Skip to content
30 دن کیریئر چیلنج: نوجوانوں کے لیے نئی راہوں کی تلاش
تحریر: سید توفیق سید عبدالرزاق
لیکچرر، مولانا آزاد کالج، ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس، اورنگ آباد
📞 9890478610
آج کا نوجوان ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف مستقبل کی فکر، خاندان کی توقعات اور کامیابی کی دوڑ ہے، تو دوسری طرف ذہنی دباؤ، الجھن اور بے یقینی۔ ہر سال لاکھوں طلبہ اسکول اور کالج سے نکلتے ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد یہ طے نہیں کر پاتی کہ اصل میں انہیں زندگی میں کیا کرنا ہے اور کس میدان میں وہ واقعی کامیاب اور مطمئن رہ سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں کامیابی کو بدقسمتی سے صرف چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ بچپن ہی سے بچوں کے ذہنوں میں یہی باتیں ڈالی جاتی ہیں:
“ڈاکٹر بنو، انجینئر بنو، سرکاری نوکری حاصل کرو یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بن جاؤ۔”
آہستہ آہستہ نوجوان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا میں عزت، پیسہ اور کامیابی صرف انہی چند راستوں میں موجود ہے۔ اگر کسی بچے کو لکھنے، تدریس، فوٹوگرافی، ڈیزائننگ، ویڈیو سازی، کھیل، تحقیق، سفر، کھانا پکانے یا کسی تخلیقی میدان میں دلچسپی ہو تو اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ بعض اوقات والدین، رشتہ دار اور سماج ان دلچسپیوں کو صرف “شوق” سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں نوجوان اپنی اصل صلاحیت پہچانے بغیر صرف بھیڑ چال میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسے کورسز اور میدانوں میں داخل ہو جاتے ہیں جن میں نہ ان کا دل لگتا ہے اور نہ ہی ان کی شخصیت نکھر پاتی ہے۔ کئی نوجوان چار چار اور پانچ پانچ سال صرف اس لیے گزار دیتے ہیں کہ معاشرہ انہیں یہی راستہ دکھاتا ہے۔ بعد میں یہی نوجوان ذہنی دباؤ، بے چینی، خود اعتمادی کی کمی اور کیریئر کی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان محنت نہیں کرتے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں خود کو جاننے اور مختلف راستوں کو آزمانے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ہمارا تعلیمی نظام زیادہ تر نمبروں، امتحانات اور رٹے پر زور دیتا ہے، جبکہ زندگی صرف نمبروں سے نہیں چلتی۔ ہر انسان الگ ذہن، الگ مزاج، الگ صلاحیت اور الگ دلچسپی لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کسی کو لوگوں سے بات کرنا پسند ہوتا ہے، کسی کو مشینیں، کسی کو فطرت، کسی کو لکھنا، کسی کو پڑھانا اور کسی کو نئی چیزیں تخلیق کرنا۔
آج دنیا صرف چند روایتی پیشوں تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل انقلاب، انٹرنیٹ اور نئی ٹیکنالوجی نے سینکڑوں نئے راستے کھول دیے ہیں۔ آج ایک نوجوان گھر بیٹھے عالمی سطح پر کام کر سکتا ہے، موبائل فون سے کاروبار شروع کر سکتا ہے، اپنی مہارت پوری دنیا کو سکھا سکتا ہے اور اپنی دلچسپی کو روزگار میں تبدیل کر سکتا ہے۔ مسئلہ اب معلومات کی کمی نہیں بلکہ صحیح سمت، رہنمائی اور خود شناسی کی کمی ہے۔
اسی پس منظر میں معروف تعلیمی مواد تیار کرنے والے Dhruv Rathee نے نوجوانوں کے لیے “30 دن کیریئر چیلنج” کا تصور پیش کیا۔ ان کی مشہور ویڈیو “Why You’ll Work Till You Die” میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دنیا کے اکثر لوگ پوری زندگی ایسا کام کرتے رہتے ہیں جس سے انہیں حقیقی خوشی حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ انہوں نے کبھی مختلف میدانوں کو تلاش ہی نہیں کیا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے نوجوانوں کے لیے ایک مفید رہنما کتابچہ بھی جاری کیا جس میں سو سے زائد مختلف کیریئرز کا تعارف موجود ہے۔ اس کتابچے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ عملی طور پر مختلف شعبوں کو آزمانے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصل دلچسپی اور صلاحیت کو پہچان سکیں۔
