Skip to content
بنگال کے الیکشن میں ہار اور جیت —ایک سوالیہ نشان
کِتنے عوامل کار گر ثابت ہوئے؟
ازقلم:عبدالعزیز
2021ء میں مغربی بنگال کے اسمبلی الیکشن میں ترنمول کانگریس کی ووٹ کی حصہ داری بی جے پی سے دس فیصد زیادہ تھی۔ حالیہ الیکشن میں بی جے پی کے ووٹ کی حصہ داری ترنمول کے مقابلے میں 5%فیصد زیادہ ہے۔ 2021ء کے انتخابی نتائج کے فوراً بعد ممتاز صحافی مسٹر سوپن داس گپتا نے جن کے نام کا چرچا بھی نئے وزیر اعلیٰ کے لئے ہورہا ہے، اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’مغربی بنگال میںبھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن میں اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب ہندوؤں کا ووٹ اسے 50%سے زیادہ ملے‘‘۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے سوپن داس گپتا کی بات گرہ میں باندھ لی اور اس پر کام کرنا شروع کر دیا۔ 2017ء میں آر ایس ایس نے اپنی ایک قرارداد میں کہا تھا کہ ’’بنگلہ دیش سے مغربی بنگال میں دراندازی (گھس پیٹھ) بڑے پیمانے پر ہورہی ہے جس سے بنگال کے جغرافیہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے‘‘۔ بنگلہ دیش سے در اندازی کی حقیقت محض ایک پروپیگنڈا تھا، مگر بی جے پی نے 2026ء کے اسمبلی الیکشن کے لئے ایک مسئلہ بناکر پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ہندستان کے مشہور سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ ’’ساڑھے چار فیصد ووٹ ووٹر لسٹ سے SIRکے ذریعے کاٹے گئے اور ایک فیصد ووٹرس پُراسرار طریقے سے ووٹرلسٹ میں شامل کئے گئے، یعنی 27لاکھ نام ہٹائے گئے اور 6لاکھ نام جوڑے گئے۔ دونوں کی فیصد کو ملا دیا جائے تو ساڑھے پانچ فیصد مجموعی طور پر ہوتا ہے۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ساڑھے پانچ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں تو اس کی جیت کہی جاسکتی ہے لیکن اگر اسے اس سے کم فیصد ووٹ ملے ہیں تو وہ جیت الیکشن کمشنر کی ہوگی، بھارتیہ جنتا پارٹی کی نہیں‘‘۔ یوگیندر یادو نے یہ بات بھی کہی ہے کہ ’’مغربی بنگال کے الیکشن میں چار عوامل (Factors) کارگر ثابت ہوئے۔ نمبر ایک ممتا بنرجی حکومت کے خلاف غصہ، نمبر دو مرکزی حکومت کا ممتا حکومت کے کاموں میں رکاوٹیں پیدا کرنا، تیسری وجہ ہندو/مسلم کے نام پر پولرائزیشن اور چوتھی وجہ SIR اور الیکشن کمشنر کی طرف سے بی جے پی کی ہر طرح سے مدد‘‘۔
میرے خیال سے مسٹر یوگیندر یادو نے جو عوامل ممتا بنرجی کی ہار کے بتائے ہیں ان کے علاوہ بہت سے دیگر عوامل بھی ممتا حکومت کے لئے درپیش تھے، لیکن چار عوامل واقعی زیادہ کارگر ثابت ہوئے۔ ذیل میں وضاحت پیش خدمت ہے۔
غـصـہ: ممتا بنرجی کو حکومت کرتے ہوئے پندرہ سال ہوگئے تھے ۔ پارٹی کے اندر غنڈوں کی تعداد اچھی خاصی ہوگئی تھی جو اپنے مفاد کے لئے ہر قسم کے تشدد پر آمادہ رہتے تھے۔ نیچے سے اوپر تک متشدد عناصر کا دبدبہ تھا۔ سنڈیکیٹ بھی آہستہ آہستہ پارٹی پر اثر انداز ہونے لگے تھے۔ محلہ یا بستی میں کوئی بھی تعمیری کام ہوتا تو غنڈہ ٹیکس وصولنے کے لئے سرگرم عمل ہوجاتے تھے۔ تشدد کی وارداتیں بھی زیادہ سے زیادہ ہونے لگی تھیں۔ شہروں میں بھی ترنمول کانگریس کے کارکنان یا لیڈر شرپسندی کا مظاہرہ کرتے تھے، لیکن دیہاتوں میں کچھ زیادہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہونے لگے تھے۔ اس سے پارٹی بدنام ہوتی گئی۔ کانگریس اور سی پی ایم کو نیست و نابود کرنے کے لئے بھی ترنمول کانگریس نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ مذکورہ دو پارٹیوں کے مقابلے میں بی جے پی سے ترنمول کانگریس کم سختی کا مظاہرہ کرتی تھی جس سے سی پی ایم اور کانگریس کمزور ہوتی چلی گئی ، اپوزیشن کی جگہ خالی ہوگئی۔ بی جے پی آہستہ آہستہ اس جگہ کو پُر کرنے کے قابل ہوگئی۔
