Skip to content
فریضۂ حج کی ادائیگی اللّٰہ تعالی کی عبادت و بندگی کا خوب صورت ترین اظہار.
مسجد قبا ءمیں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شاد نگر،9مئی (پریس نوٹ ) مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں نماز جمعہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا: فریضۂ حج کی ادائیگی اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا کہ جو لوگ سفرِ حج کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر اللّٰہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے لیے کعبۃ اللّٰہ کا حج کرنا فرض ہے، اگر کوئی مسلمان حج فرض ہونے کے باوجود ناشکری کرتے ہوئے اللّٰہ تعالی کے دربار میں حاضری نہیں دیتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی تمام جہاں والوں سے بے نیاز ہے، وہ اپنی بڑائی و کبریائی میں کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں ہے، حج جیسی عظیم الشان عبادت کی اسی فرضیت و اہمیت کی وجہ سے نبی ﷺ نے حج کے بہت سارے فضائل بیان فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللّٰہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے لیے حج کیا اور دورانِ حج فسق و فجور کے کاموں سے بچا رہا، تو وہ حج سے لوٹتے وقت گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوتا ہے کہ ابھی وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، حدیث میں یہ بھی ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے، اس لیے جن مسلمانوں پر حج کرنا فرض ہے وہ مصروفیات کا بہانہ بنا کر حج کی ادائیگی میں تاخیر اور کوتاہی بالکل نہ کریں ،بہتر اور اچھی بات یہ ہے کہ آدمی صحت و تندرستی یعنی جوانی ہی کی عمر میں حج کر لے، کیوں کہ اس عمر میں حج کے تمام ارکان و مناسک ادا کرنے میں سہولت وآسانی ہوتی ہے اور آدمی کسی پر بوجھ نہیں بنتا، حج ایک عاشقانہ عبادت ہے، آدمی صرف دو چادروں میں دیوانہ وار اللّٰہ تعالی کے گھر کا چکر لگاتا ہے، پراگندہ حالت میں کبھی منیٰ میں تو کبھی مزدلفہ میں اور کبھی عرفات کے میدان میں ٹھہرتا ہے، یہ اللّٰہ تعالی کی عبادت و بندگی کا ایک خوبصورت ترین اظہار ہے، فریضۂ حج کی ادائیگی میں عبدیت اور فنائیت بندے مومن کی اصل معراج ہے، اگرچہ کہ استطاعت رکھنے والوں پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے، لیکن جو مالدار اور سرمایہ دار لوگ ہیں اور اللّٰہ تعالی نے انہیں خوب نوازا ہے، انہیں بار بار نفل حج کرنا چاہیے، اس سے ایک مسلمان اپنے ایمان و یقین میں تازگی و توانائی محسوس کرتا ہے، اس لیے اکثر بزرگان دین نے کئی کئی حج کیے اور وہ بھی پیدل حج کئے ،حج مبرور اسی وقت ہوگا جب حاجی حج کے دوران گناہوں سے محفوظ رہے ،بالخصوص آج کے دور میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی عام ہوتے جا رہی ہے ،لوگ کعبۃ اللّٰہ کے طواف کے دوران اور روضۂ اطہر پر حاضری کے وقت سیلفی لے رہے ہیں، اس سے ایک طرف عبادت کی روح مجروح ہوتی ہے ،تو دوسری طرف کعبۃ اللّٰہ اور روضۂ اطہر کا تقدس و احترام بھی پامال ہوتا ہے، اس لیے حجاج کو اس گناہ سے مکمل طور سے بچنا چاہیے تاکہ حج کا صحیح مقصد اور اس کا روحانی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے۔
Post Views: 29