عقائد و نظریات بھی ورثے میں ملے ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیلیفورنیا کے اس معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ اس سوال کا جواب خود اسی نے اپنے ٹویٹ میں یہ دیا ہے۔ کول ٹامس ایلن اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتا ہے۔اس نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ ”میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔ “ یہ اس قدر واضح پیغام تھا کہ’سی بی ایس نیوز‘ کے مشہور پروگرام ’60 منٹس‘ میں صدر ٹرمپ سے اس بابت استفسار کیا گیا ۔انہوں نے انٹرویو میں اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا۔ وہ بولے ’’میں زانی نہیں ہوں۔ میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔“ انٹرویو لینے والے نےجب ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں۔ معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔ آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔“
صدرٹرمپ نے اس طرح اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش تو کی مگر اِپسٹین فائلس کے بعد ان پر یقین کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ٹامس ایلن کا جواز ہے کہ اس کا یہ اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔ ایلن لکھتا ہے کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔ اس طرح گویا اس نے جان لیوا حملے کا جواز اپنے مذہب کے حوالے سے پیش کیا مگر کسی نے عیسائیت کو تشدد کا مذہب قرار نہیں دیا۔مغرب کا یہی نفاق اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے کیونکہ اس کے نزدیک اسلام اور عیسائیت کے پیمانے مختلف ہیں۔ ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے پچھلے دنوں پوپ پال کو بھی برا بھلا کہہ دیا ۔ بعید نہیں صدر ٹرمپ کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات نے ٹامس کو انہیں مسیحی مخالف قرار دینے میں مدد کی ہو۔پوپ نے بارہا غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے،اور وہاں کے حالات کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ۔ اسرائیلی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، ساتھ ہی ایران پر امریکہ -اسرائیل جنگ کی بھی مخالفت کرچکےہیں ۔
پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے بلواسطہ کہا کہ جنگیں چھیڑنے اور زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے والے دراصل انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں۔ اس سے آگ بگولا ہوکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے کی مخالفت میں کہا کہ ان کو خارجہ پولیسی کا کوئی فہم نہیں۔امریکی صدر کے ساتھ اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے پوپ لیو نےجواب دیا کہ مجھے ٹرمپ اور اْس کی انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں۔میں امن اور محبت کے بارے میں بولتا رہوں گا۔جنگ کی مذمت کرنا اور امن کی حمایت کرنا میری اخلاقی ذمہ داری اور انجیلی مشن ہے۔پاک انجیل میں لکھا ہے کہ مبارک ہیں وہ جو صلح کرواتے ہیں اور میں امن کی انجیل کا پرچار کرتا رہوں گا۔دنیا بھر کے رہنماوں نے پوپ لیو کے امن موقف کی حمایت کی تو ٹرمپ سے سوال کیا گیا کیا آپ پوپ لیو سے معافی مانگیں گے؟ اس پر ان کا مختصر جواب تھا کہ:”نہیں“۔بعد ازاں ٹرمپ نے کہا،’’کیا کوئی پوپ لیو کو بتا سکتا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو مہینوں میں کم از کم 42؍ہزاربے گناہ، غیرمسلح مظاہرین کو قتل کیا ہے، اور یہ کہ ایران کے پاس ایٹم بم کا ہونا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔‘‘
موجودہ پوپ امریکی شہریت کے حامل ہیں، لیکن وہ روم کے قلب میں ایک چھوٹی سی خود مختار ریاست ویٹیکن کے سربراہ ہیں۔ وہ اٹلی میں ہے جہاں کا غالب عقیدہ کیتھولک مذہب ہے ۔ اس لیے پوپ پر کسی بھی طرح کے حملے کو اٹلی پر حملہ سمجھا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں اٹلی کی وزیراعظم میلونی کے ساتھ وہاں پر حزبِ اختلاف کے رہنماوں نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر شدید تنقید شروع کردی۔ڈیموکریٹک پارٹی کی سکریٹری ایلی شلائن نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ حزب اختلاف کے لیڈر ہیں تاہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے میلونی پر حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ وہ بولے ’’ ہم اس ایوان میں حریف ہیں، لیکن تمام اطالوی شہری اور ہم حکومت اور اپنے ملک کے خلاف حملوں یا دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔اس طرح ٹرمپ نے عیسائی دنیاکو بھی اپنا مخالف بنادیا۔ ٹرمپ پر فائرنگ کے بعد، سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ دعوے کے مطابق ایلن نے اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کے نام اور نشان والی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ ٹامس کا ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوارہندوستانی نژاد کملا ہیرس کو چندہ دینا بھی اس لیے فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ موصوفہ اپنے یہودی شوہر اور رائے دہندگان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے غزہ نسل کشی کی مذمت سے کنیّ کاٹ رہی تھیں بلکہ اسرائیل بھیجے جانے والے اسلحہ پر دستخط کرنے بھی پہنچ گئی تھیں۔ اس طرح ٹامس کا اسرائیل سے تعلق تق بنتا ہے۔ اس امریکی عوام پر کیا ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(۰۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 74
Like this:
Like Loading...