تین چار سال پہلے سابق وزیر تعلیم مغربی بنگال پارتھو چٹرجی سے ملی الامین کالج کے مسئلے کے حل کے لئے محترمہ ممتا بنرجی کے مشورہ پر خاکسار نے ایک ملاقات میں سابق وزیر تعلیم سے سوال کیا تھا کہ ’’ترنمول کانگریس کی حکمت عملی کچھ اس طرح ہوگئی ہے کہ بی جے پی کو Space (جگہ) دے رہے ہیں اور سی پی ایم اور کانگریس کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا عروج مغربی بنگال میں ہوتا جارہا ہے۔ موصوف نے جواب میں کہاکہ ’’سی پی ایم اور کانگریس جو جگہ خالی ہوئی ہے حقیقت میں وہ جگہ بی جے پی پُر کر رہی ہے۔ ‘‘ حالیہ الیکشن میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنی ایک انتخابی تقریر میں کہا کہ ’’بی جے پی کی حکومت مغربی بنگال میں بالکل ہونی نہیں چاہئے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کی وزیر اعلیٰ بی جے پی کو مغربی بنگال میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر رہی ہیں‘‘۔ خاکسار کے علاوہ دیگر صحافیوں نے بھی اپنے مضامین میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ محترمہ ممتا بنرجی نے ہی بی جے پی کو بنگال میں پاؤں جمانے کا موقع دیا۔ شری اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں وزیر ریلوے کے عہدہ پر فائز تھیں۔ 2006ء میں بی جے پی کے ساتھ مل کر مغربی بنگال کے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
مرکزی حکومت کی رکاوٹیں : اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت مغربی بنگال کے لئے جو حصہ دینا چاہئے تھا، بار بار مطالبے کے باوجود انکار کرتی رہی۔ اس کی وجہ سے مغربی بنگال میں بہت سی مرکزی اسکیموں کا چلایا جانا ممکن ہی نہیں تھا۔ بہار میں الیکشن کے اعلان کے بعد بھی بہار کی ملی جلی سرکار غریب خاتون کے کھاتے میں ووٹوں کو خریدنے کے لئے دس دس ہزار روپئے دیئے۔ مغربی بنگال کی حکومت پیسے کی وجہ سے یہ قدم نہیں اٹھاسکی۔
پولرائزیشن: الیکشن میں بی جے پی کے ہر لیڈر نے آر ایس ایس کے بتائے ہوئے ایجنڈے کے مطابق ہندوؤں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے مسلم دشمنی کی باتیں حد سے زیادہ کرتے تھے۔ ان میں سب زیادہ سوبھندو ادھیکاری پیش پیش تھے۔ پارٹی اور الیکشن کمیشن کی طرح سے اس کو کھلی چھوٹ ملی تھی ۔ ہر طرح کی دشمنی کی باتیں مسلمانوں کے خلاف کرتے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اور ہمنتا بسوا سرما نے بھی کوئی کمی نہیں کی ہندو مسلم کے نام پر پولرائزیشن کرنے میں لگے رہے ۔ مودی اور شاہ ان سب کے گرو تھے یہ لوگ بھی چیلوں سے بڑھ کر مسلم دشمنی کو ہوا دیتے۔ مختصراًیہ کہ بنگال میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے میں بی جے پی بہت حد تک کامیاب ہوگئی۔
