Skip to content
مغربی بنگال کے نتائج کا معروضی جائزہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
حال میں مغربی بنگال ، آسام ، تمل ناڈو ، کیرالم اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پدو چیری میں انتخابات ہوئے ۔ ان میں سے صرف دو ریاستوں یعنی مغربی بنگال و آسام میں بی جے پی کامیابی درج کراسکی ۔ اس کے علاوہ دیگر دو ریاستوں یعنی کیرلم اور تمل ناڈو میں تو اس کی دال کیا گلتی جو کاٹھ کی ہانڈی ہی نہیں چڑھی ۔ پدوچیری میں وہی پہلی جیسی حالت رہی۔ اس طرح دو جیت ،دوہار اور ایک میچ ڈرا ہوگیا یعنی سیریز برابری پر چھوٹ گئی مگرماحول ایسا بنایا گیا جیسے بی جے پی نے عالمی کپ جیت لیا ہو۔ بی جے پی نے چونکہ سب سے زبردست کامیابی مغربی بنگال میں حاصل کی ہے اس لیے 90؍ فیصد ہندی ویڈیو ز اسی صوبے کی بنتی ہیں اور بقیہ 10؍ فیصد میں سے 90؍ فیصد آسام کی اس طرح باقی تین صوبوں کے لیے کل کا صرف ایک فیصد حصہ آتا ہے ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے تما م اصول و ضابطہ کو بالائے طاق رکھ کر مرکزی حکومت کی پشت پناہی سے جی بھر کے دھاندلی کی۔ الیکشن کمیشن سے لے کر انتظامیہ اور عدلیہ سمیت میڈیا کا ناقابلِ تصور بیجا استعمال کیا گیا ۔
سرکاری مداخلت کی ابتداء بے تحاشا تبادلوں سے ہوئی ۔چیف سیکریٹری سمیت سارے اہم سرکاری عہدوں پر حکومت کے پالتو اور وفادار افسران کو تعینات کیا گیا ۔ اس کے بعد ڈھائی لاکھ نیم فوجی دستوں کو مغربی بنگال بھیج کر ریاست کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ۔ اس انتظام کے بعد ایس آئی آر کا کھیل شروع ہوا اور 56 ؍ لاکھ نام ہٹائے گئے۔ اس پر بھی اطمینان نہیں ہوا تو 26؍ لاکھ اضافی مشکوک نام نکالے گئے اور ان کی جانچ کے لیے ٹریبونل قائم کیا گیا۔ اس ٹریبونل نے ہر 115 میں ایک کو مشکوک پایا اور باقی درست نکلے مگر دوہزار کی جانچ بھی نہیں کرسکا۔ اس طرح محض شک کی بنیاد پر کچیر تعداد میں رائے دہندگان سے ان کے جائز حقوق چھین لیے گئے ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو شک کا فائدہ متاثر کو دے کر ووٹ دینے کی اجازت متوقع تھی ۔ اس کو چاہیے تھا کہ ایک مرتبہ کے لیے اجازت دے دیتا کیونکہ تفتیش پورا نہ کرنا ووٹر کا نہیں حکومت کا قصور تھا۔ اس لیے وہ سزا کا مستحق نہیں تھا۔ عدلیہ کو تفتیش کی تکمیل تک انتخابات ملتوی کرنےکا بھی اختیار تھا لیکن یہیں پر کھیلا ہوگیا ۔ عدالت عظمیٰ نے سرکار کی خوشنودی کے لیے الٹی منطق لگا کر عدل کا گلا گھونٹتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ ایک بار ووٹ نہیں دیں گے تو کیا فرق پڑے گا؟
ان 26؍ لاکھ میں غالب اکثریت بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے والے مسلمان رائے دہندگان کی تھی۔ انہیں ایسے حلقۂ انتخاب سے ہٹایا گیا تھا جہاں بی جے پی کم فرق سے ہاری تھی ۔ اس چالبازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی 200؍ پار کرکے 206 پر پہنچ گئی اور ترنمول کانگریس 215 سے گھٹ کر 81؍ پر آگئی ۔ان میں 42 نشستیں 5 ہزار سے کم کے فرق اور15 سیٹیں تو ایک ہزار سے بھی کم کے فرق سے جیتی گئیں۔ بی جے پی کو جملہ 29,218,815؍ (45.85فیصد)ووٹ ملے جبکہ ترنمول کانگریس کو 26,002,017(40.80فیصد)۔ اب اگر وہ 26لاکھ ووٹ ترنمول میں ملا دئیے جائیں تو وہ 28,602,017پر پہنچ جاتی ہے اور فرق صرف 6لاکھ کا رہ جاتا ہے جو بہت کم ہے ۔ اس معاملے کو ایک اور انداز میں سمجھیں پچھلے انتخاب میں ترنمول کانگریس کو بی جے پی کے مقابلے دس فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے ۔ اس بار ترنمول کے 7.22 فیصد کم ہوئے جبکہ بی جے پی کے 7.88فیصد بڑھ گئے۔ یہ ووٹ اگر سرکار کی کارکردگی سے ناراضی کے سبب کم ہوئے تو اس میں سے ایک حصہ کانگریس اور دوسرا اشتراکیوں کو بھی جانا چاہیے تھا کیونکہ اس بار اشتراکی جماعتوں کی بی جے پی کو بلا واسطہ حمایت حاصل نہیں تھی اور کانگریس نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ سی پی ایم نے ایک اور کانگریس نے دومقامات پر کامیابی حاصل کی جبکہ پچھلی بار وہ کہیں کامیاب نہیں ہوسکے تھے،لیکن پھر بھی ترنمول کی کمی سے زیادہ ووٹ بی جےپی کو چلا جانا بتاتا ہے کہ یہ سب سازش کے تحت کیا گیا ۔
اس گورکھ دھندے کی پردہ داری کے لیے بی جے پی نے کروڈوں کے خرچ سے انتخابی مہم چلائی۔ وزیر اعظم بار بار مغربی بنگال کے انتخابی دورے پرگئے۔ وزیر داخلہ خیمہ ٹھونک کر دو ہفتوں کے لیے بیٹھ گئے اور بنسل جیسے لوگوں کو نگرانِ کار بنایا گیا تاکہ تجزیہ نگار ان میں الجھے رہیں اور گیانیش کمار کی کارستانی پر پردہ پڑ جائے۔ یہ سارے لوگ الٹے لٹک جاتے مگر گیانیش کمار کا عمل دخل نہ ہوتا تو یہ نتائج نہیں نکلتے۔ یہ کھلا کھیل فرخ آبادی کی سب سے روشن مثال گیا وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار شبھیندوادھیکاری کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو دوسری بار ہراناہے ۔ پچھلی بار جب ممتا بنرجی نندی گرام سے لڑ رہی تھیں تو شبھیندو نے انہیں وہاں جاکر 1200 کے فرق سے ہرایا تھا ۔ اس کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے آبائی گاوں بھوانی پور سے انتخاب لڑا تو ان کو پچاس ہزار سے زیادہ کے فرق سے کامیابی ملی لیکن اس بار وہیں سے شبھیندو ادھیکاری نے15 ہزار سے زیادہ فرق کے ساتھ کامیابی درج کرالی ۔ سوال یہ ہے کہ اس دوران ایسا کیا ہوگیا کہ ممتا بنرجی کے ووٹ میں اتنی زیادہ کمی واقع ہوگئی؟
یہ گیانیش کا کمال ہے جو ان کے کالے جادو سے نہ صرف ممتا بنرجی بلکہ ایم کے اسٹالن بھی ہار جاتے ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت بڑے فرق سے پارلیمانی انتخاب جیتنے والے گورو گوگوئی کو بھی اسی حلقہ ٔ انتخاب میں ایک پسندیدہ اسمبلی سیٹ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ان نتائج کی روشنی میں پرانا نعرہ اس طرح بدلا کہ ’’گیانیش ہے تو (کچھ بھی )ممکن ہے‘ شبھیندو ادھیکاری کی ترنمول کہ وہ بھاجپ میں رہنے کے باوجود کبھی کبھار سچ بھی بول دیتے ہیں۔ انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ۹۹ فیصد مسلمانوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا کیونکہ وہ بہت کٹرّ لوگ ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کسی کووٹ نہیں دنیا اگر کٹّرتا ہے تو کیا ایک فیصد ہندووں نے ایم آئی ایم کے ہندو امیدوار کو بھی ووٹ دیا ہے؟ خیر شبیھندو ادھیکاری نےیہ بھی واضح کردیا کہ وہ مسلمانوں کا کام نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے موصوف کوووٹ نہیں دیا لیکن بھوانی پور میں تو صرف 20؍ فیصد مسلمان ہیں وہاں 15 ہزار ووٹ کے فرق سے جیتنے نکا مطلب ہے بہت سارے ہندووں نے بھی انہیں ووٹ نہیں دیا۔ اب سوال یہ ہے ووٹ نہ دینے والے ہندووں کا کام کرنا کیا ناز برداری نہیں ہےاور مسلمانوں کا کام کرنے سے احتراز تفریق و امتیاز کے زمرے میں نہیں آتا؟
شبھیندو اس حقیقت کو بھول گئے کہ حکومت عوام سے ٹیکس لیتی ہے ۔ اس میں سے خود عیش کرتی ہے اور اس میں سے تھوڑا بہت عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کردیتی ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔ اب اگر مسلمانوں کا کام نہیں ہوگا تو کیا ان سے ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا یا ان کے ٹیکس کا پیسہ شبیھندو کی سرکار بے شرمی سے ہڑپ کر جائے گی۔ شبیھندو ادھیکاری نے یہ تو بتایا وہ ہندووں کے کام کریں گے مگر کیسے کریں گے اس کی مثال ممتا بنرجی کے ساتھ بدسلوکی سے سامنے آگئی۔ شبھیندو ادھیکاری کو ممتا بنرجی سیاست میں لے کر آئیں مگر اس احسان فراموش نےاپنے محسن کی پٹائی کروادی۔ممتامسلمان نہیں بلکہ برہمن ہندو ہیں ۔ بی جے پی والے ’ناری وندنا‘ یعنی خواتین کے احترام کا ڈھونگ تو خوب کرتے ہیں مگر جو کچھ انہوں نے ممتا کے ساتھ کیا ’ناری وندنا‘ ایسے کی جاتی ہے۔ کیا ملک میں مسلمان ہونا یا ان کا ووٹ لینا بھی جرم ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ ہمایوں کبیر کو بنگال میں ْبابری مسجد کی تعمیر کے لیے ایک ہزار کروڈ کیوں دئیے گئے اور انتخاب میں گیانیش کمار کی مدد سے ان کو کامیاب بھی کردیا گیا۔ اس نوازش کی کیا وجہ ہے؟ ایسے بے شمار سوالات ہیں جن کا بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔یہ معاملہ ہندو مسلمان کا نہیں اقتدار کی راہ میں مفید یا مضر ہونے کا ہے۔ منطق بہت صاف ہے اگرچہ ہمایوں کبیر کے مسلمان ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ اگر اقتدار کے حصول میں مفید ہے تو مسلمان ہونے کے باوجود سر آنکھوں پر نیز اگر ہندو ہونے کے پر بھی ممتا بنرجی رکاوٹ ہے تو انہیں قدموں تلے کچلنا جائز ہے۔ گیانیش کمار کو یہی کسوٹی تھما دی گئی ہے اور وہ نہایت فرمانبرداری و اطاعت گزاری کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کو تنخواہ بی جے پی کے بیت المال سے نہیں سرکاری خزانے سے حاصل ہوتی ہے۔اس لیے انہیں عوام اور آئین کا وفادار ہونا چاہیے اور اپنے ضمیر کی آواز پرحق کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے ۔ موجودہ افسران، سیاستدانوں اور سرکار پر کسی نامعلوم شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
بدلتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی ہے دلیل اور حجت
Post Views: 151
Like this:
Like Loading...