Skip to content
مشرق وسطیٰ کے بعد جرمنی سے بھی اڈے خالی ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مشرق وسطیٰ کو امریکی فوجی اڈوں سے پاک کرنے کے لیے ایران کو بہت محنت کرنی پڑی مگر جرمنی سے تو امریکہ بلا مزاحمت پتلی گلی سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اپنے تقریباً پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کی باقاعدہ تصدیق پینٹاگون نے بھی کر دی ہے۔ اس پر جرمنی نے بھی سوچا ہوگا ’خس کم جہاں پاک ‘ اس لیے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ لوگ کوئی اور تو دور اسرائیل تک حفاظت نہیں کرسکے تو ان ہونا کیا اور جانا کیا ؟پینٹاگون کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر اس انخلا کے احکامات جاری کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ یورپ میں امریکی فوجی تعیناتی کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق یہ انخلا مرحلہ وار کیا جائے گا اور آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہوگا، جس کے تحت امریکی فوجی دستے بتدریج جرمنی سے واپس بلائے جائیں گے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کو حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ پالیسی اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ویسے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے جرمن قیادت کو ایران جنگ سے متعلق بیانات پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا، جس کے بعد یہ اقدام مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ٹرمپ فی الحال ایران میں کامیابی سے مایوس ہوچکے ہیں ۔ اس لیے کبھی جرمنی تو کبھی کیوبا کی بات کرتے ہیں۔ ایران جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو شروع ہوگئی ہے۔ فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ اس خوش فہمی کا شکار ہیں اس بڑے جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکہ اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔ امریکی انتظامیہ نے کیوبا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ جن کے تحت کیوبا کی حکومت، اس کے سیکیورٹی اداروں اور ان سے وابستہ افراد و اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق بدعنوانی یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث لوگوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی ۔امریکہ کی جانب سے کیوبا میں توانائی، دفاع، مالیاتی خدمات، دھاتوں اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے ان امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کو جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا یہ رویہ نہ صرف دھمکی آمیز ہے بلکہ کیوبا کے عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی بن رہا ہے۔ اسی طرح کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے بھی امریکی پابندیوں کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا کے عوام ان دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ اپنی ان بدکاریوں کے چھپانے کی خاطر ٹرمپ خود پر حملہ کرواتے ہیں اور بال بال بچ جاتے ہیں اور جب یہ ہوتا دنیا اس پر توجہ نہیں دیتی مگر مودی اور نیتن یاہو چین کا سانس لیتے ہیں ؟ اس کی بھی خاص وجہ ہے۔ آخری حملہ آور ٹامس کے ذریعہ اگر ٹرمپ کے ساتھ کچھ اونچ نیچ ہوجاتا تو امریکہ میں ٹرمپ کے بدمزاج حامی یہودیوں اور ہندوستانیوں کا جینا دوبھر کردیتے۔ فی زمانہ مودی جی اور نیتن یاہو کے چین کا سانس لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح ہندوستان میں ممتا بنرجی اور راہل نے مودی کا چین غارت کررکھا ہے۔ اسی طرح اسرائیل میں سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپیڈ نے حملے کے وقت اپنی سیاسی جماعتوں کے انضمام کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی جماعت ’’ٹوگیدر‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنا ہے۔دونوں رہنماؤں کے مطابق وہ مختلف نظریات کے باوجود نیتن یاہو کی مخالفت پر متفق ہے اوربینیٹ نئی جماعت کی قیادت کریں گے۔
اسرائیلی سیاست میں رونما ہونے والا یہ نیا اتحاد 30 سال کے بعد نیتن یاہو کو اقتدار سے پوری طرح بے دخل کرکے اسرائیل کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے یعنی ’رجیم چینج ‘اب ایران میں نہیں اسرائیل میں ہونے کے روشن امکانات ہیں ۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد اکتوبر 2026 کے اندرمنعقد ہونے والے عام انتخابات میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو شکست دینا ہے۔اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے بینیٹ اور لاپیڈ نےکہا کہ اپنے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے ایک’’اہم اور محب وطن قدم‘‘ اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر لاپیڈ نے کہا کہ اگرچہ بینیٹ دائیں بازو کے سیاستدان ہیں، تاہم وہ دیانتدار ہیں اور دونوں کے درمیان اعتماد موجود ہے۔