Skip to content
عآپ اراکین کی حکمراں جماعت میں شمولیت.
انحراف یا انضمام۔ آئین، سیاست اور اصولوں کی کشمکش
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
جمہوریت کو اگر محض ووٹوں کی گنتی تک محدود کر دیا جائے تو اس کی اصل روح مدھم پڑ جاتی ہے، کیونکہ جمہوریت درحقیقت اُن اقدار کا نام ہے جو اجتماعی شعور، سیاسی دیانت اور آئینی وفاداری سے جنم لیتی ہیں۔ جب یہ بنیادیں کمزور ہونے لگیں تو جمہوری ڈھانچہ بظاہر قائم رہتے ہوئے بھی اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر قانون کی تحریر اور آئین کی روح کے درمیان ایک خاموش مگر گہری کشمکش جنم لیتی ہے، جس کا فیصلہ اکثر الفاظ کے پسِ منظر میں پوشیدہ مفاہیم میں مضمر ہوتا ہے۔
بعض حالات میں منتخب نمائندے اپنی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی کو اپنے حلقے کی ترقی اور عوامی مفاد کے نام پر جائز ٹھہراتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں سیاسی منظرنامہ ایک اور جہت بھی سامنے لاتا ہے، جہاں بعض اراکین احتسابی اداروں کے دباؤ یا ممکنہ خدشات کے زیرِ اثر اپنی سیاسی راہیں تبدیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں وفاداریوں کی یہ تبدیلی محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں رہتی بلکہ ایک عملی مجبوری کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس تناظر میں حکمراں جماعت میں شمولیت بعض کے لیے تحفظ کی علامت بن جاتی ہے، جبکہ دیگر کے نزدیک یہی عمل جمہوری اقدار پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے۔
اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین اس عمل کی تعبیر بھی یکساں نہیں رہتی۔ کہیں اسے حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر ایک عملی فیصلہ کہا جاتا ہے اور کہیں اسے اصولی کمزوری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یوں وابستگیوں کی یہ تبدیلی کبھی سیاسی بقا کی حکمتِ عملی محسوس ہوتی ہے اور کبھی ایک خاموش دل بدلی، جو طویل سفر کے بعد ایک غیر متوقع مگر مانوس واپسی کا تاثر دیتی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہی رہ جاتا ہے کہ آیا یہ واپسی واقعی ایک شعوری انتخاب ہے یا محض حالات کے جبر کا نتیجہ۔
۲۴اپریل ۲۰۲۶کی سیاسی پیش رفت نے ایک بار پھر ہندوستان کے انسدادِ انحراف قانون کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا، مگر اس بار معاملہ محض وقتی سیاست تک محدود نہیں بلکہ آئینی اصولوں کی گہرائی تک پہنچتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تاریخ کی ایک علامتی اہمیت بھی ہے، کیونکہ اسی تاریخ کو ۱۹۷۳میں سپریم کورٹ نے کیسوانندا بھارتی مقدمے میں وہ تاریخی فیصلہ دیا تھا جس کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے کا نظریہ متعارف ہوا۔ یہی نظریہ آج بھی جمہوریت سمیت آئین کی بنیادی روح کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں عام آدمی پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی صورتِ حال ایک نئی آئینی بحث کو جنم دیتی ہے۔ بظاہر یہ معاملہ چند اراکین کی جماعتی تبدیلی کا ہے، مگر اس کے باطن میں ایک اہم سوال پوشیدہ ہے: کیا جمہوریت میں فیصلہ کن حیثیت صرف عددی برتری کو حاصل ہے، یا اصولی وابستگی ہی اس کی اصل روح ہے؟ جب منتخب نمائندے اپنی سیاسی سمت متعین کرتے ہیں تو یہ محض ایک وقتی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ عوامی مینڈیٹ، جماعتی نظم اور آئینی توازن کے درمیان ایک نازک مگر اہم کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی کشمکش اس معاملے کو ایک سادہ سیاسی واقعے سے بلند کر کے ایک فکرانگیز آئینی بیانیے میں تبدیل کر دیتی ہے۔
سیاسی جماعت(پولیٹیکل پارٹی ) اور مقننہ جماعت (لیجسلیچر پارٹی) میں فرق:
