Skip to content
جمعہ نامہ : شاہراہِ شام اور آبنائے ہر مز کی مشابہت
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’قریش کو رغبت دلانے کے سبب انہیں سردیوں اور گرمیوں کے (تجارتی) سفر سے مانوس کر دیا‘‘۔ نبیٔ کریم ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی قریش کی مشرق اور مغرب کی تجارت پراجارہ داری حاصل ہوگئی تھی۔ اس زمانے میں مشرق بعید کےہندوستان و چین وغیرہ سے بحر ہند کے ذریعہ آنے والا سامانِ تجارت یمن کے ساحل پر اترتا اور یورپ سے آنے والے جہاز شام اور فلسطین کے ساحل پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ یمن اور شام کے درمیان خشکی کا راستہ استعمال ہوتا تھااس لیے شامی شاہراہ آبنائے ہر مز کی طرح بین الاقوامی تجارت کی شہ رگ تھی ۔ اس زمانے میں قریش کے سوا کوئی تجارتی قافلہ لٹیروں سے محفوظ نہیں تھا۔ قریش کو خانہ کعبہ کے متولی کی حیثیت سے عقیدت و احترام کے مستحق تھے چنانچہ ان کے قافلے پورے سال بلاخوف و خطر یمن اور شام کے درمیان رواں دواں رہتے تھے ۔ گرمیوں میں شام و فلسطین کے سرد علاقوں اور سردیوں میں یمن کے گرم علاقے کا سفر کیا جاتا تھا۔ اسی تحفظ کی یقینی ضمانت اور موسموں کی موافقت کو مذکورہ بالاآیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
نبیٔ کریم ﷺ شاہراہِ شام کی غیر معمولی تاریخی، تجارتی اور دفاعی اہمیت سے خوب واقف تھے کیونکہ آپؐ نے 12 سال کی عمر میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ اس پر سفر کیا اور راہب بحیرا نے علاماتِ نبوت کی گواہی دی ۔حضرت خدیجہ ؓ کا مالِ تجارت لے کر بھی آپ ﷺ نےاسی راستے سے شام کا سفر کیا تھا۔ قریش مکہ نے جب نبیٔ پاک ﷺ اور ان کے صحابہ کو مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیاتو یہ شاہراہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بن گئی۔ مدینہ منورہ اس شاہراہ سے متصل ہونے کی وجہ سے ایک تزویراتی (Strategic) مقام بن گیا، اور مسلمان قریش کے تجارتی قافلوں کی نگرانی کرنے لگے۔ اُس صورتحال اور حالیہ آبنائے ہر مز کےحالات میں کمال مشابہت ہے۔ غزوہ بدر کا بنیادی سبب اسی شاہراہ سے گزرنے والا ابوسفیان کا تجارتی قافلہ تھا مگر اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کو سریہ سیف البحر کا امیر بناکرتیس مہاجرین کے ساتھ شام سے آنے والے ایک قریشی قافلے کا پتہ لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ اس قافلے میں ابوجہل سمیت تین سو آدمی تھے ۔ ساحل سمندر کے پاس قافلے کا سامنا ہو گیا اور فریقین جنگ کے لیے صف آراء ہو گئے لیکن قبیلہ جہینہ کے سردار مجدی بن عَمرو نےپاکستان کی طرح فریقین کا حلیف بن کر جنگ رکوادی ۔
آگے چل کررسول اللہ ﷺ نے حضرت عبیدہؓ کو مہاجرین کے ساٹھ سواروں کا رسالہ دے کر روانہ فرمایاتورابغ کی وادی میں ابو سفیان کے دو سو آدمیوں سے سامنا ہوا۔ فریقین نے تیر چلائے لیکن جنگ نہیں ہوئی۔سریہ خرار کا امیر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مقرر فرماکر انہیں بیس آدمیوں کے ساتھ قریش کے ایک قافلے کا پتہ لگانے کے لیے خرار روانہ کیا مگر پہنچے سے قبل قافلہ جا چکا تھا۔اس کے بعد غزوہ ابواء یا ودان میں ستّر مہاجرین کے ہمراہ قریش کے ایک قافلے کی راہ روکنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نےبہ نفسِ نفیس شرکت فرمائی۔ اس میں تصادم تو نہیں ہوا مگر بنو ضمرہ کے ساتھ حلیفانہ معاہدہ ہوگیا جس کی عبارت تھی :”یہ بنو ضمرہ کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی تحریر ہے۔ یہ لوگ اپنے جان اور مال کے بارے میں مامون رہیں گے۔ اور جو ان پر یورش کرے گا اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی، اِلاّ کہ یہ خود اللہ کے دین کے خلاف جنگ کریں۰۰۰‘‘ ۔ان واقعات کے بعد مشرکین نے مسلمانوں کے خطرے کو محسوس کرلیا ۔وہ خود اپنے تشکیل کردہ پھندے میں پھنس چکے تھے۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ مدینے کی قیادت انتہائی بیدار مغز ہے اور ان کی ایک ایک تجارتی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ مسلمان چاہیں تو بلا خوف و خطر تین سو میل کا راستے پر حملہ کر سکتے ہیں۔ انہیں قید کرکے مال لُوٹ سکتے ہیں ۔
مشرکین کی سمجھ میں توآ گیا کہ ان کی شامی تجارت اب مستقل خطرے کی زد میں ہے لیکن ا س کے باوجود وہ باز نہیں آئے۔ اس نگرانی و چھاپہ ماری کے دوران سرایہ نخلہ میں رجب کی آخری تاریخ کو ایک کافر کا قتل ہوگیا۔ کفار نے اس پر ماہِ حرام کی بے حرمتی کا شور مچا کر پروپگنڈا شروع کیا تو یہ آیت نازل ہوئی :’’لوگ آپ سے حرام مہینے میں قتال کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا یہ سب اللہ کے نزدیک اور زیادہ بڑا جرم ہے اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قریش ساری حرمتیں پامال کر چکے تھےمثلاً شہر حرام مکہ میں ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا مال چھینا گیا اور پیغمبرؐ کو شہید کردینے تک کا فیصلہ کردیا۔ اس تناظر میں اہل ایمان کو جنگ کی اجازت اس طرح دی گئی ۔
فرمانِ خداوندی ہے:’’ اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، اور (دورانِ جنگ) ان (کافروں) کو جہاں بھی قتل کردواور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، (ایسے) کافروں کی یہی سزا ہے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے، اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملًا) اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں۔‘‘ اِس اجازت کے بعد غزوۂ بدر برپا ہوئی اور اُس فرقانِ عظیم نے دنیا کی تاریخ بدل دی ۔ سیرت رسول ﷺ کے ان واقعات اورقرآنی آیاتِ کی روشنی میں آبنائے ہر مز کے مذاکرات اور جنگ کا جائزہ لیا جائے تو دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجاتا ہے۔
Post Views: 112