Skip to content
تم کیا جانو باپ کیسا ہوتا ہے؟
خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
___________
باپ ایک ایسا عظیم اور بے مثال رشتہ ہے جس کی محبت قربانی اور شفقت کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ باپ وہ واحد انسان ہے جو اپنی اولاد کی خاطر ہر وہ کام کرتا ہے جس سے ان کی زندگی بہتر ہو وہ ترقی کریں کامیاب ہوں اور دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں۔ وہ خود چاہے کتنی ہی مشکلات دکھوں اور پریشانیوں کا شکار کیوں نہ ہو لیکن اپنے بچوں کے چہرے پر خوشی دیکھنے کے لیے ہر تکلیف کو مسکرا کر برداشت کر لیتا ہے۔
اگر کبھی موقع ملے تو اپنے باپ کو کام کرتے ہوئے خاموشی سے دیکھنا تمہیں اندازہ ہوگا کہ وہ ہمارے لیے کس طرح محنت کرتا ہے۔ کیسے دن بھر پسینہ بہاتا ہے کیسے ایک ایک روپے کے لیے جدوجہد کرتا ہے کیسے اپنی خواہشات کو دبا کر ہماری ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس کی ہر سوچ ہر فکر ہر دعا بس اپنی اولاد کے گرد گھومتی ہے کہ میرے بچے کامیاب ہوں آگے بڑھیں کسی کے محتاج نہ رہیں۔
اولاد کی شکل و صورت رنگ یا حالت باپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ چاہے بچہ کیسا بھی ہو باپ کے نزدیک وہ کسی قیمتی ہیرے سے کم نہیں ہوتا۔ باپ اکثر کم بولتا ہے اپنی محبت کا اظہار الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے کرتا ہے۔ وہ شاید زیادہ بات نہ کرے لیکن ہر لمحہ اپنے بچوں کا خیال رکھتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے کبھی اپنے باپ سے فون پر لمبی بات نہیں کی شاید پانچ منٹ بھی نہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ بغیر بتائے محسوس کر لیتے تھے۔ نہ سوال کرتے نہ شکایت بس خاموشی سے پیسے بھیج دیتے اور صرف اتنا پوچھتے بیٹا خیریت ہے نا؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
میری امی اکثر کہا کرتی ہیں کہ باپ ہمیشہ اپنے اکاؤنٹ میں کچھ نہ کچھ پیسے بچا کر رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ کب کس وقت کس اولاد کو ضرورت پڑ جائے۔ یہی سوچ انہیں ہر وقت محتاط اور فکر مند رکھتی ہے۔
جب بھی میں اپنے باپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے کتنی بے پناہ محبت رکھی ہے۔ وہ اپنا خون پسینہ ایک کر کے کماتا ہے صرف اس لیے کہ اس کے بچے بھوکے نہ رہیں خوش رہیں محفوظ رہیں۔
لیکن افسوس کہ اس دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ماں باپ کی قدر نہیں کرتے وہ انہیں اذیت دیتے ہیں ان کا خیال نہیں رکھتے انہیں بوجھ سمجھتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ آخر ان کا ضمیر کیسے مر جاتا ہے؟ وہ کیسے اپنے ہی محسنوں کو تکلیف دیتے ہیں؟
اللہ ربّ العزت ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔ ہمیں چاہیے کہ جب تک ہمارے ماں باپ ہمارے ساتھ ہیں ہم ان کی قدر کریں ان کی خدمت کریں ان کا احترام کریں کیونکہ جب یہ سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تب انسان کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ کس نعمت سے محروم ہو گیا ہے۔ پھر کچھ لوگ اپنے ماں باپ سے ملنے کے لیے قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں اپنے ماں باپ کی قدر کرنے والا بنائے ان کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کے لیے باعثِ راحت بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Post Views: 44
Like this:
Like Loading...