سیاسی جماعت ایک وسیع تنظیم ہوتی ہے جس میں اس کے تمام اراکین اور حامی شامل ہوتے ہیں، جبکہ مقننہ جماعت صرف اسی جماعت کے منتخب نمائندوں (ایم پیز/ایم ایل ایز) پر مشتمل ہوتی ہے جو کسی مخصوص ایوان میں موجود ہوں۔
سیاسی جماعت کا کام نظریہ، پالیسی کی سمت اور تنظیمی ڈھانچے کو قائم رکھنا ہوتا ہے، جبکہ مقننہ جماعت کا کردار مقننہ (پارلیمنٹ یا اسمبلی) کے اندر رہتے ہوئے انہی پالیسیوں کو عملی شکل دینا اور قانون سازی کے عمل میں حصہ لینا ہوتا ہے۔
آئین واضح کرتا ہے کہ مقننہ جماعت دراصل سیاسی جماعت کی توسیع ہے، نہ کہ اس کے برابر کوئی خودمختار ادارہ ،عدالتیں بھی اس اصول کی توثیق کر چکی ہیں کہ ان دونوں کو یکساں سمجھنا آئینی ڈھانچے کے مغائر ہوگا۔
ہندوستان میں انسدادِ انحراف قانون: تاریخی ارتقا، آئینی ساخت اور عملی چیلنجز:
ہندوستانی جمہوریت میں سیاسی انحراف ایک دیرینہ مسئلے کے طور پر ابھرا، جس کی نمایاں مثال ۱۹۶۷ کے بعد سامنے آنے والا آیا رام، گیا رام کا رجحان ہے۔ اس طرزِ سیاست نے نہ صرف منتخب ایوانوں کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ حکومتوں کے استحکام کو بھی مسلسل خطرات سے دوچار رکھا۔ وفاداریوں کی بار بار تبدیلی اور جماعتی وابستگیوں سے انحراف نے جمہوری نظام کی روح یعنی عوامی مینڈیٹ کو کمزور کر دیا۔ اسی پس منظر میں ایک مضبوط آئینی بندوبست کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔
اس ضرورت کے پیشِ نظر ۱۹۸۵ میں ۵۲ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینِ ہند میں دسویں شیڈول شامل کیا گیا، جو انسدادِ انحراف قانون کی بنیاد ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ان غیر اصولی سیاسی رویوں کا سدباب کرنا تھا جو حکومتوں کے عدم استحکام کا سبب بن رہے تھے۔ اس کے تحت وہ قانون ساز اراکین نااہلی کے مستوجب قرار پاتے ہیں جو اپنی جماعت کی رکنیت ترک کریں یا جماعتی ہدایات، خصوصاً وہِپ، کے برخلاف عمل کریں۔ یوں یہ قانون ایک طرف جماعتی نظم و ضبط کو مضبوط کرتا ہے اور دوسری جانب عوامی اعتماد کے تحفظ کی کوشش کرتا ہے۔
ابتدائی طور پر دسویں شیڈول میں دو طرح کے استثنا موجود تھے تقسیم اور انضمام۔ تقسیم کی شق کے تحت اگر کسی جماعت کے ایک تہائی اراکین علیحدہ ہو جاتے تو وہ نااہلی سے بچ سکتے تھے، مگر اس سہولت کا وسیع پیمانے پر غلط استعمال ہوا، جس کے نتیجے میں قانون اپنی افادیت کھونے لگا۔ چنانچہ ۲۰۰۳ میں ۹۱ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تقسیم کی شق کو ختم کر دیا گیا اور یوں صرف انضمام کو ہی نااہلی سے استثنا کا واحد آئینی راستہ باقی رکھا گیا۔
دسویں شیڈول کا پیراگراف ۴ ‘ انضمام کے اس استثنا کی وضاحت کرتا ہے، جو بظاہر دو بنیادی شرائط پر مشتمل ہےاول، اصل سیاسی جماعت کا کسی دوسری جماعت میں باضابطہ انضمام۔دوم، مقننہ پارٹی کے کم از کم دو تہائی اراکین کی اس فیصلے کی تائید۔
یہ دوہرا معیار ایک اہم آئینی توازن قائم کرتا ہے، جس میں جماعتی سطح کا ادارہ جاتی فیصلہ اور منتخب نمائندوں کی عددی حمایت باہم مربوط رہتی ہے، تاکہ محض وقتی اکثریت یا سیاسی جوڑ توڑ کو قانونی جواز نہ مل سکے۔
تاہم عملی سیاست میں اس توازن کو بارہا چیلنج کیا گیا ہے۔ متعدد مواقع پر انضمام کی حقیقی روح، یعنی جماعتی سطح پر فیصلہ، کو نظر انداز کر کے صرف عددی اکثریت کو کافی سمجھ لیا گیا، جس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ آیا قانون کی تعبیر محض عددی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے یا اس میں جماعتی ڈھانچے اور نظریاتی تسلسل کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
مزید برآں، دسویں شیڈول کے نفاذ میں اسپیکر یا چیئرمین کا کردار نہایت اہم ہے، جنہیں پیراگراف ۶ کے تحت نااہلی کے مقدمات میں فیصلہ کن اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ ابتدا میں یہ اختیار تقریباً مطلق سمجھا جاتا تھا، مگر بعد ازاں عدلیہ نے اس پر حدود عائد کیں اور واضح کیا کہ ایسے فیصلے عدالتی نظرثانی سے بالاتر نہیں۔ اس کے باوجود فیصلہ سازی میں تاخیر اور ممکنہ جانبداری جیسے مسائل بدستور باقی رہے۔
