Skip to content
دنیا میں کتنا غم ہے!
اور بھی غم ہیں زمانے میں ……
ترتیب: عبدالعزیز
کسی نے خوب کہا ہے کہ ’’جب تک دو
سروں کے غموں سے ہماری ملاقات نہیں ہوتی تب تک ہمیں اپنے غم ultimate لگ رہے ہوتے ہیں‘‘۔ دنیا کے ہر انسان کو ایسا محسوس ہوتا رہتا ہے کہ سب سے زیادہ غم اس کے حصے میں آئے ہیں اور یہ کہ باقی دنیا اس ذہنی اذیت سے دوچار نہیں جس کا سامنا اسے کرنا پڑ رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ اپنے ماحول میں بہت سوں کو انتہائی پریشان اور دکھی دیکھ کر بھی بہت سے لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ان کا غم بہت سوں کے غموں اور دکھوں سے بہت کم ہے۔
مشکلات کس کے لیے نہیں ہوتیں؟ کون ہے جس کی زندگی میں غم نہیں ہوتے یا نہیں ہوسکتے؟ زندگی بہت میٹھی ہوتی ہے نہ بہت کڑوی۔ یہ پوری کی پوری نمکین بھی نہیں ہوتی۔ اور نِری پھیکی بھی نہیں ہوسکتی۔ یہ طرح طرح کے ذائقوں سے مالا مال رہتی ہے۔ زندگی ملے جلے ذائقے کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔ یہ نکتہ ہر حال میں یاد رہے، پیش ِ نظر رہے کہ بھری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کے حصے میں مشکلات نہ آئی ہوں، الجھنیں نہ ملی ہوں، تقدیر نے دکھ عطا نہ کیے ہوں۔ دنیا کا کاروبار اِسی طور چلتا آیا ہے اور اِسی طور چلتا رہے گا۔ دنیا کو اسی حالت میں قبول کرنا پڑتا ہے جس حالت میں وہ ہے۔ دنیا کو قبول کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بہتری کے لیے کچھ کیا ہی نہ جائے۔ ہر انسان کو اپنے حالات بہتر بنانے پر متوجہ رہنا چاہیے تاکہ دنیا میں بھی کچھ بہتری کی راہ ہموار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ کسی بھی صورتِ حال کو بہتر اسی وقت بنایا جاسکتا ہے جب ہم اسے جوں کا توں قبول کریں۔ اگر قبولیت ہی سے انکار کیا جائے تو معاملات ساکت و جامد ہوکر رہ جاتے ہیں۔
جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں، ان سے ان کی کہانیاں سنتے ہیں تب ہمیں کچھ اندازہ ہو پاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ انھیں غم نہ ملے ہوں اور یہ بھی کہ ان کے غم ہمارے غموں سے محض الگ یا منفرد ہی نہیں بلکہ زیادہ تکلیف دہ بھی ہیں۔ جو ہماری کہانی ہے وہی دوسروں کی بھی ہے۔ حالات کا جبر کسی پر ترس نہیں کھاتا۔ جو کچھ فطری اور حتمی ہے یعنی ہونا ہی ہونا ہے اس سے گھبرانے کے بجائے اس کے ساتھ جینے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ اِس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ حالات کے پلٹنے یا بدلنے سے ہمیں الجھنوں اور پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہی رہے گا۔ سوال الجھن کو واقع ہونے سے روکنے کی کوشش سے کہیں بڑھ کر یہ ہے کہ ہر الجھن کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کیسے کیا جائے۔
جب ہم دوسروں کو سنتے ہیں، ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں زیادہ جاننے لگتے ہیں تب ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی نے ان کے لیے بھی مشکلات لکھی ہیں اور ان مشکلات سے کماحقہ نپٹنے کی صورت میں ان کے لیے خیر کی راہ کا ہموار ہونا بھی لکھا گیا ہے۔ کسی کی آسانی کسی اور کے لیے مشکل بنتی ہے۔ جب میدان میں مقابلہ ہوتا ہے تو کسی کی ہار کسی کی جیت میں تبدیل ہوتی ہے۔ کوئی بھی شکست حتمی نہیں ہوتی اور کسی بھی فتح کو ہم ابدی قرار نہیں دے سکتے۔ لازم نہیں کہ جو ایک بار ہارے وہ پھر ہارتا ہی رہے۔ اِسی طور ہر شخص کو ہر مقابلے میں فتح نصیب ہو یہ بھی کچھ لازم نہیں۔ زندگی یونہی بسر ہوتی ہے۔ کبھی کسی کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور کبھی مشکلات۔ ہر کیفیت سے آپ کو بہت کچھ سیکھنا ہے اور جو کچھ سیکھا جائے اسے بروئے کار بھی لانا ہے۔
لوگ بالعموم آپس کی گفتگو میں ایک دوسرے کو محض دْکھڑے سْنارہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے مگر اِس سے کہیں زیادہ ضروری بلکہ ناگزیر یہ ہے کہ انسان اپنے مسائل کو حل کرنے کے بارے میں سوچے۔ دوسروں کو بھی اِس بات کی تحریک دی جانی چاہیے کہ اپنی پریشانیوں پر کُڑھنے کے بجائے ان سے نجات پانے کی تدبیر سوچنے کی عادت ڈالیں۔ یہ کام آسان نہیں۔ اگر سبھی دکھی ملیں تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنی الجھنوں کو مقدر سمجھ کر تحمل کے گھونٹ پیتے رہیں بلکہ آپ کو اِسے سے کئی قدم آگے جاکر زندگی کا رخ تبدیل کرنے کا سامان کرنا ہے۔ اِس کے لیے سوچنا بھی پڑتا ہے اور میدانِ عمل میں اترنا بھی پڑتا ہے۔ روئے ارض پر ہر انسان کے لیے قدرت نے بہت کچھ لکھ رکھا ہے۔
جب تک دم میں دم ہے تب تک کبھی کامیابی ملے گی اور کبھی ناکامی۔ کبھی دِل حالات و واقعات کے ہاتھوں دْکھی ہوگا اور کبھی سکھ بھی پائے گا۔ دکھ ہو یا سکھ، کچھ بھی حتمی ہے نہ دائمی۔ ہمیں اِس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ زندگی کبھی کچھ دے گی اور کبھی کچھ لے گی۔ متواتر تبدیلیوں کا ڈھنگ سے سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا اور تیار رکھنا ہے۔ یہ اصلاحِ نفس اور تنظیمِ ذات کا معاملہ ہے۔ کسی خوشی کے نشے میں مست ہوکر اپنی ذمے داریوں کو بھولنا ہے نہ کسی مصیبت سے گھبراکر ہمت ہار بیٹھنا ہے۔ حوصلہ جوان رکھنا ہے، لگن توانا رکھنی ہے تاکہ زندگی پرسکون انداز سے بسر ہوتی رہے۔ ہر طرح کی کیفیت کے ساتھ جینا ایک ہنر ہے جو سیکھنا پڑتا ہے۔ اور محض سیکھنا بھی کافی نہیں، دلچسپی بھی ہر حال میں برقرار رکھنا پڑتی ہے تاکہ کوئی بری صورتِ حال تمام معاملات میں بگاڑ پیدا نہ کرے۔ اگر آپ اِتنا کرسکیں تو سمجھ لیجیے کشتی پار لگی۔ ابو صباحت
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 69
Like this:
Like Loading...