Skip to content
کیرالم میں بی جے پی : ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جنوبی ہند میں کیرلم کو’’خدا کا اپنا ملک‘‘کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ جنوبی ہند کی اس ترقی یافتہ ریاست کی اپنی منفرد سماجی اور مذہبی ساخت ہے۔ وہاں پر تقریباً 54-56% ہندو ہیں مگر مسلمان 26-27% اور عیسائی بھی تقریباً 18-19% ہیں ۔کیرالم کی ثقافت میں اسلام رچا بسا ہے۔اس کوپراگندہ کرنے کے لیے سنگھ پریوار کیرالا فائل جیسی نفرت انگیز فلمیں بنائی جاتی ہیں ۔کیرلم میں خواندگی کی شرح ملک میں سب سے زیادہ یعنی 96% ہےکیونکہ سرکاری اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا جالگاؤں گاؤں تک پھیلا ہوا ہے۔ خوشحالی اور سماجی ترقی کے معاملے میں ’’کیرالہ ماڈل‘‘ کی نمایا ں حیثیت ہے کیونکہ وہاں پر صحت کی سہولیات ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہیں ۔کیرالہ کی معیشت میں بیرونی ترسیلاتِ زر کا بڑا کردار ہے، کیونکہ یہاں کے لوگ خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تعلیم اور جدیدیت کے اثرات کی وجہ سے یہاں کا معیارِ زندگی کافی بلند ہے اسی لیے وہاں بی جے پی کی دال نہیں گلتی ۔ کیرالم میں تاریخی طور پر مذہبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں کا تعلیمی ماحول اور سماجی بیداری لوگوں کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ تعلیم، صحت اور مذہبی رواداری نے کیرالم کو ہندوستان کی سب سے ترقی یافتہ ریاست بنادیا ہے۔اسی لیے گزشتہ پانچ سالوں میں یہ سنگھ پریوار کی توجہات کا خاص مرکز بنا رہا۔
پچھلے پارلیمانی انتخاب میں جب پہلی بی جے پی کا ایک امیدوار اپنی ذاتی مقبولیت کے سبب کامیاب ہوگیا تو یہ مونگیری لال اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا خواب بننے لگے مگر حالیہ انتخابی نتائج نے وہ خواب چکنا چور کردئیے۔ وہاں پر اسمبلی میں جملہ 126 ؍ارکان ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں ۔ حالیہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بالآخر انڈین نیشنل کانگریس نے وہ کردکھایا جو اس کو پانچ سال قبل کرنا تھا۔ کیرلم کی روایت یہ ہے کہ وہاں ہر پانچ سال بعد اقتدار بدل جاتا ہے ۔اس لحاظ سے پچھلی مرتبہ دائیں بازو کے محاذ کو ہار جانا چاہیے تھا مگر کورونا وبا کے دور میں وزیر اعلیٰ پینی رائے وجین کی غیر معمولی کار کردگی نے عوام و خواص کو اس قدر مسحور کردیا تھا کہ انہوں نے اپنی روایت کو بالائے طاق رکھ کراشتراکی محاذ کو سرکار میں بنے رہنے کا موقع فراہم کردیا لیکن اس بار کوئی ایسی ہیجانی صورتحال نہیں تھی اس لیےعوام نے حسب روایت کانگریس کو نصف یعنی 63 ؍ مقامات پر کامیابی سے نواز دیا۔ اشتراکی محاذ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ سب سے بڑی جماعت ہے اس لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ اسی کو ملتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں چونکہ اس کو 36نشستوں کا نقصان ہوگیا اس لیے اسے پچھلی بار کی کانگریس کے مانند 26نشستوں پر اکتفاء کرنا پڑا۔
