Skip to content
شدت اور تیزی کا سیل رواں
ازقلم:اسانغنی مشتاق رفیقی
گرمی شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے سورج سوا نیزے پر اُتر کر دھمال ڈالنے کے لئے بیتاب ہے۔ اس کی سنہری کرنوں کی تمازت نہ صرف دن کے پور پور کو دہکا رہی ہے بلکہ شب کی سیاہ چادر پر بھی اپنی تپش چھوڑے جارہی ہے۔ دھوپ کی شدت سے تپ کر زمین دوزخ کی تمہید بنتی لگ رہی ہے۔ چہار جانب سے حیوانات و نباتات ہی نہیں بلکہ کوہ و دمن اور در و دیوار بھی العطش العطش کی صدائیں بلند کر رہی ہیں۔ موسم کے ہیبتناک ہوتے رخ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ خالق کائنات اپنی سنت کے مطابق کائنات میں کوئی بڑی تبدیلی کا ارداہ کر چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر چیز میں بشمول انسانوں کے شدت اور تیزی لارہا ہے۔
انسانوں کے مزاج اور کائنات کے شب و روز میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی آہٹ کو دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ محسوس تو کرر ہا ہے لیکن اس کی ماہیت اور کمیت کا مکمل ادراک اسے حاصل ہے ایسا دکھائی نہیں دے رہا ۔ دنیا بھر کے موسموں میں جو اتھل پتھل جاری ہے یہ جگ ظاہر ہے لیکن اس کے اثرات سے یہاں کے نظام میں کیا کچھ بدل سکتا ہے اس کا یقینی علم ابھی بھی تحقیق کے مرحلے میں ہی ہے۔ آج کا انسان اپنی تمام سائنسی ترقی کے باوجود دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے چکی شدت اور تیزی کے طوفان بلا خیز کے حوالے سے مستقبل پر کوئی حتمی بات کہنے سے قاصر نظر آرہا ہے۔
کائنات پر غور و خوص کر نے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں موجود ہر شئے چاہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہوں یا ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر، آپس میں کسی نہ کسی زاوئے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اس جوڑ اور اثر اندازی کا مقصد و منشاء کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے جو سوائے خالق کائنات کے کسی کے علم میں نہیں۔
دنیا بھر کے انسانوں کے مزاج میں جو شدت اور تیزی در آئی ہے اور اسی طرح دنیا بھر کے موسموں میں جو شدت اور تیزی محسوس کی جارہی ہے یہ کس پر کس کی اثر اندازی سے وقوع پذیر ہورہی ہے اس پر مختلف رائے ہو سکتی ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اثر اندازی کا یہ فعل صادر ہوچکا ہے اور جسیے جیسے ایک طرف شدت اور تیزی میں اضافہ ہوگا دوسری طرف بھی اسی نسبت سے اضافہ ہوتا رہے گا۔
شدت اور تیزی انسانی سماج کے لئے چاہے کسی بھی زاویے سے ہو سم قاتل ہے۔ انسانی معاشرے کی بہتری ، بہبودی ترقی اور معراج اعتدال سے منسلک ہے، اعتدال ہی وہ واحد ضابطہ ہے جس کے ذریعے امن و امان اور مثبت ترقی کے زینے آسانی سے طے کئے جاسکتے ہیں۔ شدت اور تیزی انتشار اور انارکی کی راہیں ہموار کرتی ہیں، انسانوں کو کبھی احساس برتری تو کبھی احساس کمتری میں مبتلا کر کے انہیں شدید جھنجھلاہٹ کا شکار بنا دیتی ہیں جس کے زیر اثر وہ ظلم و فساد برپا کر کے اس کے اندر اپنی ذہنی تسکین کا سامان ڈھونڈنے کی کوشش میں مگن ہوجاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں غلط کر رہے ہیں اپنے افعال پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس پر تفخر کرنے لگتے ہیں۔ شدت اور تیزی میں مبتلا انسان اپنے ہر سوال کا فوری جواب اوراپنے ہر فعل کا فوری بدل چاہتا ہے اور وہ بھی مادی شکل میں، اگر اسے اس میں ناکامی ملتی تو ہے اس ناکامی کا الزام سامنے موجود کسی بھی کمزور پر لاد کر اس پر ظلم و جبر شروع کر کے احساس تکبر میں اپنی انا اور نفس کو تسکین دینے کی کوشش کرتا ہے۔
آج کی تاریخ میں دنیا بھر کا انسانی معاشرہ چاہے اس کا تعلق کسی بھی رنگ و نسل یا خطے سے ہو شدت اور تیزی کی اس وبا میں پور پور مبتلا ہوچکا ہے۔ خاص کر حالیہ دور میں جو واقعات دنیا بھر میں پیش آرہے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے شدت اور تیزی کا یہ عفریت انسانی سماج پر اس حد تک حاوی ہوچکا ہے کہ اچھے خاصے معتدل سمجھے جانے والے دانشور بھی اسی مزاج کی زبان استعمال کرتے نظر آرہے ہیں، ایسے میں جو سیاسی اور معاشی مفادات کے غلام ہوتے ہیں ان کا رویہ کیا ہوگا اس کا تجربہ بھی ہمیں آئے دن ہونے لگا ہے۔
شدت اور تیزی کا یہ عمومی مزاج دنیا کی جغرافیائی، معاشی، سماجی اور مذہبی نظام میں کیا کچھ تغیرات لارہا ہے اس کا اندازہ آج کل کے حالات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے لیکن یاد رہے کہ یہ شروعات ہے ابھی تو بہت کچھ دیکھنا سننا اور سہنا باقی ہے جس کا گمان بھی ناقابل تصور ہے۔ رب کائنات ہماری حفاظت کرے۔ کاش شدت اور تیزی کے اس سیل رواں پر بندھ باندھ کر اسے روکنے کا مجاز ہمیں حاصل ہوتا تو ہم یہ کر کے، اس سے مثبت قوت پیدا کر کے پھر سے دنیا میں امن کی شمعیں روشن کر دیتے۔۔۔ کاش اے کاش ایسا ہوجائے۔
Post Views: 51
Like this:
Like Loading...