Skip to content
قصہ ایران کے این پی ٹی میں نائب صدر بن جانے کا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جنگ عظیم دوم کےدوران 30؍ اپریل، 1945 کوہٹلر نے خودکشی کرلی۔ اس طرح جرمنی کی کمر ٹوٹ گئی اور7–8 مئی 1945 کو جرمنی کے کو ریمز میں امریکی جنرل ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے شمال مغربی یورپ میں اتحادی افواج کے کمانڈر کی حیثیت سے بلا شرط کے ہتھیار ڈالے جانے والے کاغذات پر دستخط کروائے۔ یہ ہتھیار ڈالنا 8 مئی کو نافذ ہوگیا۔ اسی طرح کی تقریبات 8 مئی، 1945 کو برلن (جرمنی) اور ماسکو میں بھی 9 مئی کو اہتمام ہوگیا۔ اسی ماہ اتحادی فوجیں جرمنی کے اہم ترین حلیف جاپان کے آخری آزاد شہر اوکیناوا پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر ہتھیار ڈالنے کی رسم تو ادا نہیں ہوئی مگر جنگ عملاً ختم ہوگئی اس کے باوجود 6؍ اگست، 1945 امریکہ ہیروشیما پر ایٹمی بم گرادیا۔ سوویت یونین نے جاپان کے ساتھ ہمدردی کرنے کے بجائے خود کریڈٹ لینے کی خاطر 8؍ اگست، 1945 خودجنگ کا اعلان کرتے ہوئے منچوریا پر حملہ کردیا ۔ امریکہ اور سوویت یونین کی رسہ کشی کے نتیجے میں 9؍ اگست، 1945 امریکہ بہادر نے ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی بم گرادیا۔
ایٹم بم کی نال پر 14؍ اگست، 1945 کو اصولی طور پر بلا شرط کے جاپان نے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈال دیئے اور دوسری عالمی جنگ کے باقائدہ خاتمہ کا اعلان ہوگیا۔مذکورہ بالا تفصیل گواہ ہے کہ ایٹم بم کا استعمال کرکے لاکھوں لوگوں کی تباہی سے بے نیاز ہو کر امریکہ نے سوویت یونین کو خوفزدہ کرنے کی شرمناک سعی کی۔ اس رویہ نے دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کو عمومی تباہی کے ہتھیاروں کے حوالے سے فکر مند کردیا ۔ اس کے 12؍ سال بعد دنیا بھر میں جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے 1957 میں ایک ادارہ قائم کیا تا کہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسی جارحیت کا اعادہ نہ ہو۔ اس وقت تک عالمی پیمانے پرایٹمی ٹیکنالوجی کے فروغ اور اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کافی بڑھ گیا۔ اس فکرمندی کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے’آئی اے ای اے’ کے نام سے ایک خودمختار ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے ذمہ ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ غذائی تحفظ، سرطان پر قابو پانے اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال کا کام بھی دیا گیا ۔جوہری تحفظ کے معاہدوں سے متعلق ادارے کا فریم ورک بھی اس کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ان معاہدوں پر رکن ممالک کا رضاکارانہ اتفاق ہے اور انہیں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
اے آئی ای اے آزادانہ طور پر تصدیق کرتا ہے کہ آیا رکن ممالک جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ 2024 تک 182 ممالک ادارے کے ساتھ جوہری تحفظ کے معاہدوں میں شامل ہوچکے ہیں ۔ اس ادارے نے اپنی سرگرمیوں کو موثر بنانے کی خاطر1968 میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT) پر کام کرنا شروع کیا اور 1970 سے اسے نافذ کردیا۔ آج اقوام متحدہ کے 195 میں سے 191 ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پانچ ممالک یعنی امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو باضابطہ ایٹمی طاقت تسلیم کرلیا گیا تو وہ ساری روک ٹوک سے بالاترہوگئے۔ باقی ممالک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ہے۔اس میں ہندوستان ، پاکستان، اسرائیل اور جنوبی سوڈان کو استثناء ہے کیونکہ وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ این پی ٹی کا بنیادی مقصد دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق جن ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں، وہ نہیں بنائیں گے اور جن کے پاس ہیں، وہ آہستہ آہستہ انہیں ختم کریں گے۔اس کے عوض تمام ممالک کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق مل جاتا ہے مگر ایران کو اس سے محروم کرنے کی مذموم کوشش ہوتی رہتی ہے۔
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (IAEA) کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤکو روکے، ہتھیاروں میں کمی کرے اور ایٹمی توانائی کا پرامن استعمال کی سہولت فراہم کرے۔معاہدے کے تحت ساری توجہ ’پرامن استعمال‘ پر مرکوز کردی گئی ہے لیکن ‘ہتھیاروں میں کمی‘والا حصہ پوری طرح نظر انداز ہوچکا ہے۔عالمی صورتحال یہ ہے کہ چین جیسے بڑے ممالک اپنے ایٹمی ہتھیار گھٹانے کے بجائے انہیں مزید جدید بنا رہے ہیں ۔اس لیے معاہدے کا یکساں نفاذ نہیں ہورہا ہے۔ اس وجہ سے چھوٹے ممالک میں ناراضگی بڑھ رہی ۔اسی لیے 2003 میں شمالی کوریا نے اس سے باہر نکل کر ایٹمی تجربات کرلیا۔ ہندوستان اور پاکستان پہلے ہی 1998 میں ایٹمی تجربات کرچکے ہیں ۔ اے آئی ای اے میں عدم مساوات کی انتہا یہ ہے کہ اسرائیل خود تو NPT میں شامل نہیں ہوتا تاکہ اپنے پاس ایٹمی ہتھیار رکھ سکے مگر NPT کے رکن ایران پر حملہ کردیتا ہے۔ ایران نے 1968 میں ہی اس معاہدے پر دستخط کر دیئے تھے، لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس کا ایٹمی پروگرام تنازعات میں گھرگیا۔ NPT کا حصہ ہونے کے باوجو اس پر مسلسل قوانین کی روح کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔
ایران ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا مگرامریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نےالزام لگایا کہ 2003 تک اس نے ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کیا تھا۔ عام طور پر توانائی کے لیے صرف 3 سے 5 فیصد افزودگی ہی کافی ہوتی ہےلیکن ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ۔ اسی بہانےامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سابق صدر اوبامہ کے معاہدے کو ختم کردیا تھا ۔ فی الحال حالات اس قدر خراب ہیں دونوں ممالک کے درمیان باقائدہ جنگ شروع ہوگئی اور اب امریکہ اس سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہاہے مگر ایران اس مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔امریکہ کو یہ زبردست سفارتی جھٹکا یونہی نہیں لگ گیا اس کے لیے خود اس کا سفارتی خمار ذمہ دار ہے ۔ صدر ٹرمپ ہر روز صبح ایک اوٹ پٹانگ بیان نشر کرکے لوگوں کو کام میں لگا دیتے ہیں۔ وہ اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ اس طرح وہ دنیا بھر کو بیوقوف بنارہے ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ انہوں خود اپنا مذاق بنالیا ہے۔ ان کو آج کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔
دنیا کی سُپر پاور کے سربراہ کی شرمناک ویڈیوز آئے دن نشر ہوتی رہتی ہیں ۔ فی زمانہ سوشیل میڈیا پر ٹرمپ کی ویڈیوز تفریح کا بہت بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ۔ اس چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک ویڈیو میں دوران ٹرمپ صاحب پریس کانفرنس کے دوران محوِ خواب ہوگئے ۔ اس طرح ان کے خراٹوں کو بھی عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بننے کا موقع ملا۔ موصوف کی غنودگی نے یہ راز کھول دیا کہ موصوف کے راتوں کی نیند ایران نے اڑا رکھی ہے۔ اس کے بعد ایک ٹیلی ویزن پروگرام میں وہ چکرا کر گر پڑے۔ اس سے پتہ چلا کہ وہ شدید ذہنی دباو میں مبتلا ہیں اور پھر تو غضب ہوگیا۔ برطانیہ کے بادشاہ چارلس سے ملاقات کے دوران انہوں نے جھپٹ کر ایک مکھی پکڑ لی اور اس کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔ اس واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اول تو یہ کہ وہ مکھی اس مجلس میں کیسے پہنچ گئی ؟ اور ان کا حفاظتی دستہ کیا کررہا تھا ؟ جو لوگ ایک مکھی کو قابو میں نہیں کرسکتے وہ اپنے صدر کی حفاظت کیسے کریں گے نیز کیا اب ٹرمپ کے مکھی مارنے کے دن آگئے ہیں؟
صدر ٹرمپ جس وقت اپنی ان حرکتوں سے اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کررہے تھے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نہایت سنجیدہ سفارتکاری میں مصروف تھے ۔ انہوں نے جنگ کے حالات میں روس کے دورے کا قصد کیا۔ وہاں جاکر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کی۔صدر پوتن سے گفت وشنید کے بعد انہوں نے میڈیا میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے ڈٹا ہوا ہے اور نام نہاد سُپر پاور اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انہوں نے بتایا کہ اب امریکہ کے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے اس لیے از خود بات چیت کی درخواست کررہا جو ایران کے سامنےزیرغور ہے۔ عراقچی نے اس موقع پر روس کو ایران کا اہم دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کریملن کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد عباس عراقچی اپنےمختلف ممالک کے دورے پر پاکستان گئےاور اسلام آباد میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک اہم دستاویز بھی پیش کی، جس میں ایران کی شرائط اور تجاویز شامل تھیں، خاص طور پر جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سے متعلق نکات پر زور دیا گیا تھا۔ پاکستان سے نکل کر عراقچی عمان گئے، جہاں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایران نے اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کو عالمی مفاد قرار دیتے ہوئے علاقائی تعاون پر زور دیا۔ روس سمیت دیگر ممالک نے جس تعاون کا یقین دلایا اس کے نتیجے میں ایران کو این پی ٹی کی نائب صدارت حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور دنیا نے دیکھا کہ سفارتکاری اور نوٹنکی میں کیا فرق ہے؟
(۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 74
Like this:
Like Loading...