کیہوٹو ہولوہان بنام زچیلهو (1992)میں سپریم کورٹ نے دسویں شیڈول کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا اور جمہوری استحکام کو برقرار رکھنے میں اس کے کردار کو اجاگر کیا۔ اسی طرح ایس۔ آر۔ بومّائی بنام یونین آف انڈیا (1994) اور کلدیپ نیر بنام یونین آف انڈیا (2006)میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سیاسی جماعتیں ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کا مرکزی حصہ ہیں، اور انسدادِ انحراف (اینٹی ڈیفیکشن) قانون اسی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دسویں شیڈول کی کوئی بھی تشریح اسی مقصد کے مطابق ہونی چاہیے انحراف کی حوصلہ شکنی کرنا، نہ کہ اسے جائز قرار دینا۔
راگھو چڈھا اور راجیہ سبھا کے دیگر چھ اراکین کی جانب سے عام آدمی پارٹی سے علیحدگی اور حکمراں جماعت کے ساتھ انضمام کا اعلان ایک ایسا واقعہ ہے جس نے انسدادِ انحراف قانون کی بنیادوں کو ازسرِ نو غور و فکر کا موضوع بنا دیا ہے۔ ان اراکین کا مؤقف ہے کہ وہ دسویں شیڈول کے پیراگراف ۴ کے تحت قانونی تحفظ کے مستحق ہیں، کیونکہ ان کی تعداد مقننہ پارٹی کے دو تہائی کے مساوی ہے۔ بظاہر یہ دلیل آئینی متن سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے، تاہم معاملہ محض عددی تقاضوں تک محدود نہیں رہتا۔
اگرچہ یہ اراکین عددی اعتبار سے مطلوبہ حد پوری کرتے ہیں، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا جماعتی منظوری کے بغیر ایسا اقدام آئینی طور پر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ آئینی متن کا باریک بینی سے جائزہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل سیاسی جماعت کی شمولیت اس عمل کے لیے ناگزیر ہے اس کے بغیر انضمام کا تصور ادھورارہ جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے سبھاش دیسائی بنام پرنسپل سکریٹری، گورنر مہاراشٹرا(۲۰۲۳) میں واضح کیا کہ مقننہ پارٹی اپنی بنیادی سیاسی جماعت سے الگ ہو کر خودمختارانہ فیصلے نہیں کر سکتی، کیونکہ ایسا کرنا انسدادِ انحراف قانون کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ محض عددی اکثریت کسی جماعت کی شناخت یا اس کی پالیسیوں کا تعین نہیں کر سکتی، بلکہ اصل اختیار سیاسی جماعت کے تنظیمی ڈھانچے میں مضمر ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں مقدمہ گریش چودانکر بنام اسپیکر، گوا قانون ساز اسمبلی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا انضمام کے لیے سیاسی جماعت اور مقننہ پارٹی کے اراکین دونوں کی سطح پر اتفاق ضروری ہے یا صرف اراکین مقننہ کی اکثریت ہی کافی سمجھی جا سکتی ہے۔ متوقع طور پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اس ابہام کو دور کرتے ہوئے انسدادِ انحراف قانون کو اس کے حقیقی مقصدموقع پرستانہ سیاسی انحراف کی روک تھام کے مطابق واضح سمت فراہم کرے گا۔
فی الوقت اس معاملے کا فیصلہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کے اختیار میں ہے، جو یہ طے کریں گے کہ آیا یہ اقدام واقعی انضمام کے زمرے میں آتا ہے یا انحراف کے۔ اس دوران ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے، جہاں یہ اراکین عملی طور پر ایک جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں مگر قانونی طور پر دوسری جماعت سے وابستہ تصور کیے جاتے ہیں۔
آخرکار یہ معاملہ ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہےکیا جمہوریت کی اصل قوت محض اکثریت میں مضمر ہے، یا وہ اصول ہیں جو اس اکثریت کو جواز اور معنی عطا کرتے ہیں؟ غالباً اسی سوال کے جواب میں اس پورے قضیے کا حل پوشیدہ ہےاور یہی وہ مقام ہے جہاں قانون، سیاست اور اخلاقیات ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتے نظر آتے ہیں۔
Post Views: 50
Like this:
Like Loading...