Skip to content
مہاراشٹر میں اُردو افسانہ نگاری کا اجمالی مطالعہ
از قلم : ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔
اُردو زبان و ادب میں ریاست مہا راشٹر کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ ریا ست تہذیبی، علمی، ادبی ،ثقافتی اعتبار سے ہمیشہ سے ہی گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار رہا ہے۔ صدیوں سے یہ سر زمین علوم و فنون کا گہوارہ رہی ہے۔ اُرود زبان و ادب کے لئے سرسبز و شاداب اور زرخیز رہی ہے۔ مہاراشٹر جیسا خوبصورت شاندار ریاست جو اپنی تہذیب و ثقافت تمدن کے لحاظ سے ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے زیادہ ممتاز ہے۔ مہا راشٹر،ہندوستان کی عظیم الشان ریاست، یکم مئی 1960 کو وجود میں آیا۔ جس کی افتتاح پنڈت جواہر لال نہرو کے دست مبارک سے ہوئی۔ اس کے شمال مشرق میں ریاست مدھیہ پردیش، اور چھتیس گڑھ، شمال مغرب میں گجرات جنوب میں آندھرا پردیش اور کرناٹک اور مغرب میں بحر عرب ہے اس کا رقبہ تین لاکھ سات ہزار تین سو باسٹھ ہے۔307762 کلو میٹر اور آبادی تقریبا آٹھ کروڑ نقوش انسانی پر مشتمل ہے یہ رقبہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے تیسرے نمبر کی ریاست ہے۔ انتظامی سہولت کے پیش نظر اسے 35 اضلاع اور چھ ڈویژن ہیں۔کوکن ، پونہ ، ناسک ، اورنگ آباد ، امراوتی، ناگپور میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مذکورہ چھ ڈویژن میں کوکن کا علاقہ مناظر قدرت سے بھرپور ہے ۔مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی ہے ۔پونہ ناسک ڈویژن کو مغربی مہاراشٹر کہلاتا ہے۔
اورنگ آباد کو مرہٹھواڑہ کے نام سے جانا جاتا ہے اس طرح امراوتی ناگپور کےڈویژن کوودربھ کے علاقے کہا جاتا ہے۔ناگپور ریاست کا دوسرا اہم مقام ہے۔ یہاں ہر سال اسمبلی کا سرمائی اجلاس ہوتا ہے۔
اُردو زُبان و ادب میں مختصر افسانے کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اِس صنف میں مصنف اپنے خیالات،تجربات ،احساسات جذبات کی ترجمانی حقیقت پسندانہ طور پر اختصار کے ساتھ کرنے میں کامیاب ہیں۔مختصر افسانہ میں مصنف کسی بھی ایک واقعہ کو فنی تصویر کشی کرتا ہے آج کے اس سائنسی دور میں انسان کے پاس اتنی فرصت کہاں ہے کہ وہ طویل قصے کہانیاں یا داستان کو پڑھ کر اپنی دِلی تسکین کرے یہی وجہ ہے کہ اِس برق رفتار زمانے میں مختصر افسانے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے انسان کی ولادت سے ہی قصے کہانیوں کو انسانی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ انسان کی نشوونما میں اِس نے نمایاں رول ادا کیا ہے قصے اور کہانی کی وجہ سے انسان کے فرصت کے لمحات سکون سے گزرتے ہیں۔ انسان کی زندگی کے تلخ اور ناگوار لمحات کو قصہ کہانی کے ذریعے خوشگوار بنایا جا سکتا ہے افسانے کی بنیاد غرض اگرچہ دل بہلانے اور مسرت کا سامان فراہم کرنا ہے۔ افسانے کے اہم خوبی اِس کا اختصار ہے مختصر افسانے میں واقعات کی تفصیل اتنی اختصار کے ساتھ بیان کی ہے کہ پڑھنے والے اس کا ایک درجہ واحد اثر قبول کرے۔ افسانے میں دیگر خصوصیات بھی کم اہمیت کے حامل نہیں، انسان کی زندگی کا کائنات سے قریبی تعلق پیدا کر کے زندگی کو سمجھنے اور اس کو بہتر طور سے گزارنے کا ہنر سب سے زیادہ صنف افسانہ نے عطا کیا ہے ساتھ ہی ساتھ انسان کی معاشی ،معاشرتی، انفرادی ، اجتماعی زندگی کی تاریکی اور روشنی کی عکاسی اور ترجمانی افسانوی ادب میں ملتی ہے۔ہندوستان میں جب تحریک آزادی کا مرحلہ عروج پر تھا تو اس وقت بمبئی ذریعہ معاش کا اہم مرکز تھا لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کر کے بمبئ میں داخل ہو رہے تھے اس وقت ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا تھا۔ جس میں پریم چند، کرشن چند، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، جیسے اعلیٰ پائے کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفلوں میں ان اشخاص سے رونق بنی تھیں۔ممبئی اُس وقت جدید افسانے کا مرکز تھا۔