لاپیڈ کے مطابق اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کا خاتمہ کر کے تمام توجہ آئندہ اہم انتخابات میں کامیابی پر مرکوز کرنا ہے۔اس اتحاد کا تعلق صرف انتخابی ہار جیت تک محدود نہیں ہے بلکہ بینیٹ نے اعلان کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آگئے تو 7؍ اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے قبل ہونے والی سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے قومی کمیشن قائم کریں گے، جسے موجودہ نیتن یاہو حکومت مسترد کر چکی ہے یعنی بدعنوانی کے علاوہ ایک اور مصیبت نیتن یاہو کو جیل بھیجنے کی منتظر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملوں کی جانب لوٹیں تو ان کا موقع اور محل(ٹائمنگ) سیاسی اعتبار سے بہت اہم معلوم ہوتا ہے۔ان پر پہلا حملہ جولائی 2024میں پنسلوانیا ریلی کے دوران ہوا۔ دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے سے تین ماہ قبل یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔ 14 جولائی 2024 کو شام ۶؍ بجے بٹلر کاؤنٹی میں ایک انتخابی جلسے کے دوران جب ٹرمپ ہجوم سے خطاب کر رہے تھے، تو کم از کم پانچ گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ نیچے جھک گئے جبکہ امریکی سیکرٹ سروس کے متعدد اہلکار انہیں بچانے کے لیے اسٹیج پر دوڑ پڑے۔چند منٹ بعد، اہلکاروں نے انہیں اٹھنے میں مدد دی اور اسٹیج سے ان کے قافلے تک لے گئے، اس دوران ان کے دائیں کان پر خون نمایاں تھا اور چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔ فائرنگ میں وہ معمولی سے زخمی ہوگئے مگر انتخاب میں انہوں نے اس کاممتا بنرجی کے زخمی پیر کی مانند خوب فائدہ اٹھایا۔ سیکرٹ سروس نے پنسلوانیا ریلی سے تو ٹرمپ کو فوری طور پر ہٹا دیا اورفائرنگ کے چند سیکنڈ میں مٹھیاں لہراتے ہوئے ہجوم کی طرف ’’Fight!‘‘ چلاتا ہوا دکھائی دینے والے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (FBI) نے بعد میں حملہ آور کی شناخت پنسلوانیا کے 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس کے طور پر کی۔ اتفاق سے وہ بھی خالص یہودی تھا۔ اس معمولی ملازم کو گرفتار کرکے تفتیش کی جاتی تو اصل وجہ سامنے آتی مگر ہلاک کرکے فائل بند کردی گئی۔
امریکی انتخابات بالکل سر پر آگئے تو 15؍ ستمبر 2024کو جب ٹرمپ اپنے دوست اور موجودہ ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ اپنے گولف کورس میں ہول پانچ اور چھ کے درمیان جا رہے تھے تو اس وقت گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔کھیل فوری طور پر بند کر دیا گیا۔اس کے بعد ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ نے کورس کے کنارے جھاڑیوں میں بندوق کی نالی دیکھی۔ متعدد افسران نے اس پر کم از کم چار راؤنڈ فائر کیے۔ ملزم کی شناخت 58 سالہ رائن ویسلے راؤتھ کے طور پر کی گئی۔امسال فروری میں، راؤتھ کو ٹرمپ کے قتل کرنے کی سازش کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔اس حملے نے ٹرمپ کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہ سلسلہ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد بھی جاری رہا۔ ستمبر 2025میں جب اپسٹین فائلس میں ٹرمپ کا نام آیا تو نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کے ڈیوٹی سے فارغ پولیس اہلکار میلوِن اینگ نیو یارک میں رائیڈر کپ گولف ٹورنامنٹ میں اچانک نمودار ہوگیا ۔
میلون چونکہ تعطیل پر ہونے کے باوجود مسلح اور مکمل ٹیکٹیکل گیئر میں ملبوس، ٹرمپ کی سیکیورٹی ٹیم کا حصہ ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا ۔ صدر کی سیکیورٹی ٹیم کا حصہ بننے کے لیے میلوِن کی کوئی سرکاری تعیناتی نہیں تھی اس لیے اسے معطل کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔ ایران پر حملے سے قبل فروری 2026 کو ٹرمپ کے گھر کی سیکیورٹی حدود توڑنے کے بعد مسلح21 سالہ آسٹن ٹکر مارٹن نےفلوریڈا میں ٹرمپ کے ریزورٹ میں اپنی گاڑی گھسا دی تو محافظوں نے اسے ہلاک کردیا۔ حالیہ حملے کی بات کریں تو اس کی آواز سب سے پہلے ٹرمپ کی زوجہ نے سنی ۔میلانیا کے بارے میں نجو میوں کی پیشنگوئی ہے کہ وہ نومبر تک ٹرمپ کو چھوڑ سکتی ہیں۔ یہ تو ایک خانگی مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگ میں امریکی شکست نے ٹرمپ کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ ٹرمپ کے سامنے آئین کی 25ویں ترمیم بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور اِپسٹین فائلس تو صدا بہار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ پر حالیہ جان لیوا حملہ کیا انہیں ان ساری مشکلات سے نجات دلا سکے گا؟ اس قبل تو جان لیوا حملوں نے ان کاسیاسی فائدہ ہی کیا ہے ۔ اس بار پھر وہی کہانی دوہرائی جائے گی، یا کچھ اور ہوگایہ تو وقت ہی بتائے گا ۔خیر جب تک ٹرمپ بر سرِ اقتدار ہیں اس طرح کے تماشے ہوتے رہیں گے۔
( انتخابی نتائج پر تبصرہ کل ان شاءاللہ)
Post Views: 81
Like this:
Like Loading...