سی پی ایم نے کل 77 نشستوں پر امیدوار اتارے تھے اس لحاظ سے اس کا اسٹرائیک ریٹ 34 فیصد تھا۔ اس کا موازنہ اگر کانگریس سے کیا جائے تو 41؍ نشستوں کا غیر معمولی فائدہ اٹھانے والی اس پارٹی نے کل 92 نشستوں پر قسمت آزمائی کی تھی اور اس طرح اس کا اسٹرائیک ریٹ 68 فیصد رہا ۔ کانگریس نے اس بار 28.79فیصد ووٹ حاصل کیے جوپچھلی بار کے مقابلے 3.59 فیصد زیادہ ہیں جبکہ سی پی ایم کو 21.77فیصد ووٹ ملے اور اس کے ووٹ تناسب میں صرف 3.61 فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ شکست کے باوجود اشتراکیوں ووٹرس کی بڑی تعداد اب بھی وفادار ہے حالانکہ اسے 62 سے 26پر آنا پڑا۔اشتراکی محاذ میں دوسری سب سے بڑی جماعت سی پی آئی ہے اور متحدہ محاذ میں مسلم لیگ ہے ۔ سی پی آئی نے گزشتہ مرتبہ 24 پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مسلم لیگ 15نشستیں جیت سکی تھی۔ اس بار سی پی آئی 9؍ نشستوں کا نقصان اٹھا کر 8 پر پہنچ گئی جبکہ مسلم لیگ 7؍ اضافی نشستوں پر کامیابی درج کرواکر 22 پر آگئی ۔ سی پی آئی کے ووٹ کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم گھٹا ۔ اس کے برعکس مسلم لیگ کے ووٹ کا تناسب 2.74فیصد بڑھا۔ ان دونوں کے اسٹرائیک ریٹس کا موازنہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ مسلم لیگ نے جملہ 26 نشستوں پر مقابلہ کرکے 22 پر کامیابی درج کرائی جو غیر معمولی طور پر 85فیصد بنتا ہے جبکہ سی پی آئی نےچونکہ 24 پر لڑ کر 8 نشستیں جیتیں اس لیے وہ صرف 33فیصد ہے۔
کیرلہ کانگریس کے نام سے ریاست میں ایک عیسائی سیاسی جماعت بھی ہے۔ اس کا ایک حصہ یوڈی ایف اور دوسرا کے ای سی( ایم) کے نام سے اشتراکی محاذ میں شامل ہے۔ موخرالذکر کا تو اس بار سُپڑا صاف ہوگیا مگر کیرلہ کانگریس نے 8 پر الیکشن لڑ کر 7 نشستیں جیت لیں یعنی اس کا اسٹرائیک ریاست میں سب سے زیادہ 87فیصد تھا۔ گزشتہ کے مقابلے اس کی نشستوں میں 5؍ کا اضافہ اور ووٹ کے تناسب میں بھی معمولی بڑھوتری بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ پورا عیسائی سماج بھی اس بار نہ صرف بی جے پی بلکہ اس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے اشتراکیوں کے خلاف ہوگیا اور کیوں نہ ہوتا؟ اس مرتبہ کرسمس کے موقع شمالی ہند میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی ناقالِ تصور تھی ۔ وزیر اعظم کی چکنی چپڑی باتوں سے مفاد پرست خواص تو دھوکہ کھا سکتے ہیں لیکن عام رائے دہندگان اس میں نہیں آتے۔ اشتراکی محاذ میں اس بار آر جے ڈی بھی موجود تھی اور اس کی تشہیر کے لیے تیجسوی یادو وہاں گئے بھی تھے اور انہوں نے تین میں سے ایک امیدوار کو کامیاب بھی کیامگر محاذ کے باقی ساری جماعتیں اپنا کھاتہ نہیں کھول سکیں ۔ اس کے برعکس یوڈی ایف میں تین بڑی جماعتوں کے علاوہ دیگر 4؍ جماعتوں نے 6؍ اور اس کے حمایت یافتہ 4؍ آزاد امیدوار بھی جیت گئے ۔ اس طرح سبھی کے اشتراک سے یوڈی ایف نے اپنی سنچری مکمل کی۔ ویسے تو سارے ایکزٹ پول نے یہی پیشنگوئی کی تھی مگر کسی نے اس کو 100 سے پار نہیں کرایا تھا۔