یہاں کہ ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شرکت کیں تو ادبی دنیا میں ایک بڑا انقلاب آگیا تھا۔ اس تحریک نے جہاں متواسط طبقے کے افراد کی زندگی اور اِن کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا تو دوسری طرف ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج بلند کیا ترقی پسند تحریک کا دور اُردو افسانہ نگاری کا عہدیںِ زریں دور کہا جاتا ہے۔ اُس وقت ہندوستان میں مختلف مسائل عروج پر تھے عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا مرحلہ شروع ہو گیا تقسیم ہند کے مرحلے اور اِس کے رد عمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ۔جس دوران انسانیت کو شرمسار کر دینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنا دیا جس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کر دیا۔جہاں ان مسائل کی وجہ سے اُردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی۔
1970 کے بعد اُردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا ہے 1970 کے بعد افسانہ نگاروں میں جوگندرپال، سریند پر کاش، رام لال، اقبال متین ،رتن سنگھ، اقبال مجید ،جیلانی بانو جیسے اعلیٰ پاۓ کے افسانہ نگار تھے۔ سریندر پرکاش اور جوگندرپال نے مہاراشٹر کی سرزمین پر قدم رکھا تو دونوں نے جدیدیت پر زور دیا اُردو افسانے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جدیت کے زیر اثر بے شمار افسانے تحریر کیے گئے۔
1980 کے بعد معاشرے کے افسانہ نگاروں کے لیے یہ دور لمحہ فکر کا تھا ترقی پسند تحریک اور جدیدیت عروج پر تھی۔ جدیدیت کی تحریک کے زیر اثر اُردو افسانے میں مختلف سطوں پر زبردست تجربے کیے گئے اِن تجربے سے افسانہ نگاروں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ 1980 کے بعد مہاراشٹر میں لکھے گئے افسانوں میں سلام بن رزاق کا افسانہ "اخری گنگورا” نور الحسنین کا افسانہ "فقظ بیان تک” اور "سبزہ خورشتہ نوحہ” مشتاق مومن کا "ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے”ساجد رشید کا افسانہ”سونے کی دانت”انور خان کا افسانہ”حق "گڑے میں اُترتی شام اور فن کاری”انور قمر کا افسانہ "فضول کاغذات میں تین خط”احمد عثمانی کا افسانہ "اپنی مٹی”اشتیاق سعید کا افسانہ”ہل جوتا۔”وغیرہ مہاراشٹر کے نئے افسانوں میں اوًلیت حاصل ہے۔
بیسویں صدی کے آخر دہائی میں مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں میں موضوعات کی ایکسانیت اور مروجہ افسانوی اسلوب کے خلاف آواز بلند کی اور اِس کہانی کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے جس میں دل کی دھڑکنیں کی صدا واضح طور پر سنی جا سکے اور کہانی روح کی تسکین کا ذریعہ بن سکے ۔ جس میں شہری زندگی بسر کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی آرزوئیں اور تمنائیں انگڑایاں لے رہی ہوں اور معاشرے کے ایک ایک پہلوؤں کو اُجاگر کر سکے۔ جہاں کہانی کے اسلوب کے زیر اثر افسانوی ادب میں ملتی ہے۔
مہاراشٹر کی اُردو افسانہ نگاری نے اپنا رخ بدلا تو اپنے گردیش رو افسانہ نگاروں کے مشابہ تھا۔جدیدیت کا منحرف جس کے نتیجے میں ایک ایسے افسانے کا نام سے منسوب کیا جو کہ افسانہ نگاروں نے جہاں تک ایک فطری کہانی پن کے انحراف کو دور کیا دوسری طرف علامتی افسانوں کی با معنویت گیرائی اور گہرائی کو اپنے افسانوں میں جگہ دی نئے افسانے کی کامیابی کا سہرا سلام بن رزاق کے سر پر ہے۔ مہاراشٹر کے دوسرے افسانے نگاروں نے بھی اسی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں کی مستحکم بنیاد اِنھیں افسانہ نگاروں کی کوشش اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ عصر حاضر کے مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں میں سلام بن رزاق ،انور قمر، ساجد رشید، انور خان، نور الحسنین، حمید سہروری، مقدر حمید سید ،محمد اشرف، معین الدین امین، آرا بانو سرتاج، احمد عثمان ،ایم مبین، عارف خورشید، مشتاق، مومن قاضی مشتاق ،محمد ایوب علی ،امام نقوی، مظہر سلیم، اشتیاق سعید رحمان عباس مشتاق، رضا، عظیم راہی، م ناگ، طارق کولا پوری، اور برق مرزا، وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں ۔
