Skip to content
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا ،عالمِ پیر مررہا ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
27؍ اپریل (2026) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے متعلق جائزہ کا اجلاس جب شروع ہوا تو کون جانتا تھا کہ اس میں ایک ایسا سفارتی دھماکہ ہوگا کہ جس سے امریکہ دہل جائے گا ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان فی الحال آبنائے ہر مز اور ایٹمی پروگرام تنازع کی جڑ بنے ہوئے ہیں۔ہر مز کا معاملہ عالمی معیشت کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے مگر اصل مشکل ایران کا جوہری منصوبہ ہےجس پر دونوں ممالک کسی قسم کی مصالحت پر راضی نہیں ہیں۔ ایسے میں اگر سرزمینِ امریکہ پر اقوام متحدہ کے اندر ایران کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا نائب صدر منتخب کرلیا جائے تو اس سے ٹرمپ کتنے پریشان ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔یہ فیصلہ چونکہ ظہران ممدانی کے شہر نیویارک میں ہوا ہے اس لیے ان کی خوشی کا بھی بہ آسانی ادراک کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندرہر 5 سال میں ایک بار NPT کی کانفرنس ہوتی ہے۔ اس کی 11ویں ریویو کانفرنس کے صدر اور ویتنام کے سفیر دو ہنگ ویت نےیہ خوش کن اعلان کیا کہ ایران کا نام ‘غیر وابستہ ممالک کے گروپ‘(NAM) کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ اتفاق سے اس گروپ میں ہندوستان سمیت 100 سے زیادہ ممالک شامل ہیں، اب پریشانی یہ ہے کہ اگر ٹرمپ نے اس بابت ناراض ہوکر سوال کرلیا تو بیچارے مودی جی کیا جواب دیں گے؟
اقوام متحدہ میں ایٹمی عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے کے نفاذ پر ہونے والی کانفرنس میں ایران کو نائب صدر منتخب ہونے پر امریکہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔اس اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک نے مجموعی طور پر 34 نائب صدور کا انتخاب کیا، جن میں ایران بھی شامل ہے۔ امریکہ کی اس معاملے میں ناراضی فطری ہے اس لیے وہاں موجود امریکی اہلکار کرسٹوفر ییو نے اس فیصلے کو NPT کے لیے توہین قرار دیاحالانکہ انہیں اس کو ٹرمپ کی تضحیک قرار دنیا چاہیے تھا ۔ کرسٹو فر کا الزام ہے کہ ایران طویل عرصے سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے اسے این پی ٹی کے اہم عہدے پر فائز کرنا درست نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی مندوب رضا نجفی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بیان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے، اور اب وہی عدم پھیلاؤ کے نظام میں رہنمائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ایرانی مندوب نے یاد دلایا کہ ایران این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے جبکہ اسرائیل اب تک اس معاہدے کا حصہ نہیں بنا۔اس سے عالمی سطح پر دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ایران کا یہ موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ بذاتِ خود ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والے امریکہ کو جو مسلسل اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے، دوسروں کو سبق سکھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ایرانی جواب پر شیفتہ کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
ایران چونکہ جوہری ہتھیاروں سے محروم این پی ٹی کا رکن ہے۔ اس لیے اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سابق رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای جوہری ہتھیاروں کے مخالف تھے کیونکہ وہ عمومی تباہی کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ موجودہ جنگ کے بعد ایران کے اندر ان لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہےجو رکاوٹ (deterrent) کے طور پر بم بنانے کو درست سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ شمالی کوریا کے محفوظ رہنے کی وجہ اس کے پاس جوہری اسلحہ اور اسے امریکہ تک پھینکنے والے میزائل کی موجودگی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ نہ ہونے کی وجہ بھی دونوں کے پاس ایٹم بم کا ہونا ہے۔ ویسے اس کے خلاف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ روس ایٹمی طاقت ہےپھر بھی کئی سالوں سے یوکرین کی جنگ میں ملوث ہے ۔ ماضی میں چونکہ یہ ادارہ باقاعدگی سے نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری مراکز کا ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرتا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جوہری مواد صرف پرامن مقاصد کے لیے ہی استعمال ہو اور اس سے ایٹمی ہتھیار بنانے کا کام نہ لیا جائے۔ایران کے خلاف کوئی ٹھوس اس سے پہلے نہیں ملا ۔ اسی لیے ایران کو این پی ٹی نائب صدارت مل گئی جو بڑے اعزاز کی بات ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے متعلق حالیہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی کے دور میں زندہ رہنے کے لیے اس معاہدے میں بہتری ضروری ہے۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے اعتراف کیا کہ اس دوران جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کی بنیاد کمزور پڑ ی ہے، وعدے پورے نہیں ہوئے اور اعتماد و ساکھ میں کمی آ رہی ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد اب جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہو ا ہے۔ جوہری تجربات دوبارہ زیر غور ہیں جبکہ 2025 میں عالمی عسکری اخراجات بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا کہ آج کا جوہری خطرہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی تیزی سے ترقی پاتی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اور بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جب تک جوہری ہتھیار مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے اس وقت تک انسانیت کو مشینوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔’این پی ٹی’ کے نئے صدر ڈو ہنگ ویٹ نے بھی واضح کیا کہ جوہری جنگ کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ اورحقیقی ہوگیا ہےکیونکہ ایک نئی جوہری دوڑنظر آ رہی ہے۔
اجلاس سے قبل ‘این پی ٹی’ کا ایران کو نائب صدر نامزدکرنےپر امریکی اعتراض کی آسٹریلیا، برطانیہ ، فرانس، جرمنی اور متحدہ عرب امارات نے تائید کی مگر ان کی ایک نہیں چلی۔ روس کے نمائندے نے امریکی موقف کو سیاسی کہہ کر خارج کردیا۔ اس پرڈو ہنگ ویٹ نے وضاحت کی کہ ایران کو کئی ماہ قبل غیر وابستہ تحریک کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا اور اعتراضات صرف چند روز پہلے سامنے آئے۔ اجلاس میں اتفاق رائے برقرار رکھنے کے لیے معترض ممالک نے اس فیصلے سےخود کو الگ تو کیا مگر خلاف ووٹ نہیں کیا۔ اس طرح ایران کی بلا مخالفت نامزدگی نہایت خوش آئند ہے۔ ایران کی اس کامیابی کے پیچھےمیدان جنگ میں اس کی فتح کا بھی حصہ ہے۔پچھلے سال جون میں ایران کے خلاف اسرائیل کی بمباری سے چند روز قبل اسی جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے خبردار کیا تھا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
‘آئی اے ای اے’ کےڈائرکٹر جنرل رفائل مینوئل گروسی نے پچھلے سال یہ پریشان کن اطلاع بھی دی تھی کہ ادارے کو عالمگیر جوہری معاہدوں کی تعمیل کے معاملے میں ایران کے طرزعمل پر خدشات ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ادارے کے سوالات کا یا تو کوئی جواب نہیں دیا یا اس بارے میں تکنیکی طور پر قابل بھروسہ معلومات فراہم نہیں کی۔ ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ برس سال ‘آئی اے ای اے’ کے 35 رکنی بورڈ کو بتایا تھا کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کی صفائی کرنے کی کوشش کی ہے اور ادارہ سمجھتا ہے کہ یہ مقامات 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایران کے باقاعدہ جوہری پروگرام کا حصہ تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک ایران جوہری تحفظ کے حوالے سے تسلی بخش یقین دہانی کا اہتمام نہیں کرتا اس وقت تک ادارہ یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
حالیہ جنگ کے دوران 4؍ مارچ ، 2026 کو بھی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (اے آئی ای اے) کےسربراہ رفال گروسی نے گواہی دی کہ ایران کے ایٹم بم بنانے کے شواہد نہیں ملے۔ اس کے باوجود موصوف نے اپنے بیان میں کہا کہ افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے پر شدید تشویش کا اظہار بھی کردیا ۔ یہ تو عجیب اندیشہ اور تضاد بیانی ہے کہ جب شواہد نہیں ملے تو انہیں یا تو کلین چِٹ دینی چاہیے تھی یا کہہ دینا چاہیے کہ ان کو مکمل اطلاع نہیں ہے۔ ایسے میں تعصب کی بنیاد پر رفال گروسی کا یہ الزام لگانا کہ ایران کے آئی اے ای اے سے تعاون نہیں کرتے اس لیے وہ اس کے پرامن پروگرام کی ضمانت نہیں دے سکتے کھلی ہوئی شرارت ہے ۔ اس طرح شکوک و شبہات پیدا کرکے ایران کو بدنام کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ سے قبل انہوں نے یہ شکایت کیوں نہیں کی؟ سربراہ آئی اے ای اے رفال گروسی کا ایران سے مکمل تعاون کا مطالبہ کرنا امریکہ کی بلا واسطہ مدد کرنے کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کی یہ تنظیم بلا ثبوت ایران کو بدنام کرنے کی سعی کرتی رہی ہے ایسے میں کون سوچ سکتا تھا کہ ایسا دن بھی آئے گا جبکہ ایران این پی ٹی کا نائب صدر بنا دیا جائے گا لیکن جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے؟ ایران کا اس نازک وقت میں بلا مخالفت منتخب ہوجانا نہایت خوش آئند ہے۔ اس سے ایران کے عالمی عزت وقار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور آئندہ مزید ترقی ہوگی کیونکہ ؎
جہان ِنو ہورہا ہے پیداعالمِ پر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنادیا تھا قمار خانہ
Post Views: 68
Like this:
Like Loading...