Skip to content
ہم خفیہ طور حرام لقمہ کے عادی ہیں ؟
ازقلم: ابنِ وکیل
مذکورہ سطر پر لپکنے والی نظر ضرور یہ گویا ہوگی کہ یہ چند باتوں کا جاننے والا حقائق سے نابلد شکیبائی سے محروم کسی کم عقل کی تحریر ہے ۔ آج شدید گرمی کا احساس ایک درخت کی چھاؤں میں رکنے پر مجبور کردیا ، تھکان کی تندی عقل کو راحت سے آراستہ کرنے پر مصر تھی مگر زبان سے یہ یہ آیت نکل پڑی ۔۔ *لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا*
مذکورہ آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ مرد و عورتوں کے حقوق کے متعلق بیان کرتا ہے ، تفسیر آپ کو معلوم ہے اصل مقصد عمل کا ہے، اب زرا سوچیں کہ کیا ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق دیے جاتے ہیں ؟ اپنے خاندان سے ہی شروع کریں۔ آپ کے والدین نے آپ کے پھوپی کو ان کی میراث دی؟ آپ نے اپنے بہنوں کو ماں باپ کے ترکہ میں سے ان کا حق دیا؟اگر نہیں تو کیا مطلب ہے ( نصیبا مفروضا) کا ، نصیب کے کیا مفہوم ہوں گے ؟ صرف دو مطلب یا تو ہم ان احکام کو نظر انداز کرکے حقوق کو کھا رہے ہیں یا پھر جہنم کا خوف دل میں نہیں ہے . ﴿ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ دو ٹوک انداز میں آپ کے سامنے یہ آیت دلیل ہے جو دوسرے کا مال ناحق ایک لقمہ بھی کھاتے ہیں وہ حرام ہے ، اور حرام کھانے والے لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ، نمازیں بے سود ہیں ، نماز ، روزہ، زکوۃ، حج کا عمل بہت آسان معلوم ہوتا ہے مگر جب حقوق کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو ہم ہضم کرجاتے ہیں، ہمارا ایمان ڈگمگا جاتا ہے ، تاویلات کی فہرست ارسال کرنے لگتے ہیں تعجب اس بات پر ہے کہ جو اپنے آپ کو دین کے داعی کہے پھرتے ہیں ، بڑے بڑے القابوں سے مزین ہیں ، وہ بھی اس عمل میں شریک ہیں ، احکام خداوندی و سنت رسول سے کوںٔی بری نہیں ہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی ایک چوری کے سلسلے میں سفارش پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر فاطمہ بھی چوری کریگی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا ، یہاں جب بات حقوق کی ہو تو سب برابر ہیں لیکن افسوس آج اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد اس جرم عظیم میں ملوث ہے اور احساس بھی نہیں ، لہذا ہم اور آپ اگر چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن چند مال کے عوض گردن نہ پکڑی جاۓ تو آج ہی ابھی ہمارے حق میں جتنا حصہ ہمارے بہنوں کا بنتا ہے دے دیں ، اور معاشرے میں ایک نظام مرتب کریں جس کے ذریعے لوگ حرام ہضم کرنے سے محفوظ ہوں۔
حاصل کلام کہ بات کو طول وقت کو چارے کی طرح کھاۓ گا کہ اگر آپ کو بھی اپنے آپ سے شکایت ہے ، حقوق اللہ کی روش پر عبادات کے قبول و مقبول و غیر مقبول کی جستجو ہے یا پھر مسائل کی درستگی میں الجھاؤ ہے ، دنیا کی مختلف پہلوؤں سے کسا کسی ہے تو خدارا آںٔیں حقوق کو ادا کرنا شروع کریں جہنم کی آگ سے ، حرام لقمہ سے اپنے آپ کی اپنے اولاد کی حفاظت کریں تاکہ اللہ ہمیں جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ عطا کرے ۔ آمین یا رب العالمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Post Views: 48