ملک کے سارے تجزیہ نگاروں نے اس کامیابی کا سہرا راہل گاندھی اور پرینکا کے سر باندھا اس لیے تیسرے محاذ یعنی این ڈی اے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جس کو کامیاب کرنے کی خاطر وزیر اعظم نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور کئی دورے بھی کیے۔ گودی میڈیا اس بات کا بہت شور کررہا ہے کہ اس بار بی جے پی نے 11.42 فیصدووٹ حاصل کیے مگر یہ تو پچھلی بار سے صرف 0.12فیصد ہی زیادہ ہے جبکہ اس سے زیادہ فیصد تو پولنگ میں اضافہ ہوا۔ اس کا بھی خوب چرچا ہے کہ پہلی بار بی جے پی نے تین نشستوں پر جیت درج کروائی ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس کے لیے اسے 98 نشستوں پر زور آزمائی کرنی پڑی یعنی جہاں مسلم لیگ اور کیرالہ کانگریس جیسی دوسرے نمبر کی جماعتوں کا اسٹرائیک ریٹ 85فیصد سے زیادہ تھا وہیں بی جے پی 3فیصد پر اٹک گئی۔ متحدہ قومی محاذ میں شامل بھارت دھرم جن سینا نامی سیاسی جماعت کو صرف 1.34فیصد ووٹ ملے اور 22 نشستوں پر لڑ کر بھی وہ ایک نہیں جیت سکی۔ اس کے علاوہ ٹوینٹی ٹوینٹی پارٹی کو بھی محاذ میں شامل کرکے19؍ مقامات پر لڑایا گیا مگر وہ بھی 1.41 فیصد ووٹ حاصل کر کے صاف ہو گئی۔ این ڈی اے نے بھی ایک آزاد امیدوار کو میدان میں اتارا تھا مگر وہ بھی بے نیل و مرام لوٹا ۔ بی جےپی نے اس بار ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کی مصداق دائیں بازو کے محاذ کی کشتی ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا۔
دائیں بازو کی شکست تو توقع کے عین کے مطابق تھی مگر وہ اتنی بری طرح ہارے گی اس کی امید کسی کو نہیں تھی۔ دراصل ہوا یہ کہ بغض کانگریس میں بی جے پی نے دائیں بازو کے ساتھ نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس انتخاب سے قبل سبری مالا مندر میں سونے کی چوری کا الزام ایک ریاستی وزیر پر لگا ۔ یہ نہایت سنگین الزام تھا جس کا ذکر مودی جی نے اپنے پہلے دورے میں کیا اور قصور وار کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی دھمکی بھی دی مگر دوسرے دورے میں اسے پوری طرح بھول گئے ۔ بدعنوانی کے خلاف صفر برداشت کا نعرہ لگانے والی بی جے پی نے پینی رائے وجین پر لگنے والے اقرباپروری اور بدعنوانی کے الزامات پر کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ کانگریس اور متحدہ محاذ پر ہی اپنا نزلہ اتارتے رہے ۔ اس کے سبب راہل گاندھی کو دائیں بازو پر چڑھ دوڑنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اعلان کردیا کہ بی جے پی اور دائیں بازو کے درمیان خفیہ سمجھوتا ہے۔ ان کا مقابلہ سی جے پی یعنی کمیونسٹ جنتا پارٹی کے ساتھ ہے ۔ اس طرح پینی رائے وجین کے خلاف جو ناراضی تھی اس سے بی جے پی مستفید نہیں ہوسکی بلکہ وہ سب کانگریس کی جھولی میں چلے گئے مگر اپنی اس نرمی سے اس نےدائیں بازو کا بھی نقصان کردیا۔ مرزا غالب کا یہ شعر بی جے پی پر پوری طرح صادق آتا ہے کہ ؎
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
Post Views: 94
Like this:
Like Loading...