مہاراشٹر میں مجموعی طور پر اُردو افسانہ نگاری کا جائزہ لیں تو اس کا بخوبی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے افسانہ نگاروں نے اپنے اطراف و اکناف میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کی مکمل عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے۔ جس میں معمولی افراد بھی ہیں۔ انتظامیہ کی بد نظامی بدعنوانی اور عدم تحفظ کا محبوب موضوع بھی رہا ہے۔
سلام بن رزاق کا شمار مہاراشٹر میں ہی نہیں بلکہ اُردو ادب کے اعلی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے اور عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں اِن کا مقام بلند ہے بقول نور الحسنین : "افسانے کے امانت کا تاج ہے۔”
سلام بن رزاق کے افسانوں کا موضوع انسانی رشتے اِن رشتوں کا احترام، استحصال سیاسی، انسان کی سماجی بندش ، اِن کی لاچاری مجبوری بے بسی اور ان سے آزاد ہونے کی تڑپ وغیرہ اِن کا پسندیدہ موضوعات رہے ہیں ۔سلام بن رزاق متواسط طبقے کے لوگوں کے مسائل کو اپنے افسانوں میں بڑی دلکش اندا ز میں پیش کیے ہیں۔وہ اِن کے ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں کو کھنگالتے ہیں "بہت پیٹا” "ایک اور شروان کمار” "البم”وغیرہ ان کے اہم افسانے ہیں سلام بن رزاق جب معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں چاپلوسی مکاری تنگدستی تنگ نظری مذہبی جنون مصلحت کوشی اور خود غرضی چاروں طرف نظر آتی ہے۔
مہاراشٹر کے اہم افسانہ نگاروں میں انور قمر کا شمار اُردو ادب کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے اِن کے افسانوں میں روایت اور جدیدیت کا حسین ترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔اِن کا وسیع مطالعہ کی بنیاد پر ہے وہ افسانوں میں موضوعات میں ندرت کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن پر دوسرے افسانہ نگاروں کی نظر نہیں پڑتی اِن کے افسانوں کا محور مرکز کمزور طبقات کے ذبوں حالی، محرومی، اخلاقی زوال کے باعث پیدا ہونے والی خلا اور استحصال وغیرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افسانوں میں معنوی تہہ داری نظر آتی ہے۔ اِن کے افسانوں میں قیدی "ہاتھوں کی باڑ” "چاندنی کے سپرد” "کابلی والے کی واپسی” ” چو پال میں سنایا ہوا واقعہ "وغیرہ کا شمار اِن کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر انور قمر شہری زندگی کے افسانہ نگار ہیں ۔اِن کا افسانہ” ڈر اور "چوراہے پر ٹنگا ادمی” ہے جس میں آج کے دور میں شہری زندگی میں انسان کی ناقدری کے المیہ کو پیش کیا گیا ہے۔ اِن کا افسانہ "فضول کا غذ میں ملے تین خط” کو اُردو ادب میں بہت سرہایا گیا ہے۔ جس میں اُنہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہجرت کے کرب کو موضوع بنایا ہے۔
مقدر حمید کے افسانے گہرے تجربات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔اِن کا افسانہ "محفوظ راستوں کی تلاش”میں ایسے افراد کی کہانی ہے جو کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن اِنہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہاں کے خوف کی وجہ سے ہجرت کر چکے ہیں اِن کا افسانہ” زربیل” میں دولت کے پوجاریوں کی عبرت ناک کہانی بیان کی گئی ہے ۔ افسانہ” فریم سے باہر کی تصویر” میں مردوں کی بے راہ روی اور دوسری عورتوں سے آسودگی حل کرنے کے بُر ے نتائج کی طرف اشارہ ہے۔
اِس طرح مہاراشٹر کے اہم افسانہ نگاروں میں انور خان، احمد عثمانی، اشتیاق احمد، عظیم راہی، قاضی مشتاق، محمد اشرف، اقبال نیازی، علی امام نقوی ،معین الدین عثمانی، محمود ایوبی، عارف خورشید، فیروز فیاض، مظہر سلیم، بانو سرتاج ،ان تمام افسانہ نگاروں کے افسانوں کو اُ ردو ادب نے بہت سراہا ہے۔ اِن کے افسانے قابل تعریف ہیں۔
Post Views: 51
Like this:
Like Loading...