اس چیلنج کا مقصد نوجوانوں کو فوراً کوئی فیصلہ لینے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ انہیں خود کو دریافت کرنے کا موقع دینا ہے۔ سب سے پہلے مختلف کیریئرز کی فہرست دیکھی جاتی ہے اور جہاں دل میں ذرا سی بھی دلچسپی محسوس ہو، اسے نوٹ کر لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اپنی دلچسپی کے مطابق مختلف شعبے منتخب کیے جاتے ہیں اور اگلے تیس دن تک ان میدانوں کو سمجھنے، متعلقہ ویڈیوز دیکھنے، ماہرین کو سننے، سوالات کرنے، چھوٹے تجربات کرنے اور عملی طور پر سیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیونکہ صرف سوچنے سے راستہ واضح نہیں ہوتا، راستہ چلنے سے واضح ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں کیریئرز کی ایک حیرت انگیز وسعت موجود ہے۔ تخلیقی ذہن رکھنے والے نوجوان خطاطی، اسلامی فنون، فیشن ڈیزائننگ، اندرونی آرائش، زیورات سازی، بیکنگ اور دستکاری جیسے میدانوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لوگوں سے جڑنے والے نوجوان تدریس، تربیت، رہنمائی، تقریر، پروگراموں کے انتظام اور تعلقاتِ عامہ کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح مہم جو اور فطرت پسند نوجوان جنگلی حیات کی فوٹوگرافی، ڈرون چلانے، پہاڑی مہمات، نامیاتی کھیتی، سیاحت اور سفرنامہ سازی جیسے شعبوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تحقیق اور گہرے مطالعے کا شوق رکھنے والے نوجوان فرانزک سائنس، نفسیاتی تحقیق، پالیسی ریسرچ، اعداد و شمار کے تجزیے اور ماحولیاتی تحقیق کے میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے میدان نے تو نوجوانوں کے لیے بے شمار نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ آج مصنوعی ذہانت، ویب اور ایپ سازی، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، تھری ڈی اینیمیشن اور گیم ڈیزائننگ جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ صرف ایک لیپ ٹاپ اور مہارت کے ذریعے پوری دنیا میں کام کرنا ممکن ہو چکا ہے۔
بعض نوجوانوں کے اندر دوسروں کی خدمت اور انسانیت کی مدد کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد غذائی ماہر، جسمانی تھراپی کے ماہر، ذہنی صحت کے مشیر، سماجی کارکن یا بزرگوں کی نگہداشت کے میدان میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری ذہن رکھنے والے نوجوان آن لائن کاروبار، ای کامرس، کلاؤڈ کچن، تعلیمی چینلز یا ڈیجیٹل ادارے قائم کر کے اپنے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
اس پورے چیلنج کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ دلچسپی صرف سوچنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ تجربہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اکثر نوجوان یہ سوال کرتے ہیں کہ “ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟” جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنی اصل صلاحیت اکثر راستے پر چلنے کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے، پہلے نہیں۔
والدین اور اساتذہ کو بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں پر صرف روایتی پیشوں کا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی دلچسپی، شخصیت اور صلاحیت کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ممکن ہے ایک بچہ ڈاکٹر نہ بنے، لیکن وہ ایک عظیم استاد، کامیاب محقق، بہترین ڈیزائنر، باصلاحیت مصنف یا کامیاب کاروباری بن کر معاشرے کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو۔
اسلام بھی انسان کو اپنی صلاحیت پہچاننے اور حلال و مفید کام اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے محنت کرتے تھے، حضرت نوح علیہ السلام کشتی سازی جانتے تھے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام معاشی منصوبہ بندی اور انتظامی حکمت کے ماہر تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر حلال اور مفید پیشہ عزت والا ہے اور اصل کامیابی اپنی صلاحیت کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان خوف اور دباؤ کے بجائے جستجو اور تلاش کے ساتھ آگے بڑھیں۔ دنیا کو دیکھیں، نئے میدانوں کو سمجھیں، مختلف تجربات کریں اور اپنی صلاحیتوں کو دریافت کریں۔ ممکن ہے ان کا مستقبل کسی ایسے شعبے میں ہو جس کے بارے میں انہوں نے آج سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔
“30 دن کیریئر چیلنج” دراصل نوجوانوں کو یہی پیغام دیتا ہے کہ کامیابی دوسروں کی نقل میں نہیں بلکہ اپنی اصل صلاحیت کو پہچاننے میں ہے۔
آج ہی اپنی صلاحیتوں کی تلاش کا سفر شروع کیجیے، شاید یہی آپ کی اصل منزل کی ابتدا ہو۔
Post Views: 69