Skip to content
وندے ماترم کی جبری لازمیت!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
ہندوستان اپنی تہذیبی گونا گونی، مذہبی تنوع، لسانی کثرت اور ثقافتی رنگارنگی کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کی یہی تکثیری روح رہی ہے کہ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں، عقائد اور ثقافتوں کے ماننے والے صدیوں سے باہم زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ دستورِ ہند نے بھی اسی تنوع کو اپنے دامن میں سمیٹتے ہوئے ہر شہری کو مذہبی آزادی، عقیدے کی حفاظت اور اپنے مذہبی شعائر پر عمل کی مکمل ضمانت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو ایک ”سیکولر“ جمہوریہ قرار دیا گیا جہاں ریاست کسی ایک مذہب، عقیدے یا تہذیبی فکر کی نمائندہ نہیں بلکہ تمام شہریوں کے لیے یکساں حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن افسوس کہ حالیہ برسوں میں ملک کے بعض حساس معاملات کو اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے جس سے یہ اندیشہ پیدا ہونے لگا ہے کہ کہیں ہندوستان کی سیکولر شناخت کو بتدریج اکثریتی مذہبی رنگ میں نہ ڈھال دیا جائے۔
مرکزی کابینہ کی جانب سے وندے ماترم کو قومی ترانے ”جن گن من“ کے مساوی درجہ دینے، اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری و تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل اسے پڑھنے کو ضروری بنانے کا اعلان اسی سلسلے کی ایک نہایت تشویشناک کڑی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ثقافتی یا رسمی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں مذہبی، آئینی، سیاسی اور سماجی پیچیدگیاں پوشیدہ ہیں۔ اسی لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت ملک کے مختلف طبقات نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کیا کسی جمہوری اور سیکولر ملک میں حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ایسے گیت کو تمام شہریوں پر لازمی قرار دے جس کے حصے مخصوص مذہبی عقائد اور دیوی دیوتاؤں کی مدح پر مشتمل ہوں؟ کیا دستورِ ہند کی روح اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف کسی نعرے، گیت یا رسم کا پابند بنایا جائے؟ اگر کوئی مسلمان، عیسائی، سکھ یا کسی اور مذہب کا فرد اپنے عقیدے کی بنیاد پر کسی مذہبی نوعیت کے الفاظ ادا کرنے سے گریز کرتا ہے تو کیا اسے ملک دشمنی یا عدمِ حب الوطنی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
وندے ماترم بنیادی طور پر بنکم چندر چٹرجی کے ناول ”آنند مٹھ“ کا حصہ ہے۔ اس ناول کا پس منظر خود ایک خاص مذہبی اور سیاسی فضا سے جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ آزادی کی تحریک میں اس گیت کو ایک جوشیلے قومی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا لیکن ابتدا ہی سے اس کے بعض حصوں پر اعتراضات بھی موجود رہے۔ خاص طور پر مسلمانوں نے اس کے ان بندوں پر شدید تحفظات ظاہر کیے جن میں درگا، لکشمی اور دیگر دیویوں کی مدح سرائی کی گئی ہے۔ اسلام چونکہ خالص توحید کا مذہب ہے اس لیے کسی بھی غیر الله کے سامنے تعظیمی اظہار یا عقیدت آمیز الفاظ مسلمانوں کے دینی شعور سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ خود کانگریس نے 1937 میں رابندرناتھ ٹیگور کے مشورے کے بعد یہ تسلیم کیا تھا کہ وندے ماترم کے بعد کے بند مذہبی نوعیت رکھتے ہیں اور تمام طبقات کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ اسی بنیاد پر صرف ابتدائی دو بندوں کو محدود پیمانے پر قبول کیا گیا۔ بعد ازاں 1950 میں کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی نے بھی اسی حساسیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف ابتدائی دو بندوں کو قومی گیت کی حیثیت دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے بانیانِ دستور اس معاملے کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے تھے اور وہ ہندوستان کو کسی مذہبی قوم پرستی کے راستے پر نہیں لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن آج اگر اچانک تمام چھ بندوں کو لازمی قرار دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس تاریخی اتفاقِ رائے سے انحراف ہے بلکہ ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرتا ہے۔ یہ اقدام دراصل اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ اکثریتی مذہبی علامات کو قومی شناخت کا لازمی حصہ بنایا جائے چاہے اس کے نتیجے میں اقلیتوں کے مذہبی جذبات مجروح ہی کیوں نہ ہوں۔ حالانکہ ایک مہذب جمہوری معاشرے کی بنیاد جبر پر نہیں بلکہ رضامندی، احترام اور آئینی مساوات پر قائم ہوتی ہے۔ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کو قرار دینا خود حب الوطنی کے مفہوم کو محدود کر دینا ہے۔ وطن سے محبت دل کا جذبہ ہے جس کا اظہار مختلف انداز میں ہو سکتا ہے۔ کوئی شہری اگر اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر وندے ماترم کے بعض الفاظ ادا نہیں کرتا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے وطن سے محبت نہیں کرتا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی، تعمیر اور دفاع کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کی حب الوطنی کو کسی ایک نعرے یا گیت کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ تاریخ سے بھی انحراف ہے۔ آج ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے غداری اور دشمنی سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ ہر شہری کو اپنے ضمیر اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ دستورِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کسی مسلمان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وندے ماترم کے بعض بند اس کے عقیدہ توحید سے متصادم ہیں تو اسے ان بندوں کے پڑھنے پر مجبور کرنا صریحاً آئینی روح کے خلاف ہے۔ افسوس! کہ اس قسم کے فیصلے اکثر ایسے وقت میں سامنے آتے ہیں جب ملک کو اتحاد، معاشی استحکام، تعلیمی اصلاحات اور سماجی ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر مذہبی جذبات کو ابھارنے کی سیاست نہ صرف جمہوری ماحول کو آلودہ کرتی ہے بلکہ قوم کو ذہنی اور سماجی طور پر تقسیم بھی کرتی ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں حکومت کی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ تمام طبقات کے اعتماد کو برقرار رکھے نہ کہ ایسے فیصلے کرے جن سے اقلیتوں میں عدمِ تحفظ کا احساس پیدا ہو۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی وحدت میں کثرت رہی ہے۔ اگر اس ملک کو واقعی مضبوط اور مستحکم بنانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر زبان کے ماننے والوں کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔ اکثریت کی تہذیب کو قومی تہذیب اور اقلیتوں کے احساسات کو غیر اہم سمجھنے کا رویہ ملک کو کمزور کرے گا مضبوط نہیں۔ قومی یکجہتی زبردستی کے نعروں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ انصاف، مساوات اور باہمی احترام سے پروان چڑھتی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا احتجاج اسی آئینی اور جمہوری حق کے دائرے میں ہے۔ بورڈ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں وہ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے خدشات ہیں جو ہندوستان کی سیکولر شناخت، آئینی وقار اور مذہبی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ اگر آج ایک مخصوص مذہبی علامت کو لازمی بنایا جائے گا تو کل کسی اور عقیدے یا رسم کو بھی قومی شناخت کے نام پر مسلط کیا جا سکتا ہے اور یہی طرزِ فکر جمہوری معاشروں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ حکومت اس فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کرے جو ملک کے سماجی تانے بانے کو متاثر کرتے ہوں۔ ہندوستان کسی ایک مذہب یا ایک تہذیب کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف عقائد، ثقافتوں اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بقا اسی میں ہے کہ یہاں ہر شہری کو بلا خوف و جبر اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل رہے۔ اگر مذہبی آزادی اور آئینی مساوات کمزور پڑ گئی تو پھر ہندوستان کی وہ عظیم جمہوری شناخت بھی خطرے میں پڑ جائے گی جس پر دنیا بھر کو فخر رہا ہے۔ آج نعروں کی نہیں بلکہ آئین کی روح کو زندہ رکھنے کی ہے۔ ضرورت اکثریت کی بالادستی ثابت کرنے کی نہیں بلکہ ہر شہری کے اعتماد کو بحال رکھنے کی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کو نفرت و جبر اور مذہبی تصادم کے راستے پر لے جانے کے بجائے اخوت و رواداری اور باہمی احترام کی راہ پر آگے بڑھایا جائے۔ یہی دستورِ ہند کا تقاضا ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے اور یہی ہندوستان کی اصل شناخت بھی۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 39