ایس آئی آر اور الیکشن کمشنر: SIR کا عمل اور ریاستوں میں بھی ہوا لیکن جس طرح کی دھاندلی اور لاقانونیت سے مغربی بنگال میں ہوئی کسی ریاست میں نہیں کی گئی۔ الیکشن سے پہلے دو تین مہینے پہلے ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا۔ پورے مغربی بنگال میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگ ووٹر لسٹ میں اپنے نام شامل کرنے کے لئے دوڑ بھاگ کرتے رہے۔ ترنمول کانگریس اس معاملے میں بہت زیادہ کوشش کرتی رہی کہ ووٹر لسٹ سے ووٹروں کو ہٹایا نہیں جائے۔ اس کے لئے بار بار سپریم کورٹ کا دروازہ ترنمول کانگریس کے وکلاء کھٹکھٹاتے رہے، یہاں تک کہ ممتا بنرجی نے بھی سپریم کورٹ میں الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف SIR کے ذریعے ووٹروں کے نام غلط طریقے سے ہٹائے جانے پر دلائل پیش کئے۔ وکلاء یا ممتا بنرجی کی طرف سے تمام کوششوں کے باوجود سپریم کورٹ کی ہدایتیں یا فیصلے مبنی بر انصاف نہیں ہوتے تھے۔ آخر میں 27 لاکھ لوگوں کے نام سے ووٹر لسٹ سے ہٹادیئے گئے۔ دو ججوں کے پینل کے جج نے خودیہ دلیل دی اگر ووٹر لسٹ سے دس فیصد ووٹرس ہٹائے گئے ہیں اور امیدوار کی کامیابی محض پانچ فیصد کے مارجن سے ہے تو یہ تشویشناک ہے۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ SIR مسلمانوں کے خلاف Targated تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بی جے پی مسلمانوں کے بارے میں طے کرچکی تھی کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے ، اس لئے ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے نام ہٹانا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے جج صاحب نے یہ بات کہی تھی کہ ہٹائے گئے ووٹرس کے مقابلے میں کم مارجن سے اگر کوئی امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو قابل تشویش ہے۔ یہ بہت سے حلقہائے انتخاب میں ہوا۔ مثلاً بھوانی پور اسمبلی حلقہ میں جو نام ہٹائے گئے ان میں 50% سے زیادہ مسلمانوں کے نام ہیں جن کی تعداد پچیس تیس ہزار سے کم نہیں ہیں۔ محترمہ ممتا بنرجی پندرہ ہزار ووٹوں سے شکست سے دوچار ہوئیں۔ اگر یہ ووٹ کاٹے نہیں گئے ہوتے تو یہ ووٹ ممتا بنرجی کے حق میں پڑتے۔ ہندو ووٹروں کے بھی کچھ ووٹ ممتا بنرجی کے حق میں ڈالے جاتے۔ اس سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ الیکشن میں کیا ہوا۔ نندی گرام میں ووٹر لسٹ سے جو نام ہٹائے گئے ان میں 95% مسلمانوں کے نام ہیں۔ 6 لاکھ ووٹرس ووٹرلسٹ میں پراسرا طریقے سے ووٹر لسٹ میں شامل کئے گئے آج تک نہیں معلوم ہوسکا۔
الیکشن کمشنر کا کردار اس قدر واضح ہے کہ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوگئے ہیں۔ کمشنر ہر وہ کام کرتا تھا جو مودی اور شاہ کی ہدایت یا اشارے ہوتے تھے۔ ایک طرح سے یہ کہتے تھے کہ ہم نے جو کوشش کرنی تھی کرلیا باقی کام آپ کو کرنا ہے۔ مسٹر یوگیندر یادو نے بڑے پتے کی بات کہی ہے جو سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ ’’ووٹرس سرکار کو چنتے ہیں۔ اگر سرکار ووٹرس کو چننے لگے تو جمہوریت دم توڑ دیتی ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے بھی مغربی بنگال کی سو سیٹوں میں ووٹ چوری ہوئی ہے کی بات کہی ہے۔ ممتا بنرجی نے چوری سے زیادہ زور دیا ہے کہ لوٹ اور ڈکیتی ہوئی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمشنر نے فراڈ کیا ہے۔ راہل گاندھی ووٹوں کی چوری کی بات کو شد و مد کے ساتھ اٹھاتے رہے۔ انھوں نے کہاکہ اپوزیشن پارٹیوں کو جس طرح ساتھ دینا چاہئے تھا اس طرح ساتھ نہیں دیا۔اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس وقت بھی بہت زیادہ کمزوری دکھائی جس وقت سپریم کورٹ کی ہدایت کے خلاف مودی نے اپنی مرضی کے مطابق الیکشن کمشنر کی تقرری کی۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کی جائے۔ مودی نے اس کے برعکس قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ کابینہ کے ایک وزیر کو کمیٹی میں شامل کرنا ضروری سمجھا۔ اس طرح نریندر مودی نے اپنی مرضی کے مطابق الیکشن کمشنر کی تقرری آسانی سے کرلی۔ اس وقت جس طرح کی مخالفت اور مظاہرے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے ہونے چاہئیں اپوزیشن پارٹیاں نہیں کرسکیں۔ اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ ہندستان میں صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کا ہونا ممکن نہیں ہے۔
یہ وہ چار عناصر ہیں جن کا ذکر اوپر کی سطروں میں کیا گیا ہے۔ سابق ایم پی جواہر سرکار نے آج (5مئی) کے انگریزی روزنامہ دی ٹیلی گراف نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’’جس وقت میں نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیا اس وقت بتایا تھا کہ ترنمول کانگریس میں کرپشن (بدعنوانی) بہت زیادہ گھر کر گئی ہے جس کی وجہ سے پارٹی بدنام ہورہی ہے۔ بے روزگاری بھی مغربی بنگال میں نوجوانوں میں خاص طور پر بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال کو چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں لوگ کام کاج کی تلاش میں جاتے ہیں۔ میں نے مشورہ دیا تھا کہ اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے لیکن میری بات اَن سنی کردی گئی۔ آج اس کا خمیازہ ترنمول کانگریس کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘ انھوں نے ایس آئی آر مغربی بنگال میں کس طرح ہوا اس غیر قانونی عمل کی بھی وضاحت کی ہے اور الیکشن کمشنر کے کردار اور کام کی زبردست مذمت کی ہے۔ آخر میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’محض دو فیکٹرس ایسے نہیں تھے جس کی وجہ سے بی جے پی کامیاب ہوئی ہے اور یہ بھی کہنا غلط ہوگا کہ بی جے پی کو دو عوامل کی وجہ سے جیت کا کریڈٹ دیا جائے۔ جیسا کہ آر ایس ایس دے رہا ہے۔
بہت سے صحافی، تجزیہ نگار اور اسکالرز مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج کو غیر انتخابی نتائج سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس الیکشن میں ایک تمام خرابیوں کے باوجود ایک اچھی بات بھی ہوئی ہے کہ ہنگامے، تشدد، قتل و غارت گری جس طرح بنگال میں الیکشن کے موقع پر ہوا کرتے تھے وہ نہیں ہوئے۔ مگر یہ الیکشن کمشنر کا کریڈٹ نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مغربی بنگال میں مرکزی فورسز کی چھاؤنی بنادی گئی تھی۔ ایک اور اچھی بات ہوئی ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بدلہ سے اجتناب کرنے کے لئے کہا ہے۔ بدلہ نہیں بدلاؤ کی بات کہی ہے اور ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کی سیاست سے بھی دور کی بات کہی ہے۔ بات تو اچھی ہے لیکن ہمیشہ بی جے پی یا وزیر اعظم اپنی باتوں کے خلاف حرکتیں کرتے ہیں۔ خدا کرے مغربی بنگال کو ہنگامے، تشدد، جبر و ظلم سے پاک رکھنے کے لئے ہر پارٹی بشمول بی جے پی کوشش کرتی رہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 157